عید آئی اور گزر گئی ۔عید مسلمانوں کے لیے رمضان کے روزے رکھنے کا انعا م ہے ،رب اللعالمین کا تحفہ ہے کہ اُس کے بندے نے صرف اُس کے حکم پر اپنا کھانا پینا اور نفسانی خواہشات ترک کیں، صرف اس کی طرف سے مقرر کردہ اوقات میں کھانے کی اجازت پر قانع رہا اور شکر اور صبر کرتا رہا۔ بلاشبہ کہ اس سخت عبادت کے بعد مسلمان انعام کا حقدار ہے اور اسی لیے اُسے خوشی کا یہ دن عطا کیا گیا لیکن اس عید رونے کو دل کرتا رہا فلسطین کے زخموں پر بھی ، اپنے ملک کے حالات پر بھی لیکن اپنے مذہبی اقدار کی بے حرمتی پر بھی اپنی ثقافت کی موت پر بھی اور اپنی معاشرتی روایات کے قتل پر بھی ۔ ابن انشاء نے تو کہیں پر بھی دیوار گر یہ بنانے کی دہائی دی تھی لیکن میرا دل کرتا رہا کہ ایک دیوار گریہ بنائیں یہیں اپنے ملک میں اپنے ہی کسی شہر میں اسلام آباد ، کراچی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ کہیں بھی ۔ تاکہ اُس سے لپٹ کر اپنی اقدار، روایات، رسوم و رواج سب کو یک بار روؤں شاید کوئی اور بھی آکر میرے ساتھ شامل ہو جائے اور ہم اپنے اشکوں سے قوم کے گناہوں کو دھولیں اور پھر ہمارے اوپر سے عذاب الٰہی بھی اٹھ جائے۔ میں قاہرہ کی شینہ کلبوں میں رقص کرتی حسینا ؤں اور کوئے بیروت و بصرہ کی بے آستینوں کا ماتم کیا کروں میں تو اپنے دیس کی حسیناؤں اور شہ زور مردوں کو بانہوں میں با نہیں ڈال کر سرعام ٹیلی وژن پر رقص کرتے بھی دیکھتی رہی اور ضبط کرتی رہی اور اسلامیات کی کسی درسی کتاب میں لکھے اُس جملے کا ماتم کرتی رہی جس میں لکھا تھا کہ اسلام نے اپنے خوشی کے مواقع یعنی عیدیں پر بھی مسلمان کو یاد الٰہی سے غافل ہونے کی اجازت نہیں دی جہاں اور مذاہب کے لوگ اپنے مذہبی تہواروں پر غل غپاڑہ کرتے ہیں وہاں مسلمان عید کی نماز پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں سے جھوٹ بولتے ہیں یا سچ مچ ایسا ہے۔ اگر ہم دل سے سمجھتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ حیا نصف ایمان ہے اور بے حیائی اور عریانیت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں تو پھر کیوں وہ کچھ ہمارے اُس میڈیا پر ہوتا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ معاشرے کا رخ بدلتا ہے اور اس کے خدوخال مرتب کرتا ہے۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ عید کے پروگراموں کو کس جدیدیت کی نظر کیا جا رہا ہے، ہمارا مذہب ہماری روایت تو چاند دیکھ کر چوڑی مہندی لگانا ہے عید والے دن خوبصورت نیا لباس پہن کر عید کی نماز پڑھنا ہے، ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دینا ہے مسجدوں میں بھی اور ایک دوسرے کے گھر جا کر بھی ، چھوٹے بڑوں کو مبارکباد دیں اور بڑے چھوٹوں کو عیدی، رقص کی محفلوں کا تو کہیں ذکر ہے نہ گنجائش لیکن عید کے تین دن ہمارا ہر چینل بہانے بہانے ناچتا رہا۔ بے تکے سوالات پوچھے جاتے رہے اور جیتنے پر ہو جائے بھنگڑا کہہ کر ناچ کے سیشن چلتے رہے۔بے شک کہ آج کی تجارتی دنیا میں تجارت کے اصول ہوتے ہونگے لیکن یوں مذہب کو بیچ کر کونسی دنیا آباد کی جا رہی ہے اور پھر کون سی برکت کی اُمید رکھی جا رہی ہے۔ جو قومیں اپنے رب کی بتائی ہوئی حدوں کو تو ڑتی ہیں ظاہر ہے اللہ بھی اُنہیں اپنی بد ترین آزمائشوں سے آزما تا ہے، تو کہیں ہم انہی آزمائشوں میں سے تو نہیں گزر رہے جن سے نافرمان قومیں اور اُمتیں گزرتی ہیں کیا ہم بھی اس تسلی میں ہیں کہ ہم دیوار گریہ پر رو کر یا گنگا میں نہا کر گناہوں سے پاک ہو جائیں گے اور اسی لیے ہم غمی خوشی میں مذہب سے آزاد اور تہذیب سے عاری ہو جاتے ہیں۔ لباس پر تو ہم کب کا سمجھوتہ کر چکے، اس کے بعد گفتگو کی باری آئی اب ڈراموں میں ایسے ایسے جملے بولے جاتے ہیں جنہیں سن کر کوئی بھی غیرت مند انسان اپنی اولاد تو کیا کسی دوسرے کے سامنے بھی نظر نہیں اٹھا سکتا اور جملوں کے بعد حرکات بھی کھول دی گئیں اور اس عید تو لگا کہ قوم کی قوم معاذاللہ اُس بازار سے تعلق رکھتی ہے جو معاشرے کے وجود پر ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے ۔ہر ایک دوسرے پر الزام دھرتا ہے لیکن اپنے گریبان میں کوئی جھانک کر دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا۔ اس وقت ہر چینل بے باکی میں دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ روشن خیالی کا اعزاز حاصل کرسکے۔ مختلف اینکرز اس بے باکی پر پروگرام بھی کر رہے ہیں لیکن اپنے چینل کو کوئی روکنے کی کوشش نہیں کر رہا ۔ مبشر لقمان کب اے آر وائی کے پروگراموں پر تنقید کرتے ہیں جن میں ناچتے ناچتے عید منائی گئی انتظار رہے گا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ عید پر مصلیٰ بچھا کر صرف عبادت کی جائے لیکن کم از کم اپنی مذہبی روایات کو پامال تو نہ کیا جائے  ٹیلی وژن کی عید دیکھ کر بس ایک کمی محسوس ہوئی کہ ایک دوسرے پر رنگ پھینکے جاتے یا شراب کی بوتلیں توڑی جاتیں۔ ایک کولڈ ڈرنک کے اشتہار میں نوجوان بوتلیں ٹکراتے ہوئے معلوم نہیں کس تہذیب کی عکاسی کر رہے ہیں۔ موبائل فون سم اور سیٹوں کے اشتہار تو جیسے قوم کے نوجوانوں کی گمراہی کا ٹھیکہ لے کر اُسے پورا کر رہے ہیں ،اپنا منا فع بھی حاصل کر رہے ہیں اور صارفین کو مختلف پیکجز کے نام پر لوٹ بھی رہے ہیں میری حکومت سے درخواست ہے اور خاص کر وزارت اطلاعات سے کہ حکومت کی کامیابیوں کے مضحکہ خیز بیانات جاری کرنے کی بجائے اپنے کام پر توجہ دیں۔ پرویز رشید صاحب آپ عید شاپنگ کی قیمت بڑھنے کی نوید سنا رہے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ قیمتیں بڑھ گئی ہوں یا جو قوم بھوک کا علاج نہیں کر پا رہی وہ عیاشی پر تو نہیں اتر آئی اور اُس میں آپ کی وزارت کی عظیم کار کردگی کا عمل دخل تو نہیں کہیں ہر لڑکی خود کو مارننگ شو کی میزبان اور ہر لڑکا خود کو ڈرامے کا ہیرو تو نہیں سمجھ رہا ۔ بہر حال جو بھی ہے وزارت اطلاعات اپنے اختیارات کو استعمال کرے اور میڈیا کو کسی ضابطہء اخلاق کا پابند کرے یہ نہ ہو کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر قوم اپنی رہی سہی شناخت بھی کھودے اور جو نام ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا تھا پھر ہم بے نامی اور گمنامی میں چلے جائیں اور پھر اگر گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے قیامت تک رو بھی لیا جائے تو تلافی اور معافی نہ ہو۔ 

943
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...