دہشت گردی کی جنگ پاکستان کے لیے دو دھاری تلوار بن چکی ہے طالبان اور دہشت گرد تو اس لیے پاکستان کے خلاف ہیں کہ ہم ان کے خلاف امریکی جنگ میں اتحادی ہیںاور امریکہ اس لیے خلاف ہے کہ ہم امریکہ کے اتحادی ہیں کیونکہ دوسری کوئی وجہ نظر تو نہیں آتی ۔پاکستان اس جنگ میں ستر ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے جس میں سے صرف دس ارب ڈالر کے اخراجات امریکہ نے ادا کیے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی امداد کا پرچارہماری” خدمات “سے زیادہ کرتا ہے قوم کو بھی ان خدمات پر کوئی فخر نہیں لیکن حکومت ہے کہ ان خدمات کوانجام دینے پر مصر ہے ۔ہم اس جنگ میں نہ صرف طالبان بلکہ امریکی دہشت گردی کا بھی شکار ہیں پچیس اور چھبیس نومبر کی درمیانی رات کو چوبیس گھبرو جوان، ہمارے محافظ امریکی دہشت گردی کا شکار ہو گئے وہ جوان جہنیں ان کی مائوں نے وطن کی حفاظت کے لیے بھیجا تھا بے خبری میں شہید کر دیئے گئے۔مہمند ایجنسی میں ہونے والے واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔پاکستانی سرحد کے تین سو میٹر اندر تک آنے کی ہمت دہشت گردی ہی ہے ۔یہ اندر آنا نہ تو کسی تعاقب میں تھا اور نہ ہی کسی اشتعال کا نتیجہ ہاں یہ اس خونی فطرت کی تسکین ضرور تھی جس نے امریکہ کو پوری دنیا کو اپنی جاگیر سمجھنے پر مجبور کر رکھا ہے۔پوری قوم نے اس پرغم و غصے کا اظہار کیا۔یہ بلاشبہ یہ ہماری قومی خود مختاری پر ایک شدید ضرب ہے ۔اگرچہ حکومت نے بھی واقعہ پر احتجاج کیا سیاسی اور دینی جماعتوں نے بھی اس کی مذمت کی ہے تا ہم اس کا یقین کسی کو بھی نہیں ہے کہ اس احتجاج کے نتیجے میں اس طرح کی دہشت گردی نہیں دہرائی جائے گی۔اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پر ایسا ہی احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔اس وقت چند ایک اقدامات کر کے عوام کو مطمئن کر دیا جاتا ہے اب کی بار بھی ایساہی کیا گیا ہے ۔امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اسے احتجاج ریکارڈ کروایاگیا کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بھی ہواحملہ کی شدیدمذمت کی گئی اور نیٹو سپلائی بند کرنے کا اعلان کیا گیایہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور بڑی آسانی سے اور بہت جلدی تصفیہ ہونے پر دوبارہ تمام احکامات واعلانات معطل کر دیئے جاتے ہیں ہر بار ان اقدامات کو حکومت کے جرات مندانہ اقدامات کے لقب سے ملقب کر دیا جاتا ہے ہاں اس بار ایک فیصلہ مزیدکیا گیا کہ امریکہ پندرہ دن میں شمسی ائیر بیس خالی کر دے ۔اول تو سوال یہ ہے کہ یہ ائیر بیس دیا کیوں گیااور پھر اب تک خالی کیوں نہ کروایا گیا۔کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی دوسرے کواستعمال نہیں کرنے دیں گے لیکن ایسا واقعتا ہو رہا ہے۔اللہ کرے حکومت اپنے اس فیصلے پر قائم رہے فوج کو بھی اس معاملے میں سخت موقف اپنانا چاہیئے ۔یہ حملہ پاک فوج پر براہ راست حملہ تھا وہ فوج جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں گنوائیں ایک بار پھر سب سے بڑے دہشت گرد یعنی امریکہ کا نشانہ بنی اور فوج پر حملہ یقیناکسی ملک پر ہی حملہ تصور کیا جاتا ہے بقول ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل اطہر عباس کے یہ امریکہ کا پہلا حملہ نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی حملوں میں بہتّرفوجی شہید اور دو سو پچاس سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں یعنی ان شہادتوں کے بعدیہ تعداد سو کے قریب پہنچ چکی ہے جنرل اطہرعباس کے بقول امریکہ کا صرف معافی مانگنا ہی کافی نہیں۔ یقینا یہی پوری قوم کے جذبات ہیں اور حکومت کو اس معاملے میں ٹھوس اقدام اٹھاناہی ہو گا ۔پاکستان کواپنی خود مختاری اور سلامتی کی حفاظت کا پورا حق ہے اور اس کی خاطر کسی بھی حکومتی اقدام پر پوری قوم ہمیشہ کی طرح سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے گی۔ دراصل یہ ایک چیک پوسٹ پر حملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی سلامتی پر حملہ تھا اور میجر مجاہد اور کیپٹن عثمان یا شہید ہونے والے سپاہی صرف چوبیس افراد نہیں تھے بلکہ یہ پاک فوج تھی اور یہ کروڑوں پاکستانیوں کے نمائندے تھے اگر امریکہ اپنے ایک قاتل ریمنڈڈیوس کے لیے ہر قسم کے اقدامات اٹھانے پر تیار ہو سکتا ہے، اگر ٹوئن ٹاور میں ہلاک ہونے والے چند ہزار امریکیوں کے بدلے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کر سکتا ہے تو اپنی حفاظت کرنا ہما را بھی حق اور فرض ہے۔اب تک ہم اپنے پینیتس ہزار سے زیادہ شہریوں اور فوجیوں کی قربانی دے چکے ہیں اور اب جب کہ وزیراعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہمیں کوئی بڑا قدم اٹھانا پڑے گاتو یہ قدم اٹھا لینا چاہیے اس سے پہلے کہ ہمارے مزید چاند تاروں کے لاشے چاند تارے کے پرچم میں لپیٹے جائیں ہمیں غیرت مندی اور زندگی کا ثبوت دینا ہو گا۔

2,178
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 15
Loading...