قارئین کرام ! پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں گزشتہ چند دنوں میں فیض آباد میں ختم نبوت کے دھرنے کو ختم کرانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درامد میں وفاقی انتظامیہ اور پنجاب حکومت کی تسلسل کیساتھ مبینہ انتظامی کوتاہی پر جسٹس شوکت عزیز کی برہمی اور دھرنا ختم کرانے میں حکومتی ناکامی پر (21 نومبر 2017 ) ہائی کوٹ بار کے وکلاء کو دھرنا ختم کرانے کا ٹاسک دئیے جانے کا مبینہ اعلان بھی معنی خیز ہے جبکہ ملکی آئین و قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز جن کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی کیس زیر سماعت ہے کی جانب سے دھرنے پر حکومت کو جگانا یا ہائی کورٹ بار کو ٹاسک دینا عدالت کا کام نہیں ہے البتہ عدالت انتظامیہ کو عدالتی احکامات پر عمل درامد میں ناکامی پر توہین عدالت کے زمرے میں طلب کر سکتی ہے ۔ بہرحال عوامی سطح پر خیال کیا جا رہا ہے کہ فیض آباد دھرنے اور انتظامیہ کی ناکامی پر اِس کے پھیلتے ہوئے اثرات کراچی دھرنے کی شکل میں ظاہر ہونے پر ملک کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو از خودنوٹس لینا چاہیے۔ حقیقت یہی ہے کہ فیض آباد دھرنے کے باعث راولپنڈی اسلام آباد کے راستے بند ہیں ، عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے لیکن حکومت ختم نبوت کے قانون کی مس ہینڈلنگ کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے سے معذور ہے۔ ایک ایسے وقت جبکہ گزشتہ دو ہفتوں سے وفاقی دارلحکومت میں سیاسی حالات کشیدہ ہیں، سابق نااہل وزیراعظم کی جانب سے ذاتی اصلاح احوال کا اعلان کرنے کے بجائے 19 نومبر 2017 اتوار کے دن ایبٹ آباد کے جلسۂ عام میں عدالتوں اور افواج پاکستان کے خلاف غیر آئینی تنقید کو جاری رکھتے ہوئے ایک بے معنی نواز شریف نظریہ کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے جس نے ملکی سیاسی منظر نامے میں مزید کنفیوژن کی فضا پیدا کر دی ہے۔ عوام حیران پریشان ہیں کہ پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد شریف فیملی کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرننگ کے شواہد کے سامنے آنے اور سابق وزیراعظم کو نااہل قرار دئیے جانے کے بعد نیب عدالتوں سے میاں نواز شریف کے صاحبزادوں اور اُنکے سمدھی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے عدالت سے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے اور اشتہاری قرار دئیے جانے کے باوجود شریف فیملی بے معنی الزامات کے سہارے قوم و ملک کو کس اُلجھن میں ڈالنا چاہتی ہے ۔کیا اِس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے اِس کا فیصلہ تو وقت ہی کریگا ۔ بہرحال موجودہ حالات میں ضرورت تو اِس اَمر کی تھی کہ نواز شریف اپنی تین وزارتوں کے دوران آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپائی جانے والی دولت و پراپرٹی کا خوش اسلوبی سے جائزہ لیتے ہوئے اصلاحِ احوال کی جانب گامزن ہوتے کیونکہ اُن کی قیادت میں ملک میں بچھائی ہوئی کرپشن کا جال ، سیلابی پانی کی چادر کی طرح ہی پھیلتا جا رہا ہے۔ صد افسوس کہ حکمرانوں کو اِس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ وقت نے اُن کا دامن کس قدر داغدار کر دیا ہے۔ چنانچہ کرپشن کی اِس چادر کے نیچے بیشتر ریاستی ادارے بدنامی کا شکار ہیں ، وفاقی وزرأ پر نیب عدالتوں میں فرد جرم عائید ہوتی جا رہی ہے جبکہ بیشتر وزرأ کو نیب میں کرپشن انکوائری کا سامنا ہے لیکن عدالتوں میں بے گناہی کے ثبوت پیش کرنے کے بجائے شریف فیملی اور اُن کے حاشیہ بردار ملکی دولت لوٹنے کے جرائم کو سیاسی رنگ دیکر سیاست کو ہی جرائم سے آلودہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حیرانی کی بات ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے پارلیمان میں اکثریت کے بل بوتے پر کھلم کھلا آئین و قانون سے انحراف کی پالیسی اختیار کی جا رہی۔ ماضی میں ملکی آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دئیے جانے کے بعد ختم نبوت کا حلف نامہ ایک ایسا تسلم شدہ قانون ہے جسے کسی بھی حکومت نے کبھی چھیڑنے کی جرأت نہیں کی ۔البتہ جب نااہل وزیراعظم نواز شریف کی نااہلیت کو اہلیت میں بدل کر آئین و قانون کے منافی پارٹی صدارت پر فائز کرنے کیلئے اکثریت کے بل بوتے پر آئین میں غیر قانونی ترمیم کی گئی تو حکمرانوں نے ختم نبوت کے حساس حلف نامے کو بھی چھیڑنے سے گریز نہیں کیا۔قادیانیت کا حساس مسئلہ 1953 سے ہی امن و امان کا مسئلہ بنا ہوا تھا جسے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک جرأت مندانہ آئینی فیصلے کی روشنی میں حل کر لیا گیا تھا۔ جسے چھیڑنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی لیکن انتخابات کے بل میں عوامی ردعمل کو فراموش کرتے ہوئے ختم نبوت کے حلف نامے کو بہت ہی باریکی سے ترمیم کا نشانہ بنا کر قوم کو گمراہی کی اذیت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا ردعمل فوری طور پر سامنے آیا ہے۔بہرحال پارلیمان نے ختم نبوت قانون کی تمام شقوں کو اب بحال کر دیا ہے لیکن اِس نام نہاد ترمیم کے گناہ میں شریک افراد کے نام راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش کئے جانے کے باوجود عوام کے سامنے نہیں لائیے گئے ہیں جبکہ دھرنے کے شرکأ کا مطالبہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون کو برطرف کیا جائے ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو چھپانے کی عجب روایت قائم کی جا رہی ہے کہ جب عوامی یا دانشورانہ سطح پر کسی غیر قانونی یا غیر آئینی ریاستی ظالمانہ کاروائی پر احتجاج کیا جاتا ہے تو وقتی طور پر عوامی ردعمل کو دبانے کیلئے انکوائری یا کمیشن کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے جس کی رپورٹ عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے گریز کیا جاتا ہے جبکہ یہ تحقیقاتی رپورٹس عوام کی ملکیت ہوتی ہیں کیونکہ عوامی ردعمل کے حوالے سے ہی یہ کمیشن یا انکوائری قائم کی جاتی ہے ۔ موجودہ حکومت کے دور میں ماڈل ٹاؤن لاہور کی کمیشن رپورٹ ابھی تک عوام کی اطلاع کیلئے شائع نہیں کی گئی ہے اور اِس کا جائزہ اب لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے لیا جا رہا ہے۔ ڈان کمیشن رپورٹ کا تاحال کسی کو پتہ نہیں ہے اور موجودہ ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم کے حوالے سے راجہ ظفر الحق انکوائری رپورٹ کیساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ بھی شائع کی جانی چاہیے تھی یا پھر حکومت کو اِس رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اور فیض آباد دھرنا طویل تر ہوتا گیا ہے۔عوامی سطح پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم پر وفاقی وزیر قانون نے پارٹی صدر کی حیثیت سے سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کے غیر قانونی خفیہ احکامات کے تحت باریکی سے کام کیا تھا چنانچہ اِس بل پر حزب اختلاف کے احتجاج اور بل کی کاپیاں پھاڑ دینے کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی تیزی سے زبانی ووٹ کے ذریعے ترمیم کو منظور کرتے چلے گئے چنانچہ اب یہ کہنا کہ کسی کو ختم نبوت حلف نامہ کی ترمیم کا علم نہیں تھا ناقابل فہم بات ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو عوام اور دھرنے والی سرکار کو اعتماد میں لیا جائے اور حقائق کو چھپانے کے بجائے ذمہ داران کے خلاف انتظامی ایکشن لے کر قوم کو حقائق سے آگا کیا جائے۔
اندریں حالات ، ملک میں انتظامی بگاڑ کی بنیادی وجہ آئین و قانون سے انحراف کی موجودہ حکومتی پالیسی ہی دکھائی دیتی ہے ہے ۔ یوں تو نااہل وزیراعظم کی سبکدوشی کے بعد پارلیمان نے جناب خاقان عباسی کو وزیراعظم منتخب کیا ہے لیکن خاقان عباسی صاحب وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد بھی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو ہی وزیراعظم گردانتے ہیں جنہیں ابھی تک خلاف قانون ریاستی پروٹوکال دیا جا رہا ہے جبکہ وفاقی کابینہ کے بیشتر وزرأ آئینی و قانونی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے وزارتی کام کو چھوڑ کر میاں نواز شریف کی حمایت میں عدلیہ اور افواج پاکستان کو نشانہ بنا رہے جبکہ نااہل وزیراعظم اپنی بے گناہی میں کوئی ثبوت پیش کئے بغیر تسلسل سے عدلیہ اور افواج پاکستان کو استعاروں میں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہہ رہے ہیں اُنہیں سزا دی نہیں بلکہ دلوائی گئی ہے اور یہ کہ احتساب کہیں اور سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی اور موجودہ نیب کورٹ کی سماعت کے دوران شریف فیملی کی طرف سے اپنی بے گناہی میں شواہد پیش کرنے کے بجائے آئین و قانون کے راستے سے انحراف کیوں کیا جا رہا ہے اور کیا پھر تازہ ترین نظریۂ نواز شریف کے پس پردہ بیرونی ہاتھ کام کر رہا ہے۔ایں چہ بوالعجبی است ۔

22
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...