نیرنگئ زمانہ دیکھئے کہ ماضئ قریب میں ریاست گجرات احمد آباد میں ہزاروں بھارتی مسلمانوں کی قتل و غارت گری میں ملوث، عیسائی گرجوں کی تباہی اور عیسائی راہبوں کا نشان مٹانے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں پیش پیش راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کا سابق حلف یافتہ فدائی وزیراعلیٰ نریندر مودی جسے بھارتی انتہا پسند فسطائی تنظیم RSS کے موجودہ چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی حمایت سے بھارت میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے ، بھارت میں نام نہاد مقدس گائے کی حفاظت کے نام پر بھارتی مسلمانوں اور زور زبردستی سے دیگر مذہبی اقلیتوں کو ہندوازم میں جذب کرنے کا داعی ہے، اور اب امریکی صدر ٹرمپ کیلئے جنوبی ایشیا میں اِس قدر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نریندر مودی کے امریکی سرزمین پر قدم رنجہ فرمانے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی دفتر خارجہ نے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے وادئ کشمیر میں بھارتی فوجوں کی قتل و غارت گری کے خلاف کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی حامی جماعت حزب المجاہدین اور اِس کے مسلمہ رہنما سید صلاح الدین کو گلوبل دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ سید صلاح الدین کی جماعت حزب المجاہدین صرف کشمیر کی آزادی سے ہی سروکار رکھتی ہے چنانچہ اِس جماعت کے رضاکاروں کا نام بھی کشمیر کی آزادی کے علاوہ کسی اور ملک کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے دیکھنے میں نہیںآیا ہے جبکہ کشمیر میں سید صلاح الدین کی آزادی کی تحریک کو اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر 1972 منظور کی جانے والی قرارداد نمبر 3034 سے مہمیز ملتی ہے جس میں قوموں کی آزادی کی تحریکوں کے جواز کے صحیح ہونے کی تصدیق کی گئی ہے اور جو نوآبادیاتی ، نسل پرست اور غیرملکی قابض حکومتوں کے عزائم کی مذمت کرتی ہے۔
بلاشبہ مسئلہ کشمیر اقوم متحدہ کی قرارداوں اور بھارت و پاکستان کے درمیان دوطرفہ شملہ معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک حل طلب مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے منسلک کیا گیا ہے جس پر بھارت گزشتہ ستر برس سے عمل درامد اور شملہ معاہدے کے تحت بات چیت کے ذریعے حل کرنے سے گریزاں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ کشمیر میں گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں نریندر مودی کی شدت پسند حکومت کے قیام کے بعد سے بھارتی قابض فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں پیلٹ گنوں سے ہزاروں نہتے کشمیری نوجوانوں کو نابینا بنانا ، سینکڑوں کشمیری خواتین کا اغوا اور بے حرمتی ، لاتعداد کشمیریوں کی بلا کسی قانونی جواز کے گرفتاری ، سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد دور دراز علاقوں میں قائم نازی طرز کے کنسرٹریشن کمپوں میں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنانا شامل ہے، چنانچہ کشمیر میں آزادی کی موجودہ لہر جاری ہے جبکہ کشمیری عوام خودارادیت کا اظہار وادئ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے ہاتھوں ظلم و تشدد کا شکار ہونے کے باوجود پاکستانی جھنڈے لہرا کر برملا کر رہے ہیں ۔ حیرت ہے امریکی دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 3034 کو پس پشت ڈالتے ہوئے امریکی انتظامی معاملات کے آرڈر نمبر 13224 کی دفعہ 1(b) کے تحت سید صلاح الدین اور حزب المجاہدین کو گلوبل دہشت گرد قرار دیا ہے جبکہ یہ دفعات بھارتی قابض فوجوں کے خلاف کشمیر کے آزادی پسندوں پر کسی حوالے سے لاگو نہیں ہوتی ۔ امریکی قوانین کے تحت اِن دفعات کا اطلاق اُن غیر ملکی افراد پر لاگو ہوتا ہے جنہوں نے امریکی شہریوں کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچایا ہو یا امریکی شہریوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہویا امریکی قومی سلامتی ، خارجہ پالیسی اور معیشت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ، چنانچہ اِس حکم نامے کے تحت امریکہ نے بلا کسی جواز کے حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین پر امریکی شہریوں سے نہ صرف مالی لین پر پابندی لگا دی ہے بلکہ اُنہیں گلوبل دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔
اندریں حالات ،امریکی صدر ٹرمپ ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے امریکی حساس اسلحہ، بل خصوص دو درجن امریکی سرویلنس ڈرون طیاروں کی خریداری پر مودی سرکار سے کافی خوش نظر آتے تھے جن کی قیمت کا اندازہ دو بلین ڈالر لگایا گیا ہے اور جس کی فروخت کا اعلان صدر ٹرمپ سے نریندر مودی کی ملاقات سے قبل ہی کردیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے مودی سرکار کو امریکہ کا سچا دوست قرار دینے سے گریز نہیں کیا اور کہا کہ بھارت کیساتھ میری ٹائم سیکیورٹی اور اسلامی تنظیموں کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اسٹرٹیجگ تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائیگا۔ جبکہ نریندر مودی نے اپنے خطاب میں بھارت کیلئے امریکی سرویلنس ڈرون کی مبینہ خریداری کے ضمن میں کہا کہ بھارت اور امریکہ دونوں ہی افغانستان میں امن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ بھارت کو کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا ہے چنانچہ دہشت گردی کے خلاف بھارتی سیکیورٹی کو ممکن بنانے کیلئے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تلاش کرکے اُنہیں تباہ کرنا بھارت کا بنیادی مقصد ہے۔نریندر مودی کے خطاب کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کو اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ جون 2005 کے امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کے بعد سے بھارتی فوج کو امریکی و اسرائیلی حساس اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے ۔ درحقیقت، امریکہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت بل خصوص پاکستان کیساتھ سی پیک معاہدے کو عملی شکل دئیے جانے کے بعد بھارت کو ترجیحی بنیاد پر جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی پالیسی پر قائم ہے چنانچہ بھارتی فوج کو امریکی و اسرائیلی مدد سے ایٹمی ، حیاتیاتی اور کیمیائی ماحول کا سامنا کرنے کی باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے جبکہ بھارتی قیادت اپنی منفی جدوجہد کے تسلسل سے خطے میں امن کی پاکستانی خواہشات کے بر خلاف دہشت گردی کی بے بنیاد الزام تراشیوں کے ذریعے مغربی ملکوں میں پاکستان کے تشخص کو مسخ کرنے میں مصروف ہے۔ نریندر مودی کے موجودہ دورۂ امریکہ سے اِس اَمر کی تائید ہوتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی ، معاشی اور سماجی پیش رفت جسے گوادر میں سی پیک منصوبے سے کافی مہمیز ملی ہے امریکہ بھارت کی شکل میں دفاعی اتحادی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اِسی حوالے بھارت کو افغانستان میں شمالی اتحاد کی مدد سے سیاسی، سماجی، معاشی اور سیکیورٹی حلقوں میں اہم پوزیشن دی گئی ہے ۔ سا بق امریکی وزیر دفاع رمز فیلڈ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ چونکہ چین دنیا میں ایک بڑی قوت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا امریکہ کو خطے میں ایک ایسے دوست کی ضرورت ہے جو 2020 میں چین کے خلاف امریکی فوج کا ساتھ دے سکے۔ گوادر میں پاکستان چین سی پیک منصوبے پر عمل درامد کے حوالے سے امریکی پالیسی ساز اداروں میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ یہ بندرگاہ خلیج ہرمز میں امریکی بیس سے محض تین سو میل کے فاصلے پر گلف کے دھانے پر ہے جسے خلیج کے ملکوں میں تیل و گیس کے ذخائر کے حوالے سے امریکی مخصوص مفادات کے خلاف سمجھتا ہے چنانچہ پاکستان میں چین کے سی پیک معاشی منصوبے کے حوالے سے امریکی بھارت تعلقات میں مفادات کا یک جا ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اِس کا تذکرہ” کارنیکی بین الاقوامی تھنک ٹینک” کے ڈائریکٹر سیلِگ ہیریسن (Selig S. Harrison) ماضی میں اپنے ایک تحقیقی مضمون میں بخوبی کر چکے ہیں۔وہ کہتے ہیں : “The strategic importance of Baluchistan has grown since China started building a port for Pakistan at Gawadar, close to strait of Hormuz with a projected 27 berths, enough for a major Pakistani naval base that could be used by Beijing”. ۔ دریں اثنا ، پاکستانی قیادت کو نریندر مودی سے ذاتی دوستی کو ترجیح دینے کے بجائے خطے میں بھارت کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی امریکی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے کیونکہ سی پیک کے پُرامن معاشی منصوبے کے خلاف خطے میں جدید اسلحہ اور حساس سرویلنس ڈرون طیاروں کے حصول کے بعد بھارت چناکیہ کوٹلیہ پالیسی کے تحت حملہ کرنے کی جنگی صلاحیت کو بڑھاکر پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے ۔

122
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...