افغانستان کے ہائی کونسل فار نیشنل ری کنسیلیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔دورے کا مقصد افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری تنازعات کا سیاسی حل نکالنا تھا۔ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو اس دورے کی دعوت وزیراعظم عمران خان نے دی تھی اور یہ ان کا پاکستان کا اپنی سرکاری حیثیت میں پہلا دورہ تھا۔انہوں نے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کی سربراہی کی۔دورے کے ایجنڈے میں سرفہرست افغانستان میں قیام امن کی کوششیں تھیں۔اس دوران انہوں نے صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ دیگر اعلیٰ سطحی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وزارت خارجہ نے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ گہرے روابط ہیں ہمارا عقیدہ، روایات،ثقافت اور تاریخ سب کچھ مشترک ہیں اور یہ کہ پاکستان افغانستان میں امن کی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے پاکستان افغانستان کے لوگوں کی خوشحالی اور افغان استحکام کا حامی ہے اور یہ دورہ باہمی بھائی چارے کو فروغ دے گا۔
پاکستان اور افغانستان دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں لیکن اسے بد قسمتی کہیے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے اور باوجود اس کے کہ پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے اٖفغان بھائیوں کی مدد کی ہے اور ان کا ساتھ دیا ہے دوسری طرف سے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔حالات میں تناؤ کی ایک بہت بڑی وجہ اٖفغان معاملات میں بھارتی مداخلت ہے جو قیام پاکستان کے وقت سے ہی کسی نہ کسی صورت میں کبھی زیادہ اور کبھی کم لیکن جاری ہے اسی کے اشارے پر افغانستان سے آزاد پختونستان کا نعرہ اٹھایا گیا تھا۔اسی طرح حالیہ دہشت گردی میں افٖغانستان بھارت کی ایماء پر ملوث رہا ہے۔اس نے افغانستان کی تعمیرِنو کے نام پر اپنے ہزاروں کارکن افغانستان میں بٹھا رکھے ہیں جو پاک افغان تعلقات کو بہتر نہیں ہونے دیتے۔بھارت افغان امن میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ بڑی حد تک اس میں رکاوٹ ہے لیکن اب پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے افغانستان میں یہ شعور جاگ اٹھا ہے کہ افغان مسئلے کا حل جنگی نہیں بلکہ سیاسی ہے اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری بھی ایک پُر امن تصفیہ تک پہنچ چکے ہیں اور یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا حل خطے میں امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔پاکستان اس سیاسی حل کا اس لیے بڑا حامی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہو گا پاکستان میں امن و امان کی صورت ِ حال پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکتا اور پاکستان وہ ملک ہے جو افغان صورتِ حال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا،اس نے نہ صرف ستّرہزار سے زیادہ جانیں گنوائیں بلکہ بے تحاشہ مالی نقصان بھی اٹھایا۔یہاں نہ صرف املاک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ ہماری تجارت اور معیشت نے بھی بہت بڑا نقصان اٹھایا جس کی مالیت کا اندازہ لگانامشکل ہے بلکہ ایک طرح سے ترقیء معکوس کا عمل چلتا رہا مثلاََنہ صرف یہ کہ سڑک نئی نہیں بن سکی بلکہ پرانی بھی تباہی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہی اور حکومتوں کی توجہ دہشت گردی سے نمٹنے پر لگی رہی اور وہ آئے روز دھماکوں اور ان کے نتائج سے نبرد آزمارہی۔ یوں افغان جنگ ہر طرح سے پاکستان کے لیے نقصان کا باعث بنتی رہی ہے اور اس چالیس سالہ طویل جنگ نے پاکستان کو تجارتی،معاشی، معاشرتی، اقتصادی ہر طرح سے متاثر کیا ہے۔ ہمارے وہ وسائل وذرائع جوملک کی ترقی پر خرچ ہونے تھے دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوتے رہے اور ترقی کا عمل تقریباً رکا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان افغان امن کا سب سے بڑا حامی ہے اور افغانستان میں بدامنی سب سے زیادہ بھارت کے فائدے میں رہی ہے کیونکہ اولاََ نہ صرف اُس نے وہاں ترقیاتی کاموں کے نام پر بہت بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے بلکہ دوسرے اپنی بے تحاشا آبادی کے حصے کو وہاں روزگار بھی فراہم کیا ہوا ہے اور تیسرے پاکستان میں مداخلت اور تخریب کاری کا بہت محفوظ اور اچھا اڈا بھی حاصل کیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ افغان امن مذاکرات کی حمایت بھی نہیں کر رہا کیوں وہ اپنے آپ کو حاصل کئی طرح کے فائدوں میں سے کوئی بھی گنوانے کو تیار نہیں۔ اسے خطے کے امن اور سلامتی سے کوئی دلچسپی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس عمل کو طول دینے کے لیے کو شاں ہے کیونکہ اُسے افغانستان سے دوسری کسی طرح کی کوئی دلچسپی نہیں نہ تو مذہبی طورپر کوئی رشتہ موجود ہے نہ ثقافتی نہ تاریخی اور یہی وجہ ہے کہ جہاں پاکستان دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتوں دونوں کے تعلقات اور رشتے استوارکرنے میں دلچسپی رکھتا ہے وہاں اس کی ایسی کوئی خواہش نہیں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان افغانستان سے کئی رشتے ہونے کے باعث ہر رشتے کی بحالی کا متمنی ہے اور یہی خواہش اس کا افغانستان کے لیے اور افغان امن کے لیے بطور خلوص کافی ہے اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مخلص ہے۔ دنیا کو بھی اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کا دہشت گردی او رافغان امن سے کوئی منفی تعلق نہیں اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ علاقائی ترقی کے لیے علاقائی تعاون انتہائی ضروری امر ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے حالیہ دورے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود لازوال رشتے مضبوط ہوں گے اور افغان عوام اور حکومت دونوں کے ذہن سے یہ بات نکل جائے گی کہ پاکستان افغانستان میں کسی ایک نسل کا حامی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے اسے افغانستان سے بطور افغانستان دلچسپی اور ہمدردی ہے وہ یہاں کے عوام کو پشتون اور فارسی بولنے والوں میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ سب کو افغان شہری کی نظر سے دیکھتا ہے۔اس نے جب افغان مہاجرین کو پنا ہ دی تھی توتب بھی انہیں صرف افغان بھائی سمجھا انہیں شمالی اور جنوبی میں تقسیم نہیں کیا بلکہ سب کے ساتھ ایک ہی سلوک کیا اور اب بھی وہ ایسا ہی سمجھتا ہے کہ ہر افغان کا پاکستان کے ساتھ برادرانہ رشتہ ہے چاہے وہ جس نسل سے بھی تعلق رکھتا ہے اور اس کا ثبوت وزیراعظم کا ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو دورے کی دعوت دینا تھااور یہ امید کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ پاکستان سے اچھا اور مثبت تاثر اپنے ملک کے عوام تک پہنچا کر ایک اچھے مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔

188
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...