قارئین کرام! اِس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ مشکل اوقات میں عوام کیلئے اچھائی کی آواز بلند کرنے کے بجائے بیشتر سیاست دان معافی نامے پیش کرکے مفت کی سواری کرنے کیلئے ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا اپنا جائز و ناجائز ذرائع سے حاصل کیا ہوا مال و اسباب بیرونی ملک منتقل کرکے مفت کی سواری کرنے کیلئے وطن کے وسائل کو بے دردی سے استعمال کرتے ہیں تو ایسے میں ملک کی عدلیہ ہی عوام الناس کو ریسکیو کرنے کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا بن جاتی ہے۔ بابا رحمتے ایسے ہی باہمت افراد کا نام ہے جنہوں نے مشکل اوقات میں پاکستان کیلئے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے باوقار خدمات سرانجام دیں ۔ پاکستانی عدلیہ میں بھی عدل و انصاف کی فکر سے مزین کچھ ایسے نامور ججوں کے نام آتے ہیں جنہوں نے ضرورت پڑنے پر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے سے گریز نہیں کیا ۔ ماضی میں جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی ، جسٹس کارنیلس ، جسٹس ایس ۔ایم۔ مرشد اور جسٹس افتخار چوہدری کے ناموں کا شمار ایسے ہی بابائے رحمتوں میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ سابق نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف جنہیں مسلم لیگ (ن) کی صدارت اور ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کیلئے نااہل قرار دیدیا گیا ہے بدستور ، وفاق اور صوبہ پنجاب کے وسائل کو بے دردی سے استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کے اداروں، افواجِ پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے عوام الناس کو ڈ،ش انفارمیشن کے جال میں جھونکتے ہوئے خطے میں اکھنڈ بھارت کی فکر کے علمبردار نریندرا مودی کی دوستی کی آڑ میں بظاہر بندے ماترم کی فکر کو پاکستان میں لاگو کرنے کا ترانہ گاتے نظر آتے ہیں۔ ملک میں کرپشن و لوٹ مار کا بازار گرم ہے اور میاں نواز شریف سینیٹ الیکشن میں دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقاتوں میں بظاہر ہارس ٹریڈنگ کی سیاست میں حصہ لینے اور پبلک جلسوں میں اپنی صاحبزادی مریم نواز صفدر کے ہمراہ جنہیں عوامی حلقوں میں افواج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے خلاف غیر آئینی تقریروں کے حوالے سے سول سوسائیٹی میں ماسی مصیبتے سے تشبیہ دی جانے لگی ہے، سابق پاکستان دشمن بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل کی ستر برس پُرانی زبان استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف غدارِ پاکستان مجیب الرحمن کے باغیانہ خیالات کو مہمیز دیتے ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے میں موجودہ چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے پاکستان کی سربلندی کیلئے حق و انصاف کا دامن تھامتے ہوئے ماسی مصیبتے کی دشنام طرازی کو نظر انداز کرتے ہوئے حق و انصاف کی اچھائی کی آواز کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز جناب ثاقب نثار نے عوامی بہبود کے کاموں ریاستی بے راہ روی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہیں تنقید کی پرواہ نہیں ہے کیونکہ بابا رحمتے اللہ کی رحمت سے وہ ہے جو لوگوں کی سہولتوں کیلئے کام کرے اور وہ حق و انصاف کیلئے ایسے کام کرتے رہیں گے جہاں ریاست نے عوامی بہبود کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
درج بالا تناظر میں ریاستی نظام کے بگاڑ کے حوالے سے سابق جسٹس ایم۔ آر ۔ کیانی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا جو موجودہ دور کے حالات پر بھی بخوبی منطبق ہوتی ہے کہ ” ملک میں نظم و نسق نام کی کوئی چیز نہیں رہی ، سیاست ایک ذریعہ بن گئی ہے حصول منفعت کا ، اپنے مفادات کے فروغ کا اور اپنوں کو نوازنے کا جبکہ آئین کی رُو سے حاکمیت اللہ کی ہے لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات کا کہیں اطلق ہوتا ہے تو اِسی مملکتِ خداداد میں۔ معاشی وسائل کے بے دریغ استحصال اور سرکاری اختیارات کے بے جا استعمال نے ہر طرف تصادم کی فضا پیدا کردی ہے ، معاشرے میں تصادم ہے ، سیاست میں تصادم ہے ، شخصیات میں تصادم ہے چنانچہ اِس تصادم کے حل کیلئے عدلیہ کی طرف رجوع کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ” ۔جسٹس ایم ۔ آر۔ کیانی نے ایک اور تقریر میں فرمایا : ” صداقت کو حصوں اور ٹکڑوں میں بانٹا نہیں جا سکتا ۔ صداقت ایک ایسا حق ہے جس کے احاطے میں داخل ہونے کیلئے کوئی جنگلا یا پھاٹک رکاوٹ نہیں بن سکتا ۔ اگر زندگی کو کارآمد بنانا مقصود ہے تو ہمیں سچائی کیلئے زندہ رہنا ہوگا اور اگر ضرورت پیش آئے تو ہمیں سچائی کیلئے مرنا بھی پڑیگا۔ جسٹس ایم۔ آر۔ کیانی کے بل خصوص وکلاء کی تنظیموں یا بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں امانت و صداقت اور قانون کی نظر میں آقا و غلام کے درمیان مساوات کے معاملات کو ہمیشہ انسانی بنیادی حقوق کے دائرے میں شمار کرتے تھے کیونکہ یہی وہ طریقہ جہاں سے عدل و انصاف کے قندیل روشن ہوتے ہیں اور غربت کے مارے عوام میں بھی جینے کی اُمنگ پیدا ہوتی ہے لیکن میاں نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کے حقائق سے ماوراء ہو کر شریف فیملی کو حکمران فیملی قرار دیتے ہوئے قانون کو گھر کی لونڈی بنانے کی خواہش کو مہمیز دیتے ہوئے بادشاہ اور عوام کیلئے علیحدہ علیحدہ قانون کی بازگشت نے ہی پاکستان میں امیروں اور غریبوں میں خلیج کو اِس قدر وسیع تر کر دیا ہے کہ میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں ملک کی اکثریتی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اِسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اِسی سے
اقوام میں مخلوق خد ا بٹتی ہے تو اِسی سے
قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے تو اِسی سے
اندریں حالات ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو پاناما کیس میں امانت و صداقت کی منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سبب وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدر کے طور پر نااہل قرار دئیے جانے کے بعدمیاں نواز شریف اور اُنکی صاحبزادی کی جانب سے ایک تسلسل سے افوج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کیخلاف باغیانہ گفتگو سے عوام الناس کے ایک طبقے کی ڈِش انفارمیشن کے ذریعے اُنہیں بغاوت پر اُبھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے توہین عدالت کے پہلو کی بھی وضاحت ہوتی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سابق نااہل وزیر اعظم اور اُن کی صاحبزادی کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فی الحال مزید قانونی کاروائی کو التوا کا شکار ہے لیکن نواز شریف شاید اِسے عدلیہ کی کمزوری سمجھتے ہوئے اب قومی سلامتی کے دائرے سے بھی باہر آتے نظر آتے ہیں گزشتہ روز اپنی تقریر میں واز شریف نے عوام کے ایک طبقے کو بغاوت پر اُبھارتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے کہ پاکستان اُس وقت تک نہیں بدل سکتا جب تک ہم گزشتہ ستر سال کی تاریخ نہ بدل دیں۔ اُن کا وفاق اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کے باوجو یہ دعویٰ کہ وہ باغی ہیں اور اپنا نام نہاد حق زبردستی چھین لینگے قطعی ناقابل فہم ہے ۔ کیا وہ نریندرا مودی کی دوستی کی آڑ میں پاکستان کی آزادی کی ستر سالہ تاریخ بدلنا چاہتے ہیں جبکہ اِس دورن پاکستانی عصری سیاست کے 35 برس کو پراگندہ کرنے میں تو خود اُن ہی ہاتھ ہے۔ اگر نواز شریف پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے اپنے ہیرو مجیب الرحمن کی فلاسفی پر قائم ہیں تو پاکستانی عوام اُنہیں ایسا کبھی نہیں کرنے دیں گے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز صفدر کی جانب سے خطے میں نریندرا مودی کی فلاسفی پر مبنی پاکستانی قومی سلامتی کے منافی جس پروپیگنڈا مہم کو سپریم کورٹ اور افواج پاکستان کے خلاف مہمیز دی جا رہی ہے اُس کی شہادت تو ڈان لیکس کے حوالے سے بھی اب پاکستانی عصری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ چنانچہ نااہل نواز شریف کو یہ جان لینا چاہیے کہ احمقانہ طرز عمل اختیار کرنے سے ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار نہیں لگایا جا سکتا جبکہ شہرت اور وطن کی محبت کیلئے پاکستانی قوم افواجِ پاکستان اور عدالت عظمیٰ کی عظمت کی سربلندی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریگی۔ بقول علامہ اقبال۔۔۔۔
جرس ہوں ، خوابیدہ ہے میری ہر رگ و پے میں
یہ خاموشی مری وقتِ رحیلِ کارواں تک ہے

100
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...