پا کستان صرف طالبان کی دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ یہاں دیگر کئی اقسام کی دہشت گردی ہو رہی ہے اور ان میں سب سے بڑی دہشت گردی بلکہ عفریت کرپشن یعنی بدعنوانی ہے جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہ بدعنوانی کسی ایک سطح پر نہیں نیچے سے اوپر تک ہے مزدور سے کارخانہ دار تک اور اہلکار سے سرکار تک سب اس حمام میں ننگے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکا جو اسے ستر سال میں کر لینی چاہیے تھیں۔ ہم آج بھی زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور اکثر اس میں بھی ناکام رہتے ہیں اور اس ناکامی کی وجہ وہ کرپشن ہے جس میں ہر ایک ملک سے زیادہ ذات کی ترقی کی کوشش میں مصروف رہتا ہے اور خود کے لیے تو اونچے محلات تعمیر ہو جاتے ہیں لیکن ملک کے لیے بنایا گیا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا اور پہنچ بھی جائے تو اُس میں اتنا روپیہ اور وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے کہ عرصہ دراز تک اپنی قیمت پوری نہیں کر پاتا منافع کیا دے گا۔ پانی اور پانی کے ذخائر پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں ہمیں بار بارمتنبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پانی کی شدید کمی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے لیکن ہم پانی کے ذخائرنہیں بناتے، ہم اکثر اوقات بلکہ تقریباََ ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں لیکن ڈیم نہیں بناتے، توانائی کے شدید ترین بحران نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے ہماری صنعت اور کارخانے بھی بری طرح اس سے متاثر ہیں اور یوں ہماری معیشت بھی اسی کے ہاتھوں تباہ حال ہے لیکن ہم اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ۔ پچھلے دو سال سے چترال شدید ترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے املاک اور انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو پانی کی جو نعمت عطا کی ہے اگر اسے اس علاقے کے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے ان کی زندگی میں بہت بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ ہماری ایک خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں منصوبہ ساز بہت اچھے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے درکار خلوص ناپید ہے ایسا ہی ایک اچھا منصوبہ چترال میں گولن گول پن بجلی کا منصوبہ ہے جو دریائے مستوج کے معاون گولن گول دریا کے بہاؤ پربنایا گیا ہے جو 108 میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔ 2011 میں شروع ہونے والے اس منصوبے نے جنوری 2015 میں مکمل ہونا تھا لیکن تا حال اس کی تکمیل کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے بلکہ ابھی تو پچاس فیصد کام بھی نہیں ہو سکا ہے۔ یہ منصوبہ کم لاگت منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا تھا اور اس پر لاگت کا تخمینہ 7.035 بلین روپیہ لگایا گیا تھا اس کے لیے سعودی عرب اور کویت کا تعاون حاصل کیا گیا تھا ۔اس منصوبے کی تکمیل واپڈا کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں بھی ہماری روایتی بد دیانتی اور بد عنوانی آڑے آئی اور اس کی تکمیل کی مدت اور تخمینہ کئی گنا بڑ ھ گئے اور اب یہ پراجیکٹ 2018 میں 28 بلین روپیہ میں مکمل ہوگا اس پر کام کی رفتار اس قدر سست رکھی گئی کہ بہت سارا وقت ضائع ہو چکا ہے ۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی اور اس کے مینجر کے بارے میں باور کیا جا رہا ہے کہ وہ وہ مہارت رکھتے ہی نہیں کہ وہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں نہ ہی اس کی شریکِ کارپاکستانی کمپنی اور اس کا مالک جو خود واپڈاکا ہی ایک ریٹائرڈ ملازم ہے یہ قا بلیت رکھتا ہے اس منصوبے کا ڈیزائن بھی معیاری اور درست نہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اب تک اسے مکمل نہیں کیا جا سکا ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اب تک کام کا جائزہ اس نظریے سے نہیں لیا گیا کہ تاخیر کی وجہ معلوم ہو سکے اور اگر لیا گیا تو واپڈا نے اپنے پرانے افسر کو ناراض کرنے کی بجائے قومی نقصان کو بڑے تحمل سے برداشت کیا اور اب بھی کر رہا ہے ۔تکمیل کی متوقع تاریخ گزرنے کے ڈیڑھ سال بعد واپڈا کے چیرمین کو موقع میسر آیا اور انہوں نے منصوبے کا معائنہ کیا اور کام تیز کرنے پر زور دیا وزیراعظم نے بھی منصوبے پر کام تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایات دیں یعنی حسب معمول قومی خزانے کو غیر معمولی نقصان پہنچانے کے بعد حکام کو خیال آیا۔ سوال یہ ہے کہ اب جب کہا جا رہا ہے کہ پراجیکٹ نا اہل لوگوں کو دیا گیا تو اس وقت کیوں یہ نہیں سوچا گیا آخر اس سے کس مفادات وابستہ تھے اور کن لوگوں نے منصوبے کی تکمیل کی تاخیر میں اہم کردار ادا کیا ۔غیر ملکی پراجیکٹ منیجر مسٹر جارج جو پچاس لاکھ سے بھی زائد تنخواہ وصول کر رہے ہیں وہ اتنے منظور نظر کیوں ہیں جب کہ ان اہلیت اور کوالیفیکشن دونوں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ان کے علاوہ پاکستانی ذمہ داروں کو بھی پوچھا جانا چاہیے اب یہ لوگ مزید سرمایے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ انہیں تو جرمانہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے اور اس منصوبے کی قیمت میں 38 فیصد کا غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ گولن گول کوئی ایک منصوبہ نہیں جس میں بد عنوانی ، تاخیر یا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہو پاکستان میں ماضی اور حال میں ایسے کئی منصوبے یا تو ختم ہو گئے یا خرائی بسیار کے بعد مکمل ہوئے اور اپنی افادیت کھو بیٹھے ۔ گولن گول اب بھی تکمیل سے بہت دور نظر آرہا ہے اس سے جو ٹرانسمشن لائن چترال اور دیر کے اضلاع تک بچھائی جانی ہے اس میں اب تک 15% کام بھی نہیں ہوا ہے۔ اب تک تو جتنی خرابی اور تاخیر ہونی تھی ہو چکی لیکن اب تمام ذمہ داران کی سختی سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے انہیں مجبور کیا جانا چاہیے۔ لاہور، کراچی، پنڈی یا پشاور میں بننے والے منصوبوں میں تیزی دکھا کر اور تشہیر کرکے شہرت اور ووٹ لینا تو آسان ہے ملک کے ان دور دراز علاقوں کو توجہ دینا ہی دراصل ملکی ترقی ہے۔ چترال جہاں قدرت نے زندگی کو انتہائی مشکل رکھا ہوا ہے لیکن اسے آسان بنانے کے سامان خود اس علاقے میں بنائے ہیں ان پر توجہ دینا اور فائدہ حاصل کرنا ضروری ہے اور ان ذرائع اور قومی دولت کو ضائع کرنے والوں کا محاسبہ بھی ضرور ہونا چاہیے ۔ گولن گول ہو یا کوئی اور منصوبہ، چترال ہو یا کوئی اور شہر اور علاقہ اس کو اتنی ہی اہمیت ملنی چاہیے جتنی ملک کے بڑے شہروں کو دی جاتی ہے۔ بدعنوانی، کرپشن اور قومی دولت اور خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی شخص یا ادارے کو قانون سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے اگر حکومت چند ایسے لوگوں کو سزا دے اور نشان عبرت بنا دے تو شاید کئی دوسرے سدھر جائیں اور اپنے منفی کردار سے ملک کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں۔

413
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...