بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سیاست میں اصول پسندی کے قائل تھے اور سیاست میں روپے پیسے کے چلن کو سخت ناپسند کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جائنٹ سیکریٹری حسین ورک نے جمعیت علمائے ہند جو اُس وقت ہندو کانگریس کی اتحادی جماعت تھی کے دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما کی بابت قائداعظم کو تحریری طور پر مطلع کیا کہ اِن مولانا صاحب کی خواہش ہے کہ اگر مسلم لیگ اُنہیں ماہانہ وظیفہ دے تو وہ جمیت علمائے ہند میں دراڑے ڈال کر مسلم لیگ کیلئے کام کر سکتے ہیں۔ قائداعظم نے حسین ورک کو تحریری طور پر مطلع کیا کہ سیاست میں جوڑ توڑ کیلئے پیسے کا چلن انتہائی نامناسب ہے اور آپ نے ایسا بالکل نہیں کرنا کیونکہ جو شخص پیسے کے عوض آپ کیساتھ ہے ، کل کسی اور کیساتھ ہوگا۔ بلاشبہ قائداعظم صادق و امین تھے اور سیاست میں کاروباری ذہنیت اور اقربہ پروری کو سخت ناپسند کرتے تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو بھی کہنا پڑا کہ اُن کی جیب میں بھی کچھ کھوٹے سکے موجود تھے جو ملکی سیاسی حالات کو بگاڑنا چاہتے تھے ۔ پاکستان میں بگاڑ کی موجودہ سیاسی صورتحال میں بھی بظاہر ایسے ہی کھوٹے سکے ملوث نظر آتے ہیں۔
حیرت ہے کہ تحریک استقلال چھوڑ کر بانیِ پاکستان کی جماعت مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کرکے جناب نواز شریف نے مسلم لیگ کی اندرونی سیاست میں پیسے کے زور پر جوڑ توڑ کے ذریعے ہی منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد اپنے آپ کو قائداعظم ثانی کہلوانے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ فکر قائداعظم سے اُن کا دور کا واسطہ بھی نہیں بنتا ہے ۔ درحقیقت میاں نواز شریف عجب سیاسی شخصیت کے مالک ہیں جنہیں زندگی نے کاروباری فکر و نظر کے حوالے سے دنیا میں ہر چیز خریدنے کیلئے کاروباری ہنر سے مالا مال کر دیا ہے جسے اُنہوں نے اپنی سیاسی قوت کو تسلسل سے آگے بڑھانے کیلئے استعمال کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں برتی ۔ اگر اُن کی سیاسی آبیتی کا تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ اُن کے جدت پسند کاروباری ذہن نے کسی بھی سیاسی یا انتظامی من پسند شخصیت ، من پسند قانون اور من پسند فکر کو اپنے دائرہ اختیار میں لانے سے کبھی گریز نہیں کیا چاہے اُس کیلئے اُنہیں کسی بھی اصولی حد کو پار کرنا پڑے ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد جب سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے نئے پاکستان کی تعمیر نو کیلئے ملکی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا تو اتفاق فاؤنڈری کو بھی قومی مملکیت میں لیا گیا جس نے شریف فیملی میں بھٹو دشمنی کو مہمیز دی اور یہی دشمنی شریف فیملی کی مرحوم صدر ضیاء الحق کی سیاسی حمایت کا سبب بنی۔
دریں اثنا ،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے جب صنعتی ، تعلیمی اور دیگر اہم اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا تو اُن کے ذہن میں کبھی نہیں آیا ہوگا کہ شریف فیملی کی اتفاق فاؤنڈری اُن کیلئے وبال جان بن جائیگی چنانچہ میاں نواز شریف نے اپنا سیاسی سفر بھٹو صاحب کی کڑی مخالفت میں پیش پیش سابق ائیر مارشل اصغر خان کی سیاسی جماعت تحریک استقلال کے پلیٹ فارم سے شروع کیااور جب امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو صاحب کی پاکستان کیلئے ایٹمی صلاحیت کے حصول کے پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور بھٹو صاحب نے بھارتی ایٹمی پروگرام کو پاکستانی کی سلامتی کیلئے خطرہ جانتے ہوئے ہنری کسنجر کے مطالبے کو مسترد کر دیا چنانچہ اُنہیں ہنری کسنجر نے امریکی صدر کی جانب سے بدترین سفارتی دھمکیوں سے نوازا گیا تو اِسی دور میں جناب اصغر خان کی پارٹی بھی بھٹو صاحب کی ایٹمی خدمات کو خاطر میں لائے بغیر سخت ترین سیاسی مخالفت میں پیش پیش رہی ۔ اِس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے شریف فیملی نے بھی قومیائے گئے دیگر صنعتی یونیٹوں کے متاثرمالکان کے ہمراہ نہ صرف دامے درمے سخنے بھٹو مخالف تحریک میں حصہ لیابلکہ بھٹو صاحب کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد شریف فیملی صدر ضیاء الحق سے قربتیں حاصل کرکے بھٹو مخالف سیاسی سپورٹ کو جون 1979 میں سیاسی طور پر کیش کرانے میں کامیاب ہوئی جب صدر ضیاء الحق کی مدد سے قومیائی گئی اتفاق فاؤنڈری شریف فیملی کو واپس کر دی گئی ۔
تحریک استقلال شریف فیملی کیلئے چھوٹی پڑی تو میاں نواز شریف صدر ضیاء الحق کی پشت پناہی سے تمام مسلم لیگی رہنماؤں کو بے معنی بناتے ہوئے مسلم لیگ کی صدارت پر قابض ہوگئے۔ مسلم لیگ میاں نواز شریف کی جھولی میں آن گری تب بھی میاں صاحب نے کاروباری سیاسی فکر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ۔ اتفاق فاؤنڈری دوبارہ ہاتھ لگی تو شریف فیملی میں نئی ملوں کی آمد قطار اندرقطار بن گئی۔ قومی مالیاتی اداروں سے کروڑوں کے قرضوں کے لین دین اور پھر سیاسی اثر و رسوخ کے استعمال پر قومی بنکوں اور سرکاری اداروں سے قرضوں کی معافیوں کی برسات بھی شروع کی گئی۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جب صداقت و امانت کی جگہ غیر قانونی ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کی فراوانی ہو جائے تو اُسے دھند میں چھپانے کیلئے منی لانڈرننگ اور آف شور کمپنیوں کی خدمات کا سہارا بھی بخوبی لینا پڑ جاتا ہے۔ شریف فیملی کی سیاست اور کاروباری فکرو عمل کی ریل پیل میں بل آخر میاں نواز شریف ، صدر ضیاء الحق کے زیر سایہ گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی کے چہیتے لاڈلے بن گئے جنہیں جنرل جیلانی نے صدر ضیاء الحق کی ٹیم کے مخصوص سیاسی مفادات کے حوالے سے پنجاب حکومت میں وزیر خزانہ کے منصب سے نواز دیا گیا۔پھر چل سو چل وزیراعلیٰ پنجاب کا منصب بھی ضیاء لابی کا حصہ بن جانے پر شریف فیملی کی جھولی میں آن گرا ۔ صدر ضیاء الحق کی طیارے کے حادثے میں فوت ہوجانے پر میاں نواز شریف ضیاء لابی کے حقیقی کرتا دھرتا بن گئے ۔ البتہ صدر ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد ملک میں جمہوریت بحال ہوئی تو میاں صاحب نے سیاسی سازشوں کا حصہ بن کر پہلی بے نظیر حکومت کو گرانے کیلئے بن لادن کے فراہم کردہ فنڈز سے بے نظیر حکومت کے قومی اسمبلی کے ارکان کو خریدنے کی کوشش کی جس کا تذکرہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے اور جس عوامی سطح پر آگہی میڈیا میں آپریشن مڈ نائٹ جیکل سے بخوبی ہوتی ہے۔ بے نظیر حکومت کو قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی ناکامی پر چند ماہ کے بعد ہی میاں نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان کی مدد سے آئین کے آرٹیکل 52(b) کے تحت بے نظیر حکومت کو برطرف کرا دیا۔ چنانچہ نوے کی دھائی میں اِسی آئینی سیاسی چالبازی کے تحت ملک میں چار حکومتیں یکے بعد دیگرے تبدیل ہوئیں ۔ البتہ اِس دور میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز سیاسی صورتحال اُس وقت سامنے آئی جب میاں نواز شریف نے اپنے مربی صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے وزیراعظم کی کرپشن کا نوٹس لینے پر آرمی چیف کیساتھ ملاقات کرکے ملک میں نئے انتخابات کرانے کیلئے صدر غلام اسحاق خان کیساتھ خود بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ۔ ملک میں نئے انتخابات ہوئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بن گئیں لیکن ملک میں میاں صاحب کی سیاسی سازشیں بدستور جاری رہیں اور دوسری بے نظیر حکومت بھی اپنا دورانیہ مکمل کرنے میں ناکام رہی ۔ میاں نواز شریف نئے انتخابات دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے ۔ اُنہوں نے اپنی صوابدید پر چوہدری نثار علی خان کی مشاورت سے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا لیکن بداعتمادی کے سبب جب جنرل مشرف سری لنکا کے سرکاری دورے پر تھے تو اُنہیں نامعلوم وجوہات کی بناہ پر برطرف کرنے کی کوشش کی اور سری لنکا سے واپسی پر جنرل مشرف کی شیڈولڈ فلائٹ کارخ موڑنے کی کوشش کی جسے آرمی نے ناکام بنا دیا اور میاں نواز شریف کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی جسے جنرل مشرف سے ڈیل کرکے شریف فیملی نے سعودی عرب میں دس برس کی جلاوطنی اختیار کی لیکن سات برس کی جلا وطنی کے بعد شریف فیملی کو ملک میں واپس آنے اور 2008 کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ۔
کوئی بھی ذی شعور پاکستانی اِن حقائق سے روگردانی نہیں کر سکتا کہ دہشت گردی اور خطے میں بھارتی عزائم کے خلاف پاکستان حالت جنگ میں ہے جس میں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے کو لاگو کرنے اور بھارت و افغانستان کی حمایت میں اپنے مخصوص مفادات کے تحت پاکستانی قومی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔کیا اِس غیر معمولی دباؤ کا مقصد خطے میں چین کے سی پیک تجارتی منصوبے کو ناکام بنانا ہے یا امریکی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پاکستان میں نئے انتخابات کے موقع پر اپنی من پسند سیاسی شخصیتوں کو اقتدار کے منصبوں پر فائز کرنے کی منصوبہ بندی مقصود ہے ؟ کیا اِسی منصوبہ بندی کے تحت امریکی صدر نے اپنے نئے قابل اعتماد سعودی دوست پرنس محمد بن سلمان کو پاکستانی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کیلئے آگے بڑھایا ہے جس کیلئے سعودی پرنس نے اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف کو سعودی عرب اہم بات چیت کیلئے بلایا تھا اور جس میں بعد میں سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی تھی؟ قرائین یہی کہتے ہیں کہ خطے میں امریکی ایجنڈے کو تقویت پہنچانے اور نئے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کیلئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے کیلئے سابق نااہل وزیراعظم نے سعودی عرب سے پاکستان واپسی پر عدالت عظمیٰ اور افواج پاکستان کے خلاف الزامات کی نئی فہرست کھول دی ہے۔ حیرت ہے کہ میاں نواز شریف نے عدالتوں میں اپنی بیگناہی ثابت کرنے کے بجائے اپنے تازہ ترین وچار میں بظاہر اعلیٰ عدالتوں اور فوج کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ” ایک جماعت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر لاڈلے کیلئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے چنانچہ لاڈلے کیلئے ڈیل یا ڈھیل بند کریں۔سازشیں بند کریں ، خفیہ کاروائیاں نہ رکیں تو 4 سال کی پس پردہ کاروائیاں بے نقاب کرونگا” ۔ بظاہر ، میاں نواز شریف نے گزشتہ چار برس کی خفیہ کاروائیوں کو بے نقاب کرنے کی بات کی ہے لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ قومی سلامتی کے حوالے سے اُن کا اپنا کردارکچھ اتنا اچھا نہیں ہے۔
درج بالا تناظر میں کیا میاں نواز شریف جو اِسی چار سالہ مدت کے دوران پاکستانی آئین کیمطابق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے متفقہ طور پر وزیراعظم کے عہدے کیلئے نااہل قرار پائے گئے کو اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھنا چاہیے کہ اِس چار سالہ مدت میں شریف فیملی کے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے ریاستی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کن خفیہ ذرائع سے اور کیوں قانونی یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ دولت پاکستان سے باہر منتقل ہوتی رہی ہے ؟ کیا پاکستانی عوام کو یہ جاننے کا جمہوری حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پوچھیں کہ جناب عالی آپ قوم کو اعتماد میں لیں کہ آپ کی پاکستان کے دشمن نریندرا مودی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے افغانستان میں اہم مشن کام کرنے والے بھارتی قومی بساط پر نریندرا مودی کے پیدل سجن جندال جنہیں سابق افغان صدر کرزئی کے ذریعے بھارتی اسٹیل کی معاونت سے افغانستان کے لوہے کے تین چوتھائی ذخائر کا ٹھیکہ دلوایا گیا تھا، سے آپ کا کیا تعلق ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جس نے پاکستان مخالف انتخابی مہم کے ذریعے بھارت میں کامیابی حاصل کرکے وزیراعظم کے منصب تک رسائی حاصل کی، کے آپ لاڈلے کیونکر بنے ہیں۔ کیا آپ بتائیں گے کہ نریندرا مودی کی حلف برداری کے موقع پر آپ کی بھارت میں موجودگی پر پاکستان ہائی کمیشن نے مستند کشمیر پالیسی کے تحت کشمیری رہنماؤں سے آپ کی ملاقات کا بندوبست کیا تو آپ اِس اہم میٹنگ کو چھوڑ کر بھارتی اسٹیل ٹائیکون کی چائے کی دعوت میں شرکت کیلئے کیوں چلے گئے تھے۔ کیا آپ یہ بھی بتانا پسند کریں گے کہ افغان لوہے کے ٹینڈر کے موقع پر لوہے کے اِن ذخائر کے حصول کیلئے آپ نے کیوں کوتاہی کی جبکہ پاکستان اسٹیل کیلئے یہ ذخائر بیش قیمت ثابت ہو سکتے تھے۔ برطانوی شہریت رکھنے والے آپ کے تاجر صاحبزادے بھارت میں نریندرا مودی کی حلف برداری اور نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر سجن جندال کی ہمراہی میں کس تجارتی مشن پر تھے اور سجن جندال کا آپ کے صاحبزادے اور صاحبزادی کے ہمراہ بغیر ویزہ مری میں آپ سے ملاقات کرنے کا کیا مقصد تھا؟ آپ نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا اور اِسی منصب کی آڑ میں آپ بیش قیمت حکومتی وسائل خرچ کرکے متعدد بیرونی ملکوں کا دورہ کرتے رہے تو اِن بیشتر دوروں میں آپ کے برطانوی شہریت کے حامل صاحبزادے کی موجودگی کا کیا مقصد ہوتا تھا؟ کیا آپ یہ بتانا بھی گوارا کریں گے کہ پہلے آپ امریکا اور بھارت کے رہنماؤں سے بات چیت کے دوران پاکستان آرمی کے حوالے سے شکوہ و شکایات کرتے تھے اور اب آپ براہ راست دھمکیاں دیتے ہیں کہ میں گزشتہ چار سالہ دور کی سازشوں کو بے نقاب کردونگا تو آپ کو کس نے روکا ہے، اب تو آپ کے میثاق جمہوریت کے دوست سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی آپ سے یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ بتائیں وہ کیا سازشیں تھیں جبکہ آپ کی ٹیم ڈان لیکس کے حوالے سے خود ہی بھارتی ایجنڈے کیمطابق پاکستان کی سلامتی اور فوج کے خلاف متحرک رہی ہے؟ یہ بھی بتائیے کہ آپ کے صاحبزادگان نے عوام کی دولت کو کیونکر بیرون ملک منتقل کیا اور اِس کے تحفظ کیلئے برطانوی شہریت کیونکر حاصل کی اور اب نیب کورٹ سے کیوں مفرور ہوگئے ہیں اور کیا پاکستان میں آپ کی حکمرانی محض دولت سمیٹنے اور اِسے بیرون ملک منتقل کرنے کیلئے ہی ہے یا اِس کا کچھ اور مقصد ہے؟ کیا آپ یہ نہیں بتانا چاہیں گے اِس چار سالہ مدت میں آپ کے سمدھی وزیر خزانہ نے پاکستان کی عوام کی گردنوں پر غیر معمولی قرضے کا بوجھ کیوں لاد دیا ہے اور آپ کے حواری اِس مدت میں پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھنے کے بجائے اِن قرضوں کو کمیشن سے بھرے میگا پروجیکٹس میں کیونکر استعمال کرتے رہے۔ کیا آپ کے چار سالہ دور میں بانی پاکستان کی تعلیمات کیمطابق امیر اور غریب کے درمیان خلیج میں کمی ہوئی ہے یا اضافہ ہوا ہے؟
صد افسوس کے آپ کے چار سالہ دور میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی چلی گئی ہے ، ایک محتاط اندازے کیمطابق غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد پچاس فی صد سے بھی تجاوز کر چکی ہے ، خودکشیاں ، ڈکیٹیاں ، اغوا برائے تعاون ، ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم میں اضافہ روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ۔گو کہ افواج پاکستان اور قومی اداروں نے دہشت گردی کے عفریت کا قلع قمع کرنے کیلئے قرار واقعی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس حقیقت سے کیونکر انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک سے بد انتظامی کے عفریت کو ختم کرنے ، مختلف فرقوں کے درمیان بھائی چارے اور امن و امان کی فضا بحال کرنے اور ریاستی فرائض جوش و خروش و غیر جانبداری سے ادا کرنے میں ہر محاذ پر آپ کی حکمرانی ناکامی کا شکار ہی نظر آتی ہے۔پاکستان میں اگرچہ تعلیم اور ہنر مند افراد کی کمی ہے جسے بڑھاوہ دینے کیلئے قرار واقعی کام نہیں کیا گیا ، غربت و افلاس بڑھتی جا رہی ہے ، عام آدمی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے ، غریب انصاف کے ترازو میں تُلتا جا رہا ہے جبکہ امیر اور وسائل رکھنے والے یا تو بیرون ملک اقامت رکھتے ہیں یا بیماری کی آڑ میں ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں آغا خان ہسپتال ، شوکت خانم ہسپتال اور دیگر اہم پرائیویٹ ہسپتال میں ہر نوعیت کی بہترین علاج کی سہولت حاصل ہے لیکن وسائل رکھنے والے لوگ مقدمات سے چھٹکارا اور سزاؤں سے ٹائم بارڈ کی سہولت حاصل کرنے کیلئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور پھر وسائل کے زور پر پولیس کی ملی بھگت سے آزادی کا پروانہ حاصل کرلیتے ہیں انتہا یہ کہ نیب کورٹ میں جاری موجودہ مقدمات سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے عدالت کی اجازت کے بغیر ہی جناب وزیراعظم نے اپنے سرکاری طیارے میں سابق نااہل وزیراعظم کے سمدھی وزیر خزانہ کو ملک سے باہر بجھوانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ملکی اور بیرونی قومی دانشور یہی سوال قائم کرتے ہیں کہ کیا یہی جمہوریت ہے کہ جمہوری اکثریت کو غربت کی لکیر کے نیچے ڈال کر محض پانچ فی صد جاگیردار ، سرمایہ دار اور وڈیرے جمہوریت کے نام پر آئین و قانون کو پس پشت ڈالتے ہوئے من مانی کاروائیاں کرتے رہیں تو وہ پھر جان لیں کہ قومی عزت کو لٹانے سے خریدار نہیں ملتا بلکہ امریکی صدر کے دھمکی آمیز پیغامات ہی ملتے ہیں۔

18
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...