مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک کو باہم متصادم کرنے کے بعد قرائین یہی کہتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ اتحاد نے اب جنوبی ایشیا میں پاکستان ایٹمی پروگرام کو کیپ کرنے کیلئے بھارت کو خطے میں ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثنا، خطے کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں بھارت کی چناکیہ پالیسی ایک مرتبہ پھر سے عود کر سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہُو کے بھارت کے اہم دورے پر آمد سے چند روز قبل ہی بھارتی آرمی چیف نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہوئے پاکستان کی ایٹمی رکاوٹ (Atmic Deterrence) کو بلف قرار دیتے ہوئے چیلنج کرنے کا عندیہ ظاہر کیا جسے گزشتہ روز پاکستانی آئی ٰایس پی آر چیف میجر جنرل آصف غفور نے انتہائی غیرذمے دارانہ بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایٹمی ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن پاکستان کے خلاف کسی بھی بھارتی جارحیت کا مناسب جواب دیا جائیگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ پاکستانی کی ایٹمی صلاحیت مشرقی سرحدوں سے اُبھرنے والے خطرات کیلئے ہی ہے۔ اِس سے قبل 1998 میں چاغی ایٹمی دھماکوں اور پھر ایٹم بم لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے غوری مزائل کے کامیاب تجربے کے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف اہم دفاعی کامیابی حاصل کی ہے جو خطے میں امن قائم کرنے کے حوالے سے ہے کیونکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ نہیں ہو سکتی۔ کیا بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی جنہیں بھارتی عسکریت پسند سنگھ پرائیوار بل خصوص راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے چیف ڈاکٹر بھگوت موہن کی حمایت حاصل ہے اور جو پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنا ذاتی دوست کہتے رہے ہیں، اب امریکہ و اسرائیل کی پس پردہ تھپکیوں سے پاکستان کے خلاف کسی مس ایڈونچر کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو اُنہیں بھارت کی سلامتی کی بھی فکر کرنی چاہیے کیونکہ ایسا کوئی بھی مس ایڈونچر خود بھارت کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے ۔
یہ درست ہے کہ تقسیم ہند کے بعد بھارت نے اسرائیل کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ اپنی ابتدائی پالیسی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عرب ملکوں کی حمایت پر ترتیب دی تھی لیکن یہ پالیسی دیرپا ثابت نہیں ہوئی بلکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد چناکیہ کوٹلیہ پالیسی کیمطابق بھارت نے عرب ممالک سے اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد اسرائیل سے سیکورٹی اور دفاعی تعلقات بڑھانا شروع کئے چنانچہ بل آخر بھارت نے اسرائیل کیساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات بحال کئے بلکہ بڑے پیمانے پر حساس اسلحہ کی خریداری بھی شروع کی حتیٰ کہ بھارت موجودہ دور میں اسرائیل سے جنگی ساز و سامان حاصل کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا۔ گو کہ بھارت کی سیکولر مزاج رکھنے والی قوتیں آج بھی بھارت اسرائیل جنگی تعلقات کے خلاف ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے موجودہ دورے کے خلاف بھی بھارت کے بیشتر شہروں بشمول دہلی میں مظاہرے کئے گئے ہیں لیکن جنگی جنون رکھنے والے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جنہیں گجرات احمدآباد میں ہزاروں مسلمانوں اور عیسائیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا شرف حاصل ہے کو مسلم دشمنی میں فلسطینی عربوں کے قاتل نتین یاہو سے مماثلت اور خاص دوستی قائم کرنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ بھارت میں سیکولر ، دیگر دلت اور مسلم طبقوں کی مخالفت کے باوجود بھارتی انتہا پسند سنگھ پرئیوار کی ہندو تنظیمیں جو بھارت میں مسلم مساجد اور عیسائی گرجوں کی تباہی میں پیش پیش رہی ہیں پاکستان کی جانب سے خطے میں امن قائم کرنے کے حوالے سے حاصل شدہ ایٹمی صلاحیت کے باوجود جنگی جنون پر قائم ہیں ، اعلی ذات کے ہندوؤں کو اپنی فکر پر قائل کرنے کیلئے ایک تسلسل سے اُنہیں قائل کرتے رہے ہیں کہ اسرائیل سے دوستی بھارت کو دنیا میں سپر پاور بنا سکتی ہے۔ اِسی حوالے سے سنگھ پرئیوار کے ایک مستند دانشور سریندرا اٹاری نے 18 نومبر 2003 میں بھارت اسرائیل تعلقات کی مخالف بھارتی جمہوری طاقتوں کو جواب دیتے ہوئے اپنے ادارایہ میں لکھا تھا (یاد رہے کہ 2003 میں ہی سابق اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون نے بھارت کا پہلا دورہ کیا تھا جس میں اسرائیل بھارت سیکورٹی و فوجی تعلقات کی بنیاد رکھی گئی تھی) سریندر اٹاری کے کہنے کیمطابق : ” یہودیت ایک اچھا مذہب نہیں ہے لیکن ہمیں یہودیوں اور یہودی ریاست اسرائیل کیساتھ ایک شاطرانہ اسٹرٹیجک اتحاد قائم کرنے کیلئے اُنکے باوصف مذہبی اصولوں کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ یہودیوں کو ہماری ضرورت ہے اور ہمیں اُنکی کیونکہ دونوں قوموں کے درمیان ایک واضح مشترکہ مفاد موجود ہے۔ ہمارے دو دشمن ہیں اسلام اور عیسائیت جو دو مختلف چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دونوں دشمنوں سے بیک وقت لڑنا دانشمندی نہیں ہے بلکہ ایک وقت میں ایک دشمن سے لڑنا جنگی ہنر مندی کا تقاضا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے بارے میں ہندوؤں کو مفاد پرستانہ منافقت کی سوچ رکھنی چاہیے کیونکہ یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں سے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے میدان میں ہمیں ابھی بہت کچھ حاصل کرنا ہے چنانچہ عیسائیوں سے لڑنے کے بجائے ہندوؤں کو اسلام اور عیسائیت کو ایک دوسرے کے مقابل لانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں یہودی اپنی صلاحیتوں سے بھرپور وسائل اور ہندو اپنی کثیر تعداد کیساتھ ایک فطری اتحاد قائم کرکے دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر قائم کر سکیں” ۔
اندریں حالات ، بھارت کے حالیہ دورے کے ابتدائی مرحلے میں ہی گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے دئیے جانے والے عشائیے میں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو جو ڈیڑھ سو کے قریب صحافیوں اور وفود کے ارکان سمیت بھارت تشریف لائے ہیں جن میں عسکری اداروں اور حساس اسلحہ بنانے والے اداروں کی مستند شخصیات شامل ہیں ، نے بھارت کو ایک عالمی طاقت کے طور پر مخاطب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کا عندئیہ دیا ہے چنانچہ اِن تعلقات کی حساس نوعیت کا اندازہ اِس اَمر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل بھارت کے امریکہ کیساتھ دفاعی و سیکورٹی معاہدوں کے بعد دوسرا ملک ہے جو انتہا پسند بھارتی لیڈرشپ کی حوصلہ افزائی سے بھارت کیساتھ حساس دفاعی معاہدوں میں شرکت کا متمنی ہے ۔درحقیقت اسرائیل بھارت تعلقات میں پاکستان کی ایٹمی طاقت کو ہی فوکس کیا گیا ہے کیونکہ اسرائیلی لیڈرشپ پاکستانی جوہری قوت کو مشرق وسطیٰ میں اپنے لمبی مدت کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں ایک بڑی ممکنہ رکاوٹ سمجھتی ہے ۔ چنانچہ بھارت نائین الیون کے بعد سے ہی اسرائیلی تربیت اور حساس اسلحہ کی مدد سے بھارتی ائیر اور زمینی فوج کے کچھ دستوں کو ایٹمی حیاتیاتی اور کیمیائی ماحول کا سامنا کرنے کیلئے تیار کرتا رہا ہے۔ بھارت کے سابق آرمی چیف جوگندر جسونت سنگھ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارتی سپیشل فورس کی متعدد بٹالین اور پیرا شوٹ سے لیس تین بٹالین کو ایٹمی، حیاتیاتی اور کیمیائی فلٹر سے لیس کیا گیا ہے جس میں اب مزید وسیع کی جا رہی ہے۔ بہرحال خطے میں اکھنڈ بھارت کے تصور کو مہمیز دینے کی منفی فکر کے باوجود بھارت کو اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ بیرونی اشارے پر جنوب ایشیا میں جنگ کے بادل مسلط کرنا خود بھارت کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ قائداعظم کے قول کیمطابق مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے چنانچہ اسرائیل بھارت امریکہ دفاعی گٹھ جوڑ اور بھارت کی جانب سے اپنے ایجنٹوں اور دوستوں کی مدد سے پاکستان میں پھیلائی جانے والی اندرونی تخریب کاری اور خلفشار کے باوجود مملکت خداداد پاکستان کے تحفظ کیلئے پاکستانی عوام قربانیاں دینے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور بھارتی آرمی چیف کا بیان اُنہیں پاکستان کی سلامتی کے تحفظ سے نہیں روک پائے گا ۔

108
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...