گزشتہ روز سپہ سالار پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ بیان سامنے آیا کہ عوام سے فوج کا محبت کا رشتہ ہے اور جب تک عوام کی قوت ہمارے ساتھ ہے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جنرل باجوہ دشمن کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے نوجوان لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت پر ارسلان شہید کے والدین سے تعزیت کیلئے آئے تھے۔ اگلوتے بیٹے کی شہادت پر والدین کا جذبہ دیکھتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ جب تک والدین کا اپنے جوانوں کی شہادت پر پاکستان کی بقا کا جذبہ زندہ ہے پاکستان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اُنہوں نے پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے کہا کہ فوج کے نوجوان آفیسرز اور جوان پاکستان پر جان نچھاور کر رہے ہیں چنانچہ جو لوگ غیر ممالک میں بیٹھ کر ملک توڑنے اور فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں ہم اُن کو نہیں چھوڑیں گے اور اُن سب کو قانون کی گرفت میں لائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ کچھ غیر ملکی دشمن ایجنسیاں اور اُن کے ایجنٹ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن عوام فکر نہ کریں ہم ہر سازش کا مقابلہ کریں گے اور ملک میں امن و قانون کی حکمرانی بحال کریں گے۔ دریں اثنا، اِس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے پاکستان فوج کشمیر کنٹرول لائین ، سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری اور ڈیورنڈ لائین (پاک افغان بارڈر) کے علاوہ کراچی و بلوچستان میں دشمنوں کے حملوں اور دہشت گردی کا بے جگری سے مقابلہ کر رہی ہے۔چنانچہ جنرل باجوہ کے الفاظ سن کر بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وہ الفاظ یاد آ جاتے ہیں جو اُنہوں نے تحریک پاکستان میں قربانی کے جذبے سے سرشار اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہے تھے۔ قائداعظم نے تحفظ پاکستان کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ” خدا کی قسم ، جب تک ہمارے دشمن ہمیں اُٹھا بحیرہ عرب میں نہیں پھینک دیتے ہم ہار نہیں مانے گے۔ پاکستان کی حفاطت کیلئے میں تنہا لڑونگا ، اُس وقت تک لڑونگا جب تک میرے ہاتھوں میں سکت ہے اور میرے جسم میں خون کا آخری قطرہ ہے۔ مجھے آپ سے فقط یہ کہنا ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسا وقت آئے جب پاکستان کی حفاظت کی جنگ لڑنی پڑے تو پہاڑوں میں جنگلوں میں ، میدانوں میں جنگ جاری رکھیں اور کسی صورت ہتھیار نہ ڈالیں ” ۔ قارئین کرام ، ایک طرف تو اُنیس بیس سال کے وہ نوجوان آفیسرز اور جوان ہیں جو اپنی جوانی کی اُمنگوں کو خیرباد کہتے ہوئے وطن کی بقا کیلئے شہادت کے جذبے سے سرشار قوم و ملک پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں تو دوسری جانب وہ ہیں جو دولت کی ہوس میں دشمن ایجنسیوں کا آلہ کار بن کر وطن فروشی پر آمادہ ہیں۔ بلوچستان میں بھارت براہمداغ بگتی کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے میں مصروف عمل ہے جبکہ بھارتی ایجنٹ ہینڈلر کل بھشن یادیو کی گرفتاری اِسی دہشت گردی کی ایک کڑی ہے۔
درحقیقت بھارت تاریخی حقائق کے برخلاف مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے یکطرفہ طور پر بلوچستان کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا کہتے ہوئے چند سو علیحدگی پسند بلوچوں کے ذریعے دہشت گرد کاروائیوں کو مہمیز دے رہا ہے۔ جبکہ برٹش بلوچستان نے برطانوی حکومت ہند کے زیر اہتمام تقسیم ہند سے قبل ہی 30 جون 1947میں ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد 17 مارچ 1948 میں ریاست خاران ، مکران اور لس بیلا کے نوابین نے کراچی میں قائداعظم سے ملاقات میں تینوں ر یاستوں کا فوری طور پاکستان کیساتھ الحاق کرنے کا اعلان کیا۔ چنانچہ ریاست قلات کے خان آف قلات نواب احمد یار خان جو قائداعظم کے ذاتی دوست بھی تھے نے 27 مارچ 1948 میں قائداعظم کے نام ایک خط کے ذریعے پاکستان کے دشمن بھارت سے ساز باز کرنے کی تردید کرتے ہوئے پاکستان کیساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا اور 28 مارچ 1948 میں پاکستان کیساتھ باقاعدہ الحاق کا اعلان کر دیا گیا جس کی اُن کے بھائی شہزادہ کریم نے مخالفت کی جنہیں ریاست بدر کر دیا گیا۔ چنانچہ بلوچستان میں اب کوئی تصفیہ طلب مسئلہ باقی نہیں ہے اور نہ ہی گاندہی و نہرو کا بلوچستان سے کوئی تعلق ہے جس کی آڑ میں بھارت ایک تسلسل سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد سے دہشت گردی کو ہوا دیتا رہا ہے جس میں پاکستان چین سی پیک معاہدے کے بعد تیزی کا عنصر دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کراچی میں الطاف حسین بھارتی امداد سے کراچی کی علیحدگی کیلئے کام کرتے رہے اور ایکسپوز ہونے کے بعد کراچی چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے اور برطانوی شہریت لیکر کھلم کھلا فوج کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کی حمایت میں کراچی کے حالات خراب کرنے میں پیش پیش رہے۔ الطاف حسین کے بعد پاکستان کی دونوں اہم سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور آصف علی زرداری کی زیر قیادت پیپلز پارٹی نے حسین حقانی جسے سی آئی اے اور بھارتی را کی حمایت حاصل ہے کا سیاسی قد بڑھانے کیلئے بل ترتیب سری لنکا اور امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا۔ جو اب امریکہ میں بھارتی لابی اور سی آئی اے کی حمایت سے پاکستانی اداروں بل خصوص فوج اور عدلیہ کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ صد افسوس کے اِس زہریلے پروپیگنڈے میں دشمنِ پاکستان نریندرا مودی اور اُن کیساتھ منسلک را کے تاجر ایجنٹ اور بھارت کے اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کی نواز شریف فیملی سے ذاتی دوستی بھی رنگ لائی جب پاکستان فوج کے خلاف وزیراعظم ہاؤس سے بھارتی ایجنڈے کیمطابق ڈان لیکس کا اسکینڈل سامنے آیا جس کے نتیجے میں سابق وزیراطلاعات پرویز رشید کو وزارت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اِسی دوران پاناما پیپرز کیس آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپائی ہوئی دولت کے حوالے سے نواز شریف فیملی کی بیرون ملک بیش قیمت پراپرٹی بھی سپریم کورٹ کے دائرہ کار میں آ گئی تھی چنانچہ نواز شریف فیملی کو متعدد مواقع فراہم کرنے کے باوجود جعل سازی ، غلط بیانی اور حقائق کو عدالت عظمیٰ سے چھپانے پر بات سابق وزیراعظم کی نااہلی تک جا پہنچی تو پاکستانی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف فیملی بھی پاکستانی عدلیہ اور فوج کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مشغول ہو گئی۔ انتہا یہ ہے کہ وزیراعظم کو نااہل قرار دئیے جانے کے باوجود وفاقی اور صوبہ پنجاب کی حکومت ابھی تک سابق نااہل وزیراعظم کو وزیراعظم کا ہی پروٹوکول دے رہی ہے۔ حتیٰ کہ نااہل وزیراعظم کو سیاست میں واپس لانے کیلئے مسلم لیگ (ن) کا صدر بنانے کیلئے سینٹ سے ایک حالیہ ترمیم بھی منظور کرائی گئی جسے ایک سابق چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے سیاسی فراڈ کے مترادف قرار دیا ہے۔ اندریں حالات جرائم خواہ کسی بھی نوعت کے ہوں جرائم کو سیاسی رنگ دیکر پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ نااہلیت کو اہلیت بنانے سے گریز کرے وگرنہ عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد قدرے متاثر ہوگاکیونکہ پاکستانی سیاست میں ڈیل ، ڈھیل یا این آر او کے حوالے سے آنے والے جدید رجحانات نے ایک عجب وتیرہ بنا لیا ہے ۔ حکمرانی پاکستان میں ، سیف ہاؤسز بیرون ملک، جائز ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کی انسوٹمنٹ غیر ممالک میں اور اِس دولت کو سنبھالنے کیلئے خاندان کے کچھ افراد کیلئے غیر ملکی شہریت جبکہ کرپشن کو چھپانے کیلئے وزیراعظم اور وزرأکیلئے گلف ممالک اور سعودی عرب میں کاروباری اداروں میں ملازمت کے نام پر اقامے یا رہائشی پرمٹ کا حصول اخلاقی اقدار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ہائی پروفائل پاکستانی سیاسی شخصیتیں قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے اِن اقاموں کاا ستعمال ہی کرتے ہیں۔ ملکی دانشوروں کیلئے یہ منظر نامہ اور بھی زیادہ پریشان کن ہے کہ حکمران اور اُن کے مشیران دولت اور اقتدار کی ہوس میں اِس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ اُنہیں اِس اَمر کا قطعی احساس نہیں ہوتا ہے کہ اُن کا دامن دنیاوی آلائشوں سے داغدار ہو چکا ہے ۔ اداروں میں میرٹ کے بجائے حکمرانوں کی پسند ناپسند کا معیار قائم ہو چکا ہے، کرپشن عام ہو چکی ہے، ملکی معیشت تباہی کی جانب گامزن ہے اور اِسے غیر ملکی اور ملکی بنکوں کے قرضوں پر چلایا جا رہا ہے جبکہ حکمران ریاستی اخراجات کا خیال نہ رکھتے ہوئے غیر ممالک کے بے معنی دوروں اور حتیٰ کہ معمولی نزلہ زکام کے علاج کیلئے بھی کثیر سرکاری خرچ پر لندن اور امریکہ بھاگے دوڑے پھرتے نظر آتے ہیں۔جبکہ اقتدار کا سرچشمہ عوام بتدریج غربت و افلاس، مفلسی و ناداری ،تعلیم سے محرومی کے سبب جہالت ، صاف پانی کی کمیابی کے باعث شدید بیماریوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ، ہسپتالوں میں ضروری علاج معالجے کی سہولتوں کے فقدان اور غربت کے مارے مریضوں کی اموات کی شرح میں اضافے کا رجحان ہے جبکہ حکمرانوں کے حاشیہ نشین میڈیا میں سب اچھا ہے کی گردان کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ لہذا پارلیمنٹ کو نااہلیت کو اہلیت میں بدلنے کے بجائے اصلاح احوال کی کوششیں کرنی چاہیں۔

76
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...