الیکشن 2014 میں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے چیف ڈاکٹرموہن بھگوت کی ایما پر اینٹی پاکستان انتخابی مہم میں نریندرا مودی اور راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں بھارتی عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کیساتھ ہی بھارتی مرکزی حکومت پر آر ایس ایس کی گرفت مضبوط تر ہوجانے پر پاکستان بھارت تعلقات ایک مرتبہ پھر سے بگاڑ کا شکار ہوگئے جس کی بدترین مثال مقبوضہ کشمیر کی وادی میں کشمیری عوام کو طاقت کے زور پر فوجی ظلم و ستم سے دبانے اور کشمیر کنٹرول لائین پر سابق بھارتی کانگریس حکومت کی سرحدوں کو نرم رکھنے کی پالیسی کو یکسر پس پشت ڈالتے ہوئے کنٹرول لائین کو پھر سے گرم کرنے کی پالیسی کے تحت فائر بندی کے معاہدے کی روزمرہ خلاف ورزیوں اور سرحدوں پر بسنے والے کشمیروں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے ۔ حیرت ہے کہ سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا نوٹس لینے کے بجائے خطے میں بھارتی ایجنڈے کو ہی تقویت پہنچانے کی کوشش کی۔اِس اَمر کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف کا خاندان اور وزرا کی ٹیم نہ صرف بھارتی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ڈان لیکس کے پس منظر میں پاکستان فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈے میں مصروف رہی بلکہ اِسی رَو میں بھارتی فوج کی معاونت سے سابق مشرقی پاکستان میں تخریب کاری اور ہزاروں پاکستانیوں کے قتل کے ذمہ دار شیخ مجیب الرحمن کو اپنا ہیرو قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا، جس پالیسی پر شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی حسینہ واجد وزیراعظم بنگلہ دیش کی حیثیت سے آج بھی پاکستان کے حامیوں کو سزائے موت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔
یہ اَمر حیران کن ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ کے طور پر کام کرنے والی بھارتی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کی قیادت نے اپنے بیرونی لنکس کے ذریعے خطے کی سیاسی لیڈرشپ پر گہری نگاہ رکھنے کیساتھ ساتھ بھارتی الیکشن 2014 میں اینٹی پاکستان انتخابی مہم کے ذریعے ہی بھارت میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی مدد سے بھارت کو سیکولر ریاست کے بجائے ہندو ریاست بنانے کیلئے زبردت مہم چلائی تھی جس کا نوٹس لینے کے بجائے نواز شریف قیادت نے نئی بھارتی قیادت کیساتھ فوری طور پر رابطہ استوار کرنے پر زور دیا جبکہ یہی کچھ آر ایس ایس کی قیادت چاہتی تھی۔چنانچہ ہمسایہ ممالک کی سیاسی قیادت کے ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر موہن بھگوت نے بھارتی سیاست کے پس منظر میں رہتے ہوئے آر ایس ایس کے ایجنڈے کو مہمیز دینے کیلئے اپنے خاص حاشیہ برداروں نریندرا مودی اور راج ناتھ سنگھ کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی نے خطے میں بھارتی بالا دستی کی سیاست کو آگے بڑھانے کیلئے ہمسایہ ممالک کیساتھ ریاستی تعلقات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق استوار کرنے کے بجائے اِن ملکوں کی سیاسی قیادت کیساتھ ذاتی مفادات کی سیاست کو فروغ دینے کیلئے نواز شریف پر اِس حد تک اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا کہ وہ نریندرا مودی کی حلف برداری کے موقع پر پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی منتظر کشمیری قیادت کو مایوسی کے عالم میں چھوڑ کر کشمیری قیادت سے ملاقات کرنے کے بجائے بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کی چائے کی دعوت میں شرکت کیلئے اُن کے گھر تشریف لے گئے۔ سجن جندال کی قریبی دوست ، سیاسی دانشور، مصنف اور بھارتی ٹی وی اینکر برکھا دت اور دیگر میڈیا ذرائع کیمطابق سجن جندال نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی مبینہ ہدایت پر نواز شریف فیملی سے دوستی کا یہ جال سابق وزیراعظم نواز شریف کے برطانوی شہریت رکھنے والے صاحبزادے حسین نواز اور مریم نواز کے صمدی کے تجارتی تعلقات کو استعمال کرنے ہوئے آگے پھیلایا تھا جس میں بظاہر نواز فیملی کے ذاتی تجارتی مفادات کو فوقیت دیتے ہوئے خطے میں بھارتی سیاسی مفادات کو آگے بڑھایا گیا تھا۔ برکھا دت کے مطابق نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر سجن جندال اور حسین نواز کی بیک چینل ڈپلومیسی کے تحت نواز شریف نے نریندرا مودی سے ایک گھنٹے کی خفیہ ملاقات کی جس میں مستقبل کے ذاتی تعلقات کی منصوبہ بندی کی گئی حتیٰ کہ ڈان لیکس کے منکشف ہونے کے بعدسجن جندال نے نہ صرف یہ کہ مری میں مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف سے خفیہ ملاقات کی جسے میڈیا میں ظاہر ہونے پر ایک پرانے دوست سے ملاقات کی حیثیت سے قبول کیا گیا۔ بہرحال نریندرا مودی اور نواز شریف کے ذاتی تعلقات کی وسعت کا اندازہ اِس اَمر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی میں سجن جندال کی فیملی نے شرکت کی اور عین شادی کے وقت بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی تمام ریاستی پروٹوکال کو توڑتے ہوئے جاتی عمرہ جاپہنچے اور نواز شریف کو بھارتی پگڑی پہنا کر بھارتی روایات کیمطابق پگڑی بدل بھائی بن گئے چنانچہ نواز فیملی نے اِس حد تک بھارتی سیاسی مفادات کو اپنے گلے لگا لیا تھا کہ سابق وزیراعظم کا افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ نہ صرف اُن کا تکیہ کلام بن گیا بلکہ اُنہوں نے غدارِ پاکستان شیخ مجیب الرحمن کو اپنا ہیرو قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا ۔
درج بالا تناظر میں گو کہ عمران خان نے الیکشن 2018 میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہمسایہ ممالک بل خصوص افغانستان اور بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کا عندئیہ دیتے ہوئے بھارتی سیاسی قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت دونوں ممالک کے درمیان معاملہ فہمی کیلئے ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔ وزراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد عمران خان نے بھارتی لیڈرشپ کو اپنے پیغام میں کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت کی دعوت دی۔ گو کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے پاکستان میں آنے والی غیرمعمولی سیاسی تبدیلی کے تحت نواز شریف فیملی کے سیاسی منظر نامے سے کلی طور پر آؤٹ ہوجانے پر بھارت کیلئے سیاسی میدان میں خلاء پیدا ہوجانے کے باعث وزیراعظم عمران خان کے نام ایک مکتوب میں دونوں مملک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن جب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تو بھارتی ترجمان اور بھارتی میڈیا نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ وزیراعظم نریندرا مودی نے پاکستان کو مذکرات کی دعوت نہیں دی ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت دراصل کشمیر ی عوام کے خلاف ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے خطے میں بدستور جارحانہ عزائم پر کاربند ہے۔ نریندرا مودی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئی حکومت ذاتی تعلقات نہیں بلکہ بھارت کیساتھ ریاستی پیمانے پر تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے منظر نامے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے جس کا اظہار پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم عمران خان نے بخوبی کر دیا ہے۔ بہرحال نریندرا مودی سرکار کی پاکستان مخالف موشگافیوں کے باوجود مشہور بھارتی کرکٹ کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو جو بھارتی پنجاب کی سیاست میں اُبھرتے ہوئے سیاست دان کی حیثیت رکھتے ہیں کا وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنا خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہے۔ گو کہ اِس تقریب میں سابق بھارتی کرکٹ ٹائیکون سنیل گواسکر اور کپل دیو بھی شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن سنیل گواسکر تو برطانیہ میں کرکٹ کمنٹری میں مصروف رہنے کے باعث اور کپل دیو بظاہر بھارت انتہا پسند ہندو تنظیم آر یس ایس کے دہشت پسندوں کی مخالفانہ سرگرمیوں اور دھمکیوں کے سبب پاکستان آنے سے معذرت کرنے پر مجبور ہوئے لیکن اُنہوں نے نوجوت سنگھ سدھو پر بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے غداری کے الزامات لگائے جانے کے باوجود سدھو کے پاکستان جانے اور عمران خان کی حلف اُٹھانے کی تقریب میں پاکستانی آرمی چیف سے گلے ملنے کو اچھائی کی آواز سے تعبیر کیا ہے۔بھارت سے ایک اور اچھائی کی آواز بھارت کے آنجہانی وزیراعظم راجیو گاندہی کی اہلیہ اور کانگریس پارٹی کی مرکزی رہنما سونیا گاندہی کی جانب سے آئی ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ عمران خان اُنکے بھائی کی طرح ہیں اور نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان جا کر کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔بہرحال بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا دنیا بھر میں اور کچھ اثر ہوا ہے یا نہیں بھارتی انتہا پسندوں کے منفی پروپیگنڈے اور سدھو پر غداری کے الزامات کے بعد بھارتی مشرقی پنجاب کی سیاست میں نہ صرف نوجوت سنگھ سدھو کیلئے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہونگے بلکہ اُن کی ذات مستقبل میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئیگی۔

114
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...