کیا پاکستان اور پاکستانیوں نے کشمیر اور کشمیریوں کو بھلا دیا ہے یا اُن پر اتنی مشکلیں آن پڑی یا ڈال دی گئیں کہ اُن کو اُنہی سے فرصت نہیں ۔وہ دہشت گردی، فرقہ پرستی، غیروں کی مسلط کردہ اور حکمرانوں کی اپنائی ہوئی جنگ لڑنے میں ہی مصروف ہیں ،کبھی ڈرون پر احتجاج، کبھی دھماکوں پر آنسو،کبھی لوڈشیڈنگ کے خلاف جلتے ٹائر اور کبھی مہنگائی کے خلاف ہنگامے، غرض ہر کوئی کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار ہے اور یہ سب قومی مسائل ہیں جن سے ہر پاکستانی لڑ رہا ہے۔ لیکن کشمیر آج بھی پاکستان کی بقاء کا سوال ہے اور تاریخ آج بھی اس کو پاکستان کے بہت سارے مسائل کی وجہ قرار دیتا ہے۔ اگر مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ ستائیس اکتوبر 1947 ؁ء کو اس مسلم اکثریتی ریاست کے بھارت سے الحاق کا اعلان نہ کرتا بلکہ پاکستان سے ہر رشتے میں جڑے ہوئے کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دے دیتا تو برصغیر کے دو بڑے ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ بہت بڑی وجہ نزاع جنم ہی نہ لیتی جو تین کھلی جنگوں کا باعث بنی ۔کشمیر کا ہی مسئلہ اسلحے کی ایسی دوڑ کی وجہ ہے جس نے خطے کے غریب عوام کو انتہائی زرخیز خطہ ہونے کے باوجود بھوک و افلاس میں مبتلاء رکھا ہوا ہے۔ہندوستان کی تقسیم بالکل واضح طور پر مذہبی بنیادوں پر ہوئی تھی، پاکستان کا مطالبہ ایک الگ مملکت کا نہیں بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ اسلامی ریاست کا مطالبہ تھا جہاں بقول قائداعظم کے وہ اسلامی اصولوں کو آزما سکیں اور اس مطالبے کو ہندوستان کے ہر مسلمان کی حمایت حاصل تھی اور اسی مطالبے کو انگریز اور ہندو دونوں نے چاہے بے دلی سے لیکن تسلیم کیا یا انہیں مسلمانوں کے جوش و جذبے کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے تو پاکستان وجود میں آیا۔ اب اگر پاکستان مذہب کی بنیاد پر بنا تو ایک مسلمان ریاست کو کس طرح وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف ایک غیر مسلم ملک کا حصہ بنادیا گیاظاہر ہے یہ اس نوزائیدہ مملکت کے خلاف سازش تھی۔بھارت نے اگرچہ پاکستان کو تسلیم کر لیا تھا لیکن در پردہ وہ ہر صورت اکھنڈ بھارت کے خواب کو پورا کرنا چاہتا تھا لہذا پہلے انگریز کے ساتھ ساز باز کر کے پنجاب کی تقسیم اپنی مرضی کے مطابق کروائی اور اپنے لیے راستہ بنا کر کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کیں۔ کشمیر نہ صرف مذہبی لحاظ سے پاکستان کا حصہ تھابلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ پاکستان کا ہی حصہ بنتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں نے کبھی بھی اس الحاق کو قبول نہیں کیا جو ان کی مرضی کے خلاف اُن پر مسلط کیا گیا ۔ یوں تو کشمیری مسلمان دو صدیوں سے کبھی انگریزوں اور کبھی سکھوں کا محکوم رہا ہے لیکن اپنی آزادی کی جدوجہد سے کبھی دستبردار نہیں ہوااور تقسیم ہند کے وقت اس کے ساتھ جو ظلم کیا گیا اور اس کی آزادی کو جس طرح سلب کیا گیا اس کے خلاف وہ روزاول سے ہی بر سر پیکار ہے اور ستائیس اکتوبر کو وہ آج بھی یوم سیاہ کے طور پر مناتا ہے جب ان کی آزادی پر ایک بار پھر شب خون مارا گیا تھا اور اس بار انہیں ایک ایسے غاصب کے حوالے کیا گیا تھا جس کی مکاری اور عیاری ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آج بھی کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں یعنی صرف ایک ریاست کو قابو میں رکھنے کے لئے ایک بڑے ملک کی فوج جتنی فوج استعمال ہو رہی ہے اور اس کے باوجود بھارت یہ کہتا ہے کہ کشمیری اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور دنیا کو یہ تاثر دیتا ہے کہ جیسے کشمیر کا تمام تر مسئلہ پاکستان کا پیدا کردہ ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو وہ مختلف حیلوں بہانوں اور طور طریقوں سے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش نہ کرتا کہ کشمیر میں امن ہے مگر، اگرایسا ہے تو پھر سات لاکھ فوج اس ایک وادی میں رکھنے کی ضرورت کیا ہے ابھی حال ہی میں سات ستمبر کو کشمیر میں ایک ایسی ہی بھونڈی کوشش کی گئی جب جرمن سفارتخانے کے تعاون سے ایک محفل موسیقی منعقد کی گئی جس میں زوبین مہتا اور اس کے گروپ نے پرفارم کیا۔ بھارتی نژاد جرمن زوبین مہتا کے مطابق یہ اس کا خواب تھا کہ وہ کشمیر میں یہ محفل موسیقی منعقد کرے اور جھیل ڈل کے کنارے شالیمار باغ سرینگر میں وہ یہ محفل برپاکر کے انتہائی خوش تھاجس میں پندرہ سو مدعو شدہ مہمانوں نے شرکت کی اور اس تقریب کو’’ احساسِ کشمیر‘‘ کا نام دیا اس بارے میں پاکستان نے جرمن سفارت خانے کو اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا کیونکہ ظاہر ہے ایسی کوششوں کا مقصد صرف سیاسی ہے نہ کہ کشمیریوں کی خوشی ۔ لیکن کشمیری ظاہر ہے کہ دھنوں میں کھو کر اپنا اصل دکھ بھول نہیں سکتا لہٰذا اس پر خوشی کی بجائے کشمیر کے اصل حالات کے حوالے سے ’’حقیقتِ کشمیر ‘‘کے عنوان سے نہ صرف ایک تقریب ہوئی بلکہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی کال پر احتجاجی جلوس نکالے گئے، بھارت چاہے تو ایسی اور تقریبات بھی منعقد کر لے لیکن کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔بھارت سرکاری طور پر ستائیس اکتوبر کو بڑے جوش و خروش سے مناتا ہے لیکن حقیقتِ کشمیر وہ ہوتی ہے جب کشمیری نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں سڑکوں پر احتجاج کر کے اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں لیکن اب یوم سیاہ منانے سے آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کرنا ہو گا ورنہ دنیا کی دو ایٹمی قوتوں کے بیچ یہ دھکتا ہوا انگارہ جو اگلی جنگ کی وجہ بنے گا اور یہ جنگ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گیاور اسے روکنے کے لیے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرار داروں کے مطابق کشمیریوں کو حق ارادیت دینا ہو گا ورنہ اب تک شہید کیے گئے ہزاروں لاکھوں کشمیریوں کی آنے والی نسلیں بھی بھارت کے خلاف برسر پیکار رہیں گی اوراس خون خرابے کا واحد ذمہ دار بھارت ہو گا۔

1,018
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...