پاکستان کے ایٹمی اثاثے خطرے میں ہیں امریکہ ان کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے ایک شور ایک غوغا سی مور ہرش کے مضمون کے بعد تو ایک طوفان بدتمیزی اٹھ کھڑا ہوا۔مختلف چینلز پر تبصرے،اخبارات میں مضامین،سی مور کی کریڈبیلٹی کا مسلسل چرچا اور پاک فوج میں طالبنائزیش کے بارے میں موصوف کی رائے کہ یہ لوگ بھی خطرہ ہو سکتے ہیں یعنی اس کے ہر ہر دعوے کو خوب اچھالا گیا۔ بلا شبہ کہ سی مور قابل بھروسہ ہوگا لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیوں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مستقل نشانے پر رکھا جا رہا ہے اور بار بار پاکستانی عوام میں بد اعتمادی کا بیج کیوں بویا جارہا ہے۔اگر چہ ہر محب وطن پاکستانی کا ا س پر یقین ہے کہ ایٹمی اثاثوں کو دشمن کی ہوابھی نہیں چھو سکتی لیکن بہر حال ایک نفسیاتی جنگ ہے جو مسلسل پاکستان کے خلاف لڑی جارہی ہےاورشکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں جبکہ ابھی تک پاکستان میں نہ تو کوئی قابل ذکرایٹمی حادثہ ہوا ہے نہ ہی اسکےایٹمی ری ایکٹرز کے ڈیزائن اور فعالیت میں کوئی نقص پایا گیا اسکے باوجود مغربی دنیا، یہودی لابی اور ہندو ذہنیت مسلسل اسکے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہےاوریہ واویلا کیا جارہا ہےکہ پاکستان کےایٹمی اثاثوں کوطالبان سے خطرہ ہے۔ پوچھنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ اسلحہ سرراہ پڑا ہوا ہے جو کسی کے ہاتھ لگ جائے گا۔ دراصل یہ اسلحہ مسلسل امریکہ،اسرائیل،بھارت اور تمام مغربی دنیا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے اس لئے کہ یہ انکی راہ میں واحد مزاحمت ہے ورنہ نہ تو یہ غیر محفوظ ہےاور نہ ہی اناڑیوں کے ہاتھوں میں ہےجبکہ اسکےبرعکس اگر ہم بھارت کے ایٹمی اثاثوں اور مہارت کا جائزہ لیں تو سینکڑوں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جس سےخود کو علاقائی سپر پاور سمجھنے والےاس ملک کی صلاحیتوں کا پول کھل جاتا ہے جس میں جوہری بجلی گھروں کے ڈیزائن میں خامیوں سے لیکر چوری،قتل ایٹمی سائنسدانوں پر بین الاقوامی پابندیوں اور کرپشن تک کے واقعات شامل ہیں۔ بھارت کے ایٹمی ری ایکٹر بین الاقوامی معیار سے بہت نچلے درجے کے ہیں اور یہ معیاری حد سے تین گنا زیادہ تابکار شعائیں خارج کرتے ہیں بلکہ ایک امریکی ایٹمی ماہر کرسٹوفر پائن جو نیچرریسورس کونسل واشنگٹن سے منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ایٹمی ری ایکٹروں کے حفاظتی اقدامات دنیا بھر میں سب سے زیادہ برے ہیں اور استعداد کا ر دنیا میں سب سے کم جبکہ خطرناک اخراج باقی دنیا کے مقابلے میں چھ سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔1995 میں تارا پور ری ایکٹر سے نکلنے والی تابکار شعاعوں اور فضلے سے نزدیک کے 3000 گاؤں کا پانی آلودہ ہوا جبکہ سمندر میں آیوڈین کی مقدار زیادہ ہوگئی۔ کھوکھرا پار کے ری ایکٹر سے تابکار شعاعوں کا اخراج تو ایک معمول کی بات ہے۔ ہر ایٹمی ری ایکٹر کا اپنا Core Cooling System ہوتا ہے جو کہ ری ایکٹر کے درجہ حرارت کو معمول کے مطابق رکھتا ہے۔مدراس اور کھوکھرا پار(راجھستان) کے ایٹمی ری ایکٹر ایک ہی سسٹم پر کام کرتے رہے اور آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک ری ایکٹر کے لئے بنا ہوا سسٹم دو کو کتنا چلا سکتا ہے اور کیونکر۔
دھروا بھارت کا سب سے بڑا ایٹمی ری ایکٹر ہے لیکن یہ بھی نہ تو اخراج سے محفوظ ہے اور نہ ہی دوسرے حادثات سے۔ایک بار اس ری ایکٹر کو ارتعاش کی وجہ سےبند کیا گیا کیونکہ اس ارتعاش کی وجہ سے 4 میٹرک ٹن بھاری پانی کا اخراج ہوا۔دھروا اگرچہ سب سےبڑاری ایکٹر ہےلیکن اس پر ایک اورغیر ذمہ دارانہ واقعہ یہ ہوا کہ ایک ٹیکنیشن ری ایکٹر کے اندررہ گیا اور اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ری ایکٹر کو بار بار بند کیااور کھولا جس سے ری ایکٹر میں ارتعاش پیدا ہوئی جس سے ری ایکٹر سے بھاری پانی کا اخراج ہوا۔
بھارت میں بات صرف ایٹمی ری ایکٹرزکےناقص ڈیزائن شعاعوں اوربھاری پانی کے اخراج یا دیگر تیکنیکی غلطیوں تک محدودنہیں بلکہ ایٹمی چوری اور سمگلنگ کے بھی بے شمار واقعات ہوئے ہیں۔ امریکہ نے 2005 میں بھارتی ایٹمی سائنسدانوں ڈاکٹر سریندر اور ڈبلیو ایس آر پرشاد کو بلیک لسٹ کیا ان پر ایٹمی مواد ایران اور کوریا کو سمگل کرنے کا الزام تھا۔ بھارت میں ایٹمی سائنسدانوں کی حفاظت کے انتظام کا اندازہ اس بات سے لگائیے بھارت کے ایک ایٹمی سائنسدان مہالینگم کو قتل کر دیا گیا یا بقول بھارت سرکار کے اس نےخود کشی کی تاہم جو بھی ہو لیکن صبح کی سیرکو نکلا ہوا یہ سائنسدان دریا میں مردہ پایا گیا۔اگرچہ اسکی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنسدان اس سے پہلے بھی غائب ہوا تھا جب اس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے اسے کوئی مذ ہبی جوگ وغیرہ کہا۔اب بھی کوئی بھروسہ نہیں کہ کچھ سال بعد یہ سائنسدان آواگون کے ذریعے دوبارہ زندہ ہوجائے تاہم ابھی تک ملنے والی لاش کو خاندان والوں کی تسلی کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے مہالنگھم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ واقعہ 8 جون 2009 کو پیش آیا۔ایٹمی مواد کے محفوظ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک پورا کنٹینربمبئی ریسرچ سینٹر جاتے ہوئے راستے میں چوری کر لیا گیا یہاں تک کہ یورینیم چوری کے واقعات بھی ہوئے۔ یہ تو صرف چند جھلکیاں تھیں کہ بھارت میں ایٹمی تنصیبات اور اس سے متعلقہ لوگ اور مواد کتنا محفوظ ہے اور یقینایہ کسی بھی وقت ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے جن کی زندگی کا واحدمقصد ہر غیر ہندو کو ختم کرنا ہے اور مسلمان تو ہر وقت ان کے نشانے پر رہتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود عالمی میڈیانے ان خبروں کی نہ تو کوئی تشہیر کی نہ ہی بھارتی ایٹمی پروگرام کو نیزے کی نوک پر رکھا۔ یہاں پاکستانی میڈیا کا کردار بھی وہ نہیں رہا جو ہونا چاہیئے تھا یعنی کہ جس طرح بھارتی اور مغربی میڈیا پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف مصروف عمل ہےاسی طرح پاکستانی میڈیا کو بھارت کے خلاف نبرد آزما ہوجانا چاہےئے تھا لیکن کبھی کبھار کوئی بات کر دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ اپنی سیاست پر بھی تبصرے ہوں مذ اکرے اور ٹاک شوز بھی ہوں لیکن دیگر اہم قومی معاملات پر بھی بات ہونی چاہئیے اور اس بارے میں تو کھل کر اور خوب زیادہ بات ہونی چاہیےے تاکہ دنیا کے سامنےکہیں سےتوبھارت کی حقیقت اوراصلیت سامنے آئے۔ہاں یہ ضرور ہورہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مسلسل زیر بحث رہے ہیں اور اسکے خلاف عالمی سطح کا پروپیگنڈا مسلسل جاری و ساری ہےحا لا نکہ پاکستان میں کوئی ایٹمی بے قاعدگی ریکارڈ پر نہیں ہے۔ دراصل ان اثاثوں کو خطرہ پاکستان کے اندر سے نہیں بلکہ بیرونی قوتوں سے ہے جو ان کی تاک میں بیٹھے ہوئی ہیں کہنے کو تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک مضبوط پاکستان انکے حق میں ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں سمجھتے کیونکہ اگر پاکستان مضبوط اور پر امن ہوگا تو ان طاقتوں کو اس علاقے میں رہنے کا جواز نہیں مل سکے گا اور ایسے حالات پیدا کرنے کے لئے افغانستان ایک آئیڈیل ملک ہے لہٰذا یہ کھیل بڑے منظم طریقے سے کھیلا جارہا ہے۔ افغانستان میں بھارت کو اتنا دخیل کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مربی امریکہ اور اپنے معاون و مددگار اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کے حالات خراب کر رہا ہے اور ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ یہ کہا جا سکے کہ اس ملک کے ایٹمی اثاثے طالبان کے ہاتھ لگ سکتے ہیں یا دہشت گرد ان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ یہ بات کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیئے بلکہ ہمارے میڈیاکو یہ حقیقت دنیا کے سا منے لانا چاہےٗے کہ شک ہم پر نہیں بھارت کے ایٹمی اثاثوں کے ناقص انتظامات پر کیا جائے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہمیں امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی سازش اوردراندازی سے ہوشیار رہنا ہوگا اگرچہ ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ ہم اس پر اعتماد کر سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں دشمن تکون کی طاقت اور کاروائیوں پر مسلسل نظر رکھنی چاہےئے کیونکہ بلاشبہ پاکستان کی ایٹمی قوت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اس تکون نے ایک لمبی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے جس میں پاکستان میں موجودہ دہشت گردی بھی شامل ہے ہمیں ان کی ہر چال کو ناکام بنانا ہوگا۔ بقول جنرل کیانی کے ہم پاکستان کے دفاع کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور یقیناًیہی عزم ہماری بحریہ اور فضائیہ کا بھی ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لئے دشمن کو ہمارے خلاف یہ منفی پروپیگنڈہ بند کردینا چاہےئے۔ لیکن ہمیں د شمن کے اس پروپیگنڈ ے کا جواب ہر سطح پر دینا ہو گا اور دیگر ایٹمی مما لک کی بے قا عد گیوں کو بھی دنیا کی نظروں میں لانا ہوگا خاص کر اسرائیل ،بھارت اور سپر پاور امریکہ کے ایٹمی پروگراموں میں ہونے وا لی بے شمار بے قا عد گیوں کو بھی د نیا کو دکھانا ہوگا۔

 

2,335
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...