ہماری مغربی سرحدوں پر آباد قبائل اپنی مخصوص روایات اور ثقافت رکھتے ہیں ان کی تاریخ کا جو سب سے نمایاں پہلو ہے وہ یہ ہے کہ کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔ برصغیر میں آنے والے تمام فاتحین ادھر سے گزر کر ہندوستان میں داخل ہوئے لیکن نہ تو سکندر انہیں غلام بنا سکا نہ بابر نہ ہی انگریز یہ سعادت حاصل کر سکا۔ یہ لوگ اپنے عقائد میں انتہائی پختہ اور رسوم و رواج میں سخت گیرہیں۔ اگرچہ آزاد فطرت ہیں غلامی قبول نہیں کرتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وفا داری اور جاں نثاری ان کی گھٹی میں شامل ہے اور انہی قبائلیوں کے ہی دم سے پاکستان کو اپنے قیام ہی سے اپنی مغربی سرحدوں کی فکر نہ کرنا پڑی اور یہ لوگ باوجود اسکے کہ ڈیورنڈ لائن کے دوسری طرف بھی انکے ہم نسل آباد تھے ان لوگوں نے اس سرحد کی حفاظت دل و جان سے کی اور کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ اس طرف سے ہمیں کوئی نقصان پہنچا سکتا۔ یہ لوگ اپنے رسوم و رواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور نہ ہی مذہب پر اور اگر آج ہم ان علاقوں میں بدامنی دیکھتے ہیں تو اس کی کچھ وجوہات بھی ہیں لیکن یہ بات اب بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی پاکستان سے وفاداری اب بھی مسلّم ہے اور ہر قسم کے حالات کے باوجود انہوں نے حکومت سے مخالفت کو ملک مخالفت کا رنگ نہیں دیا۔ اگر خدانخواستہ اب بھی ملک کو ضرورت پڑی تو یہ لوگ 1948کے جہاد کشمیر کی طرح پہاڑوں سے اتر کر میدانوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
آج کے قبائلی علاقہ جات میں دوسری اہم قوت طالبان ہیں۔ دراصل یہ طالبان بھی یہاں کی پیداوار نہیں بلکہ یہ بھی افغانستان کے مجاہدین اور طالبان حکومت کی باقیات ہیں۔ 1996سے 2001تک افغانستان کے زیادہ حصے پر ان کی حکومت رہی ملا محمد عمر ان کے سربراہ رہے۔ طالبان حکومت کے خاتمے پر یہ لوگ بکھر گئے تاہم انہوں نے پھر خود کو منظم کیا اور افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی اثر و رسوخ حاصل کیا اور ان کے چھوٹے چھوٹے گروپوں کو بھی خواہ مخواہ کی میڈیا پروجیکشن دی گئی اور ساتھ ہی شہرت اور لیڈری کے شوقین افراد نے طالبان کا گٹ اپ بنا کر خود کو طالبان کہنا شروع کردیا۔ یہی کچھ عام جرائم پیشہ افراد نے کیا اور یوں طالبان کی بے شمار اقسام اور بے شمار گروپ بن گئے بلکہ ہر گروپ جو اگر پہلے سے بھی کسی مذہبی جدوجہد میں مصروف تھا سب نے خود کو طالبان کہنا شروع کر دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ایک فقہ پر متفق بھی نہیں ہیں اور ایک کہنے والے نے یہ بھی کہا کہ ان میں سے بہت سے اسلامی ارکان کی تفصیلات تک سے واقف نہیں۔ اصل میں تو یہ اپنی جدوجہد کا مقصد اسلامی قوانین کی ترویج قرار دیتے ہیں لیکن اس کے لئے جو طریقہ اپناتے ہیں وہ بہت سارا غیر اسلامی ہے۔ عورتوں کی تعلیم کے بارے میں ہی ان کے نظریات لیجے روزانہ لڑکیوں کے سکولوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے۔باوجودہ عالم ہونے کا دعویٰ کرنے کے یہ لوگ کیا یہ نہیں جانتے کہ اسلام عورتوں کی تعلیم پر پابندی عائد نہیں کرتا ورنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کا خواندہ ہونا معیوب ٹھہرنا، حضرت رفیدہ رضی اللہ عنہ کا علم طلب جاننا بھی ناپسندیدہ ہوتا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ مردوں تک تعلیم دینے کا اہتمام نہ کرتیں۔ اگرچہ ان علاقوں کے لوگ اسلام پر سختی سے عمل کرتے ہیںلیکن ایساہر گز نہیں ہے کہ یہاں کے تمام لوگ طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔ طالبان جو کوئی بھی ہیں جہاں سے بھی آئے اور جن بھی نظریات کے حامل ہیں سوال تو یہ ہے کہ ان کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آیا۔
ایک اور گروہ جو دراصل نہ تو طالبان ہیں اور نہ اصل قبائل بلکہ ان کا کام دہشت گرد کاروائیاں کر کے خوف و ہراس پھیلانا ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر کے عدم استحکام پیدا کرنا ہے انکے پاس وافر مقدار میں موجود غیر ملکی اسلحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں غیر ملکی ہاتھ استعمال کر رہا ہے۔ اس کی مثال سوات اور بلوچستان سے ملنے والا جدید غیر ملکی اسلحہ ہے۔ان تمام حالات کی آڑ لے کر کچھ عام جرائم پیشہ افراد نے بھی اپنی کاروائیاں شروع کر رکھی ہیں بلکہ لوگ اپنی ذاتی دشمنیاں بھی نبھارہے ہیں اور بعد میں یہ سب کچھ طالبان کے نام کر دیا جاتا ہے۔
ان تمام عناصر نے ملکر حالات کو ایک ایسے رخ پر ڈال دیا ہے کہ اصل مسئلے کی پہچان مشکل ہو گئی ہے۔ دہشت گردی اور ملک میں عدم استحکام اور امن و امان خراب کرنے کی ذمہ داری جس گروہ پر بھی ڈالی جائے لیکن دراصل یہ بات تشویشناک ہے کہ آخر ان لوگوں کے پاس اتنا جدید اور وافر مقدار میں اسلحہ کہاں سے آیا اور وہ مالی طور پر اتنے مستحکم کیسے ہوئے کہ وہ اپنی فوج رکھ سکیں اور یہ کوئی رضاکار فوج نہیں ہے بلکہ انہیں باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی ہیں گاڑیاں اسلحہ اور دوسری مراعات بھی دی جاتی ہیں اور چونکہ ان علاقوں کے لوگ عام طور پر غریب ہیں اور دوسری ضروریات اور سہولیات بھی یہاں کم کم مےّسر ہیں اس لئے یہ لوگ بخوشی اس نوکری پر راضی ہوجاتے ہیں۔ حالات درست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں کارفرما غیر ملکی ہاتھ کو روکا جائے اس میں سی آئی اے، خاد اور موساد کے ساتھ بلکہ سب سے بڑھ کر بھارتی خفیہ ایجنسی را یہاں سرگرم ہے اگرچہ اتنی زیادہ ایجنسیوں کو بیک وقت کاونٹرکرنا بے حد مشکل ہے لیکن علاج مشکل بھی ہوتو بھی کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں یہ جو خوف پھیلایا جارہا ہے کہ فلاں اور فلاں شہر پر طالبان کا قبضہ ہو جائے گا بلکہ کچھ عرصہ پہلے تو ایسا لگتا تھا کہ بس پشاور تو ہاتھ سے گیا یہ خوف بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلایا جارہاہے جبکہ پشاور جائیں تو وہ ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا ہاں اب پورے پاکستان کی طرح آٹے روٹی اور بھوک کی دوڑ ضرور نظر آئے گی لیکن حیرت ہے کہ یہ دوڑ طالبان گروپوں اور دہشت گردوں کے ہاں نظر نہیں آرہی ہاں عام قبائل ضرور اس کی زد میں ہیں۔حالات کے ان تمام رخوں کا تجزیہ اور پھر تدارک ضروری ہے اس کے لئے ہر گروپ کی پہچان ضروری ہے کہ کون کون ہے اور کہاں سے مدد لے رہا ہے اور کون انہیں استعمال کر رہا ہے اس میں الیکٹرانک میڈیا کو اپنا کردار بدلنا بھی ہوگا اور ادا بھی کرنا ہوگا۔ کسی کو کمانڈر کسی کو ڈپٹی کمانڈر کسی کو پی آر او کسی کو سپوکس مین کہہ کر ہم ان گروپوں کی آرگنائزیشن خود ہی کر دیتے ہیں اور پھر ان عہدیداروں کی اتنی تشہیر کر دی جاتی ہے کہ وہ خود بخود اہم ہو جاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ عوام کو بے خبر رکھا جائے لیکن خبر میں سنسنی پیدا کرنے کے لئے احتیاط کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے کیونکہ قومی سلامتی اور سا لمیت بہر حال سب سے مقدم اور اہم ہے۔
ان مسائل کی تہہ تک پہنچنے کے لئے قبائل کی مدد انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیںکہ کون کیا ہے اور ان سے کیسے نپٹا جاسکتا ہے ان میں سے جو جرائم پیشہ یا دہشت گرد ہیں یا کسی بھی طرح ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔ ان علاقوں کے لوگوں کے لئے حکومت کی طرف سے ترقیاتی کام ہونے چاہیے تا کہ لوگ طالبان کی نوکری کرنے پر مجبور نہ ہوں اور اپنی توانائی اور صلاحیتوں کو منفی نہیں بلکہ مثبت انداز میں استعمال کر سکیں۔

1,723
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...