پاناما پیپرز ہائی پروفائل کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ کا تاریخ ساز فیصلہ پاکستان میں سیاسی اشرافیہ کی فسوں گری کے نام پر قائم و دائم، اِسٹیٹس کو، توڑنے کیلئے بارش کے پہلے قطرے کے مترادف ہے۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے بنائی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ، جے آئی ٹی، سپریم کورٹ اور قوم کے اعتماد پر پوری اُتری ہے اور اُنہوں نے حق و انصاف اور دیانت و امانت کے اصولوں پر پورا اُترتے ہوئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں اوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی کرپشن کی فسوں گری کے باوجود ابھی جناح کے پاکستان میں باضمیر لوگ زندہ ہیں ۔ یقیناًبھرپور ریاستی دباؤ کی موجودگی میں حق و انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے پاکستانی عدالت عظمیٰ کیلئے یہ ایک بہت بڑا دن تھا ۔ حقیقتاً، ملک میں کرپشن ، بدعنوانی اور اقربہ پروری کی دیوار گرانے کیلئے پاناما کیس سپریم کورٹ تک لے جانے میں پی ٹی آئی کے عمران خان ، جماعت اسلامی کے سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سپریم کورٹ فیصلے کے اعلان پر عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرونی ممالک میں دولت کے ذخائر جمع کرکے شریف خاندان باریاں لینے کیلئے اپنے بچوں کو تیار کر رہے تھے کیونکہ شریف خاندان، اداروں میں اپنی مرضی کے افراد لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے کرانے میں فنکارانہ مہارت رکھتے تھے۔ یہ لوگ اپنی مرضی کے لوگوں کو اداروں میں تعینات کرکے اپنے خاندان کی منی لانڈرننگ اور ٹیکس چوری کو کنٹرول کرتے تھے اِسلئے پکڑے نہیں جاتے تھے لیکن باضمیر جے آئی ٹی کی حیران کن تحقیق کے باعث یہ پہلی دفعہ پکڑے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے چیف سراج الحق نے زور دیکر کہا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف خاندان کی 35 سالہ کرپشن کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب ہم نے تمام کرپٹ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کیلئے بھرپور جدوجہد کرنی ہے۔ شیخ رشید احمد جو ایک مدت تک شریف خاندان کے قرب کا حصہ رہے ہیں کہا کہ نواز شریف کبھی بھی صادق و امین نہیں رہے میں نے پہلے بھی کہا تھا سپریم کورٹ سے ثبوت بھی نکلیں گے اور تابوت بھی نکلیں گے اور قربانی سے پہلے قربانی ہوگی جو ایک برس کے بعد ہوگئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (شجاعت) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پانچ ججوں کے متفقہ فیصلے نے مخالفوں کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شریف خاندان کے تمام افراد کے نام ایگزٹ کنڑول لسٹ میں ڈالے جائیں۔ اسٹاک ایکسچینج میں نواز شریف کو نااہل قرار دئیے جانے کا فیصلہ آنے پر اسٹاک ایکسچینج میں جاری مندی مکمل ریکوری میں تبدیل ہوئی تو اسٹاک ایکسچینج میں موجودتمام اسٹاک ہولڈرز نے جوش و خروش سے پاکستان زندہ باد اور گو نواز گو کے نعروں سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے سامنے جھوٹ بولنے ، اثاثے چھپانے اور دبئی ملازمت چھپانے کے جرم میں تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے چنانچہ وہ اب وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے علاوہ نہ تو پارٹی کے صدر یا کارکن رہ سکتے ہیں۔ احتساب بیورو( نیب) کو کہا گیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے ریکارڈ میں موجود شواہد کی روشنی میں سابق وزیراعظم ، اُن کے بیٹوں اور بیٹی و داماد کے خلاف چھ ہفتے کے اندر ریفرنس فائل کریں جس پر چھ ماہ کے اندر فیصلہ صادر فرمایا جائے ۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کو فوری طور پر ہائی کورٹ سے اپنی ضمانت کا بندوبست کرنا چاہیے کیونکہ میاں نواز شریف کی وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی کے بعد اُن کی گرفتاری کا کدشہ موجود ہے۔ دریں اثنا ، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی نااہل قرار دے دیا گیا ہے اور نیب کو اُن کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ اندریں حالات صدر ممنون حسین کو کہا گیا ہے کہ وہ جمہوری تسلسل کو آگے بڑھانے میں اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔
حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی اور دنیا بھر کے میڈیا نے پاناما پیپرز کے مقدمے میں پاکستانی عدلیہ کے فیصلے کو بے لاگ طور پر کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف قانون کی سربلندی کے حوالے سے ایک جرأت مندانہ فیصلہ قرار دیا ہے جبکہ بھارتی میڈیا نے نواز مودی ذاتی دوستی کی آڑ میں اِسے بھارت پاکستان ڈائیلاگ پر ایک کاری ضرب سے تشبیہ دی ہے۔ حیرت ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتہا پسند ہندو لیڈرشپ وزیراعظم نریندرا مودی کی قیادت میں گزشتہ کئی برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے ڈائیلاگ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں تو پیش پیش رہی ہے اور ایک ناپاک منصوبہ بندی کے تحت کشمیر کنٹرول لائین پر روزمرہ خلاف ورزیوں کے ذریعے پُرامن صورتحال میں بگاڑ کی کیفیت پیدا کرکے کشمیر پر دوطرفہ مذاکرات کو بار بارملتوی کرتی رہی ہے حتیٰ کہ اسلام آباد میں سارک ممالک کی کانفرنس کے انعقاد کے منصوبے کو بھارت کی جانب سے خاک میں ملانے سے بھی گریز نہیں کیا گیا لیکن نریندرا مودی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ذاتی دوستی کا دم بھرنے میں پیش پیش ہی رہے ہیں۔ چنانچہ یہ اَمر بھی ریکارڈ پر ہے کہ گزشتہ برس نریندرا مودی حیران کن پیش قدمی کرتے ہوئے میاں نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے اچانک رائے ونڈ لاہور تک پہنچ گئے تھے ۔چنانچہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے مثبت فیصلے پر بھارتی میڈیا کی تنقید سمجھ میں آتی ہے کیونکہ اِسی نوعیت کی تنقید مسلم لیگ (ن) کی میڈیا اور نواز شریف حکومت کے سابق وزرأ کی ٹیم کے حوالے سے دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ حیرت ہے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران نواز شریف خاندان کی کرپشن کے خلاف ملنے والے غیرمعمولی شواہد کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت سپریم کورٹ فیصلے کو سیاق و سباق سے سمجھے بغیر ہی شدید تنقید میں مصروف ہے۔ سابق وزیر ریلوے سعد رفیق نے پاناما پیپرز کیس کو عالمی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ماضی میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 58/2b کی جگہ اب نواز شریف حکومت کو برطرف کرنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 62/63 کو استعمال کیا گیا ہے اور تاریخ اِس فیصلے کو تسلیم نہیں کریگی۔ سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مسلم لیگ(ن) کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا۔ سیاسی میدان میں یہ مرا ہوا چوہا کون ہے احسن اقبال نے اِس کی توضیح نہیں کی جبکہ ایک اور سابق وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے اِسے تاریخی فیصلے کے بجائے تاریکی کے فیصلے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ میاں نواز شریف کے اتحادی مولانا فضل الرحمن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب نواز شریف نے کرپشن ہی نہیں کی ہے تو اُسے سزاوار کیوں ٹہرایا گیا ہے؟ اغلباً مولانا فضل الرحمن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کا جے آئی ٹی کی انویسٹی گیشن کے حوالے سے مطالعہ ہی نہیں کیا ہے۔ ایک اور سابق وفاقی وزیر انوشہ رحمن کہتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اِس فیصلے کو قبول نہیں کریگی اور میاں محمد نواز شریف ایک مرتبہ پھر پوری طاقت سے واپس آئیں گے۔ پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے بعد یہ کیسے ممکن ہوگا اِس کے بارے میں اُنہوں نے کچھ نہیں بتایا۔ دریں اثنا ، پاکستان کے طول و عرض میں اپوزیشن سیاسی کارکنوں نے سپریم کورٹ فیصلے کے حق میں جلوس نکالے ہیں اور نواز شریف بدعنوان حکومت کے خاتمے پر ڈھول ڈھماکے کیساتھ مٹھائیاں تقسیم کی ہیں جبکہ عمران خان کی جماعت نے اتوار کے دن اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ عوام الناس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کرپشن کے خلاف اِس فیصلے کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے قومی بدیانتی کے مرتکب افراد کے خلاف عوامی سطح پر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے چنانچہ معروف انقلابی شاعر حبیب جالب کی زبان میں عوامی سطح پر شد و مد سے شریف فیملی کے خلاف یہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ۔۔۔۔۔
جان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کی
دستِ نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خوداروں کی
ڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیں
جب تک چند لٹیرے اِس دھرتی کو گھیرے ہیں
اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی۔
قارئین کرام ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے جرأت مندانہ فیصلے کے بعد پاکستانی سیاست میں زبردست تبدیلی کی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد وزارت عظمیٰ کا چارج چھوڑ دیا ہے اور بظاہر پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کی صدارت کرتے ہوئے عارضی اور ریگولر وزیراعظم کے طور پر شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے جبکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں اُن کا حصہ لینا اب شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) ابھی تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں عالمی سازش تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اصل حقائق کو عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کرنے سے پہلو تہی کرتے ہوئے شریف فیملی کے کمزور موقف کیساتھ ایک طویل قانونی جنگ لڑتے رہے اور اب اِس کمزور اسٹریٹجی کی ناکامی کے بعد جے آئی ٹی کی 60 دنوں کی تفتیش و تحقیق پر محیط 10 جلدوں پر مثتمل شواہد کے پیش کئے جانے کے بعد بھی بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ اُنہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ویسے ہی نکال دیا گیا۔ چنانچہ کمزور حکمت عملی کے سبب نواز فیملی کو اپنی تضاد بیانیوں ، حقائق کو چھپانے اور جعلی دستاویزات عدالت عظمیٰ میں پیش کرنیکے باعث سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔ میاں نواز شریف کایہ کہنا کہ میں اب بھی پاکستان کا سپاہی ہوں اور آخری وقت تک مورچے میں کھڑا رہوں گا ، کا کیا مطلب ہے اور میاں صاحب آپ کیسے سپاہی ہیں کہ ایک ایسے مرحلے پر جب افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور کشمیر کنٹرول لائین پر روزمرہ بھارتی مسلح جارحیت کے خلاف پاکستانی جوان اور آفیسرز سینہ سپر ہیں اور قوم کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں، آپ مسلم امہّ اور پاکستانی سا لمیت کے دشمن نریندر مودی اور اُسکے تاجر ایجنٹ سجن جندال کیساتھ ذاتی دوستی کا دم بھر تے نظر آتے رہے ہیں۔
شیخ رشید احمد جن کا سیاسی سفر مسلم لیگ (ن) کے سیاسی بازو کے طور پر شروع ہوا تھا ، میاں نواز شریف کی سیاست کو بہت قریب سے جانتے ہیں اور اب اُن کے مخالف کیمپ میں ہیں چنانچہ پاناما کیس میں عدالت عظمیٰ میں نواز شریف کے خلاف اہم مدعی کے طور پر پیش ہوئے ہیں ، کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے خلاف کسی کو سازش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نواز شریف کے اندر خود سازش کا سوئچ لگا ہوا ہے۔ ہم نے عدالت میں قانون کی سربلندی کیلئے قانونی جنگ لڑی ہے اور حقیقتاً نواز شریف خود اللہ کی پکڑ میں آئے ہیں۔اِس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود ایک زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح نہ تو ریاستی امور(state crafts) کی دانش کو سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی ریاستی نظم و نسق ، انتظام و انصرام، اور عوامی امور کو ایک مدبر کی طرح چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ریاستی اداروں اور بیرون ملک سفارت خانوں میں ریاستی مفاد کو پیش نظر رکھے بغیر محض ذاتی وفاداری سے مزین افراد کی تعیناتی اُن کی سیاسی فکر کا بنیادی خاصّہ رہا ہے۔ چنانچہ ریاستی دانش اور فہم و ادراک کو پس پشت ڈالتے ہوئے محض ذاتی مرضی کے فیصلوں کو مہمیز دینا ریاستی نظم و نسق کیلئے سم قاتل بن جاتا ہے ۔ بحیثیت وزیراعظم پاکستان اپنے تینوں ادّوار میں میاں نواز شریف قومی سلامتی امور میں عسکری اداروں اور سولین صدور کیساتھ اچھے ورکنگ ریلیشن قائم کرنے میں قطعی ناکام رہے حتیٰ کہ ایک آرمی چیف نے قومی سلامتی امور کے حوالے سے سیکیورٹی کمیٹی کے قیام پر میاں نواز شریف کی عجب منطق سے سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے مستعفی ہونے کو ترجیح دی جبکہ بیشتر آرمی چیفس اور وزیراعظم کے درمیان قومی سلامتی امور پر سیاسی چپقلش کے باعث قومی پالیسی امور پر عمل درامد میں دشواریاں حائل ہوتی رہیں۔ صدر فاروق لغاری نے اپنی ہی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو 58b2 کے تحت برطرف کیا جس کے نتیجے میں میاں نواز شریف کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا لیکن نواز شریف اُن کیساتھ بھی نہیں چل سکے اور صدر فاروق لغاری اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
بلاشبہ میاں نواز شریف کی ابتدائی سیاسی پرورش جنرل جیلانی نے کی تھی اور پھر اُنہوں نے آگے بڑھ کر صدر جنرل ضیاء الحق سے سیاسی زانوئے تلمذ تہ کر لیا تھا۔ چنانچہ جنرل ضیاء الحق کی طیارے کے حادثے میں وفات پا جانے کے بعد نواز شریف ضیاء لابی کے اہم نمائندے کے طور پر سامنے آئے۔ پہلی بے نظیر گورنمنٹ کی برطرفی کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے تو سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملکی سیاسی افق پر منظر عام پر آنے والی اہم شخصیت صدر غلام اسحق خان نے اُنہیں ریاستی امور میں دیانت و امانت سے چلنے کی تلقین کی تو اُس وقت بھی قومی اسمبلی میں اُنہیں دوتہائی اکثریت حاصل تھی لیکن وہ صدر غلام اسحاق خان کیساتھ بھی نہیں چل سکے اور اُنہوں نے بذاتِ خود سا بق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کو تجویز دی کہ اگر غلام اسحاق خان صدر کے عہدے سے مستعفی ہوتے ہیں تو وہ بھی وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں
گے اور ایسا ہی ہواچنانچہ اِن سارے معاملات پر باریک بینی سے نگاہ ڈالی جائے تو اِس سے میاں نواز شریف کی قومی سیاسی بصیرت کے بجائے ذاتی ہوس رکھنے والی سازشی ذہنیت بخوبی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اندریں حالات اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رہنما نواز شریف فیملی کے خلاف عدالت عظمیٰ کے موجودہ فیصلے کو عالمی سازش سے تعبیر کرتے نظرآتے ہیں جو عوامی سطح پر ناقابل فہم ہے۔
شیخ رشید احمد درست ہی کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے اندر خود ہی سازش کا سوئچ لگا ہوا ہے۔ میاں صاحب ہر خاص و عام کے سامنے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اُن کی تینوں حکومتوں کو اپنی ٹرم پوری نہیں کرنے دی گئی۔ یہ کہتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ سیاسی حکومتوں کو اپنی ٹرم پوری نہ کرنے دینے کی سازش کا سوئچ بھی اُنہوں نے خود ہی پہلی بے نظیر حکومت کے خلاف آن کیا تھا جب اکتوبر 1989 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارلیمانی پارٹی کے گیارہ اراکین کو پیسے کے زور پر توڑنے کی کوشش کی گئی جس کا تذکرہ خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب “RECONCILIATION” کے صفحہ نمبر 201-3 پر کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کتاب محترمہ کی شہادت کے بعد 2008 میں شائع ہوئی تھی جبکہ اِس سے قبل میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر چکے تھے۔ محترمہ لکھتی ہیں کہ مسلم لیگ نے 1989 میں اُسامہ بن لادن کی جانب سے فراہم کی گئی رقومات کی مدد سے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کیلئے اُن کی پارٹی کے ممبران قومی اسمبلی میں ایک ملین ڈالر فی ایم این اے دئیے گئے لیکن عدم اعتماد کی تحریک پھر بھی ناکامی کا شکار ہوئی۔ ا،سی طرح اُسامہ بن لادن نے سعودی ، امریکی حمایت سے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا تھا اور نواز شریف کیساتھ انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات قائم تھے۔ لیکن مبینہ طور پر بن لادن کے احمد شاہ مسعود دہشت گردی اور امریکی سفارت خانوں پر حملوں کے واقعات میں ملوث ہونے کے باعث نواز شریف نے امریکی صدر بل کلنٹن کی مدد سے فوج سے بالا بالا ایک سپیشل خفیہ کمانڈو ٹیم کی تشکیل میں حصہ لیا جس کا کام بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنا تھا لیکن یہ منصوبہ جنرل مشرف کی آرمی چیف کے طور پر مدت ختم ہونے سے قبل ہی ریٹائر کرنے کی سازش کے پیش نظر ناکامی سے دوچار ہوا۔ ایسی ہی صورتحال ڈان لیکس کے حوالے سے پیش آئی جب وزیراعظم ہاؤس کو فوج کے خلاف پروپیگنڈے کیلئے استعمال کیا گیا ۔ اِس سے قبل میاں نواز شریف سابق وزیراعظم بھارت من موہن سنگھ اور امریکی صدر بل کلنٹن کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے پاکستانی فوج کے بارے میں غیر ضروری ریمارکس دے چکے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اور اب جبکہ پاکستانی افواج بھارتی جارحیت کا کنٹرول لائین پر مقابلہ کر رہی ہیں نواز شریف بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور اُن کے تجارتی ایجنٹ سجن جندال کیساتھ ذاتی دوست کو مستحکم بنانے میں مصروف رہے پھر بھی دعویٰ ہے کہ وہ پاکستانی مورچے کے سپاہی ہیں؟ کیا جھوٹ ، تضاد بیانی، جعل سازی اور کرپشن کے شواہد دنیا بھر کی کسی بھی جمہوریت میں وزیراعظم کو برطرف ہونے سے بچا سکتے ہے ؟ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی یقیناًمبارک باد کے مستحق ہیں کہ جھوٹ ، تضاد بیانی ، جعل سازی اور کرپشن کے خلاف بل آخر اچھائی کی آواز بلند ہو چکی ہے اور اب اِس کا پہیہ آگے کی جانب ہی بڑھے گا۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔

131
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...