پاکستان کے صوبہ سندھ میں کچھ ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کر کے مسلمان مردوں سے شادیاں کیں تو بھارت نے تو طوفان اٹھا یا ہی عالمی سطح پر بھی اس پر اعتراضات کیے گیے اور خود پاکستان کے اندر ہمارے انسانی حقوق کی علمبرداری کے مرض میں مبتلا کچھ افراد اور کچھ تنظیمیں بھی عالمی شہرت اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ اگرچہ ان لڑکیوں نے خود بھی اِس بات کا اقرار کیا کہ ان پر کوئی زبردستی نہیں کی گئی لیکن اس مسئلے کو جتنا اچھالا جا سکتا تھا اچھالا گیا جب کہ دوسری طرف بھارت میں خاص کر مودی حکومت کے آنے کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کا عمل جاری ہے اور حال ہی میں 57 مسلمان خاندانوں کے 200 افراد کو ہندو بنانے کی کوشش کی گئی یا ہندو بنایا گیا۔ ان غریب لوگوں کو راشن کارڈ فراہم کرنے کے بہانے جمع کیا گیا اس سارے عمل کو کرنے کے لیے پُر کھوں کی واپسی کے نام سے تقریب کا اہتمام کیا گیا یعنی یہ سب کچھ دیدہ دلیری سے کیا گیا ۔ بھارت میں ایسے واقعات عام ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنایا جائے اور اس سال دسمبر ہی کے مہینے میں آگرہ کی ایک انتہائی غریب کچی آبادی کے 57 مسلمان خاندانوں کے 200 افراد کو جس طرح جھا نسا دے کر اور زبردستی ہندو بنایا گیا یا بنانے کی کوشش کی گئی اور کہا یہ گیا کہ ان کے آباواجداد چونکہ ہندو تھے اس لیے یہ انکی گھر واپسی ہے اور اس تبدیلی مذہب کے بدلے ان کو راشن کارڈ اور کچھ اور سہولتیں دی گئیں۔بقول بی جے پی، دھرماجگرن سمانو یا وبھاگ اور بجرنگ دل جیسی شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے اب انہیں بھارت میں رہنے کا حق حاصل ہو گیا ہے کیوں کہ ان تنظیموں کا ایک ہی مشن ہے کہ بھارت کو یک مذہبی ملک بنایا جائے یعنی ہندو ملک۔ بھارت اب بھی ہندو ملک ہے دوسرے مذاہب کی اکثریت وہاں کچی آبادیوں میں ’’سلم ڈاگز‘‘ جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ بڑے شہروں میں پوش علاقوں میں رہتے ہوئے بھی ان کے گھر اور جانیں محفوظ نہیں ہیں جب ہندو ذہنیت کو جوش آتا ہے وہ ان کے گھر اور مسجدیں ڈھا دیتے ہیں ۔ بابری مسجد کی شہادت کو اب بھی یہ اپنا کارنامہ سمجھتے ہیں اور ایسا سمجھنے والوں میں نریندرمودی سر فہرست ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کی برسی کی خوشی میں بجرنگ دل نے اس بار بھی مشعل بردار جلوس نکالا لیکن یہ تنظیم ’’کالعدم‘‘ قرار نہیں پائی۔ آگرہ میں حال ہی میں نشانہ بننے والے یہ غریب خاندان بنگالی ہیں جو بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے یہاں آئے اور گذشتہ سترہ سال سے انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اگرچہ ان میں سے نور محمد اور اسماعیل صدیق نامی شخص نے کہا ہے کہ وہ اب بھی مسلمان ہیں اوررہیں گے نور محمد نے کہا کہ انہیں اس بات کی خبر ہی نہیں تھی کہ انہیں اس تقریب میں اس مقصد سے لایا گیا ہے ۔ ایک مسلمان عالم نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ہندو ہونے والے خاندان مسلمان ہی نہیں تھے اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو خاندان ہی تھے ۔ کیونکہ ایک مسلمان اتنی آسانی سے اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا بہر حال جو بھی تھا یا ہے بھارت کے سیکولر ہونے کا پول ایک بار پھر کھل گیا ہے لیکن عاصمہ جہانگیر، ماروی سرمد، امتیاز عالم اور اس قبیلے کے دیگر پاکستانی ’’علمبردارانِ انسانی حقوق‘‘ جو پاکستان میں کسی ہندو کے مسلمان ہونے پر چیخ اٹھتے ہیں آج چپ ہیں ۔ کیونکہ یہ سب بھارت میں ہوا اور بھارت سے ان کے مفادات اور ان کی شہرت وابستہ ہے۔ بھارت میں یہ سلوک صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ دوسرے مذاہب بھی ا س کا شکار ہیں اور عیسائی برادری بھی اکثر نشانے پر رہتی ہے۔ صرف تین ماہ قبل اس سال ستمبر میں علی گڑھ میں عیسائی خاندانوں کو ہندو بنایا گیا اور توجیہہ دی گئی کہ عیسائی پادری بھی گھر گھر جا کر بائبل اور مسیحی مواد تقسیم کرتے ہیں اور ایسا غیر ملکی امداد سے کیا جاتا ہے، اس سے مجھے بھی انکار نہیں کیو ں کہ ایسے مشن پاکستان سمیت دنیا بھر میں کام کرتے ہیں لیکن یوں خاندانوں کو جمع کرکے زبردستی تبدیلی مذہب کروانا کسی بھی طرح جائز نہیں، لیکن بھارت میں ایسا ہو رہا ہے اور ببانگ دہل ہو رہا ہے اور باوجود اس کے کسی بین الاقوامی تنظیم نے بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار نہیں دیا جبکہ راشٹریہ سیوک سنگھ کے راجیشوار سنگھ نے کھل کرکہا ہے کہ اس بار کرسمس پر پانچ ہزار سے زیادہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’’واپس‘‘ ہندو بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں مہا شیواری کالج علی گڑھ میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا تقریب کی صدارت کا بھی اعلان کیا گیا ہے جو یوگی اڈیا ناتھ کرے گا اس نے یہ بھی بتایا کہ ٓار ایس ایس ہر ماہ اس مقصد پر پچاس لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے اور 2003 سے اب تک آگرہ ، فتح پور سکری، ایتاھ، میرٹھ اور چند دوسرے شہروں میں دو لاکھ تہتر ہزارمسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنایا جا چکا ہے۔ یہ صرف چند واقعات اور منصوبہ بندیا ں ہیں جو میں نے بیان کیے ہیں ورنہ ایسے کئی منصوبے بھارتی تنظیمیں بھارت سرکار کی مدد سے بنا اور چلا رہی ہیں اور ڈھنڈورا اپنے سیکولر ہونے کا پیٹا جاتا ہے ۔ یہاں بڑے پیمانے پر مذہبی دہشت گردی ہورہی ہے لیکن عالمی طاقتیں اور تنظیمیں خاموش ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں سے ذاتی دشمنی کی بنا پر ہونے والے کسی واقعے کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر اسے اقلیتوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ یہاں ہونے والے کسی ایسے واقعے کو حکومتی اور سیاسی سر پرستی حاصل نہیں ہوتی جبکہ دوسری طرف بھارت میں ایسا حکومتی سرپرستی میں کیا جاتا ہے لیکن مغرب جو سوڈان میں دس فیصد عیسائی آبادی کے لیے الگ ملک بناتا ہے کیونکہ سوڈان ایک غریب مسلمان ملک ہے بھارت میں اپنے مذہب سے ہونے والے سلوک پر چپ ہے کیونکہ یہاں مسلمان بھی ان کے ساتھ شامل ہیں اور وہ بھارت کو ناراض کر کے نہ تو پاکستان کے خلاف ایک مضبوط حریف کھونا چاہتا ہے اور نہ ہی ایک ارب سے زیادہ آبادی کی ایک بڑی منڈی۔ یہاں ایک شکایت مسلمان ملکوں سے بھی ہے خاص کر عرب ممالک اور ایران سے جو اکثر اوقات بھارت کو پاکستان پر فوقیت دے دیتے ہیں کہ وہ اس تمام صورتحال کا نوٹس نہیں لے رہے، اگر یہ ممالک صرف مسلک اور فقہ کی بنیاد پر مسلم دنیا بشمول پاکستان میں مسائل کھڑے کر سکتے ہیں تو بھارت میں مذہب کے نا م پر بھی خاموش کیوں ہیں۔ ہم مغرب کے رویے پر شکایت یا گلہ ضرور کر سکتے ہیں انہیں اسلام کی حمایت پر مجبور نہیں کر سکتے لیکن ہماری حمیت ملی اور غیرت دینی کہاں گئی کیا مسلمان حکمران ایک عام مسلمان کی مدد کر سکیں گے جو اس تلاش گمشدہ میں نکلا ہوا ہے کہ کہیں سے وہ اُس اسلام کو ڈھونڈھ لائیں جو محمدﷺ عربی کا اسلام تھا اور جب کسی مسلمان کی تکلیف پر پورا عالم اسلام بلبلا اٹھتا تھا۔ بھارت کا مسلمان اگر تکلیف میں ہے بلکہ اس کا ایمان خطرے میں ہے تو پورے عرب و عجم کی ذمہ داری ہے کہ اس کی مدد کرے لیکن پہلے اپنے ذاتی اختلافات تو مٹا دیں اگر مٹانہیں سکتے تو بھلا ہی دیں تاکہ اپنے رب اور رسولﷺ کے آگے شرمساری میں کچھ تو کمی ہو۔

1,126
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...