پاناما پیپرز کیس میں نااہلی کی سزا پانے اور نیب کورٹ میں مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف قدرے نفسیاتی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں چنانچہ بیشتر ملکی و غیر ملکی دانشور اور سینئر صحافی بھی نیب عدالت کے باہر میاں صاحب کے میڈیا کے خطاب کے دوران کچھ ایسی ہی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے گاہے بگاہے اپنی تحریروں، کالموں اور ٹی وی ٹاک پروگرام میں اِس نفسیاتی کیفیت کا تذکرہ کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔ کیا یہ میاں صاحب کی اُفتاد طبع کا نتیجہ ہے یا وہ دھویں کے بادلوں میں چھپی کسی سیاسی سازش کے تحت ایسا کچھ کر رہے ہیں اِس سلسلے میں حقائق کی تلاش کیلئے ابھی مزید تحقیق و جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ صادق و امین نہ ہونے کے حوالے سے وزیراعظم کے منصب سے آئینی معزولی کے بعد اُن کی میڈیا اور سیاسی و قانونی گروپوں سے گفتگو کے دوران پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بلواسطہ لیکن معنی خیز گفتگو عوام الناس اور قومی دانشوروں میں غلط فہمیوں کو ضرور جنم دے رہی ہے ۔ چند روز قبل (مورخہ 9 جنوری 2018 ) پنجاب ہاؤس میں وکلأ سے گفتگو کرتے ہوئے انتقامی لہجہ میں یہ کہنا کہ ،، شیخ مجیب الرحمن پاکستان کا حامی تھا مگر اُسے باغی بنا دیا گیا ۔ لہذا میرے دکھوں کو اتنا زخم نہ لگاؤ کہ میرے جذبات قابو سے باہر ہو جائیں،،۔ اِس سے قبل یوم آزادی 2017 کے موقع پر حکیم اُمت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کے مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے یہی تاثر دینے کی کوشش کی کہ ،، قائداعظم کی وفات کے بعد جمہوریت اور قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے نظریہ ضرورت ایجاد کر لیا گیا جس نے قائد کا پاکستان توڑ دیا ۔ یہ تماشا بند نہ ہوا تو ڈر ہے کہ نیا حادثہ نہ ہو جائے جو پاکستان کو کسی دوسرے سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ سے دوچار نہ کر دے،،۔ میاں نواز شریف کے بظاہر نفسیاتی دباؤ میں دئیے جانے والے اِن بیانات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اُنہیں تحریک پاکستان کی تاریخ کا درست ادارک نہیں ہے اور نہ ہی وہ شیخ مجیب الرحمن کی فکر و نظر کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں لہذا محض اپنے ذاتی دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے علامتی طور پر شیخ مجیب الرحمن کو محب وطن قرار دیناپاکستانی عوام کیلئے توہین آمیز موقف اختیار کرنے کے مترادف ہے۔
جہاں تک شیخ مجیب الرحمن کی سیاسی فکر و نظر کا تعلق ہے وہ قیام پاکستان کے دن سے ہی بھارت نواز لابی کا حصہ رہے تھے جبکہ بھارتی ہندو کانگریس ، ہندو مہاسبھا اور ہندو خفیہ دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل کی سرپرستی میں پاکستان کے بنتے ہی اُسے ختم کرنے کے درپے تھے چنانچہ مشرقی پاکستان کی ایک ہزار میل دوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قیام پاکستان کو ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ مشرقی پاکستان میں بھارتی ایما پر بھاشا اندولن یعنی بنگلہ زبان کے نام پر تحریک ایک ایسے وقت شروع کرکے جبکہ ڈھاکہ میں ابھی صوبائی دارلحکومت کا اسٹرکچر قائم کیا جا رہا تھا مشرقی پاکستان کو اندرونی خلفشار سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھاشا اندولن تحریک کے رہنماؤں چوہدری عبدالرحمن ، محمد طوہا کی سرکردگی میں تاج الدین احمد ، برہان الدین عمر، مجیب الرحمن کے علاوہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے کیمونسٹوں، سیکولر ہندو دانشور اور کچھ طلباء تنظیمیں پیش پیش تھیں۔ اِس تحریک کو علیحدگی کے مشن سے ہمکنار کرنے میں شیخ مجیب الرحمن ، تاج الدین احمد وغیرہ پیش پیش تھے ۔ شیخ مجیب الرحمن کا یہ کہنا بھی ریکارڈ پر ہے کہ جس دن پاکستان وجود میں آیا ، اُسی دن سے بنگالیوں کی غلامی کی تاریخ شروع ہوتی ہے چنانچہ قیام پاکستان کے بعد کلکتہ کے ایک ہوٹل میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تھریک شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب زبان کی تھریک کی آڑ میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بونے کی کوشش کی گئی اور قائداعظم محمدعلی جناح نے حالات کی بہتری کیلئے ڈھاکہ جانے کا فیصلہ کیا تو شیخ مجیب الرحمن اور تاج الدین احمد کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ قائداعظم کا استقبال کالی جھنڈیوں سے کیا جائیگاچنانچہ حفظ ماتقدم کے طور پر بھاشا اندولن کے کچھ رہنماؤں کیساتھ مجیب الرحمن اور تاج الدین کو حراست میں لیا گیاجبکہ ڈھاکہ آمد پر قائداعظم کاُ پرتپاک خیر مقدم کیا گیا اور ڈھاکہ میں قائداعظم کے عوامی جلسے میں لاکھوں افراد اور ہزاروں بنگالی طلباء نے پُرجوش شرکت کی۔ قائداعظم نے بڑی وضاحت سے اپنے خطاب میں کہا : “I want to tell you that in our mist there are people financed by foreign agencies who are intent on creating disruption. There object is to disrupt and sabotage Pakistan. I want you to be on guard…Let me tell you in the clearest language that there is no truth that your normal life is going to be touched or disturbed so far as your Bangali language is concerned. But ultimately it is for you, the people of the province, to decide what shall be the language of your province. But let me make it very clear that the state language will be Urdu…The idea that East Bengal should be brought back into the Indian Unionis not given up, and it is their aim yet…I ask you one question. Do you believe in Pakistan? (cries of yes yes). Are you happy that you have achieved Pakistan? (Cries of yes, yes). Do you want East Bengal or any part of Pakistan to go into the Indian Union? (Cries of No, No). ۔ درج بالا تناظر میں حقیقت یہی ہے کہ بھارت میں اٹھارہ بڑی صوبائی زبانیں اور سو سے زیادہ مقامی زبانیں ہیں لیکن قومی زبان کا درجہ ہندی کو حاصل ہے ۔ جب پاکستان وجود میں آیا تو پاکستان میں پانچ بڑی صوبائی زبانوں میں بنگالی، پنجابی ، سندہی ، پشتو اور بلوچ شامل تھیں جبکہ درجنوں مقامی زبانین بولی جاتی تھیں لیکن اُردو کو رابطہ کی زبان کے طور پر قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ حیرت ہے کہ بھارت نے ہندی کو قومی زبان قرار دینے کے بعد اپنی مثال کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کیلئے پہلا وار بنگالی زبان کے حوالے سے کیا جبکہ مغربی بنگال جس کا شمار بھارت کے اہم صوبوں میں ہوتا ہے میں بھی سرکاری زبان کا درجہ ہندی کو ہی حاصل ہے۔ چنانچہ مشرقی پاکستان میں زبان کے حوالے سے تحریک کا آغاز دراصل مشرقی بنگال کو اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے طویل المعیاد پالیسی کے تحت کیا گیا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ مجیب ارحمن کو بنگلہ دیش بنانے کیلئے بھارت نے اہم مہرے کے طور پر استعمال کیا جسے اب حسینہ واجد کی وزارت عظمیٰ کے دوران دفاعی اور سیکیورٹی معاہدوں میں جکڑ لیا گیا ہے ۔ چنانچہ میاں نواز شریف کی جانب سے مجیب الرحمن کی پاکستان سے غداری کو محب وطن کی علامت کے طور پر پیش کرنا کیا کسی بڑی سازش کا پیش خیمہ ہے ؟ اِس پر غور و فکر کی ضرورت ہے ۔
پاناما پیپرز مقدمات کے حوالے سے میاں نواز شریف کی تقاریر اور قومی اسمبلی میں خطابات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اِس اَمر کی بخوبی وضاحت ہو جاتی کہ سابق نااہل وزیراعظم اپنے ذاتی نظریہ ضرورت کو مہمیز دینے کیلئے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور حسب ضرورت جھوٹ کا سہارا لینے میں کافی مہارت رکھتے ہیں چنانچہ بل آخر اُنہوں نے شیخ مجیب الرحمن کی حب وطنی کا دعوی کرکے بھارتی تجارتی اور سیاسی لابی کیساتھ اپنے تعلقات کو نہ صرف نیا سہارا دینے بلکہ پاکستانی عدلیہ اور افواج پاکستان کو دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کیا ہے ۔یہ ممکن نہیں ہے کہ میاں نواز شریف جو تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم کے منصب پر فائض رہ چکے ہیں کو یہ علم نہ ہو کہ بھارت نے پاکستان کیساتھ 1966 میں تاشقند معاہدہ کیا تھا جس ک تحت دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن بھارت نے 1967 میں ہی بھارتی سرحدی علاقے اگرتلہ میں بھارتی فوجی افسران اور ڈھاکہ میں بھارتی سفارتی مشن میں را کے انڈر کور افسران کے ذریعے مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ چنانچہ اگرتلہ سازش کیس میں 35 افراد کے نام سامنے آئے تھے جن میں مجیب الرحمن کا نام سر فہرست تھا۔ گو کہ مارچ 1969 میں سابق صدر محمد ایوب خان نے مشرقی اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کے مطالبے پر مجیب الرحمن کو رہا کرکے ملک کے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کی نیت سے گول میز کانفرنس میں شرکت کیلئے صدر ہاؤس راولپنڈی میں بلا لیا تھا لیکن مشرقی پاکستان میں حالات کی بہتری کیلئے مجیب الرحمن نے مثبت کردار ادا کرنے سے اُس وقت بھی گریز کیا جب صدر ایوب نے مشرقی پاکستان کے سرحدی ضلعوں کی انتظامیہ کی جانب سے آنے والی رپورٹس کے حوالے سے مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کی بات کی۔ مجیب الرحمن نے کوئی جواب دنے کے بجائے اُس وقت بھی خاموشی اختیار کی جب صدر ایوب نے کہا ” مشرقی پاکستان کی صورتحال بڑی المناک اور گھمبیر ہے ، کھلنا سے کھانے پینے کی اشیا بھاری تعداد میں ملک سے باہر سمگل کر دی گئی ہیں ، دیناج پور اور راجشاہی سے بھی اشیا کی سمگلنگ جاری ہے ۔ صرف کھلنا میں تیس ہزار بیرونی افراد (آر ایس ایس کے مسلح افراد) جور ائفلوں سے مسلح ہیں موجود ہیں ، بھارت سے آئی ہوئی رائفلیں چالیس چالیس روپے میں فروخت کی جا رہی ہیں چنانچہ کانفرنس کو امن و امان قائم کرنے کیلئے فوری ضرورت کا احساس کرنا چاہیے” ۔ حیرت ہے کہ مشرقی پاکستان کے جن سیاسی لیڈروں نے مجیب الرحمن کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا مجیب الرحمن کی مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کے دوران اُن کو بھی نہیں بخشا۔
درج بالا تناظر میں جب لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے یحییٰ خان نے مجیب الرحمن سے مشاورت کے بعد پیریٹی کے اصول کو ختم کیا تو مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان میں بھارتی لابی سے تعلق رکھنے والے افراد کو یقین دلایا : ” میرا مقصد بنگلہ دیش کا قیام ہے ۔ انتخابات ہوتے ہی میں یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کے پُرزے پُرزے کر دونگا ، کون ہے جوانتخابات کے بعد میرے سامنے ٹِک سکے اور مجیب الرحمن نے ایسا ہی کیا “۔ حیران کن بات ہے کہ مجیب الرحمن کی اصل مربی سابق بھارتی زیراعظم مسز اندرا گاندہی تھیں جن سے نئی دہلی میں ملاقات کے بعد مجیب الرحمن نے جنوری 1972 میں ڈھاکہ ائیر پورٹ پہنچنے پر اعلان کیا کہ آج سے پاکستان کیساتھ تمام رشتے ہمیشہ کیلئے ختم کر دئیے گئے ہیں ۔ 12 جنوری کو اُنہوں نے عبوری آئین کا اعلان کیا اور آمرانہ اختیارات کے تحت وزیراعظم بنگلہ دیش کا منصب سنبھالنے کے بعد بنگلہ دیش میں پاکستان کے حامی بنگالیوں کا قتل عام شروع کردیاگیاجبکہ سابق مشرقی پاکستان کے تمام اہم کارخانوں کی مشینری ، افواج پاکستان کا تمام اسلحہ ، ٹینک اور جہاز بھارت منتقل کر دیئے گئے ۔ فروری، مارچ 1972 میں ڈیلی ٹیلیگراف اور فنانشل ٹائمز کے نمائندوں نے بنگلہ دیش کی نازک صورتحال کی نشان دہی کرتے ہوئے اپنے اپنے رپورتاژ میں لکھا: ،، عوامی لیگ کے رہنما بنگلہ دیش میں نظم و نسق قائم کرنے میں ناکام ہیں ، اُن کی حکومت شہروں تک محدود ہے ۔ مکتی باہنی دیہی علاقوں میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول پر کارفرما ہے ، لوٹ مار اور قتل و غارت گری عام ہے جبکہ ریاستی معاملات بیرونی امداد سے چل رہے ہیں،،۔
حیرت ہے کہ کچھ ایسی ہی کرپشن کا احوال نااہل وزیراعظم کے آخری چار سالہ دور میں نظر آیا جب ریاستی معاملات غیر معمولی بیرونی قرضوں سے چلائے جاتے رہے اور ملکی دولت منی لانڈرننگ اور دیگر خفیہ ذرائع سے ملک سے باہر لے جائی جاتی رہی جس کا تذکرہ اب نیب کورٹ کے مقدمات کی سماعت کے دوران سامنے آتا جا رہا ہے۔ چنانچہ خدائی مرضی کے بغیر آمرانہ اختیارات کے حامل وزیراعظم کا اپنے منصب سے یکایک علیحدہ ہوجانا بھی کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی ۔ اگر مجیب الرحمن اپنوں کی کوتاہیوں کے سبب سابق بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی کی آشیر باد پر پاکستان کے مشرقی حصے کو توڑنے میں کامیاب رہے توسابق نااہل وزیراعظم کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا پاکستان ذاتی کاوشوں کیساتھ ساتھ مملکت خداداد کی حیثیت رکھتا ہے جسے رسول کریم ؐ کی بشارت پر جناح نے عملی جدوجہد سے حاصل کیا تھا۔ بہرحال بنگلہ دیش کے قیام کے حوالے سے مشرقی پاکستان کی جگہ ایک سیکولر ریاست بنگلہ دیش کا قیام ہر پہلو سے مسلمانانِ ہند کیلئے اسلامی ریاست کے تصور سے غداری کرنے کے ضمن میں ہی سامنے آتا ہے چنانچہ مجیب الرحمن کو محب وطن ٹھہرانے سے قبل قدرت کے انتقام کو بھی ایک نظر دیکھ لینا چاہیے۔ کیا مملکت خداداد کے خلاف سازش کرنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی قدرت کے انتقام کا شکار نہیں ہوئی جنہیں اُن کے اپنے چہیتے سیکیورٹی گارڈ نے ہی موت کے گھاٹ اُتار دیا جبکہ اُن کے دونوں بیٹے حادثے اور دہشت گردی کا شکار ہو ئے۔ قدرت کا انتقام کتنا ہولناک ہوتا ہے مجیب الرحمن کے حوالے سے اِس انتقام کی تفصیل بلا تبصرہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے لیوس سائمن کی 14/15 اگست 1975 کی ہولناک رات کی رپورٹ میں بھی جھلکتی نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ : ” بنگلہ دیشی فوج کے ایک دستے نے مجیب الرحمن کی صوابدید پر قائم مکتی باہنی کے ایک وفادار دستے جسے راکھی باہنی کے نام سے مجیب الرحمن اپنے سیاسی حریفوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کیلئے استعمال کرتے تھے کا محاصرہ کیا جس نے مقابلے کے بعد ہتھیار ڈال دئیے۔ اِسی دوران دھان منڈی میں مجیب الرحمن کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو مجیب کے حامی افسر بریگیڈئیر جنرل جمیل احمد باغیوں سے بات چیت کیلئے باہر آئے تو اُنہیں فائرننگ کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ میجر ہدیٰ نے مجیب الرحمن سے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کے کاغذ پر دستخط کیلئے کہا تو مجیب کے صاحبزادے شیخ جمیل نے پستول سے حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ اِسی دوران مجیب کا دوسرا بیٹا شیخ کمال راکھی باہنی سے مدد کی پکار کرتے ہوئے اندر آیا تو اُسے بھی ڈھیر کر دیا گیا جبکہ مجیب کا دس سالہ بیٹا فائرننگ کی زد میں آکر مارا گیا ۔اِسی طرح مجیب کی اہلیہ اور بہوئیں اور دیگر قریبی رشتہ دار موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے اور یوں آفتاب کے طلوع ہونے سے قبل مجیب کا گھرانہ خاک و خون میں نہا چکا تھا” ۔مجیب حکومت کے خاتمے پر ایک وائٹ پیپر شائع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ مجیب حکومت نے بدعنوانیوں کا ارتکاب کرکے ملک و قوم کو سخت نقصان پہنچایا چنانچہ اِن بدعنوانیوں ، کرپشن ، کنبہ پروری اور ناقص اقتصادی پالیسی کی وجہ سے قیمتوں میں چار سو فی صد اٖضافہ ہوا جس کا خمیازہ پوری قوم کو برداشت کرنا پڑا۔ چنانچہ بھارتی سازش سے ملک کو توڑنے والے ایک غدار وطن کو جسے اُس کے اپنے پیاروں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا کو محب وطن کا خطاب دینے سے قبل میاں صاحب کو تاریخ کا مطالعہ ضرور کر لینا چاہیے اور قدرت کے انتقام سے ڈرنا چاہیے۔ مرزا غالب کہتے ہیں۔۔۔۔
نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز ۔۔۔میں ہوں اپنی شکستگی کی آواز

34
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...