اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اخلاقی ، مالی ، انتظامی اور علم و دانش کی عجب کرپشن کی غضناک کہانی جاری و ساری ہے جس نے دنیا بھر کے قانونی ماہرین اور اخلاقیات کے سماجی و مذہبی دانشوروں کو بھی حیران کرکے رکھ دیا ہے۔بلاشبہ پاکستان میں قیادت کا بحران ہے ۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اِس کی بنیادی وجہ قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد آنے والے حکمرانوں کی بانیانِ پاکستان کے قومی ایجنڈے سے انحراف کی پالیسی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلے عشرے میں جمہوری سیاسی حکومتیں ہی سیاہ و سفید کا مالک رہیں لیکن اِس اہم عشرے میں سیاسی جماعتیں ملک میں تعمیرِ وطن کیلئے سیاسی استحکام پیدا کرنے اور قومی معاشرے کی تشکیل کیلئے ضروری اقدامات کرنے میں ناکام رہیں۔ اِس ابتدائی اور اہم عشرے میں یکے بعد دیگرے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں سیاسی رہنماؤں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر سیاسی قیادت کے فرائض سرانجام دئیے لیکن اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کی فکر کو آگے نہیں بڑھایا اور بمشکل تمام 1956 کے آئین کی منظوری ہی دی جاسکی۔ چنانچہ اِن سیاسی کوتاہیوں کی وجہ سے آزادی کے دوسرے ہی عشرے میں ہی ملک میں سیاسی خلفشار کو ختم کرنے کے نام پر آمرانہ حکومت نے ملک پر تسلط قائم کرلیا اور اِس آئین کی جگہ عوام کی جمہوری تربیت کے نام پر بنیادی جمہوریتوں کا آئین نافذ کیا گیا۔ بل آخر 1962 کے بنیادی جمہوریت کا آئین بھی صدر یحییٰ خان کی آمرانہ حکومت کے دور میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کیساتھ ہی مغربی و مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے سبب سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زیر قیادت 1973 میں نئے آئین نے جنم لیا جسے جولائی 1977 میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی تحریک سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے صدر ضیاء الحق نے معطل کرکے اپنی آمرانہ حکومت قائم لی ۔
1988 میں ضیاء الحق کی فضائی حادثے میں وفات کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت بحال ہوئی تو نوے کی دھائی میں ملکی سیاسی قیادت نے ملک میں جمہوری روایات کو فروغ دینے ، اسلامی طرز فکر کیمطابق جمہوری معاشرے کی تعمیر کرنے اور امانت ، صداقت و دیانت پر مبنی شفاف انتظامی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے خود کو ملک کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہوئے نہ صرف کرپشن و بدعنوانی کو ہی اپنا متمع نظر بنا لیا بلکہ ایک دوسرے کی حکومتوں کو گرانے کیلئے سازشوں کے جال بھی بننے شروع کئے جس کی ابتدا محترمہ بے نظیر بھٹوکی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف ضیاء الحق لابی کی قیادت کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیراعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف نے کی۔ بے نظیر حکومت کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع ہوئے تو پھر نوے کی دھائی میں یہ سلسلہ دس برس کی مدت میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان چار انتخابی مقابلوں میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی چار حکومتوں کے آنے جانے پر 1999 میں صدر مشرف کی آمرانہ حکومت کے قیام پر منتج ہوا۔ صدر مشرف کے آمرانہ دورِ حکومت میں میاں نواز شریف کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں 14 برس قید ہوئی تو وہ مشرف سے ڈیل کرکے سزا معاف کراکے دس برس کیلئے جلاوطنی اختیار کرکے سعودی عرب چلے گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زردری قید میں تھے چنانچہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ذاتی طور پر جلا وطنی اختیار کرلی۔ 2007 میں ملک میں بحالی جمہوریت کے حوالے سے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے لندن میں میثاقِ جمہوریت کا معاہدہ کیا۔ محترمہ 2007 میں وطن واپس آئیں لیکن اُنہیں رولپنڈی میں دہشت گردی کے بدترین واقعہ میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔بہرحال 2008 کے انتخابات میں صدر زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے وفاق میں حکومت بنائی جبکہ پنجاب حکومت میاں نواز شریف کے قبضہء قدرت میں آئی چنانچہ 2013 کے انتخابات میں وفاق کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہو گئی۔
صد افسوس کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی سیاسی حکمرانوں نے ماضی میں 1988/1999 کی سیاسی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور ملک کے نظم و نسق کو جمہوری کلچر کیمطابق بہتر بنانے ، عوامی بہبود کیلئے اچھی اور شفاف انتظامیہ کو محور سیاست بنانے اور اسلامی فلاح و بہبود کے حوالے سے قومی تعمیر و ترقی کو ممکن بنانے کیلئے عملی اقدامات کرنے کے بجائے نہ صرف بدنظمی ، کرپشن ، بدعنوانی، اقربہ پروری اور قومی اداروں کی بیخ کنی پر ریاستی صلاحیتیں صرف کرنی شروع کیں بلکہ سول سرونٹ ایکٹ اور کنڈکٹ رولز کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے آمرانہ قوت کو وزیراعظم کی ذات میں مجتمع کرتے ہوئے اہم قومی اداروں میں( ماسوائے افواجِ پاکستان اور عدالت عظمیٰ) سول سروس کمیشن اور آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو منسوخ کرتے ہوئے انتہائی منافع بخش عہدوں پر قواعد و ضوابط سے ہٹ کر سیاسی قیادت کے اشاروں پر چلنے والے حاشیہ برداروں اور اقربہ کو نوازنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ چنانچہ ملک میں کرپشن و بدعنوانی کو فروغ حاصل ہوا جبکہ قومی انتظامی امور کو بیرونی قرضوں کا غلام بنا دیا گیا۔ حیرت ہے کہ پاناما پیپرز لیکس میں جب میاں نواز شریف فیملی کی بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپائی ہوئی اربوں ڈالر کی دولت کا انکشاف ہوا تو بھی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی جانب سے مواقع فراہم کئے جانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ حقیقت کو آشکار نہیں کیا بلکہ قومی اسمبلی کے فلور اور ٹیلی ویژن پر انتہائی تضاد بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنی ذات کے صادق و امین ہونے کے تاثر کو بھی مسخ کر لیا۔ نتیجتاً سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے ایک تاریخی فیصلے میں متفقہ طور پر میاں نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62/63 کی متعلقہ دفعات کے تحت پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہونے اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے نااہل قرار دے دیا ۔
البتہ درج بالا تناظر میں بھی نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی اصلاح احوال کے بجائے پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن) کی عددی اکثریت کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمانی سیاست میں داخل ہونے کیلئے چور دروازہ تلاش کرنے کی کوشش کی اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 62/63 کی دفعات سے متصادم انتخابی قوانین سے متعلقہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے نااہل افراد کیلئے پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے والی پارٹی صدارت پر قابض ہوگئے۔ لیکن ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کی جانب سے اِس ایکٹ آف پارلیمنٹ کو خلاف آئین قرار دئیے جانے کے بعد بھی نواز شریف نے اصلاحی رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ پارٹی کے ایک اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد کی حیثیت سے ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کا پروگرام بنایا ہے۔ ایسای محسوس ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف ملکی اور بین الاقوامی سیاسی تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے جھوٹ اور پروپیگنڈے کے سہارے ایک اُردو محاورے : ” چِت بھی میری ، پَٹ بھی میری اور اَنٹا میرے والد کا ” کے منفی فلسفے پر ہی قائم نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ اُنہوں نے جدید دنیا میں نازی جرمنی کے جھوٹے پروپیگنڈے کے ماہر جوزف گوئیبلز کا بھی فکری و عملی طور پر ریکارڈ کیونکر توڑ دیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آج بھی وفاقی اور پنجاب حکومت نواز شریف کے پنجہء قدرت میں ہے ۔ نااہلی کے بعد میاں نواز شریف کی جانب سے نامزد کردہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تواتر سے یہی کہہ ررہے ہیں کہ وہ وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ نواز شریف ہی اُنکے وزیراعظم ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پارٹی صدارت سے علیحدگی کے بعد اُنہیں تاحیات پارٹی کا قائد مقرر کر دیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت اُن کے پنجہ قدرت میں ہونے کے باوجود اُنہوں نے اُنکے اپنے وزیراعظم کی جانب سے پٹرول قیمتیں بڑھانے اور بیرونی قرضوں پر بھروسہ کرنے پر جس کے باعث ملکی مہنگائی میں بدترین اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، صد افسوس کہ قومی معاملات میں کرپشن کو فروغ دینے، سول قومی اداروں میں اپنے حاشیہ برداروں کو سربراہ بنانے ، قومی دولت لٹانے اور اپنی نااہلی تسلیم کرنے کے بجائے جناب نواز شریف نے پارٹی قائد مقرر ہونے کے بعد اپنے تازہ ترین وچار میں کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھانے کے حوالے سے اُن کے نامزد کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ اِس مہنگائی اور بیروزگاری کے ذمہ دار وہ پانچ رکنی بنچ ہے جس نے اُنہیں وزارت عظمیٰ کیلئے نااہل قرار دیا ہے۔ ایں چہ بوالعجبی است ۔
سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف اپنی غلطیوں کو جانتے بوجھتے اور حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے اُردو محاورے ” چِت بھی میری پَٹ بھی میری اور انٹا میرے والد کا ” کے مصداق ایک تسلسل کیساتھ یہی تکرار کرتے رہے ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس سے مجھے کیوں نکالا ۔چنانچہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی قیادت میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے گزشتہ روز 2 مارچ 2018 کو جاری ہونے والے اپنے مفصل فیصلے میں اِس اَمر کا بھی بخوبی تذکرہ کر دیا ہے: ” طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، آئین کے آرٹیکل 62/63 کے تحت اہلیت نہ رکھنے والا شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا ۔ ایسا شخص آرٹیکل 63 اے کے تحت کسی سیاسی جماعت کا سربراہ یا کسی بھی حیثیت میں پارٹی میں کام نہیں کر سکتا … پاکستان کے آئین کیمطابق مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ) کا بنیادی مقصد اسلام کے اصو ل کیمطابق کام کرنا ہے اور مجلس شوریٰ کے تمام اراکین کو اسلام کے اصولوں کیمطابق ہونا چاہیے” ۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس کے سامنے آنے پر اِس سے متعلق دنیا بھر کے اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں ، اِس اسکینڈل کے ذریعے دنیا بھر کے مختلف ملکوں کی معروف شخصیتوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں ۔ اِنہی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی سامنے آئے ۔ اِسی دوران دنیا بھر میں پاناما لیکس کی وجہ سے کئی عالمی رہنماؤں نے اپنے عہدوں سے استعفے دئیے اور قوم کے سامنے وضاحتیں پیش کیں ۔ میاں نواز شریف نے بھی اِسی حوالے سے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر قوم سے اور پارلیمنٹ کے اندر منتخب نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مختلف وضاحتیں پیش کیں لیکن بیانات میں تضاد کی وجہ سے لوگوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی صرف ایک شخص نواز شریف کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی ہے لہذا، الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 203 اور 232 کو چیلنج کرتے ہوئے اُنہیں آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دینے کی استدا کی گئی تھی۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک درخواست گزار کے وکیل فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایک ایسا شخص جو ایماندار ہی نہیں ہے وہ کس طرح سینٹ اور قومی اسمبلی میں ایماندار عوامی نمائندوں کی رہبری کر سکتا ہے؟ چنانچہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین کو بائی پاس کرنے کیلئے ضمنی قانون سازی نہیں کی جا سکتی کیونکہ اِس سے مقننہ کو ایسے لوگ کنٹرول کریں گے جو آئین کے تحت پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتے۔
درج بالا تناظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے طاقت کا سرچشمہ ذاتِ خداوندی کو قرار دیکر دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی آئین کی روح کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ نے اسلامی شریعت کے اصولوں کو عوام الناس تک پہنچانے کیلئے اپنی وفات سے قبل مسلم امّہ اور ساری دنیا کیلئے اسلامی شریعت اور اخلاق کے تمام اساسی اصولوں کا اعلان کرنے کیلئے حجتہ الوداع کا قصد کیا تھا اور اپنے خطبہ الوداع میں اسلامی شریعت اور اخلاقی اصولوں کی فکر کو بخوبی مہمیز دی تھی۔ چنانچہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں دی گئی آرٹیکل 62/63 کی مختلف دفعات کی تشریح کرتے ہوئے یقیناًفکر اسلامی کے حوالے سے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی عدالتوں اور مقدمات کے فیصلے کے حوالے سے قرآنِ حکیم اور فکر رسولؐ کی تلقین کرتے ہوئے مذہبی کتاب کنز العمال میں بخوبی کہا گیا ہے کہ مقدمات میں اوّل تو قرآن مجید کیمطابق فیصلہ کرو ، اگر قرآن میں کوئی ایسی کوئی صورت مذکور نہ ہو تو حدیث کی جانب رجوع کرو اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو اجماع سے ورنہ اجتہاد سے کام لو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس مسئلہ میں شبہ ہو اور قرآن و حدیث میں اِس کا ذکر نہ ہو تو اِس پر بار بار غور کرو اور اِس کی مثالوں اور نظیروں کو پہچان کر اِن پر قیاس کرو، جو شخص ثبوت پیش کرنا چاہے اُس کیلئے معیاد مقرر کرو ، اگر وہ ثبوت دے تو اُس کا حق دلاؤ ، وگرنہ اُس کے خلاف فیصلہ کرو۔
درحقیقت ، میاں نواز شریف جو اپنے آپ کو قائداعظم ثانی کہلوانے سے بھی گریز نہیں کرتے رہے ہیں، نے اپنی جائز و ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپا کر اور اِس چھپی ہوئی دولت و پراپرٹی کی نگرانی کیلئے اپنے صاحبزادوں کو خفیہ ذرائع سے برطانیہ کی شہریت دلوا کر مملکت خداداد پاکستان پر اپنی فیملی کی جانب سے عدم اعتماد کا اعلان کر دیا ہے۔ نااہل وزیراعظم تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے اور اپنے گزشتہ چار سالہ دورِ حکومت میں تو اُنہوں نے تمام ہی حدوں کو پار کرتے ہوئے نظام مملکت کو غیر معمولی بیرونی قرضوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ چنانچہ ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی میگا کرپشن کے سبب جس کا تذکرہ اب تواتر سے قومی احتساب بیورو کی مثبت تحقیقی اور تفتیشی سرگرمیوں میں نظرآ رہا ہے ، پاکستانی معیشت غیر معمولی بیرونی و ملکی بنکوں سے قرضوں کے حصول کے باوجود اتنی دگرگوں ہے جیسی پہلے کبھی نہیں تھی۔ ملک کی اکثریتی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، بین الاصوبائی معاملات اختلافات کا شکار ہیں ، قومی و بیشتر صوبائی اسمبلیوں کے اندر حزب اقتدار ، اپوزیشن کے نقطہ نگاہ کو اہمیت دینے اور مثبت و تعمیری قانون سازی سے محروم ہے جبکہ سیاست کو جرائم سے آلودہ کرکے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے بیشتر افراد کو اہم سول اداروں میں منافع بخش عہدوں پر تعینات کرکے قومی دولت کو نقصان اور ایسے افراد کو غیر معمولی فوائد پہنچائے جا رہے ہیں۔ خارجہ امور کے حوالے سے وزراء کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی نئی داستانیں مرتب کی جا رہی ہیں اور سابق نااہل وزیراعظم پاکستان کی موجود ہ وزراء کی فوج ظفر موج ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے دشمن وزیراعظم نیریندرا مودی اور بھارتی ایجنٹ سجن جندال سے شریف فیملی کی ذاتی دوستی کو بدستور آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ امریکہ دن رات پاکستانی سیاسی قیادت کو اپنے شکنجے میں جکڑ رہا ہے جبکہ بھارتی انٹیلی جنس ادارے افغانستان اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں بیٹھ کر گوادر سی پیک معاہدے کے حوالے سے پاکستان چین تعلقات میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ میاں نواز شریف اِس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ قومی دولت کو بے دریغ لٹانے اور اپنی شاہ کرچیوں کو مہمیز دینے کیلئے اپنے حاشیہ برداروں کو ذاتی مفاد پہنچا کر عوام کو تواتر سے میڈیا اشتہارات پر کروڑوں روپے کی قومی دولت خرچ کرکے منفی ریاستی پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کی ڈِش انفارمیشن میں مصروف ہیں ۔ چنانچہ نواز شریف کی غلط کاریوں اور قومی خزانے سے شاہ خرچیوں کے باوجود کچھ عوامی حلقے بدستور اُن کی پزیرائی میں مصروف ہیں لیکن اکثریتی عوام بہرحال اُن کے اصل رنگ کو پہچان چکے ہیں اور آئندہ انتخابات میں اُن کی جماعت شاید وہ پوزیشن نہ حاصل کر سکے جس کی وہ افواج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے خلاف پروپیگنڈے کو مہمیز دیکر حاصل کرنے کی متمنی ہے۔ اندریں حالات ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اچھائی کی اِس آواز کو قدرے بلند کر دیا ہے کہ ” گناہ گار کو بچانا گویا کہ خود گناہ گار بننے کے مترادف ہے”لیکن میاں نواز شریف کے حاشیہ برداروں نے بہرحال آئین سے متصادم قانون پاس کرکے یہ ضرور ثابت کیا تھا کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ میاں نواز شریف کی سیاسی موشگافیوں اور،، چِت بھی میری پَٹ بھی میری اور اَنٹا میرے والد کا،، تواتر سے بے معنی مظاہرہ کرنے کے باوجود عدالت عظمیٰ نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف کی جماعت کو یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ چاند پر خاک ڈالنے سے چاند چھپتا نہیں ہے اور جس میں برداشت ہو اُس پر نواز شریف جیسے نااہل افراد کبھی بھی غلبہ نہیں پا سکتے کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہی عدلت عظمیٰ کیلئے مشعل راہ ہے ۔

108
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...