پلوامہ دہشت گردی کا پس منظر کیا ہے

رانا عبدالباقی

Friday، 22 February 2019

بھارتی میڈیا کیمطابق گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سنٹرل ریزرو سیکورٹی فورس کے بڑے کانوائے پر جس میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اہلکار ،ستر سے زیادہ فوجی گاڑیوں اور بسوں میں سوار تھے، دہشت گردوں کے حملے میں درجنوں بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے ہیں ۔یہ کہا گیا ہے کہ بارود بھری ایک کار نے کانوائے کی بس پر خودکش حملہ کرکے اِس بھیانک کاروائی کا ارتکاب کیا ہے جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے دستی بموں کے استعمال کی بات بھی کی گئی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ جگہ جگہ چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی بیرئیرز کی موجودگی میں کنٹرول لائین سے تقریباً سو کلو میٹر دوراتنی بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کس طرح پہنچ گیا اور کیونکر ہائی سیکیورٹی کانوائے کو نشانہ بنا لیا گیا؟ دنیا بھر کے سیکیورٹی ادارے اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہیں کہ امن اور حالت جنگ کے دوران جب بھی بڑے پیمانے پر سیکیورٹی یا فوجی کانوائے متاثرہ علاقے میں چلتے ہیں یا موو کرتے ہیں تو علاقے سے متعلقہ سٹرکوں کو دیگر ٹریفک کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کنٹرل لائین پر چپہ چپہ پر پھیلی ہوئی بھارتی فوج، رینجرز ، ریزرو سیکیورٹی پولیس اور مانیٹرننگ کیمروں کی موجودگی میں اتنا بڑا دھماکہ خیز مواد کس طرح ہائی پروفائل سیکیورٹی ذون میں پہنچ گیا؟ حیرت ہے کہ اِس ریڈی میڈ حملے کے فواً بعد ہی کالعدم نام نہاد تنظیم جیش محمد جس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے کی جانب سے ذمہ داری قبول کرانے کے اعلان کیساتھ ہی اِس حملے کے فوراً بعد بھارت نے اسلام آباد سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس نئی دہلی بلا لیا ہے جبکہ سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔لہذا، ایک ایسے وقت جبکہ حکومت پاکستان بھارت سے تعلقات بحال کرنے کیلئے پاکستان میں سکھوں کے مقدسہ مقام کو عام سکھ زائرین کیلئے کھولنے کیلئے کرتار پور کوریڈور پر معاہدے کیلئے بھی گفتگو میں مصروف ہیں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک مرتبہ پھر معاندانہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔چنانچہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے بغیر تحقیقات کے الزامات لگانے پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ نام نہاد پلوامہ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اِس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ اُنہوں نے ایک اور غیرر سفارتی دھمکی آمیز بیان میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک (پاکستان) کو سزا بھگتنی ہوگی جس کیلئے بھارتی فوج کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔
حیرت ہے کہ بھارت ایک جانب تو کشمیر کنٹرول لائین اور سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ کی خلاف ورزی میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی میں ملوث ہے جس کی ایک ٹھوس شہادت بھارتی ایکسٹرنل انٹیلی جنس RAW سے منسلک بھارتی سروننگ نیوی کمانڈرکل بھشن جادیو کی جعلی مسلم نام سے سفری دستاویزات کیساتھ بلوچستان میں رنگے ہاتھوں گرفتاری عمل میں آ چکی ہے جس کی آزادی کیلئے بھارتی سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈوّل اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سخت مضطرب ہیں اور جس کی سماعت اب بھارتی درخواست پر بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس کے سامنے ہے۔ چنانچہ کسی معقول ثبوت کے بغیر بھارت اقوام متحدہ کی عدالت کی توجہ کل بھشن کیس سے ہٹانے کیلئے پلوامہ دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔اِسی دوران کالعدم تنظیم جیش محمد جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں نے ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر حریت کانفرنس نے وضاحت سے کہا ہے کہ پلوامہ حملہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی سازش کا حصہ ہے ۔ سابق کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ مرحوم کے صاحبزادے سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر عمر فاروق عبداللہ جنہیں بھارت میں سابق مرکزی کانگریس حکومت کا حامی سمجھا جاتا ہے، نے اِس واردات کے بعد بھارتی چینل پر انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اِس نوعیت کے حملوں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ موجودہ تحریک آ زادئ کشمیر بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف کشمیری نوجوانوں نے شروع کی ہے۔ جب بھارتی اینکر نے اُن سے بھارتی تھیم کے مطابق پاکستان کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی تو فاروق عبداللہ نے لائیو انٹرویو کے دوران واک آؤٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔
درج بالا تناطر میں جمہوری دنیا اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہے کہ امن و امان قائم کرنا ہر جمہوری ریاست کی آئینی ذمہ دار ی میں شامل ہے جبکہ پلوامہ دہشت گردی جس میں اِس اَمر کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے کہ آیا دہشت گردی کا یہ واقعہ بھارت میں پھیلی ہوئی متعدد مقامی عسکریت پسند تنظیموں کاکام ہے یا اِسے بھارتی الیکشن 2019 میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے آر ایس ایس کی جانب سے کیا گیا ہے ، کیونکہ دہشت گردی کے اِس حملے کے فوراً بعد آر ایس ایس اور ہندو توا تنظیموں سے منسلک انتہا پسند ہندوؤں نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں اور دیگر ہندو اکثریتی علاقوں میں کشمیری مسلمانوں کی مقبوضہ کشمیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چن چن کر نذر آتش کرنے کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ طریقہ کار وہی ہے جس طرح سابق وزیر اعلی گجرات احمد آباد نریندرا مودی (موجودہ وزیراعظم بھارت) کے زمانے میں ہندو یاتریوں کی چلتی ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے پر جو دیگر ڈبوں تک پھیل گئی جس کے نتیجے میں کچھ ہندو یاتری ہلاکت کا شکار ہوئے جس کا الزام گجرات احمد آباد کے مسلمانوں پر لگا کر سابق وزیراعلی نریندرا مودی کے اشارے پر گجرات ، احمد آباد میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جبکہ اُن کی مساجد، رہائشی مکانوں اور تجارتی دکانوں کو آگ لگا کر تباہ و برباد کر دیا گیا تھا ۔ س اَمر کے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ پلوامہ دہشت گردی کا ملبہ بھارتی مسلمانوں پر ڈالنے کیلئے آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے مسلح رضاکار ایک مرتبہ پھر سے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنا نے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بھارت میں مسلم ووٹ بھارتی الیکشن 2019 میں نیریندرا مودی کی اینٹی اسلام الیکشن مہم جوئی کے بعد دیگر بھارتی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے پر متفق ہوتے جا رہے ہیں۔
اندریں حالات یہی محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے آر ایس ایس کے انتہا پسند کارکنوں کے ہمراہ سری نگر کے دورے میں حریت کانفرنس کی اپیل پر سری نگر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور نریندرا مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے پر آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بظاہر دو مقاصد کیلئے پلوامہ حملہ انجینئرڈ کیا گیا تھا، ایک تو یہ کہ نریندرا مودی کی بھارت میں گرتی ہوئی ساکھ کوسہارا دیا جائے اور دوسری جانب پاکستان پر الزامات کا بوجھ منتقل کرکے پاکستان کی جانب سے بابا گرونانک دربار تک کرتار پور کوریڈور کے ذریعے حالیہ رسائی دینے پر بھارتی سکھوں اور پاکستانیوں کے درمیان پیدا ہونے والے محبت کے جذبات کو نہ صرف معدوم کیا جائے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ایک دہشت گرد ریاست ہونے کے پروپیگنڈے کو مہمیز دی جاسکے۔ جبکہ قرائین یہی کہتے ہیں کہ پاکستان پر الزام لگانے کیلئے ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی فوج کی اعانت سے محدود دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سازش سے منسلک متعلقہ افراد کی غفلت کے باعث یا پھر منصوبہ بندی کے تحت حملے میں استعمال کی گئی کار سکھ اہلکاروں کی بس سے ٹکرائی گئی ۔ چنانچہ یہ دعویٰ کرنا کہ خود کش حملے کیساتھ ہی دستی بموں سے بھی کانوائے پر حملہ کیا گیا حقائق کے منافی ہے جس کیلئے فکری تھنک ٹینک حلقوں کو ماضی میں بھارتی ایجنٹوں کے طریقہ واردات سے متعلق مزید پرت کھولنے کی ضرورت ہے ۔
دریں اثنا ،مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طول و عرض میں بھارتی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو پُرتشدد انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جس کے باعث بیشتر طلباء نے علاقے کی مساجد میں پناہ حاصل کرنے کے بعد جب وادی کشمیر میں اپنے گھروں کیلئے واپسی اختیار کی تو سنگھ پرایوار کی انتہا پسند تنظیموں بل خصوص راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے مسلح کارکنوں نے منظم حملوں میں جموں کی شاہراؤں سے داخل ہونے والی مقبوضہ کشمیر کی رجسٹریشن پلیٹ رکھنے والی سینکڑوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور جموں میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کے محلوں پر منظم حملے کئے گئے اور پراپرٹی کو نقصان پہنچایا گیا جس کے نتیجے میں بیشتر کشمیری مرد عورتوں اور بچوں نے مساجد میں پناہ حاصل کی ۔ البتہ سکھ کمیونٹی کی جانب سے یہ اَمر خوش آئند تھا کہ جموں کے سکھ شہریوں نے بہت سے کشمیریوں کو اپنے گھروں اور گردواروں میں پناہ دی باوجود اِس کے کہ پلوامہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر اہلکار سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ اِس صورتحال کے پیش نظر سیاسی طور پر ایک دوسرے کے سیاسی مخالف سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی اور شیخ عبداللہ کے صاحبزادے عمر فاروق عبدللہ کی جانب سے سیاسی اختلافات کو بھلاتے ہوئے مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارتی کانوائے پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے جبکہ اِس کا انتقام کشمیری مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
درحقیقت ، پلوامہ متنازع دہشت گردی کے حوالے سے اکالی دل کے علاوہ بیشتر سکھ تنظیموں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ایک ممتاز سکھ دانشور اور بھارتی وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے سابق سفیر جناب ،کے ۔سی۔ سنگھ، نے ایک بھارتی چینل پر گفتگو کے دوران وضاحت سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کافی عرصہ سے چوہے بلی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے جبکہ گزشتہ آٹھ نو ماہ سے کشمیر کی سیاسی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے چنانچہ پلوامہ حملہ دہشت گردی ہے تو بھارتی اداروں کی جانب سے غفلت کا مظاہر کیوں کیا گیا کیونکہ ایسی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے انسداد دہشت گردی کے اداروں کیلئے آرام یا اطمینان کرنے کی قطعی گنجائش نہیں تھی۔اِسی حوالے سے بھارت کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل، ڈی ایس ہودا، جو ریٹائرمنٹ سے قبل انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مقبو ضہ کشمیر میں اہم ذمہ داری نباہ چکے ہیں پلوامہ حملے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُنہیں پلوامہ دھماکے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے چنانچہ وہ اُمید رکھتے ہیں کہ نریندرا مودی جنگی کاروائی کے بجائے کشمیر تنازع سے متعلقہ تمام امور پر سوچ و بچار اور مصالحت سے کام لیں گے۔ اِسی اَمر کا اظہار جب بھارتی پنجاب میں لوکل باڈیز کے وزیر جناب نجوت سنگھ سدھو نے انسداد دہشت گردی کے اداروں کی جانب سے پلوامہ حملے میں غفلت کا مظاہر ہ کئے جانے پر کہا کہ اِس حملے کا الزام پاکستان پر نہیں لگایا جا سکتا چنانچہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تو اُنہیں انتقامی کاروائی کے طور پر بھارتی چینل کے پروگرام سے نہ صرف ہٹا دیا گیا بلکہ مشرقی پنجاب اسمبلی اُن کے استعفیٰ کیلئے نعرہ بازی کی گئی۔ اِس اَمر سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے زور پر کشمیریوں کو محکوم بنانے کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری دہشت گرد ونگ، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، RSS کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے آر ایس ایس کے انتہا پسند فدائی نریندرا مودی نے بھارت کا وزیراعظم بنتے ہی مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی اُمنگوں کو طاقت کے زور پر دبانے کیلئے ہزاروں کشمیری نوجوانوں ، طلباء و طالبات اور سیاسی کارکنوں پر پیلٹ گنوں سے حملے کرکے اُنہیں اندھا کرنے اور معذور بنانے کا المناک سلسلہ شروع کیا تو اِس ظلم و تشدد کے ردعمل کے طور پر کشمیریوں کی پانچویں نسل میں بھی ایک فطری ردعمل ضرو پیدا ہوا ہے لیکن یہ ردعمل محدود پیمانے پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کے خلاف محدود پیمانے پر ہی دیکھنے میں آتا رہا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں پلوامہ حملہ بھارتی وزارت داخلہ اور آر ایس ایس کی مدد کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔
چنانچہ پلوامہ حملے کے جو شواہد اب تک منظر عام پر آئے ہیں اُن کی روشنی میں پلوامہ دہشت گردی کا مقصد پاکستان سے تعلق جوڑنا اور دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلائے جانے کی کوششوں کو مہمیز دینے کیساتھ ساتھ بھارتی حکومت کی اینٹی پاکستان الیکشن مہم جوئی کا حصہ ہی نظر آتا ہے جسے آر ایس ایس کے انتہا پسند چیف ڈاکٹر موہن بھگوت نے بھارت میں اپنے فدائی نریندرا مودی کی گرتی ہوئی شہرت کو ہندو انتہا پسندوں میں مقبول بنانے کیلئے ایک جانب تو سکھ فوجیوں کی بس پر حملہ انجینئر کرکے سکھ برادری میں پاکستان کی جانب سے کرتار پور کوریڈور کھولنے کے غیر معمولی فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے محبت کے جذبات کو مزاہمت میں تبدیل کرنیکی بدترین کوشش کی ہے اور دوسری جانب آر ایس ایس کے مسلح رضاکاروں نے بھارت کے طول و عرض اور جموں میں کشمیریوں پر حملے کرکے کشمیریوں کی آزادی کی اُمنگوں کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی ہے۔ اِسی دوران بھارت نے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑ کر جانے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے جسے جنگی جنون سے ہی تشبیہ دی جا سکتی ہے ۔یہ درست ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت سعودی عرب کی ہائی پروفائل قیادت یعنی پرنس محمد بن سلمان کے اہم اقتصادی دورے کی منتظر تھی جسے بھارت کی جانب سے مکروہ ترین پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی چنانچہ پاکستانی سیاسی قیادت نے بھارتی مذموم پروپیگنڈے کا جواب جلد بازی سے دینے میں گریز کیالیکن بھارت اپنی چناکیہ کوٹلیہ درفطنی سے باز نہیں آیا۔ چنانچہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کیساتھ اقتصادی میدان میں کامیابی ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرنے کے بعد بھارت کی سیاسی قیادت کو کہا ہے کہ اگر بھارت کے پاس پلوامہ حملے سے متعلق کوئی شہادت موجود ہے تو پاکستان مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن اگر بھارت جنگ کی بات کرتا ہے تو پاکستان بھارتی جنگی جنون پر غور نہیں کریگا بلکہ بھارت کو فوری بھرپور جواب دیگا۔ جناب عمران خان نے کہا ہے کہ جنگ شروع کرنا تو آسان ہے لیکن اِسے ختم کرنا بہت مشکل ہے لہذا بھارت کو جنگ کرنے کی بات سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔حقیقت یہی ہے کہ جناب عمران خان کی جانب سے بھارت کو دئیے گئے جواب پر تمام پاکستانی قوم عمران خان اور پاکستان فوج کی پشت پر کھڑی ہے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریگی ۔
البتہ تقسیم ہند کے بعد سے ہی بھارتی حکومت کا چناکیہ کوٹلیہ منافقت آمیز فکری رجحان نے وقت گزرنے کیساتھ ایک پختہ عادت کی شکل اختیار کرلی ہے۔ چنانچہ بھارتی اداروں کی سیکیورٹی غفلت کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال یاخود بھارتی ہندو توا تنظیموں کی جانب سے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے ٹیلر (Tailor) کی گئی دہشت گردی کی وارداتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیق و تفتیش کئے بغیر ہی بھارت پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرکے بھارتی سفارت کار دنیا بھر میں متحرک ہو جاتے ہیں۔اِسی نوعیت کی تخریب کاری کی کاروائیاں بھارتی انتہا پسند تنظیمیں بھارتی فوج کی مدد سے ماضی میں سمجھوتہ ایکپریس، مکہ مسجد ، اور مالیگاؤں دھماکوں وغیرہ میں کر چکی ہیں۔ اگر پلوامہ دہشت گردی کے پس منظر میں جایا جائے تو یہی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ماضی کی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ RSS کی قیادت میں بھارتی سنگھ پریوار کی انتہا پسند تنظیمیں ایک ہو چکی ہیں اور اپنی درفطنی کو مہمیز دینے کیلئے بھارتی ادارے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کو تخریب کاری کے زور پر دبانے کیلئے دہشت گردی کی کاروائیوں میں نہ صرف مصروف ہیں بلکہ ڈِش انفارمیشن کے ذریعے اِس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے میں پیش پیش ہیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان میں الیکشن 2014 کے عام انتخابات کے موقع پر بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی سیکولر آئین کیمطابق محض ایک آزاد سیاسی جماعت ہونے کی اُس وقت واضح تردید ہوگئی تھی جب بی جے پی کے عسکری دہشت گرد ونگ (RSS) کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت نے گانگریس حکومت کو شکست دینے کیلئے ایک ہندو توا منصوبے کے مطابق بھارت ماتا کو سیکولر آئین کے بجائے ہندو ریاست بنانے کے انتہا پسند ایجنڈے پر عمل کرنے کیلئے بی جے پی کی چوٹی کی سیاسی قیادت بشمول سابق وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی ( وفات پا چکے ہیں) کے علاوہ سابق نائب وزیراعظم ایڈوانی (جنہیں پارٹی میں دوبارہ کم تر عہدے پر فائز کردیا گیا ہے ) اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو پارٹی سے سبکدوش کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت کم شہرت یافتہ اپنے معتمد خاص راج ناتھ سنگھ کو سونپ دی تھی جبکہ الیکشن 2014 میں آر ایس ایس کے اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان ایجنڈے پر عمل کرنے کیلئے قیادت نریندرا مودی کو سونپ دی گئی تھی ۔ اندریں حالات ، قرائین یہی کہتے ہیں کہ گزشتہ برس بھارت کی پانچ ریاستی صوبوں میں بی جے پی کی شکست کے بعد صورتحال نریندرا مودی کے ہاتھ نکلتے دیکھ کر آر ایس ایس چیف موہن بھگوت نے بھارتی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے چیف راج ناتھ سنگھ کی مشاورت سے پلوامہ حملے کی تخلیق کی گئی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے پلوامہ حملے کے بعد سری نگر کا دورہ کیا ہے اور بظاہر اِس دورے کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں دو سیاسی مخالفین اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے اشتراک عمل سے مقبوضہ کشمیر میں نئی حکومت بنانے کو عملی شکل دینا ہے۔
گزشتہ ہفتے میں جہاں تک پلوامہ دہشت گردی سے متعلقہ بظاہر مصدقہ تفصیلات کا تعلق ہے ، بھارتی سیکیورٹی فورس ،سی آر پی سی، کے تقریباً پچیس سو اہلکاروں کو 78 بسوں میں نیشنل ہائی وے کے ذریعے 14 فروری کو روانہ کیا گیا تھا جسے چند گھنٹوں کے اندر ہی سری نگر پہنچنا تھا۔ بھارتی سیکیورٹی ضابطوں کیمطابق اِس ہائی وے کو عام ٹریفک کیلئے ہر کلو میٹر کے بعد بیرئیر لگا کر دو روز قبل ہی بند کر دیا تھا۔ البتہ ڈیوٹی کے مقام پر پہنچنے سے قبل ہی ایک بھارتی مہندرا گاڑی جس میں تین سو کلو گرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد لدا ہوا تھا کانوائے کے درمیان میں ایک بس جس میں بیشتر سکھ برادری کے اہلکار سوار تھے سے دھماکے سے ٹکر اگئی جس کے سبب تقریباً پینتالیس افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے۔ حیرت ہے کہ ہائی وے پر ٹریفک بند ہونے اور چپہ چپہ پر ٹریفک کنٹرول چیک پوسٹ ہونے کے باوجود اتنا زیادہ دھماکہ خیز مواد لے کر یہ گاڑی کیونکر کانوائے کے درمیان میں پہنچ کر ہندو افسران و اہلکاروں کو چھوڑ کر سکھ اہلکاروں کی بس سے جا ٹکرائی؟ سوال یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا کا پورہ ہائی سکول کا طالب علم اور رہائشی جس بائیس سالہ نوجوان عدیل احمد ڈار کو اِس دہشت گرد کاروائی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اُسے تو مصدیقہ میڈیا اطلاعات (کشمیر ٹائمز) کیمطابق بھارتی فوج نے ایک دہشت پسندانہ کاروائی میں اسلحہ سمیت ایک برس قبل گرفتار کیا تھا ۔ اِس اَمر کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں ہے کہ اِسے بعد میں رہا کیا گیا تھا تو تب بھی یہ نوجوان بھارتی انٹیلی جنس کی مانیٹرنگ کے حوالے سے اگر ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا تو بھارتی طریقہ واردات کے مطابق اِس کی ذمہ داری تو ریاستی اداروں اور اِس کیساتھ منسلک آر ایس ایس کے مسلح ایجنٹوں پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ نریندرا مودی حکومت دور میں اِس طرح کی کاروائیاں بھارتی وزارت داخلہ اور موہن بھگوت کی آر ایس ایس کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں ہیں ۔
درج بالا تناظر میں بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو دہشت گردی کے حوالے سے ماضی میں کانگریس حکومت سے منسلک سابق بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کا یہ بیان کہ بھارت کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ آر ایس ایس کے کیمپوں میں دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے کا مغربی دنیا کو بھی نوٹس لینا چاہئیے تھا کیونکہ سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ بھارت میں سنگھ پرئیوار پر مثتمل ہندو انتہا پسند تنظیموں کے تربیتی کیمپوں اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ بھارت کے سیکریٹری داخلہ ، آر کے سنگھ نے مبینہ طور پر راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے دس انتہا پسند ہندوؤں کی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے کی تائید کی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد مقتدر بھارتی حلقوں کی جانب سے ایسا پہلی مرتبہ ہی تسلیم کیا گیا تھا کہ بھارت کے اندر بیشتر دہشت گردی کی کاروائیاں آر ایس ایس کی قیادت میں سنگھ پرئیوار سے منسلک سیاسی اور دہشت گرد تنظیمیں ہی کراتی ہیں ۔ ممبئی حملے سے قبل متعدد دہشت گردی کی کاروائیوں بشمول سمجھوتہ ایکسپریس ، مالے گاؤں ، مکہ مسجد اور دہلی بم دھماکوں میں بھارتی انسداد دہشت گردی کی ٹیم کے دو باضمیر افسروں ہیمنت کراکرے اور سالسکر کی غیرجانبدارانہ تفتیش کے دوران اصل حقائق سامنے آنے پر یہ بات عیاں ہو گئی تھی کہ دہشت گردی کی اِن واقعات میں پاکستانی شدت پسند تنظیمیں یا ISI نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت یافتہ انتہا پسند ہندو توا تنظیمیں جن میں ،آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد اور شیو سینا کے تربیت یافتہ کیڈر ملوث ہیں جنہیں بھارتی فوج اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی RAW کے افسران کی حمایت حاصل ہے ۔ حیرت ہے کہ جب بھارتی فوج سے منسلک چند انتہا پسند افسروں بشمول کرنل پروہت کی سمجھوتہ ٹرین دہشت گردی میں ملوث ہونے پر گرفتاری کے بعد باضمیر بھارتی تفتیشی آفیسر ہیمنت کراکرے اور سالسکر کو اِن تفتیشی انکشافات کی پاداش میں اُنہیں ممبئی دہشت گردی کے دوران آر ایس ایس کے مارک مین کے ذریعے قتل کراکے اِس کی ذمہ داری بھی اجمل قصاب پر ڈال دی گئی جس سے آج بھی ہیمنت کراکرے اور سالسکر کی فیملی متفق نہیں ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی عسکری تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کی قیادت میں ہندو دہشت گردی کے تربیتی کیمپ عرصہ دراز سے بھارت میں کام کر رہے ہیں ۔ جس کی تصدیق 1972 میں آنجہانی جے پرکاش نرائن نے پٹنہ میں آر ایس ایس کے تربیتی کمپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں یہ کہتے ہوئے کی تھی کہ بھارت میں اگر کوئی طاقت پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھارت کے ساتھ ملا کر اکھنڈ بھارت بنا سکتی ہے (جس کے مسلح کارکنوں کی تعداد دس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے) وہ صرف اور صرف، آر ایس ایس، ہی ہے جس کی شدت پسندی کا اندازہ اِس اَمر سے لگایا جا سکتا ہے کہ، آر ایس ایس، کے انتہا پسند ہندوؤں نے تقسیم ہند کے بعد دہلی اور بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور جب کانگریس پارٹی کے حمایت یافتہ کارکنوں کو بھی نہیں بخشا گیا تب اِس انسانی قتل عام کو روکنے کیلئے مہاتما گاندہی نے برت رکھنے کااعلان کیا توہندو مہا سبھا چھوڑ کر، آر ایس ایس ، میں شامل ہونے والے انتہا پسند لیڈر نتھو رام وینائک گوڈژی نے مہاتما گاندہی کو دن دیہاڑے قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا، چنانچہ یہی عمل ہیمنت کراکرے اور سالسکر کے ساتھ بھی ممبئی حملے کے دوران دھرایا گیا کیونکہ اِن باضمیر ہندو افسران نے بھارت میں بیشتر دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار تحقیق و تفتیش کے بعد بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیموں کو ٹھہرایا تھا جس کی تائید سابق بھارتی وزیر داخلہ کمارشندے اور سابق بھارتی سیکریٹری داخلہ نے کی تھی جس کے بعد اُنہیں بھی ،آر ایس ایس ، کے متعصب اور منظم پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
در حقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ آر ایس ایس کی بھارت کے طول و عرض میں ریاستی پالیسی معاملات میں دخل اندازی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ کانگریسی وزیراعظم من موہن سنگھ کے زمانے میں ، آر ایس ایس ، کے سابق چیف سدھرشن سنگھ کی قیادت میں چترکوٹ میں منعقد ہونے والے عالمی کنونشن میں سنگھ پریوار کی تنظیمیں بھارتی فوج اور آر ایس ایس کے مابین اشتراک عمل کی تصدیق کر چکی ہیں ۔ ،آرایس ایس، بھارتی مسلمانوں پر حملے کرنے کے علاوہ بھارت میں عیسائی مشنری اداروں اور گرجا گھروں پر حملوں اور عیسائی پادریوں کو زندہ جلانے کے واقعات میں بھی ملوث رہی ہے چنانچہ امریکہ میں دہشت گردی کے امور پر تحقیق کرنے والے ایک اہم تھنک ٹینک (Terrorism Rsearch center) نے 2006 میں ،آر ایس ایس، کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل کیا ہے جسے ایک حالیہ رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس نے بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے ۔ اِسی طرح جب من موہن سنگھ کے دور حکومت میں بھارت اور پاکستان کے مابین کنڑول لائین پر سرحدوں کو نرم کرنے اور سیاچین سے بھارتی فوجیں واپس بلانے کا معاملہ درپیش آیا تو مسئلہ کشمیر پر انتہا پسند ہندوؤں کی شدت پسندی کا اندازہ RSS کی اکیاسی ویں سالگرہ کے موقع پر چتر کوٹ میں تین روزہ کنونشن کے اختتام پر 25 اکتوبر 2005 میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد سے کیا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا کہ سیاچین پر کنٹرول بھارت کی سٹریٹیجک ضرورت ہے اس لئے سیاچین سے فوجوں کی واپسی غیر ضروری اور احمقانہ شمار کرتے ہوئے مزاحمت کی جائیگی۔ کپواڑہ اور بارہ مولہ کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا ، وادی میں کھلی سرحدوں ، اور مشترکہ انتظامیہ کی تجاویز ، بھارت ماتا کے مفادات اور یکجہتی کے منافی ہیں ۔ اس قرارداد میں بھارتی حکومت کو متنبہ کیا گیاتھا کہ ملک کی دفاعی اور علاقائی سلامتی پر پاکستان کیساتھ کسی سودے بازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ چنانچہ بھارتی فوج میں آر ایس ایس کے اثر و رسوخ کی بناہ پر من موہن سنگھ بات چیت کے پروسس سے پیچھے ہٹ گئے۔ اندریں حالات مودی سرکار کو الیکشن 2019 میں کامیاب کرانے کیلئے پلوامہ دہشت گردی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے چیف اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے اگر بھارت پاکستان کو پلوامہ حملے کی مشترکہ تفتیش کی اجازت نہیں دیتا تو پھر پلوامہ دہشت گردی کی تحقیق و تفتیش درج بالا پش منظر میں بین الاقوامی تفتیشی اداروں کی نگرانی میں کی جانی چاہیے۔

2

PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)

Loading…



اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

انگریزیاردو




راناعبدالباقی،آتش گل، کشمیر