حامد میر پر کراچی میں حملہ ہوا، انہیں چھ گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو ئے تا ہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے یہ حملہ 19اپریل کو تقریباشام 5بجے کے قریب ہوا اور فوری طور پر جیو نیوز نے اس کا الزام آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام پر لگا دیا اور ایسا ادارے اور اس کے سربراہ کا نام لے کر کیا گیا۔ جیو کے خیالات اب تک بھی کسی سے ڈھکے چپھے نہیں تھے اور نہ اس نیوز چینل نے اپنے قومی اداروں کو بے عزت کرنے میں کبھی کوئی کسر چھوڑی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر حملہ ہوتے ہی انہوں نے مجرموں کا تعین بھی کر دیا اور بین الاقوامی سطح پر جیو کا سا تھ بھارت کے چینلز نے بھرپور طور پر دیا ،خاص کر امن کی آشا کے دعوے دار ٹائمزآٖف انڈیا نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو حملے کا ذمہ دار قرار دے کر اپنا حق شراکت داری ادا کیااور جیو کے ساتھ امن کی آشا کی پتنگ کو خوب بلندی پر اُڑایا ۔ حامد میر کی صحافت کے لیے خدمات ہوں نہ ہوں بلوچستان کے مُٹھی بھر علٰحدگی پسندوں، وزیرستان کے دہشت گردوںِ ،پاک فوج کے خلاف بولنے والوں اور آئی ایس آئی پر کیچڑ اُچھالنے والوں کے لیے اُن کی خدمات واقعتاقابل قدر ہیں ۔ اگرچہ اس وقت وہ جس حادثے سے گزرے ہیں اُ س پر وہ ہمدردی کے مستحق ہیں لیکن ان کے زخمی ہونے پر اُن کے چینل کے رویے نے اگر کسی کے دل میں تھوڑی بہت ہمدردی تھی وہ بھی غصے میں بدل دی بلکہ یوں آئی ایس آئی اور اس کے چیف کو بغیر کسی ثبوت کے مجرم قرار دینے سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی سوچنا شروع کر دیا ہو گا کہ اُن کو بھی آئی ایس آئی کے خلاف اُکسا کر کہیں اصل مجرموں کو تو چھپا یا اور بچایا نہیں جا رہا۔ ضروری نہیں کہ اس بچاؤ کا مقصد ان مجرموں سے ہمدردی ہو بلکہ ایسا صرف افواج پاکستان اور آیس ایس آئی دشمنی ہی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ موصو ف کی بنگلہ دیش جا کر افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی بھی ریکارڈ پر ہے اور وہ موقع بے موقع ، موزوں یا نا موزوں ہر طریقہ سے اپنے دل کا بغض نکالتے رہتے ہیں۔ پاکستانیوں کے لیے حامد میر کا یہ رویہ بالخصوص اور جیو نیوز کا بالعموم کوئی نیا نہیں، ممبئی حملوں کے بعد اس چینل کا کردار بھی سب کو یا د ہے۔ایسا نہیں ہے کہ آئی ایس آئی یا افواج پاکستان کے خلاف بات کر نے کو گناہ کہا جائے لیکن ایسا کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچا جائے کہ یہ ادارے ملکی سلامتی کے ضامن ہیں اور اگر انہی کو نقصان پہنچایا جائے تو ہم دشمن کے سامنے ننگے سر اور ننگے پاؤں کھڑے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ ایسے میں بچاؤ کی کوئی صورت نہیں بنے گی۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک مخصوص گروہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ہر وقت ایسا کرنے پر تلا رہتا ہے اور اس خدمت کے لیے اس کو خوب نوازا جاتا ہے اور اس طرح صرف چندسال میں اس گروہ کے لوگ کروڑوں کی جائیداد، بینک بیلنس اور گاڑیوں کے مالک بن گئے ہیں۔ ظاہر ہے ایسا اپنے الفاظ اور خیالات مہنگے داموں بیچ کر ہی کیا گیا اور ان کی قیمت بڑھاتے وقت اور وصول کرتے وقت ملکی وقار اور سا لمیت کو داؤ پر لگایا گیا اور خود کو انسانیت اور صحا ٖفت کا عظیم علمبردار ثابت کرنے کو کوشش کی گئی۔ یہ رویہ اس پورے نیوز گروپ کا رہا ہے، ہاں حامد میر کے واقعے سے اس گروپ کا اپنے اہلکاروں کے لیے رویہ بھی آشکار ہو گیا ۔حادثہ ہوتے ہی جو خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلائی گئی اس میں حامد میر کے زخمی ہونے سے زیادہ جس چیز کی اہمیت نظر آرہی تھی وہ نامزد ملزموں نہیں بلکہ ایک یقین کے ساتھ مجرموں کا اعلان تھااور جنرل ظہیر الاسلام بمع تصویر کے بطور اقدام قتل کے مجرم کے طور پر پیش کیے جا رہے تھے۔ یہ گروپ جو پچھلے کئی سالوں سے ہمارے عدالتی فیصلوں میں پُوری طرح شامل ہے اور پچھلے ایک سال سے حکومتی فیصلوں پر بھی کافی مؤثر طور پر اثر انداز ہے کیونکہ فوج کے بارے میں حکومتی اہلکاروں اور اس کے اینکروں کے خیالات میں کافی ہم آہنگی ہے۔ اس خبر کے چلانے کے بعد اس کا خیال تھا کہ اسے عدالتی اور حکومتی کے ساتھ عوامی تائید بھی حاصل ہو جائے گی اور وہ اپنے غیر ملکی دوستوں اور آقاؤں کو مزید خوش کر سکے گالیکن اس کے بالکل اُلٹ رد عمل سامنے آنے پر خود اس کے لیے صورت حال مشکل ہوگئی اور اس وقت اس نے اپنے عظیم اینکر کے بھائی کے اوپر سارا الزام دھر دیا کہ یہ بیان حامد میر کے بھائی عامر میر کا تھا جیو کا نہیں۔ لیکن جیسا کہ کچھ پروگراموں کے ساتھ مختلف چینل یہ وضاحت ضرور پیش کرتے ہیں کہ ادارہ ان خیالات کا ذمہ دار نہ ہو گا ایسی کوئی وضاحت نہیں دی گئی تھی اور مسلسل ایک مخصوص لہجے میں اس چینلز کے نیوز کاسٹرز اس خبر کو پڑھتے اور سناتے رہے اور حامد میر کو عظیم اینکر بلکہ صحافیوں کا لیڈر اور مصیبت زدہ پاکستانیوں کا محسن بنا کر پیش کرتے رہے جبکہ دوسری طرف مد مقابل وہ لوگ تھے جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ،یہ سوچے بغیر کہ ان کے بعد ان کے اہل خانہ زندگی کیسے گزاریں گے، جو دشمن کے ہر وار کو بس ناکارہ بنانے کی دھن میں مبتلا رہتے ہیں، کہ ملک قائم رہے ، سالم رہے کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہ سکے۔ لیکن چونکہ یہ فوجی نہ تو پریس کانفرنس کر سکتے ہیں ،نہ نیوز چینلز پر بیٹھ کر اپنی صفائیاں پیش کر سکتے ہیں، اس لیے وہ دشمن کے لیے تو لوہے کے چنے سہی جیو جیسے میڈیا گروپ کے لیے یا عاصمہ شیرازی جیسے نا پختہ اینکرز کے لیے یا امتیاز عالم اور اسی قبیلے کے دوسرے صحافیوں کے لیے ایک آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ لیکن اس بار عوام نے اور بہت سار ے میڈیا گروپس ، چینلز اور صحافیوں نے اپنے محافظوں کی حفاظت کا جو فریضہ سر انجام دیا ہے وہ اُمید کی وہ کرن ہے جو دشمن کے چھکے چھڑا دیتی ہے اور انہیں آنکھیں چُندھیا کر بندکرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر چہ تازہ ترین خبر کے مطابق نون لیگی عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے آئی ایس آئی اور جیو میں کوئی فرق نہیں اور وزیر اطلاعات پرویز رشید کے مطابق ’’وزیر اعظم کا حامد میر کے پاس جانا اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ حکومت کس کے ساتھ ہے‘‘لیکن عوام کا حامد میر پر قاتلانہ حملہ بھول کر آئی ایس آئی پر بلا ثبوت الزام لگانے پر ناراضگی بلکہ غصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے برے بھلے کی تمیز کر سکتی ہے اور وہ میڈیا کے تبصرے سُنتی ضرور ہے لیکن فیصلے اپنے کرتی ہے اور دوست اور دشمن کی پہچان بھی ضرور کرتی ہے جس کا ثبوت اس نے حالیہ واقعے میں دیا۔

2,055
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...