قارئین کرام ! پاکستان چین اقتصادی راہداری خطے میں ایک اہم بین الاقوامی تجارتی روٹ کی شکل اختیار کرنے جا رہی ہے ۔ ماضی کے جھروکوں سے جھانکا جائے تو چین ، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں سے آنے والے قبائلی تجارتی کارواں شاہراہ ریشم اور واخان راہدرری کو عبور کرکے ہی برّصغیر جنوبی ایشیا کی تجارتی منڈیوں تک پہنچتے تھے ۔یہی زمینی راستے کشمیر اور نادرن علاقہ جات کے راستے ایران اور مشرق وسطیٰ تک پہنچنے کی تجارتی وسعت رکھتے تھے لیکن اٹھارویں اور اُنیسویں صدی میں بحری انقلاب آنے کے بعد دنیا بھر میں تجارت چھوٹی تجارتی کشتیوں سے شروع ہو کر بالآخر بڑے بڑے کنٹینروں سے لدے جہازوں تک پہنچ گئی ہے۔ ماضی میں روس ، یورپ اور مشرقی ملکوں کے درمیان تجارت کیلئے کیپ ٹاؤن کے جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کے علاقے راسِ اُمید کا لمبا روٹ استعمال کیا جاتا تھا لیکن پھر مصر میں موجود سویز کینال کے بن جانے کے بعد مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی اخراجات میں بہت زیادہ کمی ہوئی تو تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافے کا عنصر دیکھنے میں آیا ۔چنانچہ دنیا بھر میں کم تر اخراجات کیساتھ تجارتی منڈیوں تک پہنچنے کیلئے نئے راستوں کی تلاش میں بالآخر چین پاکستان تجارتی راہداری نے بھی حالیہ دنوں میں سویز کینال کی بین الاقوامی راہدرای کی طرح اہمیت اختیار کرنی شروع کر دی ہے جسے اب روس اور یورپ میں بھی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جبکہ بھارت نہ صرف اِس اقتصادی راہدری کے خلاف ہے بلکہ ریاست جموں و کشمیر پر کشمیری عوام کی اُمنگوں کے خلاف بھارتی غاصبانہ قبضے کو اقوام عالم کی جانب سے متنازعہ تسلیم کئے جانے پر بھی اِس اقتصادی راہدرای کی گزرگاہ یعنی نادرن علاقہ جات پر اپنا دعویٰ کرتا ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان ساٹھ کی دہائی میں ہی سرحدی معاہدہ طے پا چکا ہے چنانچہ پاکستان چین تجارتی راہداری مشرق وسطیٰ ، یورپ اور افریقی ممالک کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک ، منگولیا ، اور روس کے ایشیائی علاقوں کیلئے بل خصوص ایک اہم تجارتی لنک طور پر سامنے آئی ہے جس سے سارک ممالک بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں لیکن بھارتی انتہا پسند بی جے پی حکومت نہ صرف اپنے گھر سے دور جا کر ایران کے راستے نئے روٹ تلاش کرنے کی کوششوں میں مگن ہے بلکہ افغانستان میں اپنی سیاسی موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نہ صرف پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے بلکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری پروجیکٹ کو نقصان پہنچانے کیلئے امریکی دفاعی اتحادی ہونے کی آڑ میں کشمیر کنڑول لائین پر بھی جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہے ۔ اِسی دوران میڈیا اطلاعات کیمطابق پاکستانی سیاسی قیادت اور نئے منتخب امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بہرحال ، پاکستان چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے یہ معاملہ انتہائی سنجیدگی کا حامل ہے جس پر باریکی سے غور و فکر کیا جانا چاہیے۔
معزز قارئین ، خطے میں امریکہ بھارت مفادات کیا ہیں بھی ایک توجہ طلب مسئلہ ہے جبکہ ریاست جموں و کشمیر دفاعی ،جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں بہنے والے تمام دریا وادئ کشمیر کی مختلف جھیلوں اور گلیشئیرز کی مرہون منت ہیں ۔پاکستان کی زراعت کا تمام تر دارومدار انہی دریاؤں سے نکلنے والی نہروں پر ہے کشمیر پر بھارتی قبضہ کے بعد پاکستان کو بھارت کی جانب سے اہم دفاعی مسائل بھی در پیش ہیں۔ جغرافیائی طور پر کشمیر کی سرحدیں بھارت کے علاوہ چین اور واخان کوری ڈور کے علاقے میں افغانستان کی سرحد تک جا ملتی ہیں۔ 18جولائی 1947میں برطانوی لارڈ اٹیلی نے تقسیم ہند کا اعلان کیا تو برطانوی زیر حفاظت ہندوستانی ریاستوں بشمول ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں اعلان کیا گیا کہ یہ ریاستیں پاکستان یابھارت کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔ برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی اعلان کردہ ہدایات کے مطابق یہ ریاستیں اپنی جغرافیائی اور فرقہ وارانہ اکثریتی وابستگی کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کر سکتی تھیں ۔تقسیم ہند کے اعلان شدہ ایجنڈے کے مطابق جغرافیائی ،مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے کشمیر قدرتی طور پر پاکستان کیساتھ منسلک تھا اس کے تمام روایتی زمینی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے تھے ۔وادئ کشمیر میں مسلمان کل آبادی کا 95فیصد تھے جبکہ ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 78فیصد تھی اور 19جولائی 1947میں جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آزاد جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے بھی سرینگر کے اجلاس میں کشمیر کاالحاق پاکستان سے کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی لیکن نہرو۔ ماؤنٹ بیٹن سازش کے تحت کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن کی سازش کے پیچھے کیا محرکات کام کر رہے تھے۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سرکاری آب بیتی کے مصنف فلپ ذیگلر کا کہنا تھا کہ ماؤنٹ بیٹن کے پاس مہاراجہ ہری سنگھ کی الحاق کشمیر کی مبینہ درخواست فوری طورپر تسلیم کئے جانے کی کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں تھی سوائے اس کے کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کشمیر میں بھارتی موجودگی بالکل عارضی ہو جاتی اور کشمیر میں سیکیورٹی کونسل کی جانب سے ریفرنڈم حقیقت بن جاتا ہے ۔ سابق وائسرئے ہند کے سیاسی مشیر سر کو نارڈ کو رفیلڈ کا کہنا تھا کہ ماونٹ بیٹن برطانوی ہند کے محکمہ سیاسی امور کی ہدایت کی نسبت انڈین نیشنل کانگریس کے سیاسی رہنماؤں کی بات زیادہ سنتے تھے ۔انہیں پاکستان و بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام سے قبل یہ تجاویز دی گئی تھیں کہ پاکستان وبھارت کی سیاسی لیڈر شپ کو ریاست حیدر آباد اور ریاست جموں و کشمیر کی بھارت اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے سودے بازی کاموقع دیا جائے کیونکہ ریاست حیدر آباد مسلمان حکمران کے ساتھ ہندو اکثریت والی حکومت تھی جبکہ ریاست جموں و کشمیر ہندو حکمران کے ساتھ مسلمان اکثریت والی ریاست تھی لیکن جواہرالال نہرو کی جانب سے کشمیر کو بھارت میں رکھنے کی خواہش کام کر گئی ۔ چنانچہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے جموں و کشمیر میں بھارت کے ناجائز قبضہ کی راہ ہموار کرنے کیلئے ریڈکلف ایوارڈ کے ذریعے مسلم اکثریتی ضلع گرداسپور کی تین تحصیلیں بٹالہ ، گرداسپور اور پٹھان کوٹ بھارت کے حوالے کر دیں۔ لارڈ برڈ وڈ نے اپنی کتاب Two Nations and Kashmir میں لکھا اگر مسلم اکثریت کا پورا ضلع گرداسپور پاکستان کے حوالے کر دیا جاتا توبھارت کشمیر میں جنگ نہیں لڑسکتا تھا جبکہ بھارتی صحافی ایم ۔ جے ۔اکبر اپنی کتاب Behind the vale میں ضلع گرداسپور کی تیں تحصیلیں بھارت کے حوالے کرنے کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نہرو کیلئے یہ ایک مفاد پرستانہ سیاسی ضرورت تھی کیونکہ گرداسپور کے بغیر بھارت جموں وکشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس لئے نہرو نے ماونٹ بیٹن کے ساتھ اپنی پرائیویٹ ملاقاتوں میں منوایا کہ وہ گرداسپور لنک بھارت کے ہاتھوں میں چھوڑ دے ۔ بھارتی دانشور ایچ۔ ایم ۔ سیروائی اپنی کتاب Legend and Reality میں ریڈ کلف ایوارڈ اور ضلع گرداسپور کی تین تحصیلیں بھارت کے حوالے کرنے کے پس منظر میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں اقتدار کی منتقلی سے متعلق برطانوی اہم دستاویزات کی بارہویں جلد اور فلپ ذیگلر کی کتاب (ماونٹ بیٹن) کی اشاعت نے ماونٹ بیٹن کے کیریکٹر‘ کنڈکٹ اور وائسرئے کی پوزیشن کو بہت نیچے گرادیا ہے ۔ ایچ ایم سیروائی کیمطابق لارڈ ماونٹ بیٹن کی وائسرائے شپ کے آخری پانچ دن کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بدنامی ان کا مقدر ہوگی جبکہ مائیکل بریچر نے جواہر لال نہر و کی سیاسی آب بیتی میں لکھا ہے کہ ماونٹ بیٹن کی ذاتی تعلقات کے حوالے سے نہرو کے ساتھ باہمی احترام ‘ٹرسٹ اور چاہت کے تعلقات کی مثال برطانوی راج کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی ۔ جہاں تک لیڈی ماونٹ بیٹن کا تعلق ہے یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نہرو کی ذاتی زندگی کا خلاء پر کر دیا تھا ۔ یادرہے کہ جواہر لال نہرو کی شریک حیات کملا دیوی 28فروری 1936ء میں سوئٹرز لینڈ کے ایک سینی ٹوریم میں انتقال کر گئی تھیں جسکا نہروکی ازدواجی زندگی پر گہرا اثر پڑا تھا۔ اندریں حالات ، ماضی کی سیاسی موشگافیوں کے پیش نظر پاکستان چین اقتصادی راہداری کے پس منظر میں مسئلہ کشمیر کا حل نئے منتخب امریکی صدر ٹرمپ جنہیں اتخابی مہم میں بھارتی لابی کی بھرپور حمایت حاصل تھی، کے ہاتھ میں دینے سے قبل پاکستانی سیاسی قیادت کو کشمیر کی ماضی کی تاریخ سے ضرور سبق حاصل کرنا چاہیے ۔

263
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...