آخر اوبامہ نے کہہ ہی دیا کہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ پاکستانی رابطوں کے بارے میں انٹیلیجنس اطلاعات زیادہ مضبوط نہیں تاہم پھر بھی پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ جاری رہے گا۔
اگرچہ امریکی لہجے میں تبدیلی محسوس کی جارہی ہے اور مائیک مولن کے بیان کے بعد جو تیزی اور نخوت دکھائی جا رہی تھی اُس میں کچھ کمی آئی ہے لیکن اب بھی وہ پاکستان کے اوپر دبائو ڈالنا اپنا فرض سمجھ رہے ہیں جس کا اظہار اوبامہ کے بیان سے ہو رہا ہے مائیک مولن تو رخصت ہوئے اب دیکھئے جنرل مارٹن ڈیمسی ان کے مکروہ عزائم کو کس انداز میں آگے لے کر چلتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ امریکی صدر جو بھی ہو ،ان کی فوج کا سربراہ جو کوئی بھی ہو فی ا لحال وہ طاقت کے نشے میں مست مسلمانوں کے خلاف اسی طرح نبرد آزمارہیں گے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ خود مسلمان اُن کے دست و بازوبنے ہوئے ہیں ۔کابل میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے کرزئی اس کے اشارے پر ہی پاکستان کو موردِالزام ٹھہرارہا ہے برہان ا لدین ربانی کی خود کش دھماکے میں ہلاکت سے لے کر ہر دھماکے کی ذمہ داری وہ پاکستان پر ڈال رہا ہے اور آئی ایس آئی کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کو اپنی شکست کے لیے کوئی جواز چاہیے کیونکہ وہ جس نشے میں مست ہو کر افغانستان آیا تھا کہ روسی جنگ کے بعد تباہ حال اس ملک کو بڑی آسانی سے فتح کر لے گا لیکن ایسا ہوا نہیں اور وہ لوگ جو جدید دنیا کی تعلیم سے کم آشنا تھے جن کا ایک بہت بڑا تناسب خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش لوگوں پر مشتمل ہے ان ہی لوگوں نے اس سُپر پاور کو ناکوں چنے چبوا دیئے اور فی الوقت گیارہ سال تک جنگ لڑنے کے بعد بھی وہ انہیں زیر نہ کر سکے اور مستقبل قریب میں بھی اس کے آثار نظر نہیں آرہے تو اس کو اس عظیم الشان شکست کی کوئی توجیہہ تو چاہیے ہی تھی اور آئی ایس آئی کی صلاحیتوں کا اُسے بھی اندازہ بھی ہے اور دنیا کو بھی لہذا اُس نے کیا یہ کہ ہر واقعے کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو گرداننا شروع کر دیا چونکہ اُس کو اس بات کا بھی مسلسل دکھ ہے کہ پاکستان نے ایٹمی قوت کیوں حاصل کی اور اس نے اس بم کو پہلے ہی دن اسلامی بم کا نام دیا۔ امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ آئی ایس آئی اور پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں کامیابی حاصل کرنا تو درکنار اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا لہٰذا بہر صورت دبائو بڑھایا جائے اور پاکستان کے خلاف بہانے تراشے جائیں ۔ حقانی نیٹ ورک بھی ایسا ہی ایک بہانہ ہے جسکے ساتھ روابط کو بہانہ بناکر امریکہ آگے بڑھنا چاہ رہا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ یہ روابط تو خود صدر امریکہ کے مطابق بھی ثابت شدہ نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف یہ بات ثابت شدہ ہے کہ یہی حقانی نیٹ ور ک بمعہ دوسرے مجاہد لیڈروں اور گروپوں کے امریکہ کی پیداوار ہیں اور اس کے منظور رہے ہیں لیکن آج جب وہ اس کے مفادات سے متصادم ہو رہے ہیں تو وہی جلال الدین حقانی جو وائٹ ہائوس تک پہنچ رکھتے تھے آج ان کی نظروں میں متعوب ٹھہرے ہوئے ہیں اور انہی سے روابط کے غیر ثابت شدہ الزام میں پاکستان کے خلاف گرمی بھی پیدا کی جا رہی ہے اور پاکستان پر ایک اور فوجی آپریشن کے لیے دبائو بھی بڑھایا جا رہا ہے جبکہ اس سے پہلے بھی پاکستان پچھلے گیارہ سال سے امریکی مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے اور اپنے شہریوں ،فوجیوں ،پولیس اور دیگر اہلکاروں کی جانوں کی قربانی دے رہا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ جب چاہے پاکستان پر برس پڑتا ہے۔یہ برسنا صرف زبانی نہیں ہوتا بلکہ عملا بھی ہمارے شہری اسکے ڈرون حملوں کی زد میں رہتے ہیں اور اب تک وہ 258 ڈرون حملے کر چکا ہے جس میں بہت بڑی تعداد میں عام لوگ مارے گئے۔ دراصل امریکہ ہماری ہی مدد سے ہمارے ہی خلاف جنگ لڑ رہا ہے بظاہر تو اس کا تیل ٹینکروں میں جاتا ہے لیکن اس کے ٹریلر اور ٹینکرز افغانستان پہنچتے پہنچتے راستے میں اور بالخصوص سرحدی علاقوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں اس کا اندازہ لگانا اس لیے مشکل نہیں کہ اتنی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود ،گاڑیاں اور تنخواہیں کیسے دہشت گردوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ امریکہ اپنی اس جنگ کے لیے ہمارا مکمل محتاج ہے پھر ہم کیوں اُس کی دھمکیوں میں آجاتے ہیں کیا ہمارے اندر بھی وہ کمزوری ہے جو قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔پچھلے تجربات کی روشنی میں اے پی سی کے نتائج سے اگر چہ بہت ساری امیدیں لگا لینا بھی عقل مندی نہیں ہے لیکن اتحاد کے اس ایک مظاہرے نے کم از کم امریکہ کو اپنا لہجہ بدلنے پر مجبور کر دیا اور وہ روابط جن کا الزام لگا کر بظاہر وہ ہم پر حملہ کرنے کو تیار تھا اُن الزامات کی صحت پر اب وہ شک کا اظہار کر رہا ہے ۔ اس کی وزیرخارجہ جو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کو یاد رکھ کر پاکستان کو بھول رہی تھیں اب پاکستان کے کردار کا کچھ ہی سہی اظہار کر رہی ہیں ۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس اتفاق کو برقرار رکھ سکیں اور کم از کم دنیا کو اور امریکہ کو یہ پیغام دے سکیں کہ پاکستان پر حملہ اتنا آسان نہیں ۔اسکی فوج تو فوج اسکے عوام بھی یہ ٹکر لینے کی ہمت رکھتے ہیں اور ہماری امن پسندی کو ہماری مجبوری نہ سمجھا جائے اور امریکہ اگر افغانستان، جو ایک ’’ بے فوج‘‘ ملک ہے میں گیارہ سال سے لڑتی ہوئی جنگ نہ جیت سکا بلکہ بد ترین شکست سے دوچار ہے تو پاکستان کی پیشہ ور فوج کو کیسے زیر کر سکتا ہے ۔ اب حکومت پاکستان کو مزید ہمت کرنے کی ضرورت ہے اور امداد کی لعنت سے بھی خود کو آزاد کر نا ہے۔ بلکہ ہمیں تو امداد کی ضرورت ہی نہیں اگر ہمارے اہل سیاست اپنے اثاثے اپنے ہی نام سے پاکستان میں منتقل کر دیں اور یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم نے تاریخ میں اپنا نام بہادر رہنمائوں اور عظیم قوم کی حیثیت سے رقم کر نا ہے اور نہ صرف اوبامہ اور امریکہ کا لہجہ بدلنا ہے بلکہ تاریخ کے الفاظ بھی بدلنے ہیں کیونکہ خداتعالیٰ ان قوموں کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت نہیں بدلتے۔

3,187
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 10
Loading...