ملک و قوم کے وسیع تر مفادات کو اپنی اولین ترجیح تصور کرنے والے محب وطن اور با شعور اہل وطن کے لئے یہ حقیقت بلاشبہ قابل توجہ اور فکر انگیز حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششیں ہوز نتیجہ خیز اور ثمر بار دکھائی نہیں دیتیں۔ گذشتہ دنوں اس ضمن میں جو اقدامات کئے گئے وہ ابتدائی طور پر توحوصلہ افزاء اور مثبت محسوس ہوئے لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ طالبان شوریٰ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ کسی مثبت پیش رفت کے تناظر میں امید افزاء نہیں ہیں۔ دو ٹوک الفاظ میں بیان کیا گیا کہ پی پی پی اور متحدہ مذاکرات سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے ہیں، حکومت نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا چنانچہ جنگ بندی جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک ماہ میں ایک گولی بھی نہ چلائے جانے کے باوجود 50گرفتاریاں ہوئیں اور 15لاشیں دی گئیں۔ یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ حکومت غیر عسکری قیدیوں کی رہائی سمیت ہمارے مطالبات پر جو اقدامات کرے گی، ہم اس کے منتظر رہیں گے۔ ایک عامی بھی بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ تاثرات امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے حق میں نیک فال نہیں ہیں۔
یہ امر کسی تشریح اور تفصیل کا محتاج نہیں ہے کہ دہشت گردی کا عوام کے دل و دماغ پر بڑا گہرا اثر ہوا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیوں اور ہلاکت خیز اقدامات کے لئے اسلام کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کا اصرار بلکہ دعویٰ ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ کی خاطر ’’جہاد‘‘ کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کے مؤقف کے برعکس یہ حقیقت زیادہ واضح طور پر مشاہدہ کی جاتی ہے کہ ان کو وطن عزیز کے اس آئین کا کوئی احترام اور پاس نہیں ہے جس میں واضح طور پر درج ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہیں ہو گا ۔ یہ اسلامی تعلیم اور تاکید بھی نظر انداز کی جا رہی ہے کہ اسلام میں جبر اور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلامی معاشرہ میں ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرے۔ اسی تناظر میں اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو مساوی بنیادوں پر مذہبی، سماجی اور سیاسی حقوق فراہم کئے جاتے ہیں۔دہشت گردی کا مسلسل شکار اور ہدف یعنی بے قصور عوام کو ابھی تک اس بنیادی بات کا علم نہیں ہو سکا کہ دہشت گرد آخر کس طرح کا نظام حکومت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مطلوبہ نظام کی بنیاد جبر اور نا انصافی پر ہے تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ نظام بلکہ ایسا کوئی نظام اسلام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا اس کو اسلامی درجہ دینا یکسر نا انصافی ہی تصور ہو گا۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو کوششیں کی گئیں ہیں ان سے یہ حقیقت بہرحال اجاگر ہو گئی ہے کہ حکومت کی نیت اور نصب العین میں کوئی کھوٹ نہیں ہے ۔ یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ حکومت طاقت کے استعمال سے حقیقی معنوں میں اور حتی الوسع گریز کر رہی ہے چنانچہ بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو ہی ترجیح دی گئی۔ دہشت گردی کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لئے صرف وطن عزیز کی سیاسی و عسکری قیادت ہی ایک صفحہ پر نہیں ہیں بلکہ ان کو جملہ ریاستی اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا، مذہبی رہنماؤں اور عوام کی بھرپور حمایت اورتائید حاصل ہے۔ یہ حقیقت ایک قابل تحسین حوالہ کا درجہ رکھتی ہے کہ حکومت کی طرف سے قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کا حقیقی منبع آل پارٹیز کانفرنس میں کئے گئے فیصلے اور مشاورت ہی ہے۔ ایسے میں یہ تاثر دینا کہ کوئی سیاسی جماعت امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ محسوس ہوتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے وطن عزیز کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نہ صرف پاک فوج بلکہ پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر اداروں کے افسر اور جوان یکساں طور پر مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے ایثار، قربانی اور فرض شناسی کے الفاظ کو نہ صرف نئے مفہوم عطاء کئے ہیں بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اس باب میں شاندار قومی روایات کو ایک نیا اعتبار بخشا ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والوں کے لواحقین اور ورثاء نے بھی صبر و تحمل اور قوت برداشت کا باوقار مظاہرہ کیا۔ اہل وطن بجا طور پر ان پر فخر کرتے ہیں۔ ساری مہذب دنیا اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس کے نتیجہ میں دنیا ماضی قریب کے مقابلہ میں اب زیادہ محفوظ محسوس کی جا رہی ہے۔
ایک طرف تو قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں اور عوام اپنے اس عزم صمیم کا مسلسل اظہار اور اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی لعنت سے نجات حاصل کر کے ہی دم لیں گے لیکن دوسری طرف دور اندیش اور حقیقت پسند تجزیہ کار محسوس کرتے ہیں کہ جب قانون دہشت گردوں کو اپنے آہنی پنجہ میں جکڑتا ہے تو بعض قانونی موشگافیوں کے باعث ان دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانا گاہے ممکن نہیں ہوتا۔ ریکارڈ گوا ہ ہے کہ کئی مرتبہ دہشت گرد وں کو ضابطے کی قانونی کارروائی کے پیچیدہ رموز سے فائدہ ہی پہنچا۔عوام میں یہ تاثر بھی بہرحال موجود ہے کہ ماضی قریب میں ایک مرحلہ پر بعض عدالتوں(خاص طور پر عدالت عظمیٰ )کا رویہ ایسا رہا جو مجموعی طور پر دہشت گردوں کے حق میں سودمند ثابت ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت پاک فوج کے اعلیٰ افسروں کو بھی عدالت کے روبرو پیش ہونے کے احکامات جاری کئے جاتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ کسی فاضل منصف کی نیت پر تو شک کا اظہار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس سوال کو نظر انداز کرنا بھی مشکل ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خاص طور پر پاک فوج کے سینئر افسروں کو عدالت کی طرف سے تحکمانہ انداز میں حاضرہونے کے لئے طلب کیا جائے گا تو اس کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟۔عوام کو بہرحال وہ وقت یاد ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی محنت، کوشش اور قربانی کے بعد کسی دہشت گرد کو گرفتار کرتے تھے لیکن عدالت اس دہشت گرد کو مبینہ طور پر عدم شواہد کی بنیاد پر رہا کر دیتی تھی۔ ظاہرہے کہ عوام اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔(اس صورت حال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے )۔ رائے عامہ کو اصرار ہے کہ قانون دان طبقہ اور فاضل عدالت کو مجرد الفاظ اور قانونی اصطلاحات کے گورکھ دھندے سے بالاتر رہتے ہوئے انصاف کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے اور قومی مفادات کے تحفظ کی طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینی چاہیے۔ یوں بھی قانون کی دنیا کی یہ مشہور کہاوت ہے کہ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔
یہاں ایک غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ میڈیا میں دہشت گردوں کو اور ان کی مذموم کارروائیوں کو غیر ضروری طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ گاہے یہ تاثر بھی اجاگر ہوتا ہے کہ دہشت گرد مذہبی اعتبار سے ایسا کردار ادا کر رہے ہیں جس کی اشد ضرورت ہے۔ اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ نوجوان اور خاص طور پر نئی نسل کے ذہنوں پر اس کے بہرحال منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوں بھی دنیا بھر کے کسی میڈیا میں دہشت گردی کی اتنی زیادہ پذیرائی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دہشت گرد کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دہشت گرد عناصر کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے کہ ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہو کر وہ اپنی سرگرمیوں کو زیادہ اثر انگیز اور نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میڈیا عصر حاضر کی ایسی بڑی طاقت ہے جو طرز فکر و عمل کی تبدیلی میں کارگر ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر بھی اس کی نمایاں چھاپ ہے۔ دہشت گردوں کی اس سوچ کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ میڈیا کے ان کارکنوں اور اداروں کو بھی اپنا ہدف بنانے سے گریز نہیں کرتے جو ان سے اختلاف رائے رکھتے ہیں یا ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتے ۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب میڈیا کو انتہائی مشکل اور صبر آزماء حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔
حالات و واقعات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے۔ بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ دہشت گردوں یعنی طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں گے ۔ حکومت کو ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئے گی اور اہل وطن اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاک سرزمین پر ایک دہشت گرد بھی موجود ہے ۔ایسے میں دہشت گرد وں اور ان کے حامی عناصر کو یہ نوشتہ دیوار بخوبی پڑھ لینا چاہیے کہ اس جنگ میں فتح اور کامرانی آخر کار امن پسند اور صلح جو عوام ہی کی ہو گی ۔

771
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...