گزشتہ روز چمن بارڈر پر افغان فوج نے اچانک سرحدی بستی پر سول آبادی کو نشانہ بنایا جبکہ پاکستان فوج کی نگرانی میں مردم شماری کی مہم جا ری تھی جس کی اطلاع افغان ریاستی اداروں کو پہلے ہی دی جا چکی تھی۔ بلا شبہ پاکستانی افواج نے افغانستان کی جانب سے جاری اِس حملے کا موثر جواب دیا ہے ۔ حیرت ہے کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن کے درمیان رابطہ قائم ہونے اور چمن میں افغان ملٹری ایکشن کی غلطی تسلیم کئے جانے کے باوجود بھارتی تربیت یافتہ افغان فوج کے دستوں نے خیبر ایجنسی میں طورخم اور متعلقہ چیک پوسٹوں کو بِلا کسی جواز کے فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں طورخم اور چمن کی بارڈر پوسٹوں کو ہر قسم کی تجارتی اور پیدل ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔دریں اثنا ، بھارتی ایجنسیوں کی پشت پناہی میں افغانستان میں جہاں پشتون اکثریت کے سیاسی حقوق سلب کرکے شمالی اتحاد کے عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں پاکستان مخالف فکر کو ہوا دی جا رہی ہے ، افغان ریاستی ادارے بدستور پاکستان سے تصادم کی پالیسی پر قائن نظر آتے ہیں ۔ بھارت نے جہاں امریکہ سے دفاعی اور سیکیورٹی معاہدوں کئے ہیں وہاں افغانستان میں نیٹو امریکی افواج کی موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے 2011 میں افغانستان کیساتھ اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کے معاہدوں کے ذریعے افغان افواج کی تربیت سے لیکر افغانستان کی سیاسی ، اقتصادی، تعلیمی اور سیکیورٹی معاملات تک بھرپور دسترس حاصل کر لی ہے ۔ چنانچہ بھارت افغانستان کے تمام شعبوں میں اپنی موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شمالی اتحاد کے انفراسٹرکچر کو خطے میں اپنے مخصوص علاقائی مفادات کیلئے پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے کیلئے استعمال کر رہا ہے جس میں ڈیورنڈ لائین کو متنازعہ بناکر دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو عروج پر لے جانا شامل ہے ۔ دراصل بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی آزادی کی موجودہ لہر کو طاقت کے زور پر دبانے کیلئے خطے میں قتل و غارت گری کا ایک نیا کھیل کھیلنے جا رہا ہے۔ نریندرا مودی کی حکومت نے ایک طرف تو کشمیر کنٹرول لائین کی خلاف ورزیوں کو روزمرہ کا معمول بنا لیا ہے تو دوسری طرف وہ افواج پاکستان کو ڈیورنڈ لائین یعنی پاک افغان سرحد پر اُلجھانے کی پالیس پر گامزن ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان سے گزرنے والے افغانستان کے تجارتی راستے اقتصادی طور پر سستے اور سیکیورٹی کے حوالے سے محفوظ ترین راستے ہیں بھارت کشمیر میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کی تکمیل کیلئے افغان عوام کے مفادات کو بھی داؤ پر لگانے میں مصروف عمل ہے۔ اِسی حوالے سے بھارت نے گزشتہ برس بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے دورۂ ایران کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی اور ایرنی صدر حسن روحانی کے ہمراہ ایک تین مملکتی معاہدے پر دستخط کئے جس کے ذریعے ایرانی گہرے پانیوں کی بندرگاہ چابہار کو اَپ گریڈ کرکے اِسے افغانستان اور وسط ایشیا کی تجارتی منڈیوں تک رسائی دینا مقصود ہے۔ یہ منصوبہ افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کیلئے ایک طویل اور مشکل روٹ کی حیثیت رکھتا ہے جو ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ اِس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں بھارتی مفادات کے حامل اِس نئے تجارتی روٹ کے اخراجات کے بوجھ کو برداشت کرنا افغان عوام کیلئے نئے سماجی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ بھارتی ریاستی اداروں کی نظریں افغانستان کے قدرتی وسائل کو اپنی محکومیت کے دائرے میں لانے پر لگی ہوئی ہیں ۔ بہرحال بھارتی پشت پناہی میں افغان ا فواج کی جانب سے ڈیورنڈ لائین کو متنازعہ بنانے کی کوشش میں طورخم اور چمن کے تجارتی راستوں پر مہم جوئی خود افغان عوام کیلئے اقتصادی مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے ۔
درج بالا تناطر میں اگر پاک افغان سرحد کا تاریخی طور پر جائزہ لیا جائے تو اِسے ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدوں کے تعین کے حوالے سے بین الاقوامی طور پر متنازعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اُنیسویں صدی میں ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند اور افغانستان کے درمیان فوجی کشمکش کے نتیجے میں برٹش حکومت ہند اور افغانستان کے درمیان موجودہ پاک افغان سرحد کا تعین کیا گیا تھاجب سابق افغان حکمران امیر عبدالرحمن کی درخواست پر برطانوی نمائندے ایچ ایم ڈیورنڈ نے 12 نومبر 1893 میں کابل میں انڈو۔افغان سرحدی معاہدے پر دستخط کئے جو تاریخ میں ڈیورنڈ لائین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اِس معاہدے کے تحت ڈیورنڈ لائین ، پاکستان چین سرحد پر درہ منٹکا کے علاقے سے شروع ہو کر صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان سے ہوتی ہوئی ایران کی سرحد سے جا ملتی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ امیر عبدالرحمن کی وفات کے بعد 1905 میں امیر حبیب اللہ خان اور 1919 میں امیرامان اللہ خان نے برطانوی حکومت ہند کیساتھ سرحدی معاہدوں کی توثیق کی جبکہ 1921 کے معاہدے کے تحت افغان حکمران نادر شاہ نے ڈیورنڈ لائین کی بین الاقوامی معاہدے کے طور پر توسیع کرائی تھی جبکہ لندن میں 1930 میں برطانوی حکومت اور افغانستان کے نمائندوں آرتھر ہینڈرسن اور جنرل شاہ ولی کے توسط سے دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا جس میں 1921 کے معاہدے کو جاری رکھنے کا عہد کیا گیا۔ چنانچہ جب ہندوستان کی سیاسی قوتیں کانگریس اور مسلم لیگ جون 1947 میں تقسیم ہند کے فارمولے پر متفق ہوئیں تو جولائی 1947 میں مخصوص مفادات رکھنے والی قوتوں کے زیر اثر افغانستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائین پر پختونستان کے حوالے سے تنقید کی گئی تو برطانوی حکومت ہند کی جانب سے افغانستان کو مطلع کیا گیا کہ ڈیورنڈ لائین کی حدود وہی ہیں جس کی توثیق 1921 میں نادر شاہ نے کی تھی۔اِس اَمر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ 31 جولائی 1947 میں لندن میں ملاقات کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ارنسٹ بیون نے افغان وزیراعظم کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ افغانستان یکطرفہ طور پر 1921 کے معاہدے کو کالعدم قرار دینے سے باز رہے کیونکہ ایسی کسی بھی صورت میں نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان سے گزرنے والے اہم افغان تجاری راستے مسدود ہو جائیں گے جو افغانستان کیلئے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بین الاقوامی قوانین کیمطابق مملکتوں کے درمیان باؤنڈری لائین کے تمام معاہدے جائز اور قانونی تصور ہوتے چنانچہ برطانوی حکومت ہند کے جانشین ہونے کی حیثیت سے ڈیورنڈ لائین کی قانونی حیثیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ معاہدوں کی بین الاقوامی حیثیت کے حوالے سے 1969 کے ویانا کنونشن میں وضاحت سے کہا گیا ہے کہ واقعات اور حالات کی بنیادی تبدیلی سے کوئی فریق یکطرفہ طور پر کسی سرحدی معاہدے سے منحرف یا دستبردار نہیں ہوسکتا اِس لئے کہ سرحدی معاہدے فریقین کیلئے لازمی تصور ہوتے ہیں چاہے کوئی فریق جانشین ہی کیوں نہ ہو۔
اندریں حالات ، بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان کو ایران کی چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اِس منصوبے کی آڑ میں بھارت کی جانب سے پاک۔افغان سرحد کو افغان فوج کی سرحدی مہم جوئی کے ذریعے متنازعہ بنانے کی کوشش خود افغانستان میں امریکہ اور نیٹو اتحاد کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ سمجھنا کہ طورخم یا چمن سرحد کو افغان طالبان افغانستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہے ہیں محض بھارتی منظم ڈِس انفارمیشن کا حصہ ہے کیونکہ افغان طالبان تو افغانستان کا حصہ ہیں اور ایک ایسے ملک میں جہاں ہاری رد ، ارگند اور ہلمند جیسے ملک کے پانچ بڑے دریا مشکل دشوار گزار علاقوں میں جھیلیں اور دلدلی علاقے بناتے ہوئے اپنی شناخت گم کر دیتے ہیں وہاں افغان طالبان کو پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی مہم کی موجودگی میں پناہ لینے کیا ضرورت ہے ۔ البتہ بھارتی ایجنسیاں نہ صرف یہ کہ پاکستان سے ناراض طالبان گروپوں میں اپنا حلقہ اثر بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں بلکہ اِن بھارتی حمایت یافتہ طالبان گروپوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہی ہیں جس کی نشان دہی مودی حکومت کی پاکستان میں تخریب کاری کے حوالے سے افغان طالبان رہنما احسان اللہ احسان کے حالیہ انکشافات سے ہوتی ہے ۔ چنانچہ بھارت افغانستان کیساتھ سلامتی کے اسٹرٹیجک معاہدے کرنیکے بعد اپنے مخصوص علاقائی مفادات کے تحت امریکہ اور نیٹو اتحاد کے درمیان بھی پاکستان کے خلاف غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرنا چاہتا ہے۔حیرت ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ افغان سیاسی حکومت نے سابق طالبان رہنما گل بدین حکمت یار کو نہ صرف کابل آنے کی اجازت دی ہے بلکہ میڈیا میں اُنہیں افغان طالبان کو دہشت گردی کی روش چھوڑ کر قومی دھارے میں شمولیت کا پرچار کرنے کی اجازت بھی دی ہے لیکن نہ معلوم کیوں اِسی نوعیت کی تلقین کرنے کیلئے پاکستانی سویلین حکومت نے سابق طالبان رہنما احسان اللہ احسان کے انٹرویو کو نجی چینل پر بھی نشر کرنے سے بلاک کر دیا ہے جس میں احسان اللہ احسان نے بھارتی مودی سرکار کے پاکستان کے خلاف عزائم کی نشان دہی بخوبی کی تھی ۔ بہرحال ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور پاک افغان سرحد پر بھارتی حمایت یافتہ افغان فوج کی مہم جوئی کے خلاف پاکستانی قوم ایک ہے اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ اللہ ہمار حافظ و ناصر ہو۔

71
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...