ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی ڈپلومیسی سے نابلد عجب امریکی حکمران ہیں جو اسرائیل اور بھارت کی حمایت میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی اُلجھنیں پیدا کرنے کیساتھ ساتھ شمالی کوریا ، چین ، ایران اور روس سمیت دیگر آزاد ممالک کو دباؤ میں لانے کیلئے سابق جرمن فاشسٹ حکمران ہٹلر کی مانند سخت جان بیانات کے ذریعے دنیا کو تیسری جنگ عظیم میں دکھیلنے کے پر تول رہے ہیں ۔ اِسی حوالے سے شمالی کوریا کے صدر کا یہ بیان کہ اُن کا ہاتھ ایٹمی بٹن پر ہے اور اُن کے میزائل امریکا کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں بھی بین الااقوامی امن کے حوالے سے کوئی احسن بیان نہیں ہے۔ میڈیا ذرائع کیمطابق شریف فیملی کے ایک حمایتی قومی روزنامہ میں شائع شدہ رپورٹ (1.1.18) کیمطابق شریف فیملی کا حالیہ سعودی عرب کا دورہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی پالیسی کے پیش نظر پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے کیلئے قابل عمل حل کی تلاش کیلئے ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی نئی لیڈرشپ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے حامی سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہے اور گزشتہ ہفتے پرنس محمد نے اپنے زیر استعمال خصوصی جیٹ طیارے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بظاہر افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے افغان اور بھارتی حکومت کیساتھ تعاون کی بات چیت کیلئے بلایا تھا۔ اِس بات چیت میں بعد میں سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف بھی مبینہ طور پر شریک ہو نے کیلئے سعودی عرب روانہ ہو گئے تھے۔حیران کن بات ہے کہ شریف فیملی کی سعودی عرب میں موجودگی میں بظاہر پاکستان کی عسکری قیادت پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ ٹویٹ میں پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ گزشتہ پندرہ برس میں امریکا نے پاکستان کو 33 ارب ڈالر دیکر بیوقوفی کا مظاہر ہ کیا ہے جبکہ پاکستان نے جھوٹ اور دھوکے بازی کے سوا کچھ نہ دیا ؟ دنیا بھر کے دانشور یہی سوچتے ہیں کہ اگر واحد گلوبل پاور امریکا کی قیادت اور انٹیلی جنس ادارے اتنے ہی بے وقوف ہیں تو پھر امریکا کو دنیا کی قیادت کرنے کا کیا حق ہے؟ درحقیقت ، بین الاقوامی سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تیزی سے بدلتی ہوئی گلوبل پالیسیوں کے سبب دنیا ایک نئی سرد جنگ کی شروعات کا سبب بنتی جا رہی ہے جبکہ صدر ٹرمپ امریکا کی نہیں بلکہ اسرائیل اور بھارت کی زبان میں گفتگو کررہے ہیں جس کے دنیا کیلئے تباہ کن نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کا حامی تھا۔ چنانچہ امریکا نے اُس وقت بھی سابق سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کو ختم کرنے کیلئے بھارت کو نہیں بلکہ سعودی عرب کی حمایت سے پاکستان کو افغان جہاد کیلئے استعمال کیا جس میں سوویت یونین کو شکست ہوئی اور ساتھ ہی امریکا کو سرد جنگ سے رہائی ملی لیکن اِس عظیم کامیابی کے بعد امریکا کو ایک مرتبہ پھر سے بھارت کی یاد آئی اور افغا نستان اور پاکستان کو تنہائی میں چھوڑ دیا گیا جس کا اظہار سابق امریکی صدر ہنری کلنٹن نے اپنی کتاب میری زندگی میں امریکہ پاکستان تعلقات کے حوالے سے لکھا : ” میں نے وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیراعظم کا استقبال کیا ۔ سرد جنگ اور احمقانہ سفارتکاری نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت سے دور رکھا ۔گذشتہ تیس برسوں میں چین کیساتھ اختلافات کے باعث بھارت سوویت یونین کے نزدیک چلا گیا جبکہ سرد جنگ نے امریکہ کو بھارت کے ہمسایہ ملک پاکستان کی جانب دھکیل دیا ۔آزادی کے بعد دونوں ملک کشمیر پر ایک کڑوے اور نہ ختم ہونے والے مسئلہ میں اُلجھ گئے جو کہ شمالی بھارت میں مسلمان اکثریتی علاقہ ہے ۔ سرد جنگ ختم ہونے کے بعدمجھے موقع ملا اور یہ میری ذمہ داری بھی تھی کہ میں امریکہ بھارت تعلقات میں بہتری لاؤں ۔ میرا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکیں ۔ بھارت اپنے ایٹمی پروگرام کو چین کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف deterrent کے طور پر دیکھتا تھا اور دنیا میں ایک قوت کے طور پر اُبھرنا چاہتا تھا ۔چنانچہ میں نے اور نرسمہا راؤ نے امریکہ بھارت تعلقات میں حائل برف پگھلا دی اور امریکہ و بھارت کے مابین ایک نئے دور کا آغاز کیا “۔ ہنری کلنٹن کے خیالات کی تائید میں امریکی فکر و نظر پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل اور مسلمان ملکوں کے حوالے سے بین الاقوامی امور پر عمیق نگاہ رکھنے والے امریکی صحافی کالم نگار جیونی ڈائر (Gwynne Dyer) نے اپنی کتاب “The Mess They Made” میں مغرب کی جوہری پھیلاؤ کی اِسی دوعملی کو زیر بحث لاتے ہوئے امریکہ اسرائیل موقف کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے : Israel’s concern was that nuclear weapons in any Muslim country in the region would break the monopoly that allows Israel to make implicit threats of using them against neighbouring countries without fear of retaliation۔ جبکہ باب ووڈوارڈ نے اپنی کتاب ” سٹیٹ آف ڈینائل” میں صدر بش کے سپیچ رائیٹر مائیک گیرسن کی ہنری کسنجر سے ستمبر 2005 میں ایک ملاقات کے دوران سوال و جواب کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ عراق میں جنگ کی اتنے شد و مد سے حمایت کیوں کرتے ہیں ، ہنری کسنجر نے کہا : “Because Afghanistan was not enough,” Kissinger answered. In the conflict with radical Islam, he said, they want to humiliate us, and we need to humiliate them. The American response to 9/11 has essentially to be more than proportionate-on a larger scale than simply invading Afghanistan and overthrowing the Taliban. Something else was needed.
اندریں حالات درج بالا تناظر میں ضرورت کے وقت مسلمان ملکوں کو استعمال کرنا امریکا کی عادت بن گئی ہے جبکہ اِسے ہماری کرپشن سے آلود سیاسی لیڈرشپ کی نااہلی سمجھا جائے یا پھر تواتر سے تاریخ کو بھلا دینے کی عادت سے تعبیر کیا جائے کہ ہمارے سیاسی رہنما اقتدار کے اونچے منصبوں پر بیٹھ کر طاقت کے سرچشمہ عوام کو ہی نہیں بلکہ ریاست کے قومی سلامتی کے مفادات کو بھی بھول جاتے ہیں اور پھر اُنہیں اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنے ذاتی مفادات کے سوِا اپنی ناک سے آگے کچھ نظر نہیں آتا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو القاعدہ اور دہشت گردی میں ملوث چند طالبان گروپوں کے خلاف لڑی جا رہی تھی لیکن حکمرانوں کی بے حکمتی کے اور بھارتی لیڈرشپ سے نام نہاد ذاتی دوستی کی آڑ میں قومی سلامتی کے مفادات کو پس پشت ڈالنے کے سبب امریکہ نیٹو اتحاد نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر افغانستان کی سیاسی و سماجی زندگی میں بھارت کو داخل کرکے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو کیپ کرنے کے منصوبے بنانے شروع کئے اور ملک میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کیلئے اِس جنگ کے دائرے کو پاکستان کے طول و ار ض میں پھیلا تے ہوئے پاکستانی عوام ، افواج پاکستان اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کی تعداد ستر ہزار سے بھی تجاوز کر گئی تو پھر افواج پاکستان نے اِس سنگین صورتحال سے نکلنے کیلئے حالات پر قابو پانے کی کوششیں شروع کیں تو بھارتی ایجنسیوں نے تربیت یافتہ افغان دراندازوں سے نہ صرف ڈیورنڈ لائین پر موجود پاکستانی سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کرائے بلکہ بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں تخریب کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی چنانچہ افواج پاکستان کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ افغانستان کی جنگ میں اُلجھنے کے بجائے پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور عوام الناس کی جانوں کے تحفظ کیلئے میدان عمل میں آئیں۔چنانچہ اِسی تناظر میں اب امریکا، اسرائیل اور بھارت خطے میں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے شریف فیملی کی حمایت کیلئے کوشاں ہیں لیکن پاکستانی عوام کے موجودہ موڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے

169
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...