بین الاقوامی سفارتی اور سیاسی حلقوں میں اتوار کے روز اس وقت مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی جب یہ خبر منظر عام پر آئی کہ جنیوا میں ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام بارے معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کر دے گا ۔ معاہدہ کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی کم سے کم سطح پر رول بیک کرے گا اور یوں ذخائر میں کمی کرتے ہوئے اپنی جوہری تنصیبات کو بروقت عالمی معائنہ کے لئے کھلا رکھے گا۔معاہدہ کے تحت ایران نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ وہ 6ماہ تک یورینیم کو 5فیصد سے زیادہ حد تک افزودہ نہیں کرے گا ۔ ایران ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے انسپکٹرز کو اپنے ننتاز اور فوردو نیو کلیئر پلانٹس کے روزانہ معائنہ کی اجاز ت دے گا۔ ایران نئے سینٹری فیوجز نہیں لگائے گا اور عالمی معائنہ کاروں کو آراک کی جوہری تنصیبات تک رسائی بھی دے گا ۔اس کے عوض امریکہ سمیت عالمی برادری ایران کو 7ارب ڈالر کے حصول میں مدد دیں گے اور آئندہ 6ماہ تک ایران پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
ایران اور امریکہ، برطانیہ، فرانس ، جرمنی ، روس اور چین کے درمیان چار روز سے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت 20فیصد افزودہ یورینیم کا ذخیرہ 6ماہ میں ختم کر دیا جائے گا۔ سینٹری فیوجز کی تعداد بڑھائی جائے گی اور نہ ہی جدید سینٹری فیوجز کا استعمال کیا جائے گا ۔ ساتھ ساتھ ایران کی جوہری تنصیبات عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کے لئے ہر وقت کھلی رہیں گی یعنی وہ تمام اقدامات کئے جائیں گے جس سے جوہری ہتھیار بنانے کا اندیشہ نہ رہے۔ اس کے نتیجہ میں ایران پر آئندہ چھ ماہ تک کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ تیل کی درآمد کی اجازت موجودہ حد تک برقرار رہے گی۔ پیٹرو کیمیکل اور آٹو سیکٹر میں تجارت پر نرمی سے ایران کو ڈیڑھ ار ب ڈالر کا زر مبادلہ حاصل ہو گا۔
مذکورہ معاہدے کے حوالے سے امریکی صدر اوباما نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا کو محفوظ بنانے اور جوہری تنازعہ کے جامع محل کی جانب اہم قدم ہے۔ اس معاہدہ کے تحت ایران کو 4 ارب 20کروڑ ڈالر ملیں گے ۔ہم ایران کے جوہری پروگرام کی صلاحیت کو محدود کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ہمارا مقصد مسئلہ کا پرامن حل تھا تا ہم معاہدہ کی خلاف ورزی پر ایران سے ریلیف واپس لے لیا جائے گا۔ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہونا چاہیے ۔ پر امن جوہری توانائی کا حصول ہر ملک کا حق ہے ، ماضی میں کانگریس نے ایران پر پابندیاں عائد کیں لیکن یہ وقت ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا نہیں۔ ایران کو چاہیے کہ وہ معاہدہ پر عملدرآمد کرے ۔ ایران کو دوبارہ عالمی برادری کا حصہ بننے پر فائدہ ہو گا ۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اقتدار میں آنے کے بعد ایران مسئلہ کا پر امن حل چاہتے تھے اور یہ معاہدہ ساری دنیا کے لئے ایک نیا آغاز ہو گا ۔ معاہدے سے ایران کو تجارتی معاہدے جاری رکھنے کا موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران نئے سینٹری فیوجز نصب نہیں کر ے گا۔ ایران ایٹمی توانائی کے اہل کاروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات تک رسائی دے گا ۔ایران کو چاہیے کہ وہ معاہدہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ۔ معاہدہ کے نتیجہ میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری نا ممکن ہو جائے گی ۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے معاہدے پر دستخط کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے مذاکرات کاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ معاہدے کے بعد نئے دور کاآغاز ہو گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ روشن خیال ایرانی عوام کی وجہ سے طے پایا۔ انہوں نے معاہدہ پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنیوامیں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ جوہری معاہدہ مسائل کے حل کی چابی ہے۔ ایران جوہری پروگرام کی پاسداری کرے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ اہم پیش رفت ہے۔ جوہری توانائی ایران کاحق ہے ، چین، امریکہ، برطانیہ ، فرانس ، روس اور جرمنی نے مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ یورپی یونین ایرانی وزیر خارجہ اور فرانس نے اس معاہدہ کی تصدیق کی۔ برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ معاہدہ کے بعد خطہ میں اسرائیل سمیت ہمارے اتحادی محفوظ ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا تھا ۔ عالمی برادری کئی مرتبہ اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی تھی ۔ اگر ایرانی حکومت مذاکرات کی میز پر نہ آتی تو معاہدہ ممکن نہیں تھا۔ معاہدہ کے لئے ایرانی وزیر خارجہ نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی پابندیاں ایران کو مذاکرات کی میز پر لائیں ۔امریکہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کرے گا ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی طریقہ سے معاہدہ پر عملدرآمد کروائیں۔ ایران چھ ماہ میں اپنا یورینیم کا ذخیرہ ختم کر دے گا ۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف دنیا کو محفوظ بنانا تھا ۔ صدر اوبامہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے میں مخلص تھے۔ معاہدہ کے بعد اب ایران سے مزید چھ ماہ تک بات چیت ہو گی۔ معاہدہ سے اسرائیل اور دیگر اتحادی ممالک محفوظ ہو گئے ۔ صدر اوباما نے معاہدہ کی کامیابی کے لئے محنت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں دنیا کو ایران کی کمٹمنٹ سے آگاہ کرنا ہو گا ۔ ایران کے ساتھ معاہدے سے کئی راہیں کھلیں گی۔ جان کیری نے بتایا کہ ایران کے پاس اب 19ہزار سینٹری فیوجز ہیں ۔اگرایران سے ایٹمی معاہدہ نہ ہوتا تو اس کا ایٹمی پروگرام مزید آگے بڑھ جاتا ۔
ایک اور خبر کے مطابق وزیر خارجہ جان کیری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے اسرائیل کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ ایران کو یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل نہیں ہو گا ، ایرانی جوہری پروگرام رول بیک ہو جائے گا ۔ یہ جامع معاہدہ دنیا کو اور اسرائیل کو محفوظ بنا دے گا ۔ کیری نے کہا کہ اسرائیل کی حکومت کو مذاکرات کی صورت حال سے آگاہ رکھا گیا ہے ۔ اس مسئلے کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ’’فیصلے‘‘ اور ’’اندازے‘‘ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے بارے میں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔
روس اور چین نے بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لا روف نے کہا کہ اس سمجھوتے سے کسی کی شکست نہیں بلکہ سب کی جیت ہوئی ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے سے عالمی جوہری پھیلاؤ کے نظام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا تحفظ ہو گا ۔انہوں نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ تمام فریقین کے مفاد میں ہو گا ۔ معاہدہ عالمی جوہری توانائی ادارے کی جانب سے وسیع پیمانے پر معائنہ کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے مشرق وسطیٰ میں انتہائی در کار اعتماد کو فروغ ملے گا اور جوہری پھیلاؤ کے خدشات کم ہوں گے ۔ اب آئی اے ای اے کی جانب سے متعین کردہ حقائق سے ادھر ادھر ہونا انتہائی مشکل ہو گا ۔ ہم اس بات پر قائل ہیں ، ایران اچھے یقین کے ساتھ ادارے کے ساتھ تعاون کرے گا ۔ آئندہ چھ ماہ میں ہونے والے مذاکرات ایران کو پر امن جوہری سرگرمیوں کے لئے درکارحدود کا تعین کریں گے جن میں جوہری بجلی گھروں کے لئے ایندھن کی پیداوار ، تحقیقی ری ایکٹرز اور میڈیکل اور دیگر انسانی ضروریات کے لئے آئیسو ٹوپس پیدا کرنے والے ری ایکٹرز کی پیداوار شامل ہے۔ انہوں نے اس عرصے کے دوران مغرب کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کے فیصلے کو سراہا ۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم ان یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتے لہذا یکطرفہ پابندیوں کو ہٹانے کے ذریعے ایران پر دباؤ میں کمی کا آغاز درست ہے ۔ لاروف نے ایران کے نئے صدر حسن روحانی کی سنجیدہ کوششوں کی تعریف کی جس کے نتیجہ میں معاہدہ ممکن ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں نئے صدر کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہم نے اس معاملے کے حل سے متعلق خواہش کے اعلانات سنے جس نے سنجیدہ بنیادیں رکھیں۔
چین نے بھی اس اہم معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام میں مدد ملے گی۔ وزر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ اس معاہدے سے عالمی جوہری پھیلاؤ کے نظام کی بالادستی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا تحفظ ہو گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے فریقین کو ایران کے ساتھ معمول کے مطابق تبادلہ خیال شروع کرنے کا موقع بھی ملے گااور ایرانی عوام کے لئے بہتر زندگی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ایک دہائی بالخصوص گزشتہ چند روز کی سخت محنت کے بعد عمل میں آیا ، جب ہم نے مشکل مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں قدم رکھا تھا ۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک میں شامل ہے جنہوں نے جرمنی کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ تہران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے کے لئے معاہدے پر مذاکرات کئے۔ یہ شعبہ ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں پر انتہائی شکوک و شبہات اٹھاتا رہا ہے جسے نچلی سطح پر لانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ بیجنگ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام سے بچنے کا خواہاں رہا ہے جو اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے لئے تیل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خطے پر بھاری انحصار کرتا ہے۔ وہ طویل عرصے سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ خطے میں معاملات کو فوجی مداخلت کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے ۔انہوں نے مذاکرات میں شامل دیگر ممالک کی تعریف کی اور ان کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات میں میں شامل فریقین کی جانب سے لچک اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرنے پر انہیں سراہتے ہیں۔
دریں اثناء اسلام آبادمیں دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں پاکستان نے ایران اور پانچ عالمی طاقتوں کے درمیان ایرانی ایٹمی پروگرام پر طے پانے والی مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران کا برادر ملک اور ہمسایہ ہونے کے ناطے ہمیشہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا پر امن حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر محاذ آرائی نہ کرنے پر بھی زور دیا کیونکہ اس محاذ آرائی سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا تھا ۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمت بہت اہم ہے جس کے نتیجہ میں اس خطہ میں خاص طور پر اور عالمی سطح پر عام طور پر امن و استحکام آئے گا۔ وطن عزیز کے مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذکورہ معاہدہ کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ کوشش کی جائے گی کہ اس منصوبہ میں بھارت اور چین بھی شامل ہو جائیں جیسا کہ منصوبہ بندی کے آغاز پر طے ہوا تھا ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے گیس پائپ لائن منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لئے جو کوششیں کیں ان کی اہمیت اور افادیت اب مزید اجاگر ہو گئی ہے ۔ اسی طرح اس تاثر کو بھی تقویت میسر آئی ہے کہ ایرانی قیادت نے اپنے حسن تدبر اور نتیجہ خیز سفارت کاری سے یہ بات ثابت کر دکھائی کہ استقامت اور مثبت طرز فکر و عمل کی مدد سے نہ صرف مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ قومی وقار اور خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بھی بنایا جا سکتا ہے ۔

764
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...