وطن عزیز کے صحافتی ، سیاسی اور سماجی حلقوں میں اتوار کے روز اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب کراچی سے یہ خبر آئی کہ وہاں پر معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں وہ زخمی ہوگئے اور ان کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ اتفاقیہ طور پر اسی روز سابق صدر اور سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) پرویز مشرف بھی کراچی ہی میں موجود تھے جس کے سبب اس واقعہ کی اہمیت میں بڑی حد تک اضافہ ہو گیا۔ حامد میر کے بھائی نے اس واقعہ کی ذمہ داری ایک اہم عسکری اور حساس ادارے یعنی آئی ایس آئی پر عائد کرنا مناسب تصور کیا۔زبان و بیان کے اعتبار سے ان کا یہ بیان انتہائی جذباتی اور جانبدارانہ تھا ۔ اس واقعہ کے رونما ہونے کے فوراً بعد اس کی خبر کم و بیش ہر ٹی وی چینل پر نشر ہونا شروع ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی پڑوسی ملک کے نشریاتی ادارے بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے کیونکہ ان کو آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کا ایک سنہری موقع ہاتھ آ گیا تھا ۔ 
اس بارے تو کوئی کلام اور بحث کی گنجائش نہیں ہے کہ حامد میر پر ہونے والی فائرنگ قابل مذمت ہے اور انسانی سطح پر موصوف ہر اہل دل کی اس دعا کے مستحق ہیں کہ رب العزت ان کو جلد صحت یاب کرے ۔ ان کے طرز صحافت اور خیالات سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ صحافی کی حیثیت سے وہ آزادئ اظہار اور آزادی تحریر کے حق دار ہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اگر کوئی صحافی اختلاف رائے کا حق استعمال کرتا ہے تو اس کو اپنے مخالف یا مخاطب کی رائے کو بھی اپنی سماعت سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ آزادی رائے کبھی بھی یکطرفہ استحقاق سے عبارت نہیں ہوتی ۔یہ باہمی احترام اور شائستگی سے مشروط ہوتی ہے اور اس کی حدود انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ سماجی تقاضوں اور قومی مفادات سے ہم آہنگ رہتی ہیں۔ 
اس تناظر میں یہ بات نہایت عام فہم قرار دی جا سکتی ہے کہ حامد میر پر فائرنگ کا مقصد اگر ان کا قتل تھا تو یہ واقعہ مذمت کے قابل ہے اور ہر اعتبار سے یہ نہایت افسوسناک ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مساوی توجہ اور غور کے قابل ہے کہ مذکورہ واقعہ کی ذمہ داری عائد کرنے کے باب میں جس عجلت اور جانبداری کا ثبوت دیا گیا (اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ) وہ نہ صرف صحافت سے وابستہ شخصیات اور اداروں کو دعوت فکر دیتا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں عالمی برادری میں پاکستان کے اہم قومی اور عسکری اداروں کے بارے میں ایسا تاثر قائم ہوا جو بصورت دیگر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ بات کسی تفصیل کی محتاج نہیں ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ سبز ہلالی پرچم کی توقیر اور سربلندی پر اثر انداز ہوسکیں۔ بدقسمتی سے مذکورہ عناصر کو نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی ناعاقبت اندیش اور مرغ دست آموز نما ’’ماہرین اور تجزیہ کاروں ‘‘ کی مبینہ طور پر اعانت حاصل ہے ۔ اس کا مظاہرہ اس وقت عام دیکھنے میں آتا ہے جب امن کی آشا کے لئے ماہی بے آب کی طرح تڑپنے اور بے قرار رہنے والے ایک ٹی وی چینل پر ہمارے ملک کے سپورٹس سے لے کر دفاع تک کے امور بارے رائے لینے کے لئے سرحد پار رابطہ کیا جاتا ہے اور بیشتر اوقات روایتی حریف کے منفی اور گمراہ کن تاثرات کو عام کرنے کی راہ ہموار کی جاتی ہے ۔ 
ساری دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سرخیل دستہ کا کردار ادا کرنے والا پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے ۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں اب تک لاکھوں بے گناہ افراد قتل کئے جا چکے ہیں اور اربوں روپے مالیت کا کاروباری اور تجارتی نقصان ہوا ہے۔ قومی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت خوف و ہراس کے سبب نفسیاتی اعتبار سے پریشان کن صورت حال سے دوچار ہے ۔ کراچی ایسا شہر جو عروس البلاد اور غریب پرور ہونے کے ساتھ ساتھ روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا، اب ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری ، تخریب کاری، خودکش حملوں اور افراتفری کا شکار ہوکر رہ گیا ہے ۔ دہشت گردوں نے شہر قائد کا وہ منظرنامہ ہی تبدیل کردیا جو امن و آشتی ، بقائے باہمی اور ترقی و خوشحالی کی معنوی تصویر تھا۔ غیر مصدقہ مگر قابل اعتماد ذرائع کے مطابق کراچی کی آبادی پونے دو کروڑ نفوس پر مشتمل ہے ۔ یہ تعداد دنیا کے کئی ایسے ممالک کی آبادی سے زیادہ ہے جو آزاد اور خود مختار حیثیت کے حامل ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کے شہر میں فائرنگ کے کسی واقعہ کی ذمہ داری کسی ثبوت اور تفتیش کے بغیر کسی پر عائد نہیں کی جا سکتی لیکن حامد میر سے منسوب واقعہ کے حوالہ سے یہ صورت حال یکسر مختلف رہی ۔ 
محب وطن اور ذمہ دار عوام نے اس بات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا کہ حامد میر پرہونے والی فائرنگ کا الزام آئی ایس آئی پر عائد کر دیا گیا ۔ یہ ’’بریکنگ نیوز ‘‘ بھی آئی کہ خود حامد میر نے پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ موصوف کی جان کے درپے ہیں۔ اصولی طور پر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ (حامد میر)یہ خدشہ ظاہر کرتے وقت اس خدشہ کا پس منظر اور اسباب بھی بیان کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا چنانچہ بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ صحت یاب ہو کر اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات کا آغاز ہی اس انکشاف اور وضاحت کے ساتھ کریں گے کہ ان کو آئی ایس آئی یا ان کے سربراہ کی طرف سے جان کاخطرہ کیوں لاحق ہے؟۔ 
اس واقعہ کے اثرات اور مضمرات کا ایک نہایت فکر انگیز پہلو یوں اجاگر ہوا کہ حامد میر پر فائرنگ کے واقعہ کی ذمہ داری آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ پر عائد کرنے کا تذکرہ یوں تو ہر ٹی وی چینل پر رہا لیکن اس سلسلہ میں اس ٹی وی چینل نے اس خبر پر شور و غل مچا کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس شور و غل سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آئی ایس آئی کا کام صرف اور صرف حامد میر پر قابو پانا ہے اور حامد میر کوئی اتنی با اثراور با اختیار شخصیت ہے جو وطن عزیز کے قومی مفادات سے بھی زیادہ اہم اور بالاتر ہے ۔ اس مرحلہ پر جو کچھ ہوا وہ آزادی صحافت کی تسلیم شدہ حدود کو عبور کرنے اور یکطرفہ رپورٹنگ کے زمرہ میں آتا ہے اور جس کو نرم سے نرم الفاظ میں ابلاغیات کی معروف اصطلاح کے مطابق ’’پروپیگنڈہ‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے جو بلاشبہ کئی گھنٹے تک جاری رہا ۔ گاہے یہ احساس بھی ہوا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف اور صرف ’’حامد میر پر فائرنگ‘‘ ہی ہے جس میں آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ ملوث ہیں۔ اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ اگر اس خبر پر آئی ایس آئی کا موقف بھی حاصل کیا جاتا یا کم از کم وزارت اطلاعات و نشریات ، وزارت دفاع یا وزیراعظم آفس سے ہی رابطہ کیا جاتا تو یقینی طور پر یہ خبر نگاری اور صحافت کے اصولوں کی پاسداری اور احترام کے عین مطابق رویہ تسلیم کیا جاتا ۔یہ امر اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے اور خاص طور پر وزارت دفاع کی طرف سے مذکورہ پروپیگنڈہ کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ شاید تب ہی آخر کار پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ آئی ایس پی آر کو اپنا موقف بیان کرنا پڑا۔ 
یہ سطور رقم کرتے ہوئے ذہن میں وزیراعظم نواز شریف کا یہ بیان بھی اجاگر ہوا کہ حامد میر پر حملے میں جو بھی ملوث ہوا اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ اگر وزیراعظم صاحب اپنے روایتی نوعیت کے اس بیان میں یہ اضافہ بھی فرماتے کہ قومی اداروں اور خاص طور پر عسکری و دفاعی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تو نہ صرف اس بیان کی اہمیت میں اضافہ ہوتا بلکہ اس سے ان عناصر کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی جو شعوری یا غیر شعوری طور پر ملک و قوم کے دشمنوں کے آل�ۂ کار بنے ہوئے ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ آئی ایس آئی پاک فوج کا اہم ادارہ ہے اور یہ وزیراعظم کے ماتحت کام کرتا ہے ۔ وزیراعظم کے بیان میں اس بات کی تشنگی محسوس کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی ماتحت ادارہ کے وقار اور ساکھ کے باب میں کوئی بات نہیں کی۔ اس تناظر میں اس بحث کے توقع بھی خارج از امکان نہیں کہ ملک و قوم کے مفادات کا تحفظ کرنے والے ا دارے زیادہ اہم ہیں یا کوئی ایک شخصیت ؟۔ 
قومی امور اور حکومت کے اداروں سے باخبر قارئین ضرور جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں ایک ادارہ ’’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)‘‘ بھی ہے جو الیکٹرانک میڈیا سے متعلق امور کے حوالہ سے ٹی وی چینلز کی نشریات کی مانیٹرنگ بھی کرتا ہے ۔ اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی ٹی وی چینل سے ایسی نشریات جاری نہ ہوں جو ہمارے قومی مفادات، مذہبی عقائد، سماجی اخلاقیات، عوامی جذبات اور اجتماعی طرز احساس سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔ اس بات کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ ٹی وی سے نشر ہونے والے پروگرام صحافتی معیارات سے ہم آہنگ ہوں۔ پیمرا کو اس بات کا اختیار ہے کہ اگر کوئی ٹی وی چینل پیمرا کے قوانین ، قومی مفادات اور صحافت کی اخلاقی حدود کو پامال کرے تو اس کی نشریات کو بند کر دیا جائے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ مشاہدہ کیا گیا کہ جب آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کو کسی ثبوت کے بغیر حامد میر پر فائرنگ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا تھا، حتیٰ کہ اس سلسلہ میں اس حساس ادارہ یا کسی بھی دوسرے متعلقہ ریاستی ادارے کا ردعمل بھی حاصل نہیں کیا جا رہا تھا تو اس وقت پیمرا ایسا اہم ادارہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ اس تناظر میں بجا طور پر یہ سوال دریافت کیا جا سکتا ہے کہ جب وطن عزیز کے ایک اہم حساس عسکری ادارے اور اس کے سربراہ کو ایک بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کے ذریعے ہدف تنقید بنایا جا رہا تھا تو کیا اس وقت چیئرمین پیمرا سو رہے تھے اور کیا وہ ابھی تک سو رہے ہیں۔

896
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...