بوتے ر ہے ز مین میں کیکر ببول ہم
فصلیں اگی توکیوں ہوئے اتنے ملول ہم

صدیوں تلک تو آرزوئے دہر ہم رہے
پھر کیا خطا ہوئی کہ ہوئے وقت کی دھول ہم

وہ عشق کی ہر بات پر ہنستا رہا سدا
کہتے رہے تھے عشق کا قصہ فضول ہم

پر خار منزلوں سے پھر اس نے سفر کیا
رستوں سے چن کے لائے تھے کتنے ہی پھول ہم

ہم راہ و رسم عشق نبھاتے چلے گئے
انجام یہ ہوا کہ ہوئے نا قبول ہم

1,335
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...