ملکی سیاست میں اربوں کی کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری سیلابی پانی کی چادر کی طرح پاکستانی قوم کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے جبکہ خادم اعلیٰ پنجاب جو خدمت کے لفظ کیساتھ بھی اعلیٰ کا دم لگانے سے نہیں چوکتے اکثر و بیشتر دھیلے کی کرپشن کا تواتر سے تذکرہ کرتے رہتے ہیں جبکہ دھیلا دنیا بھر میں اب کسی ملک کی کرنسی کا حصہ نہیں ہے چنانچہ نئی نسل کے جوان بزرگوں سے یہی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ یہ دھیلا کیا ہوتا ہے؟ گو کہ پاکستان میں عوام کی حکومت عوام کے نام پر عوام کیلئے جمہوری حکومت قائم ہے لیکن وقت بدل گیا ہے، اخلاقی قدریں بدل گئی ہیں حکمرانوں کی سوچ بدل گئی ہے چنانچہ شریف فیملی بھی پیسے کی چمک میں عوام سے حقائق چھپانے میں ہر دم تیار بیٹھی رہتی ہے جبکہ دعویٰ یہی ہے کہ اگر دھیلے کی کرپشن بھی ظاہر ہوجائے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے لیکن ایسا کیا نہیں جاتا بلکہ عوام کو پروپیگنڈے کے زور پر نئی اُلجھنوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میاں نواز شریف کو پاناما کرپشن کیس میں وزارت عظمیٰ کیلئے قول و فعل کے اعتبار سے صادق و امین نہیں سمجھا گیا اور نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا تو اپنی بیگناہی کے ثبوت پیش کرنے کے بجائے عدلیہ اور افواج پاکستان کے خلاف نام نہاد سازشوں کے الزامات کا جال بننے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔ عوام مضطرب ہیں کہ قانونی یا غیر قانونی ذرائع سے کمائی ہوئی دولت آف شور کمپنیوں کے ذریعے غیر ممالک میں کیونکر لگائی جا رہی ہے جس کی منی ٹریل کا اشارہ نااہل وزیراعظم کی جانب سے قومی اسمبلی میں جھوٹ کا سہارا لیکر کیوں پیش کیا گیا جسے شریف فیملی نے عدالتی ریویو میں قول و فعل کی تضاد بیانی کے حوالے سے بالکل ہی بدل دیا چنانچہ پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے کیمطابق نااہلی کو دل سے تسلیم کرنے کے بجائے شریف فیملی اور اُنکے حاشیہ برداروں کی جانب سے کسی سازش کی بو سونگھنے کی کوشش عام آدمی کی نگاہ میں ناقابل فہم ہے۔ چنانچہ آئی ایس پی آر کے چیف میجر جنرل آصف غفور کو متعدد مرتبہ وضاحت کرنی پڑی اور نجی چینل سے حالیہ گفتگو کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ ثمرات اگر عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آرمی چیف آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں جبکہ وقت پر انتخابات کرانا آرمی کی نہیں الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے ۔
حقیقت یہی ہے کہ پاناما پیپرز کے حوالے سے شریف فیملی اور اُن کے حاشیہ برداروں کا عدلیہ اور فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا عوام الناس کیلئے ناقابل فہم ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی تھی کہ نواز شریف نااہلی کے بعد نیب عدالت میں اپنی صفائی میں شہادتیں گزار تے لیکن ایسا کرنے کے بجائے اُن کے صاحبزادے جو جے آئی ٹی میں بخوبی پیش ہوتے رہے ہیں نیب کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے بجائے اشتہاری ملزم بن چکے ہیں۔ چنانچہ ن لیگ کی حکومت احتساب بیورو میں قانون کیمطابق پراسیکیوٹر جنرل تعینات نہ کر کے دراصل شریف فیملی کے خلاف نیب کورٹ کے مقدمات میں بیساکی فراہم کرنا چاہتی ہے۔ حیرت ہے کہ احتساب بیورو کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے کیلئے بھیجے گئے پانچ ناموں کی سمری وزیراعظم کے دفتر میں دوماہ سے سرخ فیتے کا شکار رہنے کے بعد عدالت عظمیٰ کے نوٹس لینے پر کہا گیا کہ چند دن میں فیصلہ کردیا جائیگا لیکن حیران کن بات ہے کہ صدر مملکت نے اِن پانچ ناموں کو بغیر کسی وجہ کے مسترد کرکے اپنی جانب سے تین نام جن کے بارے میں میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شریف فیملی کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں چیئرمین نیب کو بھج دئیے ہیں، کیا صدر مملکت کا حکم نامہ آئین و قانون کیمطابق ہے اِس کا فیصلہ کرنا تو سپریم کورٹ کاکام ہے البتہ یہ حکم نامہ اُردو کے محاورے کی طرح ایسا ہی ہے کہ جیسے اُلٹے بانس بریلی کو بھیجے جائیں؟
درحقیقت ، شریف فیملی پنجاب اور مرکز میں گذشتہ تین دھائیوں سے حکمرانی کے منصبوں سے بہرہ ور ہوتی رہی ہے اور آج بھی حکومت کی باگ دوڑ شریف فیملی کے ہاتھ میں ہی ہے۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد گو کہ جناب شاہد خاقان عباسی قانونی طور پر پارلیمان سے منتخب وزیراعظم ہیں لیکن وہ بھی تواتر سے یہی کہہ رہے کہ اصل وزیراعظم نواز شریف ہیں اور اِس پر طرّہ یہ کہ گزشتہ دنوں اُنہوں نے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی بات کر کے بظاہر توہین عدالت کا مرتکب ہونے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ چنانچہ شریف فیملی کی ماضی کی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شریف فیملی اپنے خلاف مقدمات میں نہ صرف انویسٹی گیشن بلکہ پراسیکیوشن اور فیصلے بھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے ۔ جسٹس قیوم جیسے پسندیدہ ججوں کے سامنے مقدمات کی سماعت اور مقدمات کو کمزور کرنے کیلئے عدالتی پراسیکیوٹر بھی اپنے پسندیدہ افراد کو ہی رکھنا چاہتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال دھیلے والی سرکار کے حوالے سامنے آئی ہے کہ جب آشیانہ سکیم انکوائری کیس میں قومی احتساب بیورو نے جناب خادم اعلیٰ کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تو میڈیا رپورٹس کیمطابق اُنہوں نے آشیانہ سکیم میں بدعنوانی کے حوالے سے نیب کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے کہنا شروع کر دیا کہ احتساب کو مذاق نہ بنایا جائے اور یہ کہ غریبوں کا پیسہ بچانا جرم ہے تو وہ یہ جرم(بظاہر میرٹ سے ہٹ کر) کروڑ بار کریں گے۔ میڈیا میں اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے بجائے چیئرمین نیب سے اُنکا مطالبہ کہ احتساب بیورو کے عملے کو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا کاسہ لیس بننے سے روکا جائے بھی ایک ناقابل فہم موقف ہے۔
درج بالا منظر نامے میں غریبوں کی بھلائی اور ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے موجودہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں کیا کیا ہے اگر ملکی معاشی، انتظامی اور معاشرتی منظر نامے کا مختصر جائزہ لیا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کرپشن ، لاقانونیت ، بداخلاقی، بے انصافی ، بدیانتی، ملاوٹ ، چور بازاری اور اقربہ پروری کا دور دورہ ہے ، غریب اور امیر کے درمیان فاصلے زمین و آسمان کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت نے عوام الناس کو بدحال کرکے رکھ دیا ہے ۔ ملک کی پچاس فی صد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ محض پانچ سات فیصد سرمایہ دار ، جاگیردار اور نودولتئیے ملک کے وسائل پر قابض ہیں اور قومی دولت منی لانڈرننگ و دیگر غیرقانونی ذرائع سے بیرونی ملکوں کی زینت بن رہی ہے جبکہ بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ملکی معیشت کے باوجود حکمرانوں کی شان و شوکت قرون وسطیٰ کے بادشاہوں سے بھی چار قدم آگے ہے۔ ملکی انتظامی حوالے سے اخلاق کیا ہے، شرم کسے کہتے ہیں اور حیا کیا ہے سے بے پرواہ ہوکر حکومتی سیاسی چکنے گھڑے اِسے جمہوریت کا حسن سمجھتے ہیں اور بیرونی ڈکٹیشن پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں تو اِس اَمر کا خیال ہی نہیں کرتے کہ دشمنِ دین و وطن کون ہے ؟ دہشت گردی کی جنگ میں افواج پاکستان اور عوام الناس ستر ہزار سے زیادہ قربانیاں دے چکے ہیں جبکہ جمہوری حکمران قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں اور چمکتی دمکتی بلٹ پروف گاڑیوں کے جھرمٹ میں اپنے فصیل نما شاہی محلوں میں ہر فکر و غم سے محفوظ ہیں۔ محترم چیف جسٹس نے ایک حالیہ آبزرویشن میں جب خادم اعلیٰ کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے محل کے گرد شاہی انتظامات کا ملاحظہ کیا تو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ تخت لاہور کی دھیلے والی سرکار کے صاحبزادے کی حفاظت پر 65 پولیس اہلکار متعین ہیں جن کا خرچ حکومتی خزانے سے ادا کیا جا رہا ہے۔ جبکہ یہی سرکاری اہلکار عوامی ردعمل کو کرش کرنے کیلئے تخت لاہور کے حکم پر برسرعام گولیاں برسانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں ۔ غربت و افلاس ختم کرنے کے دعوے محض ایک سیاسی سراب کی مانند ہیں جبکہ غربت و افلاس کے ہاتھوں تنگ آئے ہوئے والدین یا تو اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں یا پھر خودکشیوں کی داستانوں کو رقم کرتے جا رہے ہیں لیکن بدعنوانی و کرپشن سے آلودہ حکمران اپنی اصلاحِ احوال کرنے کے بجائے عوام کو نام نہاد خوشحالی کی بہار اور شاندار مستقبل کی داستانوں سے بہلانے پر ہی مُصر ہیں بقول شاعر۔۔۔۔
اِک لاش وفا پھولوں میں کفنائی ہوئی ہے
کہتے ہیں بہار آئی بہار آئی ہوئی ہے

542
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...