قارئین کرام ! شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں نظریۂ پاکستان کے حوالے سے تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔صد افسوس کہ یوم اقبال سے چند روز قبل ہی علامہ اقبال کے مسلم لیگی اثاثے نے ہی اُن کے اپنے خانواد ے ولید اقبال پر ریاستی تشدد کی انتہا کر دی اور اُنہیں شہر کی سڑکوں پر گلے سے پکڑ کر گھسیٹے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔کیا یہ جمہوری فکر تھی یا عوام الناس کی آواز دبانے کیلئے ملکی سیاسی تاریخ میں آمرانہ فکر کی انتہا تھی؟ اگر ولید اقبال کی تحریک کو حکومت گرانے کی کوششوں سے تعبیر کرتے ہوئے اُنہیں گرفتار کرنا ہی مقصود تھا تب بھی خانواد اقبال کو گرفتار کرتے ہوئے جمہوری تہذیب و اِسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرنے میں کیا قباحت تھی جس کا بروقت نوٹس وزیراعلیٰ پنجاب کو سیاسی موشگافیوں سے بالا تر ہو کر لینا چاہیے تھا۔ بہرحال اِس اَمر کو محسوس کرنا چاہیے کہ علامہ تصورِ پاکستان کے خالق ہیں۔یہ جاننے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے کہ یہ حکیم الااُمت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہی کی ذات گرامی تھی جنہوں نے 1930 میں الہ آباد میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے مسلم قومیت کی بنیاد پر شمالی ہندوستان میں (موجودہ پاکستان) ایک علیحدہ مسلم مملکت کا تصور پیش کیا تھا۔ فکرِ اقبال کیمطابق اُس وقت بھی انتہا پسند ہندو برطانوی حکومت ہند کی خاموش حمایت سے ہندو مسلم فسادات کی آڑ میں ہندوستان میں خانہ جنگی کو ہوا دے رہے تھے جس کا تمام تر نقصان مسلمانوں کو اُٹھانا پڑ رہا تھا ۔ اُن کی تحقیق کیمطابق اگر یہ کیفیت جاری رہتی تو ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمان بھی وقت گزرنے کیساتھ ہندو شدت پسندی کا شکار ہو جاتے چنانچہ اِسی فکر کا تذکرہ اُنہوں نے لندن میں گول میز کانفرنس کے دوران بھی کیا جبکہ ہندو کانگریسی رہنما اپنے مقصد یعنی اکھنڈ بھارت کے حصول کیلئے مسلم قیادت میں گروہی سیاست اور انتشار پھیلانے کیلئے متحرک رہے ۔ چنانچہ قائداعظم محمد علی جناح نے اِس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے گول میز کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر لی اور چند برس لندن میں ہی قیام کو ترجیح دی۔ بہرحال، چند برس کے بعد لیاقت علی خان، علامہ اقبال اور دیگر مسلم زعما کی خواہش پر قائداعظم نے لندن سے واپسی اختیار کی اور بلاآخر 1937 میں جب اُنہوں نے تحریک پاکستان کی ابتدا کی تو علامہ اقبال نے بیماری کے باوجود خفیہ خطوط کے ذریعے قائداعظم سے علیحدہ مسلم مملکت کی ویژن کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری رکھا ۔ علامہ نے 21 جون 1937 کو محمد علی جناح کے نام اپنے ایک خفیہ مکتوب میں لکھا ’’اُن کے ذہن کیمطابق برطانوی حکومت ہند کی جانب سے نئے آئین میں متحدہ ہندوستان فیڈریشن (اکھنڈ بھارت) کی تجویز مسلمانوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوگی کیونکہ اُن کی رائے کیمطابق مسلمانوں کی ایک علیحدہ فیڈریشن ہی وہ واحد طریقہ کار ہے جس کے ذریعے پُرامن ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے شکنجے سے بچایا جا سکتا ہے‘‘۔ جناح کے نام اپنے ایک اور خفیہ خط میں علامہ نے اِس اَمر پر زور دیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی غربت کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے شریعت اِسلامی کا نفاذ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت میں ہی ممکن ہے۔ قائداعظم نے علامہ اقبال کی جانب سے لکھے گئے اِن 13 خفیہ خطوط جو مئی 1936 سے نومبر 1937 کے درمیان لکھے گئے تھے اور جو علامہ کی وفات کے چند برس بعد 1943 میں ’’جناح کے نام اقبال کے خطوط‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچے کی شکل میں شائع کئے گئے کے پیش لفظ میں لکھا ’’میرے خیال میں یہ خطوط زبردست تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ، خاص طور پر وہ خطوط جن میں اقبال کے خیالات واضح طور پر مسلم انڈیا کے سیاسی مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ اُن کے خیالات دراصل میرے اپنے خیالات کی تائید کرتے ہیں جن نتائج کو میں نے ہندوستان میں درپیش آئینی مسائل کی برسوں کی تحقیق اور مطالعے کے بعد حاصل کیا‘‘۔
درج بالا تناظر میں قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی قائداعظم نے وطنِ عزیز کو مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے 14 اگست 1947 میں ہی فرما دیا تھا کہ اچھی اور بُری چیزوں کی طرح خیانت منصبی اور اقربا نوازی کی لعنتیں بھی ہمارے حصے میں آئی ہیں ، ہمیں اِن بُرائیوں کو بے دردی سے کچل دینا ہوگا۔24 اکتوبر 1947 میں عید الضحیٰ کے موقع پر اُنہوں نے کہا تھا کہ آئیے عیدالضحیٰ کے دن جو اسلامی جذبۂ ایثار اور قربانی کا مظہر ہے جس کی اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے یہ عہد کریں کہ ہم اپنے تصورات کیمطابق نئی مملکت (پاکستان) کی تعمیر میں بڑی سے بڑی قربانی دینے اور آزمائشوں و مشکلات کا مقابلہ کرنے سے دریغ نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنی ساری قوتیں اور تمام وسائل اِسی مقصد کے حصول پر صرف کریں گے۔ کیا اعلیٰ منصبوں پر فائزہمارے سیاسی رہنما بل خصوص پاکستان کی خالق سیاسی جماعت مسلم لیگ کے قائدین بانیِ پاکستان کی ہدایات اور تعلیمات پر عمل درامد کر رہے ہیں ؟ بظاہر ایسا نہیں ہے کیونکہ اصلاح احوال کے بجائے خیانت منصبی ، کرپشن اور اقربا پروری ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن کر رہ گئی ہے ۔ صد افسوس کہ پانامہ پیپرز لیکس میں پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی فیملی کا ملوث ہونا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ نوز شریف فیملی کا خلافِ ضابطہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کے قانونی پہلوؤں پر عدالت عظمیٰ میں جاری مقدمات کے باعث کسی رائے زنی میں جائے بغیر یہ اَمر حیران کن ہے کہ بانی پاکستان کی فکر و نظر سے ہٹ کر میاں نواز شریف فیملی نے اپنی دولت( جس کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں ہونا ہے) کی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے کے بجائے پاکستانی عوام سے چھپا کر آف شور کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ میں کرنے پر کیوں ترجیح دی ہے جبکہ پاکستان معاشی طور پر ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور حکومت وقت نے اپنے اللّوں تللّوں کو کم کرنے کے بجائے عوام الناس پر غیر ملکی قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیا ہے کیا ہمارے سیاسی رہنما یہ نہیں جانتے کہ مشکل وقت میں سیاسی قیادت ہی اپنی ذاتی قربانیوں اور وسائل کے حوالے سے پاکستان کی بہبود کیلئے عوام کے سامنے ذاتی مثال قائم کرنے کیلئے تن من دھن لٹانے سے دریغ نہیں کرتی ہے۔ کیا یہ حقیقت حکمرانوں کی نظر سے اوجھل ہے کہ مشکل وقت میں بھی پاکستان پر جان و مال قربان کرنے والے بیرون ملک پاکستانی تو کثیر تعداد میں زر مبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں جبکہ صد افسوس ہمارے بیشتر نام نہاد سیاسی رہنما قومی وسائل سے حاصل کردہ جائز و ناجائز رقومات کی سرمایہ کاری یورپ، برطانیہ ، نارتھ امریکہ ،ملائشیا، سنگاپور، بنگلہ دیش ، دبئی اور خلیج کے ممالک میں کرنے میں مصروف ہیں۔
معزز قارئین ، قوم و ملک کی اِس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے قائدین جب منصب اقتدار سے علیحدہ ہوتے ہیں تو اپنی جائز یا ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کا حساب عوام کو دینے اورکرپشن کے مقدمات کا سامنا کرنے کے بجائے ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری جب عہدہ صدارت سے فارغ ہوئے تو کرپشن کے مقدمات سے استثنیٰ ختم ہونے پر مقدمات کی سماعت سے بچنے کیلئے ملک سے باہر چلے گئے۔ منصب صدارت پر فائز ہونے سے قبل بھی اُنہوں نے ملک سے باہر رہتے ہوئے سوئس کورٹ میں کرپشن کے مقدمات میں پیش ہونے سے گریز کیا اور منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد سوئس عدالتوں سے اِستثنیٰ حاصل کرکے برطانیہ میں پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن کے ذریعے مقدمہ کے اصل کاغذات ہی غائب کرانے میں کامیاب ہوئے۔حیرت کہ ہماری سیاسی قیادت قول و فعل اور اخلاقی قدروں کے فقدان کی شکار ہے لیکن آئین میں اسلامی دفعات کی موجودگی کے باجود سزا و جزا کے عمل سے بچ نکلتی ہیں ۔ آصف زرداری برطانوی کورٹ میں سرے محل کی ملکیت سے متعدد بار انکارکرتے رہے لیکن جب کورٹ سرے محل کی نیلامی اور حاصل کردہ رقم حکومت پاکستان کو دینے کے فیصلے پر پہنچنے والی تھی تو زرداری صاحب نے سرے محل کی ملکیت تسلیم کرلی۔ اِسی طرح رحمن ملک محض اِس بنیاد پر کہ عدالت نے اُن کی غیرموجودگی میں یکطرفہ فیصلہ اُن کے خلاف دیا تھا مقدمہ کو دوبارہ چلائے جانے کے بجائے مقدمہ سے بری کر دئیے گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کے سمدھی اور موجودہ وزیر خزانہ اِسحاق ڈار صدر مشرف کے دور میں میاں نواز شریف کے خلاف منی لانڈرننگ کے حوالے سے بیان حلفی اور دفعہ 164 کے تحت عدالت میں بیان دینے کے باوجود آجکل یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ بیان اُن سے زبردستی لیا گیا تھا۔ یہی انداز میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے صاحبزادے کے بی بی سی پر انٹرویو میں جھلکتا نظر آتا ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ لندن کے پوش فلیٹ کے کرایہ دار ہیں اور جب وزیراعظم کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز میڈیا پر یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ وہ اپنے والد کی زیر کفالت ہیں اور اُنکی ملک میں یا ملک سے باہر کوئی جائیداد نہیں ہے لیکن پھر جب پانامہ کیس عدالت عظمیٰ کے سامنے آتا ہے تو اِن بیانات کا تمام تر منظر نامہ ہی بدل جاتا ہے۔ اندریں حالات ، جو کچھ مرحوم شورش کاشمیری نے اپنی کتاب فیضانِ اقبال میں علامہ اقبال کے خطبۂ الہ آباد کے حوالے سے اسلامی ریاست کے نصب العین کے بارے میں لکھا ہے وہ یقیناًپاکستانی عوام الناس کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے’’ریاست اِسلامی کا انحصار ایک اخلاقی نصب العین پرہے جس کا عقیدہ ہے کہ انسان شجر و حجر کی طرح خاص زمین سے وابستہ نہیں بلکہ ایک روحانی ہستی ہے جو بطور انسان ایک اجتمائی ترکیب میں حصہ دار اور اِس کے ایک زندہ جزو کی حیثیت چند فرائض اور حقوق کا مالک ہے ‘‘۔ سوال یہی ہے کہ کیا ہماری سیاسی قیادت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے نصب العین کی قائل ہے یا مادر پدر آزاد ہو چکی ہے ۔

349
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...