قارئین کرام ! گزشتہ ہفتے سینیٹ مِڈ ٹرم الیکشن کے بعد قومی دانشور حلقوں میں ہارس ٹریڈنگ کی بحث نے بل خصوص ملک کے سیاسی حلقوں اور سول سوسائیٹی میں ایک قومی بحث کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کچھ سیاسی اور میڈیا دانشور حلقوں نے سینیٹ ہارس ٹریڈنگ کی ذمہ داری مبینہ طور پر ملک میں آمرانہ ذہنیت رکھنے والی سیاسی قیادت پر ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے یا نہیں ؟ البتہ عوام یہ ضرور جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ ہارس ٹریڈنگ یا گھوڑوں کی تجارت کس بلا کا نام ہے جس نے نہ صرف ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے پارلیمان میں عوامی ووٹ سے اقتدار کی غلام گردشوں میں عوام کی نمائندگی کرنے والی سیاسی اشرافیہ کو متنازع بنا دیا ہے بلکہ عوام الناس کو ملکی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔ کیونکہ قومی دانشور یہی سوچتے ہیں کہ اگر آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کے پارلیمنٹ کے ارکان کو خریدا جا سکتا ہے تو پھر بیرونی طاقتیں بھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے قومی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ روز چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب ثاقب نثار نے حالیہ سینیٹ الیکشن میں منتخب ہونے والے مبینہ طور پر دوہری شہریت کے حامل سینیٹرز کے از خود کیس کی سماعت کرتے ہوئے یہ آبزرویشن دینے پر مجبور ہوگئے کہ یہ ہیں وہ پاکستانی سیاسی رہنما جنہوں نے وہاں (غیر ملکی شہریت) میں اپنا فائدہ دیکھا تو وہاں چلے گئے اور یہاں (اپنے ملک میں ) موجیں دیکھیں تو حب وطنی جاگ اُٹھی؟ حقیقت یہی ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان پر دوہری شہریت قانون کا اطلاق 2012 سے ہوتا ہے لیکن سیاسی قیادت کی بدعملی کے سبب دوہری شہریت کے حامل لوگ بغیر کسی رکاوٹ کے کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کے بل بوتے پر اسمبلیوں میں منتخب ہوتے رہتے ہیں۔
دریں اثنا ،اگر بین الاقوامی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ماضی میں گھوڑوں کی تجارت میں بدعنوانی کے حوالے سے سب سے پہلے ہارس ٹریڈنگ کی ٹرم منفی معنوں میں امریکہ میں استعمال کی گئی جہاں گھوڑوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات میں اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کیساتھ عام گھوڑوں کو ملا کر اچھی قیمت پر فروخت کرنے کیلئے جھوٹ کا بخوبی سہارا لیا جاتا تھا ۔ اُنیسویں صدی کے امریکہ میں دیہاتی علاقوں سے گروسری Grocery اور سبزیاں vegetables گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے شہروں میں لائی جاتی تھیں جبکہ دیہاتی عوام ٹرانسپورٹ کیلئے بھی گھو ڑا کوچ کی سہولت کو کثرت سے استعمال کرتے تھے۔ 1893 میں جب امریکی قانون ساز اداروں نے گھوڑوں کی خصوصیات کے حوالے سے اخباری اشتہارات کے حوالے سے عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے قانون سازی کرنے کی کوشش کی تو نیویارک ٹائمز نے اخباری مالکان کی مافیا کی حمایت میں اپنے ایک اداریہ میں لکھا کہ اگر ہارس ٹریڈنگ میں گھوڑوں کی نسلوں سے متعلق جھوٹے اشتہارات کو روکنے کی کوشش کی گئی تو سردی کے موسم میں اِس کا منفی اثر گھوڑوں کی تجارت پر پڑے گا جس کے باعث دیہاتوں سے شہروں کو آنے والی گروسری اور تازہ سبزیوں کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ درحقیقت اخباری اشتہارات میں جھوٹ کی بندش کا اثر اخباروں کی اشاعت پر بھی ہونا تھا لہذا اخباری مالکان کی مخالفت کے باعث اِس قانون سازی کو کسی حد تک سخت ہونے سے روک دیا گیا ۔ بہرحال اتنا ضرور ہوا کہ ہارس ٹریڈنگ کی ٹرم کو عوامی حلقوں میں گھوڑوں کی تجارت میں بدعنوانی سے تعبیر کیا جانے لگا۔چنانچہ جب پاکستان میں اراکین پارلیمان کی وفاداریاں بدلنے کیلئے غیر قانونی دولت کا استعمال شروع ہوا ،یا جوڑ توڑ کی خفیہ سیاست کے ذریعے پارلیمنٹ کے ارکان کی وفاداریوں کو سیاسی مفادات کے عوض تبدیل کرنے کا رجحان شرروع ہوا تو ہارس ٹریڈنگ کی ٹرم بھی جھوٹ ، کپٹ اور سیاسی کرپشن کے منفی معنوں میں بخوبی استعمال کی جانے لگی۔ پاکستان میں غیر قانونی پیسے کی ریل پیل شروع ہوئی تو کچھ سیاسی جماعتوں کی قیادت نے ایسے افراد کو بھی سیاست ، بیوروکریسی اور اہم سفارتی پوزیشنوں پر تعینات کرنے کے ہنر میں بھی دسترس حاصل کر لی کہ خفیہ ذرائع سے مال بنانے میں کس طرح فوقیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ پاکستانی سیاست میں اقربہ پروری اور مال کے زور پر اچھی شہرت نہ رکھنے والے ایسے لوگ بھی غلبہ پانے لگے جن کا ملکی سیاست میں کبھی کوئی مثبت کردار نظر نہیں آتا تھا۔ لہذا پاکستان میں بھی جھوٹ ، چالبازی اور خفیہ منی لانڈرنگ کے ذریعے سیاسی شخصیتوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کے علاوہ پارٹی ٹکٹوں کی خفیہ ذرئع سے خرید و فروخت کے غیر قانونی و غیر آئینی رجحان نے بھی ملکی سیاست میں افضلیت حاصل کرلی جسے بہرحال متعلقہ سیاسی قیادت کی بدنیتی اور جھوٹ سے لبریز ہارس ٹریڈنگ سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
اندریں حالات، موجودہ سینیٹ انتخاب میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی قیادت کے حوالے متحدہ پاکستان چار نشستوں کے حوالے سے اور تحریک انصاف پاکستان ایک دو سیٹوں کے حوالے سے نقصان میں رہی ہیں جبکہ بلوچستان اور فاٹا میں بظاہر دولت کے زور پر آزاد اُمیدوار ہی منتخب ہوئے ہیں چنانچہ سینیٹ کی چیئرمین شپ کے حصول کیلئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے نااہل صدر جو ہر قسم کی سیاست کیلئے نااہل قرار دئیے جانے کے باوجود ہارس ٹریڈنگ کے میدان عمل میں موجود نظر آتے ہیں۔ اگر پاکستان کی عصری سیاسی تاریخ میں ہارس ٹریڈنگ کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ جھوٹ اور کپٹ کی پالیسی نے پاکستانی سیاسی قیادت کو حقائق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ کے بیانیہ کو ہر حال میں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن ہارس ٹریڈنگ کی کہانی بہرحال اِن دونوں سیاسی شخصیات کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہے۔ گو کہ جناب آصف علی زرداری نے ہارس ٹریڈنگ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے گریز ہی کیا ہے لیکن میاں نواز شریف جو اقتدار کی غلام گردشوں میں وفاق اور پنجاب حکومتوں کے زور پر متحرک ہیں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بڑی سادگی سے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کبھی بھی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہیں رہی۔ یہ بھی کہا گیا کہ اُنہیں ہارس ٹریڈنگ سے نفرت ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان میں ابتدائی طور پر شہادتوں کی بنیاد پر میاں نواز شریف 1988 میں پاکستان میں جمہوریت بحال ہونے کے فوراً بعد سے ہی وفاق میں اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہونے کیلئے ہارس ٹریڈنگ کا سہارا ڈھونڈتے رہے ۔ جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد ہونے والے انتخابات میں وفاق میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور پنجاب میں میاں نواز شریف حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے لیکن جمہوریت کی تال کو آگے بڑھانے کے بجائے میاں نواز شریف نے ہارس ٹریڈنگ کا ذریعہ اختیار کرتے ہوئے پہلی بے نظیر حکومت کو گرانے کیلئے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی تھی حتیٰ کہ جمہوریت کے منافی اپنے مشن میں اُنہوں اُسامہ بن لادن اور جنرل ضیاء الحق لابی سے منسلک دو فوجی افسران کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومت کو گرانے کیلئے پیپلز پارٹی کے گیارہ ارکان اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا جس کا تذکرہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 2007/08 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب مفاہمت کے صفحہ نمبر 200/201 پر کیا ہے ۔ ہارس ٹریڈنگ کے اِن امور کا تذکرہ پہلی نواز شریف حکومت کے دور 1990/93 میں مقامی مصنفوں کی شائع کردہ بیشتر کتابوں کے علاوہ انگریزی کالموں Horse Trading/Witness to Horse Trading میں بھی کیا گیا ہے۔ لیکن اِن سب تحریروں میں سب سے اہم جنرل مرزا اسلم بیگ کا انٹرویو ہے جو 1992 میں ایک اہم قومی روزنامے کی ایڈیٹر ملیحہ لودھی نے لیا تھا جسے اکتوبر 1992 میں شائع کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ملیحہ لودھی جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں اور جنہیں سابق وزیراعظم نواز شریف نے چند برس قبل اقوام متحدہ میں پاکستانی کا مستقل مندوب مقرر کیا تھا اِس انٹرویو کی روح رواں تھیں ۔ اِس انٹرویو میں جنرل اسلم بیگ نے وضاحت سے کہا تھا کہ آپریشن مڈ نائٹ جیکل کے حوالے سے بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف دو آرمی افسران کے سیاسی کردار کا پاکستان آرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا اِسی لئے اِن دونوں آرمی افسران کو آن فالٹ آف دی آفیسرز آرمی سے قبل از وقت ریٹائرڈ کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اِن آرمی افسران کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر میاں نواز شریف نے اِنہیں پنجاب حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کردیا تھا ۔ اپنے انٹرویو میں جنرل مرزا اسلم بیگ نے اِس اَمر کی بھی وضاحت کی تھی کہ اُنہوں نے اُس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف کو ایک ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان آرمی نے اِن دونوں افسران کو آن فالٹ آف دی آفیسرز قبل از وقت ریٹائر کیا ہے لہذا پنجاب حکومت میں اِن کی تعیناتی غیر مناسب ہے کیونکہ اُن کے باے میں آرمی ڈسپلن توڑنے کے شبہات پیدا ہوئے تھے ۔ بہرحال پہلی بے نظیر بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد جب میاں نواز شریف نے وزیراعظم پاکستان کے عہدے کا چارج سنبھالا تو اِن دونوں افسران کو بھی اِن کی مجوزہ ہارس ٹریڈنگ خدمات کے بدلے وفاقی اداروں میں اہم پوزیشنوں پر تعینات کر دیا گیا۔ چنانچہ میاں نواز شریف کا اب یہ کہنا کہ اُنہیں ہارس ٹریڈنگ سے نفرت ہے،، عذر گناہ بدتر از گناہ،، ہی قرار کیا جا سکتا ہے ۔

159
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...