پاکستان اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ ایک ایسا ملک ایک ایسی ریاست و جود میں آجائے جو اس سے پہلے کہیں موجود نہ تھی جہاں مسلمانوں کو اپنے سے بڑی اور بہت طاقتور دو قوموں سے لڑنا پڑا تھا اور بظاہر نا ممکن کو ممکن بنایا تھا اور انہیں شکست دے کر ایک ایسی فتح پائی تھی جس کی کسی کو توقع نہ تھی بلکہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ایسے آپہنچے گی جیسے بدر میں فقط تین سو تیرہ نے ہزار کو ایسی شکست دی جس نے تاریخ کو بھی حیران کر دیا تھا بس ایسے ہی پاکستان بنا اور اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ چل بھی ایسے ہی رہا ہے اللہ تو کل پر۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں صلاحیت نہیں ہے، ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں آگے بڑھنے کے لیے صلاحیت نہیں پیسہ استعمال کر لیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مخلص نہیں بلکہ صرف نعرے لگانے والے لوگ سامنے آتے ہیں اور یوں پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ ہی ہو جاتا ہے اور ان مسائل کے حل سے زیادہ نام و نمود والے کاموں پر زور ہوتا جاتا ہے اور دعوے گڈ گورننس کے کیے جاتے ہیں ہر صوبہ خود کو مثالی حکومت کا عظیم نمونہ قرار دیتا ہے لیکن عوام کی قسمت میں معلوم نہیں ان عظیم مثالی حکومتوں کے فوائد و فیوض کب آئیں گے۔ یوں تو پاکستان کے ہر حصے میں دہشت گرد جب چاہتے ہیں اپنا مشن آگے بڑھا دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ لا اینڈ آرڈر کے قوانین سے بھی جب چاہے جیسے جو چاہے کھیل لیتا ہے اور یہ قانون شکن بڑی آسانی سے حکومت اور اس کے اداروں کی دسترس سے باہر نکل جاتے ہیں۔ ان دنوں پنجاب جس طرح ان مجرموں کی زد میں ہے اس نے اس صوبے میں عظیم ترین حکومت اور انتظامی امور کا پول کھول دیا ہے۔ چوری، ڈکیتی ، قتل اور ایسے ہی دوسرے جرائم یوں کھلے عام ہو رہے ہیں جیسے کرنے والے کو پوری تسلی ہو کہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن حکومت کا اس طرف دھیان ہی نہیں بلکہ وہ اپنی توانائیاں ان منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے جو اگر بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے بعد چلائے جاتے تو یقیناًقابل تحسین تھے یعنی اگر اورنج ٹرین کا منصوبہ دوسرے مسائل کے حل کے بعد بنایا جاتا اور پایہ تکمیل تک پہنچتا توتب لاہور کے لیے خوش قسمتی کا باعث ہی بنتا، یہاں کی حکومت اپنے نوجوان ڈاکٹروں کے مسائل ہی حل کرلے، اپنے ہسپتال درست کرلے تو کتنا اچھا ہو مگر یہاں پانچ سو سکول اب بھی ناجائز قبضے میں ہیں۔ حال دوسرے صوبوں کا بھی کچھ اچھا نہیں ہے کراچی سمیت سندھ بھر میں لا قانونیت کا راج ہے یہاں کے تعلیمی ادارے اور تعلیمی بورڈ جس بدانتظامی کا شکار ہیں اس کا مظاہرہ اکثر اوقات دیکھنے میں آتا رہتا ہے تعلیم کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں ہونا چاہیے لیکن ہمارے اکثر تعلیمی ادارے جانوروں کے باڑے بنے ہوئے ہیں ۔ اگر بلوچستان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو ستر سال سے اسکی محرومیوں کا رونا رونے والے اس کے حکمران اور روساء اس کے عوام کے لیے تردد کرنے کا کوئی ارادہ اور کوئی خواہش نہیں رکھتے لیکن اسی عوام کے نام پر سیاست کرنے کا فائدہ ضرور اٹھاتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں بھی حالات کچھ زیادہ عوام دوست نہیں یہاں بھی ترجیحات میں عوام کا نمبر بہت بعد میں آتا ہے ۔ ہماری حکومتوں کی ترقی کا مرکز ہمارے مرکزی شہر ہی ہوتے ہیں جہاں پہلے ہی سے مجبوری کے تحت کچھ نہ کچھ کام ہو چکا ہوتا ہے لہٰذا نام کمانا آسان ہو جاتا ہے اور چھوٹے شہروں کے عوام ہسپتالوں، سڑکوں اچھے سکولوں کالجوں سے محروم ہی رہتے ہیں اور حکمران اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ یہ تو رہنے ہی دیجیے ہمارے اہم ادارے بغیر سر براہوں کے کام کر رہے ہیں جہاں وزیرخارجہ جیسی اہم آسامی خالی ہو اور اسے نچلے عہدے یعنی مشیر خارجہ کے ذریعے چلایا جا رہا ہو وہاں دوسرے اداروں کی کیا اہمیت ہوگی ۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکونے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں نو سو سے زیادہ حکومتی ادارے بغیر سربراہ کے کام کر رہے ہیں اور بغیر سربراہ کے چلنے والے اداروں کی کارکردگی کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں وہ بھی ایک ایسے ماحول میں کہ جہاں کسی ادارے کا سربراہ ایک دن نہ آئے تو کل کی جوابدہی سے بے خوف اہلکار کام کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتے تو کجا کہ وہ جانتے ہوں کہ انہیں کسی کو جواب دینا ہی نہیں ہے ان کے کام کا معیار کیا ہوگا اور اگر حکومت خود ہی اپنی ذمہ داریوں سے بے خبر ہو تو وہ دوسروں کو کیسے چیک کرے گی۔ ہماری صحت عامہ کی سہولیات کے بارے میں رپورٹ بھی انتہائی ہولناک ہے ہم دنیا کے 188 ممالک میں 149 ویں نمبر پر ہیں۔ ہماری 60% آبادی خوراک کا وہ معیار قائم نہیں رکھ سکتی جو ایک صحت مند انسان کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب کچھ ایسا ہے لیکن ہماری حکومت کی توجہ دوسرے منصوبوں کی طرف زیادہ ہے اُن منصوبوں کی طرف جس میں گہرائی کم ہے اور چمک دمک زیادہ۔ان منصوبوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں مسئلہ صرف یہ ہے کہ پہلے ترجیحات متعین کی جائیں ۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عملی جمہوریت ہونی چاہیے کہنے کو تو حکومت جمہوری ہے لیکن یہ جمہوریت سیاسی بساط کی حد تک ہی ہے جہاں تک عوام تک اس کے ثمرات اور آسانیاں پہنچنے کا سوال ہے اس کا جواب نفی میں ہے حکومت کو عوام اور اہل دانش کی فہم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنی ترجیحات متعین کرنا ہوں گی اور پھر کسی بھی منصوبے کی نو عیت کے مطابق بہترین لوگوں کو ان کی تکمیل کی ذمہ داری دے دینی چاہیے ۔جو ادارے بغیر سربراہ اور نگران کے کام کر رہے ہیں ان کی طرف غور کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان پہلے ہی ذاتی مفادات کی بھینٹ بہت چڑھ چکا ہے اب ہمارے پاس غلطی کی مزید گنجائش نہیں ہم جتنا نقصان اب تک اُٹھا چکے ہیں اول تو اس کی تلافی ہونی چاہیے اور اس کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں وہ اقدامات اُٹھانے ہونگے جو ہمیں اس طرح کی رپورٹس میں کم ازکم اس حد تک توہین آمیز پوزیشن سے بچاسکے بلکہ بین الاقوامی سطح پر باعزت مقام دلاسکے۔

223
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...