طالبان، طالبانائزیشن، سوات پر طالبان کا قبضہ بونیر پر طالبان کا قبضہ، تربیلہ تک طالبان کے پہچنے کی خبریں اسلام آباد اور طالبان کے بیچ میں صرف مارگلہ کی پہاڑیاں طالبان، طالبانائزیشن، سوات پر طالبان کا قبضہ بونیر پر طالبان کا قبضہ، تربیلہ تک طالبان کے پہچنے کی خبریں اسلام آباد اور طالبان کے بیچ میں صرف مارگلہ کی پہاڑیاں حائل ہونے کی افواہیں یا دھمکیاں۔ ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کہانیوں میں کچھ افسانہ بھی ہونگی اور کچھ حقیقت بھی لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ ہے کی یہ طالبان کون ہیں ان کو اس قدر اہمیت کیوں اور کس نے دی کہ یہ اہم ہوگئے اور ساتھ ہی طاقتور بھی۔
شریعت کا مطالبہ اس ملک میں نیا نہیں قرارداد مقاصد میں ہی ہم نے اس بات کا تعین کر لیا تھا کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اﷲ تعالیٰ کی ہے اور تمام قوانین اسکے تابع ہونگے۔ 1973 کے آئین کو اسی لیے متفقہ طور پر منظور کیا گیا کہ اس میں کوئی غیر اسلامی اور غیر شرعی شق شامل نہیں اور اسے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اسلامی اور شرعی قرار دیا۔اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ جاری رہا۔ لیکن اس مطالبے میں تشدد کا عنصر کبھی بھی نظر نہ آیا۔ افغانستان میں طالبان حکومت پھر اسکا خاتمہ اور امریکہ کا قبضہ یہ عوامل تھے جس نے پاکستان میں متشددانہ کاروائیوں کو جنم دیا۔ پھر جب پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا دور شروع ہوا تو ہر چینل نے اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ باخبر ظاہر کرنے کے لیے ایسے ایسے طالبان لیڈر ڈھونڈنکالے جن کو نہ تو کوئی جانتاتھا اور نہ ہی علاقے میں وہ کسی نمایاں حیثیت کے حامل تھے نہ صرف ان کو لیڈر بنا دیا گیا بلکہ ان کے ترجمان بھی ڈھونڈے گئے اور ان کو اتنی کوریج دی گئی کہ وہ قومی نہیں بین الاقوامی شخصیات بن گئے۔ عام لوگوں کا اس تحریک میں شامل ہونے کا سبب معاشرے میں سماجی ناہمواریاں اور خاص کر انصاف کی عدم دستیابی کو بھی قرار دیا جا رہا ہے لیکن اصل وجہ بندوق کی گولی اور جان کا خوف تھا ۔ دراصل اس گروہ میں طالبان کے نام پر ایسے عناصر بھی شامل ہوئے جنہوں نے اس تحریک کی آڑ میں اپنی ذاتی دشمنیاں نبھائیں اوریوں عام آدمی شدید طور پر خوفزدہ اور متاثر ہوا۔
ان طالبان نے حکومت کے خلاف کاروائیوں میں نہ صرف حکومتی املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ حکومتی اہلکاروں کو انسان نہ سمجھتے ہوئے ان کی جانوں کو بے دریغ ضائع کیا۔ اب خدا جانے ان کی شریعت میں انسانی جان کی کیا وقعت ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ قرون اولیٰ کے خوارج کی طرح یہ اپنی جان کے علاوہ کسی دوسری جان کو اہم نہیں سمجھتے جبکہ یہ اسلام کی ایسی تشریح کر رہے ہیں کہ جو قرآن و حدیث سے کہیں بھی ثابت نہیں بلکہ کہیں کہیں تو یہ متصادم نظر آتی ہے دراصل یہ طالبان کوئی علمی شخصیات نہیں بلکہ صوبہ سرحد میں مدرسے میں پڑھنے والے ہر طالب علم کو طالب کہا جاتا ہے جس کی جمع طالبان ہے لیکن مسئلہ اس سے بھی زیادہ گھمبیر یوں ہے کہ اب توہر ہتھیار اٹھانے والے نے خود کو طالبان کہنا اور سمجھنا شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی عالم اور مفتی بھی اور اپنی کہی ہوئی ہر بات کو فتوے کا درجہ دینے لگے۔ مولانا صوفی محمدنے کہا کہ اسلام میں صرف کالی پگڑی ہے جبکہ احادیث میں ہے کہ نبی پاک ﷺ فتح مکہ کے وقت سرخ منقش چادر کے ٹکڑے سے سر کو لپیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے حاشیہ والی چادر بھی اوڑھی اور تنگ بازؤں والا جبہ بھی پہنا یہاں تک کہ وضو کرنے کے لیے اوپر نہ ہوئے تو آستین کے اندر سے بازو نکال کر وضو فرمایا۔ ہماری جان آپ ﷺ پر قربان ہو ان کا ہر اسوہ ہر عمل ہمیں جان سے بھی عزیز ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے جو کام عموماًکیا صرف اسی کو جائز سمجھا جائے اور جو کبھی کبھار کیا اسکو ناجائز کہیں یوں تو حضرت عائشہؓ کے بقول یمنی چادر حِبْر آپ کا پسندیدہ لباس تھا تو کیا اب مسلمانوں کے لیے دوسری کوئی چادر یا لباس حرام ہے۔ خدا کے لیے اپنے علم کو درست کیجئے اسلام کو تنگ نظر ثابت مت کیجئے۔ میرے خیال میں یہی آپ کی اسلام کے لیے بڑی خدمت ہوگی۔ صوفی محمدصاحب نے فرمایا کہ اگر شریعت نافذ ہو تو خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اگرآپ اتنے ہی مومن ہیں تو پھر آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ حدیث پاک ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مومن مرد اور عورت پر فرض ہے اگر آپ کہیں کہ علم صرف دینی علم ہو تو آپ تاریخ اسلام پڑھ لیجئے آپ کو خواتین دوسرے شعبوں میں بھی سرگرم نظر آئیں گی میں نے پڑھا ہے کہ حضرت رفیدہؓ اچھی طبیب تھیں اور غزوات میں حضرت محمد ﷺکی ہدایت پر زخمیوں کو مرہم پٹی کے لیے ان کے پاس لے جایا گیا۔ اور مولانا صاحب اگر تعلیم اور بے حیائی میں فرق سمجھ لیں تو بہتر ہو گا اسلام نے تو عورت کو روزگار کے لیے بھی گھر سے نکلنے کی اجازت دی حوالے کے لیے آپ عبدﷲ بن مسعو ؓ جیسے جلیل القدر صحابی کی بی بی کا روزگار دیکھ سکتے ہیں اگرچہ کفالت کی ذمہ داری مرد کی ہے تاہم بوقت ضرورت پردے میں رہ کر عورت بھی کمائی کے لیے روزگار کر سکتی ہے۔
ایسی بہت ساری مثالیں آپ کو دور ر سالت سے مل سکتی ہیں لیکن لگتا ایسا ہے کہ طالبان کا اسلام صرف عورت پر پابندی کے لیے ہے اور یا صرف سزاؤں کے لیے۔دراصل یہ طالبان لوگ اسلام کا نام لیکر اقتدار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ امریکی بھارتی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر ان قوتوں کی مداخلت ثابت بھی ہو چکی ہے اور یہ بھی کہ یہ ساری قوتیں پیسہ پانی کی طرح بہا رہی ہیں۔ دکھ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ کس طرح یہ لوگ ان کے ارادوں کی تکمیل کر رہے ہیں اور ملک اور سب سے بڑھ کر مذہب کی تضحیک اور سبکی کا باعث بن رہے ہیں۔ مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب خود کو بہت دبنگ سمجھنے والے ٹی وی اینکران طالبان سے انٹرویو کریں تو ان سے یہ نہیں پوچھتے کہ کیا تمہیں کوئی غم روزگار بھی ہے کہ غم روزگار تو ابوبکرؓوعمرؓ نے بھی کیاکیا تم ان سے بڑھ کر قانع ہو۔ مولانا صوفی یہ تو فرماتے ہیں کہ اسلام میں مساوات ہے طبقاتی نظام نہیں مجھے آپ سے اتفاق ہے کہ اسلام میں مساوات ہے لیکن حقوق میں ورنہ اسلام نے حضرت عثمان غنیؓ سے مال لیکر حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ کو نہیں دے دیا۔لیکن کوئی مولانا صاحب سے یہ پوچھے کہ جب آپ گراسی گراونڈ میں خطاب کرنے تشریف لائے تو آپ ایک بڑی اور قیمتی گاڑی پر کیوں اور دوسرے لوگ پیدل کیوں آئے اور آخر آپ نے اتنی بڑی گاڑی خریدی کیسے۔ آپ کے پاس اتنا اسلحہ اور اتنی گاڑیاں کہاں سے آئیں اپنے تنخواہ دار طالبان کو دینے کے لیے اتنے پیسے کہاں سے آئے یہ طالبان کیسے لاکھوں اور کروڑوں کی باتیں کرتے ہوئے سنے جاتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ اسلام کی نہیں بلکہ امریکی ڈالروں کی جنگ ہے بظاہر تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے یہ کہتے ہیں کہ اسلحہ مسلمان کا اور پٹھان کا زیور ہے کیا اسلام یہ کہتاہے کہ اسلحہ کا یوں بے دریغ استعمال کیا جائے یا اسکا استعمال صرف جنگ میں ہے کیا ہم دور جاہلیت کے مکہ میں رہ رہے ہیں جہاں کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا اور کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا کیوں خدا نے شہر مکہ کو بلدالامین فرمایا۔ اور رہی بات اسلحہ پٹھان کا زیور ہونے کی تو میں خود پختون ہوں اور جتنے پٹھانوں سے میر ی بات ہوئی کوئی بھی طالبان کو اپنا ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ طالبان پختونوں کی ذلت کا باعث بن رہے ہیں۔یہ طالبان سرکاری اہلکاروں کو ذبح کر دیتے ہیں کہ اسلام میں مثلہ کرنے کی شدید ترین ممانعت نہیں پھر یہ کون سے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں کیا یہ اسلام کی مخالفت نہیں کیا اسلام کو بیرونی ایجنٹوں اور بیرونی قوتوں کی ایماء پر بدنام نہیں کیا جارہا ۔ اگر ایسا نہیں ہے توکیا کوئی طالبان لیڈر میرے ان سوالوں کا جواب دینا پسند کرے گا۔
ا۔ کیا آپ کے اہلکار شناخت چھپانے کے لیے نقاب نہیں پہنتے۔ کیا یہ غیر ملکی ہیں ۔
ب۔ آپکےذرائع آمدن کیا ہیں کیونکہ آپ تو بقول آپکے دین کی خدمت میں مصروٖف ہیں اور روزگاربھی نہیں کر رہے۔
ج۔ آپ کے پاس جدید آلاتِ مواصلات کہاں سے آئے۔
د۔ آپ اپنے اہلکاروں کو (جو ذرائع کے مطابق نتخواہ دار ہیں) تنخواہ کہاں سے دیتے ہیں۔
ر۔ آپ کوبارود،دوائیاں اورخوراک کہاں سے ملتی ہے۔
ز۔ آپ تو فقر کی بات کرتے ہیں آپ کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں کہاں سے آئیں۔
ظاہر ہے کہ یہ سب مقامی ذرائع سے تو مشکل ہی نہیں ناممکن ہے پھر آخر یہ سب کچھ طالبان کو کیسے میسر ہے کیا آزاد میڈیا ان حقوق کو سامنے لا سکتا ہے اور جس طرح اب تک اس نے حکومتی آپریشن کی مخالفت کی دہشت گردوں کو شہید اور فوجیوں کو ہلاک کہا۔یہ ایک حقیقت ہے اور سب لوگ اس کا برملا اظہاربھی کر رہے ہیں کہ میڈیا نے طالبان کو غیر ضروری پروجیکشن دی جیسا کہ میں نے پہلے کہا طالبان کے عہدے بھی میڈیا نے بنائے ہوئے ہیں کیا اب میڈیا اپنا نکتہ نظر تبدیل کر کے ملکی حالات کو سدھارنے میں اپنا کردار ادا کرے گاکیا اسلام کو جتنا نقصان ان طالبان کے ذریعے پہنچایا گیاہے میڈیا اس کا تدراک کر نے کی کوئی تحریک چلائے گا۔ اور طالبان کو بے نقاب کرے گا اگر ہاں تو کیا مزید دیر کی گنجائش ہے۔

2,285
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 6
Loading...