آج کل میڈیا اور خاص کر سوشل میڈیا کو ایک نیا موضوع ہاتھ آگیا ہے اور وہ ہے نورمقدم کا سفاکانہ قتل اورقتل کسی بھی صورت قابل معافی نہیں ہو سکتا۔ اس کیس پر اتنا کچھ کہا اورلکھا جا چکا ہے کہ تفصیلات اب سب کو معلوم ہو چکی ہیں اس لیے قتل کیسے ہوا کی تفصیل میں میں نہیں جاؤں گی لیکن یہ ضرور اہم ہے کہ ہم بطور معاشرہ کہاں جا رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ تو شاید اسے بھی پاکستان کا ”سافٹ امیج “ سمجھ رہے ہوں کہ ایک لڑکا اور لڑکی بغیر شادی کے ”لیونگ ریلیشن“ میں تھے یعنی ایک ساتھ رہ رہے تھے یعنی ہم اتنے ترقی یافتہ ہوگئے ہیں کہ اس طرح سے رہنے کو بُر ا نہیں سمجھتے۔اللہ نہ کرے کہ یہ وباء معاشرے میں پھیلے لیکن اس کی ابتداء بھی کیوں ہوئی ہے اور یقینا ”ونچی“ سوسائٹی میں نور مقدم اور اس کے دوست اور قاتل ظاہر ذاکر جعفر کی طرح کے کچھ اور لوگ بھی ہوں گے اور یہ بھی سٹیٹس کی کوئی نشانی ہوگی تبھی تو ان دونوں کے والدین کو بھی اس تعلق پر اعتراض نہیں ہوا۔اعتراض تو ان کو اس وقت بھی نہیں ہوا جب ان کی بیٹی ”میرا جسم میری مرضی“ قسم کی خواتین کے گروپ میں شامل ہوئی شاید انہیں اپنی تربیت یادی گئی آزادی پر اس وقت تھوڑا بہت دکھ ہوا ہوجب انہوں نے اپنی بیٹی کاسر تن سے جدا دیکھاہو۔ اس قتل کے محرکات اور جزئیات پرتبصرے اپنی جگہ تحقیقات اور تفتیش بھی ضرور ہو رہی ہوگی لیکن بطور مجموعی اس پر غم و غصے کا وہ لیول نہیں جو دیگر ایسے واقعات پر دیکھنے میں آتا ہے اور اس کی وجہ یقیناوہ ”لیونگ ریلیشن“ جو اس غیر شادی شدہ جوڑے میں تھا۔ یہ ہمارے معاشرے کا وہ محدود مگر بھیانک چہرہ ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے بلکہ اس پر جتنی لعنت بھیجی جائے کم ہے۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اسلام کے بنیادی اصولوں تک کا یوں مذاق اڑایا جاتا ہے۔ میں اس چیز کے بھی حق میں نہیں ہوں کہ اسلام عورت پر شروع ہواور عورت پرختم ہولیکن معاشرے کی فلاح میں عورت کے ہاتھ کی بھی شدت سے قائل ہوں اوراسی لیے میرا جسم میری مرضی ٹائپ کی خواتین کو کسی بھی طور اپنے معاشرے کا نمائندہ نہیں مان سکتی۔ نورمقدم کیس میں تو والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے جس طرح ظاہراور نو ر کے والدین نے اپنے بچوں کو ساتھ رہنے کی اجازت دی ہوئی تھی آخر وہ کس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کیا یہ والدین خود بھی اس طرح کے تعلقات میں ملوث ہیں اور کیا ان کی دیگر اولادیں بھی انہی حرکات کی مالک ہیں۔ نورمقدم کیس صرف ایک معاملہ نہیں ہے یہ ایک ایسے ناسور کی نشاندہی ہے جو ہمارے معاشرے کے ماتھے پر کلنگ کا ایک ٹیکہ ہے اورمذہبی اور معاشرتی بے راہروی کی ایک بد ترین مثال ہے اور ہمارے بگڑے ہوئے روشن خیال طبقے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔مجھے روشن خیالی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اسے مذہبی حدود و قیود کے اندر ہونا چاہیئے جہاں ہم مذہب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں وہاں خرابیاں جنم لینے لگتی ہیں اور ہم تو وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کا مذہب انہیں ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے حقوق و فرائض اور ذمہ داریوں کا بڑا متوازن تعین کرتا ہے۔ وہ ایک سلجھے ہوئے پاکیزہ معاشرے کے اصول و ضوابط مرتب کرکے ہاتھ میں پکڑانا ہے اور یوں بہت سارے مسائل اور مشکلات کا حل خود بخود نکل آتا ہے لیکن ہم ان پر عمل کرنے والوں کو دقیانوسی اور تنگ نظر اور انہیں نظر انداز بلکہ مسترد کرنے والوں کوروشن خیال کہتے ہیں۔یقینا نورمقدم اور ظاہر جعفر بھی بہت روشن خیال سمبھے جاتے رہے ہوں اور ان دونوں کے والدین بھی، اور یہی وجہ تھی کہ ان کی تربیت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی اور انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا شاید یہ سوچ کر کہ ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے“ لہٰذا اس پر کسی کی پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔ جب اس آزاد خیال طبقے کے سامنے مناسب لباس کی بات کی جاتی ہے تو وہ اسے ذاتی مسئلہ کہہ کر رد کردیتے ہیں حالانکہ یہ بُرائی کی انتہا نہیں تو ابتداء ضرورہے اور کوئی چیز پروان ہی تب چڑتھی ہے جب اس کی ابتداء ہو جاتی ہے اور بڑھتے بڑھتے وہاں پہنچتی ہے جہاں مرد اور عورت ہر حکم سے آزاد ہوجاتے ہیں اور جب معاشرے کی گاڑی کے یہ دو پہیے خراب ہوجاتے ہیں تو گاڑی کسی کام کی نہیں رہتی۔حکومت اور قانون لاگو کرنے والے ادارے نورمقدم کیس کو ضرور حل کریں لیکن یہ یاد رہے یہ ایک کیس نہیں بلکہ سمبل ہے جومعاشرے کے اس پہلو کی نشاندہی کرتا ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ قاتل کو تو ہر صورت سزا دی ہی جائے لیکن ماں باپ اپنے فرائض کے سبق کا ایک بار اعادہ بھی کر لیں اور اس سے پہلے کہ نورمقدم اور ظاہر جعفر کا ”لیونگ ریلیشن شپ“ یا ملالہ یوسفزئی کا”پارٹنر شپ“کا نظریہ معاشرے میں پھیلے اس کی بیخ کنی کردی جائے ورنہ اس طرح کے واقعات ہوں گے بھی اور خدانخونستہ پھیلیں گے بھی لہٰذا ہوشیا ر باش!

1,231
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...