اربوں کی بچت کا دعویٰ اور شہباز شریف

رانا عبدالباقی

Thursday، 11 October 2018

گزشتہ دس برسوں سے تخت لاہور پر حکمران سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بل آخر قانون کی زد میں آ گئے ہیں چنانچہ اُن ہی کی پارٹی کے بنائے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے احکامات کی روشنی میں نیب لاہور نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کئی ماہ سے جاری انکوائیری کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف وشاہد خاقان عباسی کے خصوصی سیکریٹری فواد حسن فواد جو متعدد مقدمات میں پہلے ہی نیب کے زیر تفتیش ہیں سے میاں شہباز شریف کا مکالمہ کرائے جانے کے بعد کہ میاں صاحب جو کہتے تھے وہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں، شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کرکے نیب کورٹ لاہور میں جسمانی ریمانڈ کیلئے پیش کرکے دس دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔جبکہ میاں شہباز شریف یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں اور اِسی دعوے کا اعادہ اُنہوں نے نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پر بھی کیا کہ اُنہوں نے پنجاب کے ڈیویلپمنٹ پروجیکٹس میں اپنی نیند اور صحت کا خیال نہ رکھتے ہوئے اربوں روپے کی بچت کی ہے لیکن اُن کی سیاسی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے اُنہیں اِس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔اُن کی نیند اور صحت کے حوالے سے عوام یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ اُن کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ میں موجودگی کے باوجود ماڈل ٹاؤں میں ہی علامہ طاہر القادری کے ادارے پر خلاف قانون پولیس ایکشن کے دوران گیارا بیگناہ افراد بشمول خواتین کو قتل کیا گیا اور درجنوں نوجوانوں، بزرگ افراد اور خواتین کو پولیس تشدد کے ذریعے زد و کوب کیا گیا جس کے مناظر کئی گھنٹوں تک تمام ہی نجی ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائے جاتے رہے ۔ حیرت ہے کہ پل پل کی خبر رکھنے کے دعوے دار سابق وزیراعلیٰ پنجاب اِس غیر قانونی آپریشن سے بے خبر ہی رہے۔ اِسی طرح نیب کے موجودہ مقدمے میں حراست میں لئے جانے پر اپنی گرفتاری کو سیاسی قرار دینے کے باوجود جناب شہباز شریف اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران پنجاب صوبائی انتظامیہ کے نظام سے ہٹ کر پنجاب حکومت کی ڈیویلپمنٹ اسکیموں پر عمل درامد کیلئے 56 پرائیویٹ کمپنیاں تشکیل دیئے جانے میں اہم کردار ادا کرنے اور اِن کمپنیوں میں تعینات کئے جانے والے افسران کی تنخواؤں میں گراں قدر اضافہ کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے کیسے انکار کر سکتے ہیں جس کے سبب اِس اضافے سے محروم بیشتر سرکاری ملازمین میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی۔ چنانچہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے میاں شہباز شریف کی گرفتاری سے قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب میاں ثاقب نثار کی جانب سے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اِن چہیتے سرکاری ملازمین کی تنخواؤں میں اِس غیر معمولی اضافے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 31 کروڑ سے زیادہ رقم کی وصولیابی کرکے یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی جبکہ بقایا افراد سے اِس غیر قانونی رقم کی وصولیابی کیلئے نیب کو کہا گیا کہ وہ اِن افراد کے خلاف مقدمات قائم کریں ۔ ایں چہ بوالعجبی است؟
دراصل شہباز شریف کے اربوں روپے بچائے جانے کے دعوے کے برخلاف سول سوسائیٹی اور قومی عوامی حلقوں میں یہی سوال قائم کیا جا رہا ہے کہ اِن 56 کمپنیوں کے بجٹ میں بغیر پلاننگ کے یہ اضافی رقومات کیونکر مختص گئی تھیں اور سرکاری چہیتوں کی تنخواؤں میں یہ گرں قدر اضافہ کس قانون کے تحت کیا گیا تھا جس پر بیشتر سیاسی جماعتوں اور قومی دانشور حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی ؟ چنانچہ کچھ غیر قانونی معاملات کے پریس میں آ جانے پر اِس صورتحال کو بظاہر کور اَپ کرنے کیلئے ایسی کچھ رقومات کو نام نہاد بچت کے طور پر پیش کر دیا گیا۔ یہاں مسئلہ رقومات کے بچانے کا نہیں بلکہ اختیارات کے غلط استعمال کے سبب قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا ہے کیونکہ کچھ ذرائع کیمطابق اِن اسکیموں میں بچائی جانے والی رقومات سے کہیں زیادہ زیادہ رقومات مبینہ طور پر کرپشن کی نذر ہوئیں ہیں جس کی تائید عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئیں قومی آڈٹ رپورٹس سے بھی ہوتی ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ گزشتہ دس برس سے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک سابق حکمران اگر بیگناہ ہیں تو اُنہیں اپنے ہی بنائے ہوئے قومی احتساب بیورو کے قانون کے سامنے سرنگوں ہوکر اپنی بیگناہی کے ثبوت پیش کرنے میں کیا قباحت ہے اور اِن مقدمات کو سیاسی رنگ دینے کیلئے عوام کو گمراہ کن سیاسی پروپیگنڈے کے ذریعے احتساب قانون سے بدظن کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے جبکہ عام آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے ملک کو بیرونی اور گردشی قرضوں کے جال میں پھنسا کر ملکی معیشت کو تباہی کے غار میں دھکیل دیا ہے ، اِسی لئے گزشتہ کئی ماہ سے غیرملکی ادارے پاکستانی معیشت کو انتہائی نگہداشت کے حوالے سے مانیٹر کر رہے ہیں اور بیرونی میڈیا میں پاکستانی اشرافیہ اور سابق حکمرانوں کی بیرون ملک دولت اور پراپرٹی کے داستانیں کرپشن کا تڑکہ لگا کر پیش کی جا رہی ہیں ۔ یہ اَمر انتہائی ناقابل فہم ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے سابق اشتہاری وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو خود مسلم لیگی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملکی آئین و قانون کو پس پشت ڈالتے ہوئے وزیراعظم کے سرکاری جہاز میں ملک سے فرار ہونے میں مدد کی جبکہ اُن کے خلاف کرپشن مقدمہ کی سماعت احتساب کورٹ میں جاری تھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسحق ڈار نے ہی وزیر خزانہ کے طور پر اِن 56 کمپنیوں کیلئے بھی غیرملکی اور گردشی قرضوں کی منظوری دی تھی۔
حیرانی کی بات ہے کہ ایک جانب تو سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار ملک سے مفرور ہو کر سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے گریزاں ہیں اور بدستور لندن میں آرام فرما رہے ہیں جبکہ مسلم لیگی حاشیہ بردار اُنہیں ملک کا خیر خواہ قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کن سیاسی پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق چھپانے کی کوششوں میں بدستور مصروف ہیں۔ اِس سلسلے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹ کے دو ارکان نے گزشتہ روز اپنے بیانات میں حقائق کے برخلاف قوم کو خوبصورت دھوکے بازی سے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈان لیکس کمیشن رپورٹ کے حوالے مسلم لیگ (ن) کی اپنی ہی ن لیگی حکومت کی جانب سے سبکدوش کئے جانے والے سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے پاکستانی معیشت کی تباہی کے ذمہ دار سابق وزیر خزانہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ اسحق ڈار نے پاکستان کی خدمت کی ہے ، کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے اور پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو مضبوط بنایا ہے۔ شاید سینیٹر پرویز رشید کو اِس اَمر سے آگہی مل گئی ہو کہ اسحق ڈار اب انٹر پول کی مدد سے مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے پاکستان لائے جانے والے ہیں۔اِسی حوالے سے ایک اور مسلم لیگ سینیٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ اسحق ڈار نے ملکی معیشت کو مضبوط کیا تھا اور اُن کی خدمات کو بین الاقوامی اداروں نے بھی سراہا ہے۔البتہ یہ اَمر پاکستانی سول سوسائیٹی کیلئے ناقابل فہم ہے کہ اگر اسحق دار کی پاکستان کیلئے قابل قدر خدمات ہیں تو اُنہیں نیب کورٹ میں زیر سماعت مقدمات سے فرار ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر ملکی دولت غیرممالک میں منتقل کرنے کے حوالے سے پاکستانی اداروں کی جانب سے کی گئی تحقیق و تفتیش کیمطابق پاکستانی اشرافیہ کی بیرون ملک تقریباً دس ہزار جائیدادوں کا بخوبی سرغ لگا لیا گیا ہے جبکہ اِن جائیدادوں میں عرب امارات کے علاوہ لندن میں بھی اسحق ڈار کے چند فلیٹس کا سراغ بھی لگایا گیا ہے ۔ صد افسوس کہ سابقہ پاکستانی حکمران دعویٰ تو اربوں کی بچت کا کرتے ہیں لیکن بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اُنہوں نے بیرون ملک اپنی دولت کو چھپانے کیلئے قومی معیشت کو کرپشن کا نشانہ بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرکے کو غیر ملکی آقاؤں کی غلامی دینے کی شعوری یا لاشعوری طور پر سازش کی ہے جس کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔

66

PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)

Loading…



اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

انگریزیاردو




راناعبدالباقی،آتش گل