نغمہ حبیب کے اخباری کالموں اور مضامین کا مجموعہ ’’میری زمین۔۔میرا آخری حوالہ‘‘ حال ہی میں اشاعت پذیر ہوا ہے جودراصل گذشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والی ان کی تحریروں کا انتخاب بھی ہے۔ نغمہ حبیب صاحبہ عام طور پر ایسے موضوعات اورعنوانات کے تحت اظہار خیال کرتی ہیں جن کا تعلق قومی امور اور نظریاتی و فکری مباحث سے ہوتا ہے۔ ان کو حالات حاضرہ سے بھی گہری دلچسپی ہے چنانچہ ان کی تحریروں میں یہ پہلو بھی عام طورپر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کی حب الوطنی اس اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتی ہے کہ وہ جب کسی مسئلہ کے بارے میں اظہار خیال کرتی ہیں تو اس کا حل بھی تجویز کرتی ہیں۔ اسی طرح وہ تنقید کرتے وقت توازن اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ ان کے معروضی تجزئیے بلاشبہ فکر انگیز اور قابل توجہ تصور کئے جاتے ہیں۔ یہ ذمہ دارانہ اسلوب اور انداز اگرچہ ان دنوں اخباری مضامین میں بہت کم دکھائی دیتا ہے لیکن نغمہ حبیب صاحبہ نے اس تناظر میں بھی قابل تحسین اور منفرد کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 
نغمہ حبیب کی حب الوطنی اور گہرے طرز احساس کے حوالہ سے یہ اقتباس بلاشبہ فکر انگیز قراردیا جا سکتا ہے۔ ’’چمالانگ کا سلسلہ کوہ کوہلو سے 45-40کلو میٹر شمالاً اور بارکھان سکے 35-30کلو میٹر شمال مشرق میں ضلع لورا لائی کی تحصیل ڈکی میں واقع ہے۔ 1973ء میں اس علاقے میں کوئلے کی کانیں دریافت ہوئیں۔ ان ذخائر کا پھیلاؤ x107مربع کلو میٹر ہے اور یہاں سے نکلنے والا کوئلہ اعلیٰ معیار کا ہے۔ چمالانگ کول مائنز کے ابتدائی سروے کے مطابق جو کہ 10فیصد علاقے میں ہوا کوئلے کے کم از کم 50ملین ٹن ذخائر دریافت ہوئے جبکہ اندازہ ہے کہ جیو لوجیکل سروے مکمل ہونے پر ذخائر کا حجم 500ملین ٹن تک پہنچ جائے گا۔ موجودہ دریافت شدہ ذخائر کی قیمت کا تخمینہ 200بلین روپے ہے جوکہ ذخائر تک مکمل رسائی کے بعد یقیناًبڑھے گا اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ قیمت 2000بلین روپے تک پہنچ جائے گی جبکہ اس کے علاوہ علاقے کے مری اور لونی قبائل اس سے بے شمار مالی فوائد حاصل کر سکیں گے۔ علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور خوشحالی آئے گی۔
جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ چمالانگ کے سلسلہ کوہ میں کوئلے کی دریافت 1973ء میں ہوئی۔ یہ علاقہ مری اورلونی قبائل کا ہے اور یہاں مری قبیلے کے چھبیس اور لونی قبیلے کے پچیس ذیلی قبائل آباد ہیں۔ کوئلے کی دریافت کے بعد چونکہ علاقے کی اہمیت ایک دم سے بڑھ گئی تو کانوں کی ملکیت کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سب سے پہلے سردار محمد طاہرخان لونی نے 1980ء میں زمیندار اینڈ رفیق کول کمپنیز کے نام پر لائسنس حاصل کیا اور کوئلے کا اخراج شروع ہوا لیکن یہ کام زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا کیونکہ لونی قبائل کا آپس میں ملکیت کا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا آنے والے سالوں میں مری قبائل نے بھی علاقے کی ملکیت کا دعویٰ کیا ۔ یوں یہ علاقہ دوبڑے قبائل اور پھر ان کے ذیلی قبائل میں متنازعہ ہو گیا اور کوئلہ نکالنے کا کام رک گیا۔ ان ذخائر کی دریافت کے چونتیس سال میں سے صرف دو سال تک باقاعدہ کوئلہ نکالا جا سکا اور باقی کے سال قبائلی تنازعے کی نذر ہو گئے‘‘۔
نغمہ حبیب کو اس بات کا بے حد اور بجا طور پر دکھ ہے کہ وطن عزیز میں دہشت گردی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دہشت گردوں نے ہماری نئی نسل کو فکری اور نظریاتی اعتبار سے انتہا پسندی کے رجحانات کی طرف مائل کر کے ہمارے مستقبل کو ایک سوالیہ نشان میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہ بڑی دل سوزی اور دردمندی کے ساتھ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں۔ ’’اب خدا جانے ہمارے ملک کے ان نوجوانوں اورمعصوم بچوں کو کون دین، مذہب، خدا اور جہاد کے نام پر خودکشی پر آمادہ کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بہت بڑے علماء اور دین اور مذہب کے ٹھیکیدار سمجھنے والے کیا۔ اسلام کی تمام تعلیمات سے بے خبر ہیں اگر ایسا ہے تو انہیں دیندار بننے سے پہلے اسلام کا مطالعہ ضرور کر لینا چاہیے اور اگر وہ یہ سب جانتے ہیں تو وہ تہرا گناہ کما رہے ہیں۔ ایک، اپنے لوگوں کو دین سے گمراہ کرنے کا اور دوسرا دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کا اور تیسرا خودکشی اور قتل کا اور یوں وہ اسلام کو وہ ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں جو شاید غیر مسلم بھی نہ پہنچا سکیں۔ اگرچہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ یہ سب کچھ کروانے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ان کے آلۂ کار بننے والے خود کو مسلمان بلکہ مردان مومن کہتے ہیں اور اپنے ہر فعل کو عین اسلام سمجھتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں‘‘۔ 
یہ امر کسی تشریح اور تفصیل کا محتاج نہیں ہے کہ طالبان نے اپنے انتہا پسندانہ خیالات اور نظریات سے ہمارے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کی نظریاتی اور عسکری یلغار سے عوام کی ایک بڑی تعداد اور خاص طور پر خواتین بجا طور پر خوف و ہراس کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ موضوع بدقسمتی سے میڈیا اور اہل قلم کی توجہ حاصل نہیں کر سکا لیکن نغمہ حبیب صاحبہ نے اس باب میں بھی اپنی ذمہ داری اور فرض کو نہایت قرینہ اور سلیقہ سے ادا کیا ہے۔ اس حوالہ سے وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں ۔ ’’لگتا ایسا ہے کہ طالبان کا اسلام صرف عورت پر پابندی کے لئے ہے اور یا صرف سزاؤں کے لئے۔ دراصل یہ طالبان لوگ اسلام کا نام لے کر اقتدار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ امریکی ، بھارتی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر ان قوتوں کی مداخلت بھی ثابت ہوچکی ہے اور یہ بھی کہ یہ ساری قوتیں پیسہ پانی کی طرح بہا رہی ہیں۔ دکھ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ کس طرح یہ لوگ ان کے ارادوں کی تکمیل کر رہے ہیں اور ملک اور سب سے بڑھ کر مذہب کی تضحیک اور سبکی کا باعث بن رہے ہیں‘‘۔
نغمہ حبیب کے مضامین اور کالموں کا مجموعی رنگ اور مزاج بلاشبہ حب الوطنی اور ذمہ داری سے ہم آہنگ ہے۔ ان کی تحریر میں کوئی ایسا پہلو دکھائی نہیں دیتا جس سے خودنمائی ، ستائش باہمی یا جانبداری کا احساس اجاگر ہو۔ یہ روش اور انداز اب عام مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بیشتر اخباری کالم نگار اپنی ذات کو نمایاں کرنے یا تعلقات عامہ کی بیساکھی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کو یقینی بنانے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی ایک پر تو ’’درباری‘‘ ہونے کا گمان بھی غالب دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں نغمہ حبیب نے کھری اور سچی بات کہنے کا جو انداز اختیار کر رکھا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے کا جو اسلوب وضع کیا ہے وہ بلاشبہ قابل تحسین ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ 
بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ نغمہ حبیب کی کتاب ’’میری زمین۔۔میرا آخری حوالہ ‘‘ نہ صرف نئی نسل کے لئے ذہنی اور فکری سطح پر راہنمائی اور مہمیز کا کام دے گی بلکہ یہ اس حقیقت کا ثبوت بھی تسلیم کی جائے گی کہ مادہ پرستی اور چشم پوشی کے اس دور میں بھی ایسے اہل قلم موجود ہیں جو کسی صلہ اور ستائش کی پرواہ کئے بغیر قوم کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کر رہے ہیں اور جو عملی طور پر اپنے قلم سے جہاد میں مصروف ہیں۔ یوں تو ہر پاکستانی کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے لیکن میرے خیال میں اگر ہمارے ارکان پارلیمنٹ، سیاستدان، تاجر، سرکاری ملازمین اور میڈیا کے احباب بھی اس کا مطالعہ کر سکیں تو وہ یقینی طور پر یہ محسوس کریں گے کہ ان کے دل و دماغ میں وسعت اور کشادگی آ گئی ہے۔ 

1,260
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...