اس وقت دنیا ایک شدید قسم کے دور سے گذر رہی ہے۔شدید اس لیے کہ اس میں مختلف نظریات کے حامل لوگوںمیں مخالفت میں سخت شدت پائی جاتی ہے اور نکتہء اعتراض تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی شدت پسندی کو تو خوب اچھالا جاتا ہے اور غیر مسلم دنیا اپنے تمام اداروں تمام ذرائع کی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاکر اس پروپیگنڈے میں مصروف ہے صرف زبانی جمع خرچ ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ مسلمانوں کے خلاف عملی ایکشن لیا جا رہا ہے اور جھوٹی سچی خبر کو اس کے لیے بنیاد بنایا جارہا ہے خاص کرامریکہ، اسرائیل اور بھارت کی سراغ رساں ایجنسیاں اس کام میں بڑھ چڑھ کر مصروف ہیں یہ اور بات ہے کہ ان اطلاعات کی صحت کیا ہے اور کتنی ہے۔خود مغرب اور اس کے مشرقی غیر مسلم دوست اپنی اس شدت پسندی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے۔
امریکی انٹیلیجنس ادار ے سی آئی اے نے طالبان اور القائدہ کے بارے میں بے شمار ’’بے بنیاد حقائق‘‘ کی طرح ایک بڑی حقیقت کا پتہ چلایا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی طالبان کی مدد کر رہی ہے اور اس کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ان کے کامیابی حاصل نہ کرنے کی وجہ آئی ایس آئی کا عدم تعاون ہے یعنی سی آئی اے اور امریکہ خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ ازخود کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں جب تک ان کی مدد نہ کی جائے۔
سی آئی اے اس سے بیشتر القائدہ اور طالبان کے بارے میں کئی اطلاعات حاصل اور فراہم کر چکا ہے جس میں کچھ تو انتہائی مضحکہ خیز قرار دی جا سکتی ہیں۔انہی میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اسامہ بن لادن کے۔ٹو کے سلسلے میں کہیں چھپا ہوا ہے۔9/11 کے واقعے کو ہوئے سات سال ہونے کو ہیں اور تب سے اسامہ بن لادن دنیا کا “مطلوب ترین” شخص ہے اور ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے صرف بلیک فنڈ کی مالک سی آئی اے جسے اپنے فنڈ کہیں سے بھی بڑھانے کی امریکی حکومت کی طرف سے مکمل اجازت ہے اپنے لامحدود ذرائع کے باوجود نہ تو اسامہ بن لادن کو پکڑ سکی نہ ایمن الظواہری کو اور نہ ہی نہ کسی اور مطلوب شخص کو۔اور نہ ہی کم از کم ماضی قریب میں اس کی کوئی اطلاع درست ثابت ہو سکی ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کی اطلاعات پر امریکہ نے دنیا کو تہہ و بالا کر ڈالا عراق کو ہی لیجیے جس کے بارے میں سی آئی اے نے ہی اطلاع دی کہ کیمیائی ہتھیار تیار کر رہا ہے لیکن نہ تو کوئی ایسی فیکٹری ملی نہ ہتھیار۔ہاں امریکہ کے خلاف نفرت ضرور پھیلی اور اس کی جگ ہنسائی کا سامان ضرور ہوا۔افغانستان کو فتح کرنے کے لیے طالبان کا ہوا کھڑا کیا گیاپھر دعویٰ کیا گیا کہ انتہائی مطلوب اسامہ بن لادن اس کے پہاڑوں میں چھپا ہوا ہے اور انسانوں سے بھری بستیاں ملیا میٹ کر دی گئیں صرف ایک شخص کو ڈھونڈنے کے لیے لیکن اسامہ کو نہ ملنا تھا نہ ملا نہ ہی ملا عمر ہاتھ آیا۔پھر سی آئی اے نے ان سب کو سرحد پار کرائی اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لابٹھایا لیکن یہاں بھی کوئی کامیابی اس کے نام نہ لکھی گئی تو اُس نے پاک فوج اور ایف سی کو طالبان کا ہمدرد کہنا شروع کیا۔امریکہ اور سی آئی اے کے سربراہ اور اس کے دیگر کرتا دھرتا ؤں کے ذہن میں یہ نہ آیاکہ اگر ایسا ہے تو پاکستان اپنے فوجی جوانوں کی قربانی کیوں دے رہا ہے کیوں اپنے دست و بازو کٹا رہا ہے۔آئی ایس آئی تو اس ملک کو بیرونی خطرات سے آگاہ کرنے کی ذمہ دار ہے نہ کہ اس میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اور جہاں تک افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا تعلق ہے تو امریکہ پاکستان سے پوچھ کر یہاں آیا تھا نہ ہی آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو معلومات فراہم کی تھیں میرے خیال میں پاکستان اور افواج پاکستان کا ہر ادارہ ضرورت سے زیادہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈال چکا ہے۔آئی ایس آئی جب افغانستان میں کردار ادا کر رہا تھا تو اُسے کوئی شکست نہ دے سکا اور دنیا کی دو میں سے ایک سپر پاور سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا کہیں ایسا تو نہیں کہ افغانستان میں سینگ پھنسائے دوسری سپر پاور آئی ایس آئی سے اسی خوف کا شکار ہے۔کیونکہ یہی ادارہ سی آئی اے، را اور موساد کو کاونٹر کیے ہوئے ہے اور اسی کا دست بازو ہے کہ کوئی کامیابی ان کے حصے میں نہیں آرہی۔را جسکے قیام کا سب سے بڑا مقصد ہی پاکستان مخالف کاروائیاں ہیں اور جو دنیا میں کہیں سے بھی کسی بھی قیمت پر اس کے لیے خدمات حاصل کر سکتا ہے مسلسل اس کوشش میں مصروف ہے کہ خدانخواستہ کسی طرح پاکستان کا وجود ختم کیا جائے یا اسے توڑ دیا جائے۔1971 کے واقعات میں را کی کامیابی سے زیادہ اُن فاصلوں کا عمل دخل تھا جو بیچ میں حائل تھے ورنہ پھراس کے وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔یہی حال موساد کا ہے جو اسلام کے قلعے کو فتح کرنے کے لیے ہر طرف سے کمند ڈال رہا ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ ان سب کے دا ؤ خالی جارہے ہیں اور اس کا کریڈٹ بلا شبہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ہی جاتا ہے۔اگر پاک فوج ہمارے دست و بازو ہیں تو آئی ایس آئی ہماری آنکھیں اور ہمارے کان ہیں۔یہ آنکھیں ہر وقت بیدار ہیں اوران کی نظروں سے کوئی چھپ نہیں سکتا اور یہ کان ہر وقت کھلے ہیں کہ سوئی کے گرنے کی آواز بھی سن لیتے ہیں۔اسے جو مشن دیا جائے اسے ہر صورت میں پورا کرتی ہے۔سی آئی اے تو ایک بیرونی قوت ہے اور اس وقت ایک ناکام طاقت کی حیشیت رکھتا ہے جو اپنی ناکامیوں کے لیے مختلف حیلے اور جواز ڈھونڈھتی ہے افسوس تو اُس وقت ہوتا ہے جب خود ہم لوگ اسکی خدمات بھلا کر اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں زیادہ تر اسکے سیاسی کردار پر تنقید کی جاتی ہے بات یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں اپنے دور میں اس ادارے کو کیوں اِن مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ابھی چند دن پہلے اس کے ساتھ جو سلوک کرنے کی کوشش کی گئی اس میں ملک کا نقصان ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک اداروں کو مضبوط کریں ان پر بے جا اور غیر ضرروی تنقید نہ کریں اور افواج پاکستان تو اس ملک کی محافظ ہیں ان ہی کے دم سے یہ ملک دشمنوں سے محفوظ ہے۔اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط اور مربوط ہوں تو دشمن ہمارے ان قابل صد احترام اور باعث فخر اداروں کے بارے میں بے بنیاد اور بے ہودہ الزامات لگانے سے گریز کرے گا اور بجائے اس کے کہ ہماری خدمات کو سراہا جائے ہر بار ہمیں تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے گا۔

4,304
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...