پاکستان اِن دنوں مشکل حا لات کا شکار ہے عوام کی جان اور خون اتنے ارزاں ہیں کہ ایک طرف سے امریکہ دوسری طرف سے دہشت گرد اس پر حملہ آور ہیں نہ سڑک محفوظ نہ مارکیٹ نہ حجرہ نہ مسجد۔ میڈیا بڑی تند ہی سے یہ خبر یں عوام تک پہنچا رہاہے بلکہ ہر چینل دوسرے سے پہلے نیوز بریک کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ انتہائی سرعت کے ساتھ ہر خبر ہم تک پہنچ جاتی ہے۔ حکومت کی بد انتظامی کے پول بھی عوام کے سامنے کھل رہے ہیں اور ہمارے ماورائی خوبیوں کے ساتھ مشہور ہونے والے رہنما اپنی اصل حقیقت اور کردار کے ساتھ عوام کی عدالت میں کھڑے ہیں یہ اور بات کہ اس عدالت میں ملزم ہی طاقتور ہے۔ عوام کے مالیاتی سے لے کر معاشرتی مسائل تک سامنے آرہے ہیں ۔یہ ہمارے میڈیا کا وہ رخ ہے جو قابل ستائش ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا میڈیا معاشرے کی شکست وریخت کا بھی ذمہ دار بن رہا ہے ۔کسی بھی ملک و قوم کی مضبوطی کے لیے سب سے پہلے اس کی معاشرتی روایات کو مضبوط ہونا چاہیے اور اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کو مذہب کے ساتھ ساتھ معاشرت کے بھی اصول دیئے ہیں اور درحقیقت یہی اصول اسلامی معاشروں کی بنیاد بنتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیا کو نصف ایمان قرار دیا ہے اور اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم پر ایمان اور عبادات کے بعد یہ اہم ترین احکامات میں سے ہے بلکہ اسے ایمان و عبادت میں ضروری قرار دیا گیا نماز شروع کرنے سے پہلے سر اور جسم کو ڈھانپنا ضروری ہے یوں اسے عبادت کا جز بنا دیا گیا ہے۔ مخلوط محافل اور غیر ضروری رابطوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسلام عورت کو گھر میں بند نہیں کرتا لیکن اُسے نمائش کی چیز نہیں سمجھتا کیونکہ اسلام اُسے عزت دیتا ہے اور اُسے ایک نیک اور سلجھے ہوئے معاشرے کا ذمہ دار سمجھتا ہے لیکن بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بزعم خود پختہ ذہن، روشن خیال اور ترقی پسند کہلانے والے میڈیا نے ٹاک شوز کے ذریعے سیاسی اصلاح کا تو بیڑا اٹھا یا ہوا ہے لیکن معاشرتی سدھار اور سنوار کو نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے خارج کر دیا ہے بلکہ خود اس بگاڑ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بیرونی چینلز کے اوپر کوئی چیک نہیں ہر قسم کے مناظر آپ کے گھر کا حصہ بن چکے ہیں پیمرا کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا ہو گا ورنہ ہمارے معاشرے میں بچ جانے والی چند ایک معاشرتی قدروں کا خاتمہ بھی عنقریب ہو جائے گا۔ہم جو بڑے فخر سے اپنے اخلاقیات کا ذکر کرتے تھے وہ تو ویسے ہی معدوم ہوتی جا رہی ہیں ۔ اِ ن غیر ملکی چینلز کے بعد ذرا اپنے ڈرامہ چینلز پر آئیے تو بھی آپ کو بسا اوقات پاکستانیت ڈھونڈنا پڑتی ہے۔ بیرونی چینلز کو تو آپ لاک کر دیجئے، انڈین ڈرامہ چلانے اور دیکھنے پر پابندی لگا دیجئے لیکن نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ کیا کیا جائے کہ خبریں چلتے چلتے کسی انڈین فلم کا کوئی ایسا منظر سکرین پر نظر آئے گا کہ شریف گھرانے کا ہر فرد چینل کی تبدیلی تک ایک دوسرے سے نظریں چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔بھارتی اداکارائیں شائد اتنا اپنے چینلز پر نظر نہ آتی ہوں گی جتنا ہمارے میڈیا پر۔ہمارے ہاں چلنے والے اکثر اشتہارات برائے نام تو کو پروڈکشن کے ہیں لیکن درحقیقت بھارتی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار۔ کیونکہ جو لباس اور طور طریقے اِن میں دکھائے جاتے ہیں وہ کسی بھی طرح ہمارے نہیں۔ اب ذرا آئیے ان اشتہارات کی طرف جن میں ہماری ماڈلز ما ڈلنگ کرتی نظر آتی ہیں لیکن انتہائی مختصر اور بیہودہ لباس میں ۔یہ تو پی ٹی وی کے زمانے سے ہی چلا آرہا ہے کہ بلیڈ کا اشتہار ہو تو بھی اُس میں عورت کی موجودگی ضروری ہے اور موٹر سایئکل بلکہ ٹریکٹر کا تب بھی ۔کیا ہر چیز کی فروخت کے لیے اُس میں عورت کی موجودگی ضروری امر ہے یا ہم نے اُسے توجہ کا نوٹس سمجھ لیا ہے۔ چلیں مان لیا کہ تصویر کائنات میں رنگ اسی سے ہے لیکن رنگ بھرنے کا بھی ایک ہنر ایک طریقہ ہوتا ہے اور اس ہنر کا کمال آج یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ عورت کو نیم عریاں لباس میں کسی بھی پراڈکٹ کی مشہوری کے لیے استعمال کر لیا جائے بلکہ خبروں اور میڈیا چینلز کی شہرت کے لیے بھی ،اور اگر یہ ماڈلز بھارتی ہوں تو پھر تو کیا ہی بات ہے اگر چہ ہماری اپنی اداکارائیں بھی کچھ کم نہیں تا ہم یہ تو کسی تر در کسی تکلیف کی قائل نہیں۔ اُن کا معاشرہ، ان کا مذہب اورانکی فلمی صنعت جانے اور وہ جانے لیکن ہم نے کیوں اپنے الیکٹرانک میڈیا، اشتہارات،اخبارات ،میگزینز ہر چیز کے لیے انہیں ضروری سمجھ لیا ہے بلکہ اسی پر کیا موقوف بڑے فخر سے انہیں ہر چوک میں بورڈ آویزاں کرکے اپنے ملک اور معاشرے کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے۔ یہ تو لباس کا معاملہ تھا جو خرابی کی جڑ ہے اسکے بعد ذراغور کیجئے اُن حرکات و سکنات پر جو اِن اشتہارات میں کی ہیں ۔ چائے کا اشتہار ہے تو پورا ملک ناچتا ہوا دکھایا جاتا ہے، گھی یا تیل میں تو حد کر دی جاتی ہے کہ خاتون خانہ ناچ ناچ کر کھانا پکا رہی ہیں ہماری خواتین کام کرتے ہوئے گنگناتی تو ضرور ہیں لیکن باورچی خانہ جس کے آداب اور احتیاط ہی یہ ہیں کہ کسی بھی قسم کی تیزی نہ ہو تاکہ کوئی حادثہ نہ ہو کجاکہ ناچ کر کھانا پکایا جائے۔ صابن اور شیمپو کے اشتہارات تو نظر بھر کر دیکھنے کے قابل بھی نہیں ہوتے ۔ جوس کی مشہوری مقصود ہو تو الگ تماشا اور سوفٹ ڈرنکس پینے والے کو تو ایسی ہیجانی حرکتیں کرتے ہوئے دکھا یا جاتا ہے کہ شراب نوشی کا گماں ہوتا ہے ۔ ان سب سے بڑھ کر آج کل جس چیز نے طوفان بلکہ طوفان بدتمیزی برپا کر رکھاہے وہ موبائل فون اور موبائل فون کمپنیز ہیں۔ یہاں کسی ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی یوں تو ضابطہ اخلاق کہیں موجود نہیں لیکن موبائل کو تو بالکل مبرا قرار داے دیا گیا ہے نہ لباس، نہ تہذیب، نہ معاشرت ،نہ تمیز کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ ہمارے مشہور گلوکار اِن اشتہارات میں جو حرکتیں کرتے ہیں اور جو حدیں پھلانگتے نظر آتے ہیں کم از کم ہمارے معاشرے میں انہیں انتہائی معیوب بلکہ قبل سزا سمجھا جاتا ہے۔

یہ تو چند ایک جھلکیاں تھیں جو احتیاط کرتے ہوئے پیش کی جا سکتی تھیں۔ باقی قارئین خود جانتے ہیں کہ کس کس مصنوعہ کو کس کس انداز سے پیش کیا جاتا ہے اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا خود کو اسلامی معاشرہ کہنے کے بعد ان مصنوعات کو یوں سرعام مشتہر کرنا مناسب بھی ہے ۔ اعتراض کی صورت میں جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دور جدید میں یہ سارے ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں تو ذرائع سے اختلاف نہیں ہے بلکہ طریقے سے اختلاف ہے ۔ ایک معاشرہ جو مذہب اور تہذیب دونوں کی بنا پر اس قسم کی حرکات کو معیوب سمجھتا ہے وہاں اِن مناظر کے بعد جو خرابی جنم لیتی ہے اس کا علاج نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ موبائل ہی کو لیجئے کہ ہر شخص اسے کان سے لگائے ہوئے نظر آتا ہے اور جو لوگ بھوک کے مارے خود کشی پر آمادہ ہیں وہ بھی موبائل پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیا ر نہیں اور نوجوان اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جیسا وہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور اس میں ماڈرن اور بیک ورڈ اور پڑھے لکھے یا ان پڑھ کی کوئی تخصیص نہیں ۔

ہم اپنی روایات بڑی حد تک کھو چکے ہیں لیکن حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے ہمیں ان کی بازیافت کرنا ہوگی۔ جو باقی ہیں ان کو بچانے کے لیے ہمیں سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی دراصل ہمارے بہت سے مسائل کی جڑیں انہیں اقدار و روایات سے رو گرانی سے جڑی ہوئی ہیں۔ جس کے لیے حکومت اور عوام دونوں ذمہ دار ہیں پیمرا کو چینلز اور کیبل آپریٹرز دونوں کے لیے ایک معتدل اور اخلاقی حدوں کا حامل ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا۔ ورنہ ہم اپنی آخری پونجی سے بھی محروم ہو جا ئیں گے۔

1,885
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...