چودہ اگست 1947 ؁ء کا عظیم دن برصغیر پاک و ہند کے لئے ایک تحفہء خداوندی لے کر طلوع ہوا اوردنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک پاکستان ابھرا۔ اسکے حصول کے لئے انگریز اور ہندو دونوں محاذوں پر مسلمانوں کو مقابلہ کرنا پڑا اور فتح مندی نے ان کے قدم چومے۔ پاکستان تو بن گیا لیکن اسکے وجود کو بھارت اور اس کی ہندو ذہنیت نے روزاول سے ہی قبول نہ کیا۔ وہ اس امید پربیٹھے رہے کہ پاکستان کسی پکے ہوئے سیب کی طرح ان کی جھولی میں آگرے گا اور اپنا وجود کھو دے گا۔ بھارت نے اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لئے ہر حربہ آزمایا۔ آزادی سے پہلے ہی وزیراعظم نامزد ہونے پر جواہر لال نہرو نے جوہری صلاحیت کے حصول کی خواہش اور ارادے کا اظہار کیا۔ اگرچہ بظاہر یہ خواہش پرامن مقاصد کے حصول کے لئے تھی لیکن ہندو ذہنیت زیادہ عرصہ چھپی نہ رہ سکی اور یہ بات پوری دنیا پر عیاں ہو گئی کہ اس کا مقصد دفاعی برتری کا حصول تھا اور یہ برتری ظاہر ہے کہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے حاصل کی جارہی تھی ۔ بھارت کے انہی ارادوں کو بھانپ کر 1965 ؁ء میں ہی اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ہم گھاس اور پتے کھالیں گے بھوکے رہ لیں گے لیکن اگر بھارت نے بم بنایا تو ہم بھی بنائیں گے۔
سقوط ڈھاکہ نے ہمیں دشمن کی طاقت کا مزید احساس دلایا اور یوں 24جنوری 1972 ؁ء کو ملتان میں سائنسدانوں کی میٹنگ میں پاکستان نے باقاعدہ اپنے جوہری پروگرام کا اعلان کیا۔ 1975 ؁ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پاکستان آنے کے بعد پاکستان کی کامیابی کے امکانات مزید روشن ہوئے کیونکہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ایٹمی سائنسدان تھے ۔ لیکن اس سے پہلے ہی بھارت 1974 ؁ء میں زیر زمین ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا جس نے پاکستانی پروگرام کے لئے مہمیز کا کام کیا۔ یہ سفر چلتا رہا پاکستان کہیں آہستہ کہیں تیز قدم اٹھاتا رہا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے 1976 ؁ء میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔ وہ اور ان کے ساتھی انہی کوششوں میں مصروف رہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن حوصلہ اور عزم بلند ہی رہے۔ پاکستان 1986-87 ؁ء میں یہ صلاحیت حاصل کر چکا تھا کہ ایٹمی دھماکہ کر سکے لیکن اس کے عزائم جارحانہ نہ تھے اس لئے اس نے ایسا نہ کیا تاہم پاکستان نے اپنا پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھا اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا رہا۔
بھارت بھی اگرچہ 1974 ؁ء میں ایٹمی دھماکے کر چکا تھا اور جنگی جوہری توانائی کے پروگرام کو مزید بڑھاتا رہا تاکہ وہ علاقے کا سپر پاور بن سکے اور اپنے پڑوسیوں پر ہر قسم کی برتری حاصل کر کے انہیں دبا سکے۔ چونکہ بھارت کے اپنے پڑوسیوں اور خاص کر پاکستان سے کبھی بھی تعلقات اچھے نہیں رہے لہٰذا وہ ہمیشہ جنگی تیاری میں مصروف رہتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ 12اور 13 مئی 1998 ؁ء کو پھر مخصوص بھارتی ذہنیت نے کام دکھایا اور بھارت نے مزید ایٹمی دھماکے کر دیئے۔ بھارت کے دھماکے کرتے ہی پاکستان پر شدید عالمی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ دھماکے کر کے جواب نہ دے لیکن مزید صبر کرنا پاکستان کے مفاد کے سخت خلاف تھا اسی لئے 28 مئی 1998 ؁ء کو پاکستان نے بھارتی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کر دیئے اور یوں بھارت کی مہربانی سے پاکستان ایٹمی قوت بن گیا۔ پاکستان دنیا کا ساتواں اور پہلا اسلامی ملک تھا جو ایٹمی قوت بنا۔ پاکستان کے بم کو اسلامی بم کہہ کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، امریکہ، برطانیہ سمیت تمام مغربی دنیا نے شدیدمخالفت کی تاہم ان دھماکوں سے یہ ہوا کہ بھارت نے یہ اعلان کیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر مزید دھماکے نہیں کرے گا۔ دراصل اب بھارت جان چکا تھا کہ پاکستان اس کی للکار کا بھرپور جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔پاکستان کو شدید بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستانی قوم نے عزم اور حوصلے سے یہ سب کچھ برداشت کیا۔اس دن ہر پاکستانی تحفظ کی خوشی محسوس کر رہا تھا اور آج بھی یہی ایٹمی قوت ہماری محافظ ہے ورنہ آجکل کے حالات میں کم از کم بھارت اور امریکہ دونوں کے لئے پاکستان تر نوالہ ہوتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنقید کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ کبھی یہ واویلا کیا جاتا ہے کہ پاکستانی بم محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے کبھی یہ کہ طالبان پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر لیں گے۔ کبھی یہ فرمان جاری کیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی رکھوالی امریکہ کے حوالے کر دے یعنی وہی بات جو میں پہلے بھی کئی بارکہہ چکی ہوں کہ گوشت کی چوکیداری بلی کے حوالے کر دی جائے۔
آج پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے ہوئے دس سال ہو چکے ہیں لیکن کسی ایٹمی طاقت کو اتنی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنی تنقید اور پابندیاں پاکستان نے برداشت کیں اور کر رہا ہے لیکن آفرین ہے اس قوم پر کہ اسکے پائے ہمت میں لغزش نہ آئی۔ قطع نظر اس کے کہ حکومت کس کی تھی اور کس کی ہے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور ایٹمی ہتھیار مکمل طور پر محفوظ ہیں ہر پاکستانی اپنے آپ کو ان کا محافظ سمجھتا ہے اور بجا طور پر یہ سمجھتا ہے کہ یہی ایٹمی ہتھیار ہماری حفاظت کی ضمانت ہیں اور بوقت ضرورت یہی ہتھیار ہمارا دفاع کریں گے ۔بھارت، امریکہ اور یورپ کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر تنقید کرنے کی بجائے یہ بات تسلیم کر لینی چاہےئے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے۔ وہ جارحانہ عزائم نہ رکھنے کے باوجود اپنے دفاع، بقاء اور سلامتی کی خاطر کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے۔ پاکستان علاقے یا دنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا اور نہ ہی وہ کبھی پہل کرنے کا مرتکب ہوا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اسے اپنے دفاع کی تیاری مکمل رکھنی ہے کیونکہ اسے اپنے پڑوس میں ہی اپنے سے بہت بڑے دشمن کا سامنا بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلامی ملک اور مسلم ایٹمی قوت ہونے کے ناطے امریکہ اور اس کے حواریوں کی مخالفت کا بھی نشانہ بنتا رہتا ہے۔ یہی وہ چیلنجز ہیں جس نے پاکستان کو ایٹم بم بنانے پر مجبور کیا اور اسے اپنے دفاع کے لئے ہر وقت چوکس اور چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کر لینا چاہےئے اور یہ باور کر لینا چاہےئے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ایک انتہائی منظم نظام کے تحت انتہائی مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اس لئے اس کے مخالفین کو ہر قسم کے فضول پروپیگنڈے سے باز آجانا چاہیے اور نہ ہی اسے دوسرے طریقوں سے اتنا زچ کیا جائے کہ اسے اپنی صلاحیتیں آزمانی پڑیں۔ پاکستان کے بارے میں مغربی دنیا کو اپنا متعصبانہ رویہ بدلنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر سپر پاور ہونے کے زعم میں بار بار پاکستانی سرحدوں کے اندر کاروائی کرنا بے گناہ شہریوں یہاں تک کہ معصوم بچوں کا قتل عام ، پاکستان کے اندرونی معاملات میں بار بار کی مداخلت، بار بار کی دھمکیاں، بار بار کے توہین آمیزبیانات پاکستان کو توڑ دینے تک کی باتیں اور اگر خدانخواستہ پاکستان پر براہ راست حملہ کر دیا گیا جیسا کہ دھمکیاں دی جارہی ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اپنی انتہائی صلاحیت نہ آزمائے گا۔ یہ بات دنیا کو سمجھ لینی چاہےئے کہ صلاحیت ہونے کے باوجود اسے استعمال نہ کیا جائے تو یہ ملک سے غداری ہوتی ہے اور خدانہ کرے کہ پاکستان کسی ایسی صورت سے دوچار ہو اسلئے پاکستان کے تمام بدخواہوں اور دشمنوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پاکستان کو اتنا زیادہ مجبور نہ کیا جائے کہ اپنی انتہائی صلاحیت آزمانے پر مجبور ہو جائے۔

1,339
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...