قارئین کرام ! پاکستان ایک مشکل سیاسی و بین الاقوامی صورتحال سے گزر رہا ہے چنانچہ امریکا اور بھارت پاکستان چین سی پیک دوستی کو خطے میں مخصوص گلوبل مفادات کے پس منظر میں دیکھتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف اپنی بہترین کوششوں کے باوجود امریکا و بھارت پاکستان کا نام گوبل ٹیررسٹ فناسنگ واچ لسٹ میں ڈلوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ پاکستان فوج دہشت گردوں سے لڑنے کے علاوہ کشمیر کنٹرول لائین پر حالت جنگ میں ہے ۔ ڈیورنڈ لائین پر بھی افغان بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے مسائل کھڑے کرنے کیلئے متحرک ہے۔ صد افسوس کہ مسلم لیگی قیادت اقتدار کی غلام گردشوں میں بدستور موجزن ہونے اور قومی مسائل کو بخوبی حل کرنے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجود قومی مسائل سے غفلت برتنے اور اپنے وزراٗ کی فوج ظفر موج کیساتھ بیشتر وسائل نااہل وزیراعظم نواز شریف فیملی کے ذاتی مقدمات میں مافیائی سیاست کیساتھ عدالت عظمیٰ اور افواج پاکستان کے خلاف غیر آئینی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ دراصل جو بھی مذموم پروپیگنڈا عدالت عظمیٰ اور فوج کے خلاف تواتر سے کیا جا رہاہے اُس کے ڈانڈے مبینہ طور پر پاکستان دشمن ملکوں سے بھی جڑے نظر آتے ہیں۔ میمو گیٹ کیس میں سابق سفیر حسین حقانی کو عدالت عظمیٰ میں پیش کرنے کیلئے بظاہر ریڈ وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں جبکہ فوج کے خلاف لایعنی پروپیگنڈا مہم کے حوالے سے اِسی سلسلے کی دوسری کڑی یعنی وزیراعظم ہاؤس سے ڈان لیکس پر کمیشن رپورٹ پبلک نہ کئے جانے کے باعث بھی سول سوسائیٹی میں غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان متعدد مرتبہ اِس رپورٹ کو پبلک کرنے کی بات کر چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے اُنہوں نے میڈیا کیساتھ ایک گفتگو میں یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ خود اِس رپورٹ کو پبلک کر دیں گے تاکہ عوام کے علم میں یہ بات آئے کہ کون کیا کرتا رہا ہے ؟ چوہدری نثار علی خان اِس سے قبل یہ وضاحت بھی کر چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی کور کمیٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد مشورہ دیا تھا کہ وہ موٹر وے کے ذریعے لاہور جائیں جبکہ نواز شریف کی حامی ایک میڈیا ٹیم نے سیکورٹی خدشات کے باوجود میاں نواز شریف کو جی ٹی روڈ سے عوامی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر نواز شریف نے عمل کیا اور اِس کی اطلاح میاں نواز شریف کے کہنے پر ٹیلی فون پر وزیراعلی پنجاب کو دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اسلام آباد سے لاہور تک میاں نواز شریف نے اِس موقع کو آئینِ پاکستان کے منافی افواج پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے خلاف انتہائی تلخ پروپیگنڈے کیلئے استعمال کیا ۔ حیرت ہے کہ چوہدری نثار علی خان کے انکشافات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی منحرف خاتون ایم این اے عائشہ گلالئی نے جو حالیہ چند مہینوں میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے خلاف انتہائی معاندانہ پروپیگنڈے میں مصروف رہی ہیں میڈیا چینل پر ایک حالیہ گفتگو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنماؤ ں نے اُنہیں فوج کے خلاف گفتگو کرنے کا مشورہ د یا تھا جس کیلئے اُنہوں نے میرے والد کو پُرکشش معاوضہ کی آفر کی تھی لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ ایں چہ بوالعجبی است ؟
دریں اثنا ، سپریم کورٹ کی جانب سے پالیمنٹیرین نہال ہاشمی کو توہین عدالت کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد دو وفاقی وزراء طلال چوہدری و دانیال عزیز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جانے کے گئے ہیں لیکن اِ سکے باوجود نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف، اُن کی صاحبزادی مریم نواز صفدر اور داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی جانب سے بدستور نیب کورٹ اور عدالت عظمیٰ کے خلاف توہین آمیز گفتگو بدستور جاری ہے۔ کیپٹن صفدر نے جے آئی ٹی کر سربراہ واجد ضیاء کے نیب کورٹ میں شہادت کیلئے پیش ہونے کے موقع پر دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کیا ہے جبکہ سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) کی سماعت کے دوران مریم نواز صفدر نے ایک ٹوئیٹ میں یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن بغض و انتقام نہیں ہے تو اور کیا ہے ۔ اِسی غیر آئینی تحریک کو مہمیز دیتے ہوئے نامعلوم افراد کی جانب سے نہال ہاشمی کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ کے خلاف کراچی میں توہین آمیز الفاظ کیساتھ پینا فیکس بورڈ لگائے گئے ہیں جبکہ میاں نواز شریف نے میڈیا میں دئیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ انصاف کی کرسی پر موجود لوگوں کی اللہ کے حضور زیادہ پوچھ ہو گی ، انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے لوگ کیا جواب دیں گے کیونکہ ہم جو عوام کی خدمت کر رہے تھے ہمیں گھر بھیج دیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ سابق نااہل وزیراعظم انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ججز جنہوں نے اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے میاں نواز شریف کے پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر خطاب میں پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے جھوٹ و کپٹ آمیز متضاد بیانات کے علاوہ صاحبزادی کی جعلی دستاویزات عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کرنے اور اُن کے صاحبزادگان کے بیرون اور اندرون ملک میڈیا میں دئیے گئے متضاد بیانات کے باوجود اصلاح احوال کیلئے شریف فیملی کو جے آئی ٹی میں بھی متعدد مواقع دئیے گئے لیکن اُن کی جانب سے مستند شہادتیں پیش نہ کرنے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 62/63 کی متعلقہ دفعات کے تحت جب سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اُنہیں متفقہ طور پر صادق و امین نہیں پایا اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے نااہل قرار دیا گیا تو پھر اُن کی اور اُن کے حاشیہ نشینوں کی جانب سے انصاف کی کرسی پر موجود ججوں کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈا کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر میاں نواز شریف اللہ کی عدالت پر ہی معاملے کو چھوڑنا چاہتے ہیں تو پھر یہ صبح شام واویلا کیوں مچایا جا رہا ہے۔ کیا درج بالا تناطر میں اُنہیں قرآن کریم میں اللہ تبارک تعالیٰ کی اِن آئیات مقدسہ کی روشنی میں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سورۃ 2 البقرہ آئیت 9/10/11 میں کہا گیا ہے ” وہ (خیالوں میں ) دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور ایمان لانے والوں سے لیکن وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں بیماری ہے پھر اللہ نے اُن کی بیماری بڑھا دی اور اُن کیلئے دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔اور جب اُنہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو وہ کہتے ہیں کہ و ہ تو اصلاح کرنے والے ہیں تو جان لو کہ وہ نہیں جانتے کہ وہی خرابی کرنے والے ہیں ” ۔سورۃ 3 آل عمران آئیت 25/26 میں کہا گیا ہے : ” تو کہہ دو ،، یااللہ آپ ہی سلطنتوں کے مالک ہیں ، آپ جس کو چاہیں سلطنت دیں اور جس سے چاہے سلطنت چھین لیں ، آپ جس کو چاہیں عزت دیں اور جس سے چاہیں عزت چھین لیں ،،آپ کے ہاتھ میں سب خوبی ہے اور بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں” ۔
اندریں حالات ، بہتر تو یہی ہوتا کہ میاں صاحب سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے کے بعد اپنی اصلاح احوال کی طرف رجوح کرتے نہ کہ آپ نے عوام کو عدالت عظمیٰ اور افواج پاکستان کے بارے میں گمراہ کرنا شروع کردیا ہے ایک ایسے مشکل وقت جبکہ آپ کے ذاتی دوست بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے آپ کے کشمیری بھائیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کئے ہیں اور آپ کی حکومت کے دوران ہی جسے آپ کے نامزد کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی لیڈ کر رہے ہیں آپ ہی کے ذاتی دوست نریندرا مودی نے کشمیر کنٹرول لائین پر افواج پاکستان کو مصروف رکھنے کیلئے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائین کے نزدیکی علاقوں میں بسنے والے بے گناہ کشمیریوں کو بدترین گولہ باری کا نشانہ بنانا شروع کیا ہوا ہے جبکہ فوج دلیری کیساتھ مقابلہ کر رہی ہے البتہ پاکستان فوج کو قوم کیلئے قربانیاں دینے کے باوجود شک و شبہات سے دیکھنے میں آپ کا ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے کیونکہ آپ نے اپنی تین وزارتوں کے دوران کسی بھی آرمی چیف سے معمول کے تعلقات قائم نہیں کئے اور یہی کیفیت اعلیٰ عدالتوں کیساتھ رہی جبکہ آپ کے حاشیہ برداروں نے ماضی میں چیف جسٹس پاکستان کی عدالت پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ سول سوسائیٹی میں یہی سوال گردش میں ہے کہ آپ قومی اداروں میں اپنے ذاتی وفاداروں کیساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مافیائی سیاست کو کیوں فروغ دینا چاہتے ہیں اور اپنی فیملی کی غیر معمولی دولت آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک لے جانے سے کیا آپ نے جائز ناجائز دولت ملک سے باہر لے جا کر پاکستانی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے۔
دریں اثنا، گزشتہ روز قومی احتساب بیورو نے مستند تحقیقات کے شواہد کیساتھ احتساب عدالت( نیب) میں نواز شریف فیملی کے خلاف دو ضمنی ریفرنس دائر کئے ہیں جن میں مبینہ طور پر نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیتے ہوئے اُنہیں اپنی فیملی کے اثاثوں کا مالک قرار دیا گیا ہے جس سے وہ اب تک انکار کرتے رہے ہیں ۔نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو تحقیق و تفتیش کیلئے نیب نے بلایا تھا تاکہ اگر اُن کے پاس اپنے دفاع کیلئے کچھ مواد ہے تو پیش کر سکیں لیکن وہ شامل تفتیش نہیں ہوئے۔دوسری جانب اُن کی صاحبزادی سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے وکلاء سے کئے گئے سوال و جواب کا سیاق و سباق سے جائزہ لئے بغیر کسی دلیل کے بغیر محض اپنی ہیکڑی جتانے کیلئے سپریم کورٹ کے خلاف بے معنی الزامات لگانے میں مصروف ہیں۔ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے اُسے جاننے کی اُنہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔اُن کا اپنے حماتیوں کو اُکسانے کیلئے یہ کہنا کہ کبھی گاڈ فادر اور کبھی سسلین مافیا کبھی چور کبھی ڈاکو کہا جاتا ہے ، عوامی عدالت سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو ججزسے نئی گالی سننے کو ملتی ہے ، ناقابل فہم ہے کیونکہ عدالتی کاروائی میں بحث کے دوران ملزم کے وکلا سے سوال و جواب کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کا شمار دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ عدالتی روایت کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ چیف جسٹس کی جانب سے یہ کہا جا چکا ہے کہ میڈیا عدالتی آبزرویشن کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلا دیتا ہے جبکہ عدالت کیلئے تمام سیاسی رہنما قابل احترام ہیں(جب تک کہ اُن کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو جاتا)۔ دراصل جس قسم کا ردعمل میاں نواز شریف اور مریم نواز صفدر کی جانب سے آ رہا ہے اُس میں جمہوریت کے بجائے فاشزم کی روح جھلکتی نظر آتی ہے۔ جھوٹ اور سچ کی تفریق اور عزت و ذلت کے حوالے سے اسلامی فکر کو سورۃ 2 البقرہ آئیت 9/10/11 اور سورۃ 3 آل عمران آئیت 25/26 میں کے حوالے سے پہلے ہی بیان کردیا گیا ہے جس کے دھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہاں حکمرانوں کی فکرِ جدید کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
اگر دنیا کی تاریخ میں فاشزم کے عروج کا جائزہ لیا جائے تو یورپ میں نازی جرمنی اور موسولینی کے اٹلی میں اِس کا بخوبی جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ ماضی میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث اٹلی کے جزیرے سسلی میں پانچ فیملیوں کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے جنہوں نے زیر زمین مجرمانہ سرگرمیوں میں فاشسٹ اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے جائز ناجائز ذرائع سے دولت کے حصول کو اپنا متمع نظر بنایااور بیشتر دولت امریکہ میں بھی منتقل کی گئی۔یورپ میں فاشزم کا عروج بھی پاپولر سیاسی جماعتوں کی مافیائی سیاست کے ذریعے ہی پایہِ تکمیل تک پہنچا تھا جبکہ زیر زمین مافیائی تنظیموں نے دولت کو اپنا ایمان مان کر عوام پر ظلم و ستم کے بازار گرم کئے جس نے دنیا کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مافیا کیا ہے اور مافیائی سیاست کا کیا مقصد ہے ؟ درحقیقت مافیائی سیاست کا مقصد سیاسی ، سماجی اور ثقافتی اقدار اور سرگرمیوں پر قانونی اور غیر قانونی ذرائع سے مکمل کنٹرول حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے جس میں مافیا کے چنیدہ چنیدہ اہم مہروں کی جھولیوں کو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت سے بھرنا شامل ہے جس کیلئے شریف انتظامیہ نے اہم اداروں بل خصوص معاشی اور اطلاعاتی اداروں میں مشتبہ شہرت رکھنے والے افراد کو تعینات کیا ۔ چنانچہ ملک میں مافیائی سیاست کو فروغ دینے کیلئے اطلاعات و نشریات کے اداروں کو عوام کو ٹیلرڈ کی گئی ڈِس انفارمیشن میڈیا کے ذریعے فراہم کرکے سیاسی مافیا کے اصل عزائم کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ چنانچہ اِس مقصد کے حصول کیلئے نازی جرمنی کے جھوٹ اور کپٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی مہارت رکھنے والے نازی پراپیگنڈے کے بدنام زمانہ وزیر جوزف پال گوئبلز کی فکر کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدائی طور پر یہی کام پہلے وزیراعظم ہاؤس میں کیا جاتا رہا جہاں فوج کے خلاف ڈان لیکس کی بنیاد رکھی گئی اور اب اِس کا مرکز نااہل وزیراعظم کی سربراہی میں جاتی عمرہ میں شفٹ ہو گیا ہے جس کی نشان دہی تحریک انصاف کی منحرف عائشی گلالئی نے اپنے انداز سے قومی میڈیا میں نواز شریف کی اینٹی آرمی اور اینٹی عدلیہ پالیسی کے حوالے سے پیش کی ہے ۔ البتہ آج کے حکمران عوام کو جھوٹ کی مافیائی سیاست سے بھول بھلیون میں غوطہ زن کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ 1945 میں خود کشی کے ذریعے موت کو گلے لگانے کے بعددنیا بھر میں گوئبلز کا نام اچھائی کی آواز کے طار پر نہیں بلکہ مافیائی سیاست کے نام سے جھوٹ اور کپٹ کی نشانی کے طور پر ہی یاد کیا جاتا ہے۔
درج بالا تناظر میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے بھی اور دنیا بھر میں جمہوری رسم و رواج کیمطابق بھی سچ کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ سچ کی پناہ ایک ایسی آہنی شیلڈ ہے جو زمانے کے سرد و گرم اور مخالفین کے تواتر سے کئے جانے والے حملوں سے نہ تو شکستہ ہوتی ہے اور نہ ہی اِس میں کوئی شکن آتی ہے چنانچہ سچ کے علمبردار معاشرتی سربلندی اور انسانیت کی معراج پر گامزن ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ البتہ جب سے جدید دنیا میں خفیہ مقاصد کو عوامی نظر سے چھپانے کیلئے حاکم وقت کے اشارے پر سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ اور ڈِس انفارمیشن وقت کی ضرورت بن گئی ہے تو کلمہء حق کہنے والے بھی خال خال ہی رہ گئے ہیں جنہیں کبھی کبھی حکمرانوں کی جھوٹ و کپٹ سے لبریز کہانیوں کو سن کر تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ گویا خواص بھی جھوٹ و سچ کی تمیز سے محروم ہو گئے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ آج کے حکمرانوں کی سچ کو چھپانے چاہے جائز ناجائز دولت کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپانے کی عادت ہی کیوں نہ ہو ، حالت یہ ہے کہ
حکمرانوں نے جرائم کو سیاست سے آلودہ کرنے کے بعد پروپیگنڈے کے زور پر سیاسی ڈِس انفارمیشن کو زینہ بنا کر عوام کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ تسلیم کرتے جائیں لیکن جھوٹ و سچ کی اِس راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں جنہیں روشن قندیل بنانے کیلئے ملک کے اسلامی تشخص پر یقین کامل رکھتے ہوئے لوگ جراٰت رندانہ سے آج بھی سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے پر قائم ہیں اور مافیائی سیاسی حربوں کے خلاف پاکستان فوج و عدلیہ کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ علامہ اقبالؒ اپنے وجدانی کلام میں فرماتے ہیں۔۔۔
امرا نشّہِ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملّتِ بیضاء غربا کے دم سے
کون ہے تارکِ آئینِ رسولﷺ مختار
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار
ہوگئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار
قلب میں سوز نہیں ، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدﷺ کا تمہیں پاس نہیں

120
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...