آجکل کا بچہ عجیب حالات کا شکار ہے اسی طرح والدین بھی عجیب مخمصے میں گرفتار ہیں سوشل میڈیا کے اس دور میں بچوں کی تربیت کسی امتحان سے کم نہیں۔ اس میں کچھ قصور والدین کا ہے جنہوں بچوں کو کھلی چٹھی دے رکھی ہے اور کچھ قصور حالات کا بھی ہے کہ جن سے جتنا بھی بچوں کو بچا کر رکھا جائے کہیں نہ کہیں وہ اس کے زیراثر آہی جاتے ہیں۔ ہم بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو موبائل فون پکڑا دیتے ہیں بہت دفعہ مائیں اپنا کام آسان بنانے کے لیے ایسا کرتی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بچے اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔ آپ کسی بچے سے موبائل لینے کی کوشش تو کر کے دیکھئے اور پھر سال دو سال کے بچے کی ضد دیکھئے جو موبائل واپس حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے اسی طرح جب وہ سکول جانے کی عمر تک پہنچتا ہے تو پڑھائی سے زیادہ مشق اس کی موبائل فون کی ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ بچے جسمانی ورزش سے بہت دور ہو چکے ہوتے ہیں جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت بُری طرح متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ چستی جو ایک نسل پیچھے کے بچوں میں تھی آج کی نسل میں نہیں۔ میں نے اپنے اکثر طلباء کو تقریباًبند آنکھوں کے ساتھ سکول آتے دیکھا ہے جو رات رات بھر موبائل فون پر بیٹھیے رہتے ہیں۔ یوں موبائل والوں کا کاروبار تو چمک جاتا ہے لیکن ایک پوری نسل اپنی صلاحتیں کھو رہی ہے۔ بچے میدانوں سے اُٹھ کر کمروں تک محدود ہوگئے اسی طرح معاشرتی تعلقات پر بھی انتہائی منفی اثر پڑا ہے۔ اس پہلو سے بچے اور بڑے یکساں متاثر ہوئے ہیں۔ وہی ہم لوگ کہ ایک دوسرے کو ملنے ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے تھے آمنے سامنے گپ شپ ہوتی تھی اپنائیت کا احساس ہوتا تھا ایک دوسرے کو دیکھنے سے پیار اور محبت بڑھتی تھی پھر بات فون پر ہونے لگی اور پھر اس سے بھی نیچے آکر میسجز تک بات پہنچی یعنی براہ راست تعلق کم سے کم ہونے لگا۔ بچوں کے پہلو سے بات کی جائے تو اُن کے لیے اپنے دوستوں کی اہمیت کم سے کم ہونے لگی بلکہ وہ اس کے محتاج ہی نہ رہے باہر میدانوں میں، گلیوں میں، گھر کے صحن میں کھیل ہونے کی بجائے یہی بچے کمروں تک بھی محدودیوں ہوگئے کہ ایک کمپیوٹر اور ایک کھلاڑی بچہ اور یوں دوسرے انسان کی حاجت سے آزاد۔ دبئی میں ایک ٹورسٹ کوچ کے کنڈیکٹرنے سیلفی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کی۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے سیلفی اس لیے نہیں پسند کہ اس نے انسانوں کو عاجزی سے پاک کردیا ہے اس نے اپنی بات کی تو ضیح اس طرح کی کہ پہلے ہم کسی سے درخواست کرتے تھے کہ ہماری تصویر اُتار دو اب ہم خود ہی یہ کام کر لیتے ہیں اور اس طرح دوسرے انسان سے جو چند لمحوں کا سہی تعلق بنتا تھا، وہ نہیں بن پاتا۔ اسی طرح ہم لائیبریوں میں جو تعلق بناتے تھے وہ نہیں رہا کہ انٹرنٹ پر موجود معلومات ہمارا کام کردیتی ہیں۔ کتاب سے رشتہ تو اب ختم ہی ہوتا جا رہا ہے بلکہ نئی نسل کا یہ رشتہ تو بہت حد تک ختم ہو چکا ہے۔ یہ تو کمپیوٹر ائز یشن کے معاشرتی پہلو تھے اب ذرا آئیے نفسیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ بے شمار ایسی کمپیوٹر گیمز بنائی گئی ہیں اور بنائی جارہی ہیں جنہوں نے بچوں کو اپنے حصار میں لیا ہوا ہے۔ یہ گیمز زیادہ تر مار کٹائی اور ہتھیاروں کے استعمال پر مشتمل ہیں جتنے زیادہ لوگ مارے جائیں اتنے زیادہ پوانٹس بنتے ہیں اور یوں بچہ اس مارا ماری سے ایک تسکین اور خوشی محسوس کرتا ہے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ گیمز صرف بچے نہیں کھیلتے بلکہ نوجوان بھی اس سے برابر نقصان اُٹھا رہے ہیں۔ ایک دفعہ ایک چھوٹے سے بازار میں جانا ہوا تقریباً ہر نوجوان دوکاندار موبائل پر اس طرح مصروف تھا کہ اپنے گاہک اور کاروبار کی اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر کیا مشترکہ دلچسپی ہے جس میں سب مگن ہیں تو اپنے بیٹے سے پتہ چلا کہ یہ گروپ بنا کر پب جی کھیل رہے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات سے اس بارے میں بات ہوئی تو اس نے اسے بچوں کی نفسیاتی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ اب ذرا ایک انتہائی بلکہ سب سے اہم پہلو کی طرف آتے ہیں اور وہ ہے اخلاقی پہلو جس نے ایک پوری نسل کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کیا ہے۔ ایسی بے شمار سائٹس اور یو ٹیوب چینلز ہیں جو اخلاقی تباہی کے لحاظ سے ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ان پرفحاشی، عربانی اور بے حیائی پھیلانے کے لیے وہ مواد موجود ہے کہ دشمن کو ہماری تباہی کے لیے کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ یوٹیوب کسی سیاسی، معلوماتی،قومی، دینی، مذہبی کسی بھی معاملے کے لیے کھولیں آپ کے سامنے اردو اور انگریزی بلکہ علاقائی زبانوں میں بھی ایسے چینلز آجائیں گے کہ آپ کا منہ چھپانے کو دل کرے گا۔ کبھی آپ وہ تصویر دیکھنے کے قابل نہیں ہونگے کبھی وہ لکھا ہوا پڑھ کر آپ کا سر شرم سے جھک جائے گا اور آنکھیں بند ہو جائیں گی اور یہی سب کچھ ہمارا آج کا بچہ دیکھ رہا ہے۔سچ بات یہ ہے کہ آج کا بچہ بچہ رہا ہی نہیں وہ وقت سے بہت پہلے غیر فطری طور پر بڑا ہو رہا ہے۔اس سوشل میڈیا نے بچوں سے ان کابچپن اور معصومیت دونوں چھین لیے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے جب مذہبی لحاظ سے قابل اعتراض مواد کی بنا پرملک میں یو ٹیوب پر پابندی لگی تو گویا طوفان آگیا تھا اور یہ احتجاج کرنے والوں میں بہت سے ایسے ہی ”متاثرین“ بھی شامل تھے جو کچی عمروں اور کچی ذہنیتوں کی وجہ سے یوٹیوب کے چنگل میں پھنسے تھے اس مواد تک پہنچنے کے دوسرے تیسرے راستے نکالے گئے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی کوئی چیک ہونا چاہئیے اور اسے بھی کسی ضابطہ ء اخلاق کا پابند ہونا چاہیئے ورنہ ہم اپنی رہی سہی قدریں بھی کھو دیں گے اور اس سلسلے میں والدین،تعلیمی ادارے، اساتذہ،علماء غرض معاشرے کا ہر ذمہ دار طبقہ اپنا اپنا کردار ادا کرے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لے تو اگر ہم ہو چکے نقصان کا ازالہ نہ بھی کر سکیں تو مزید خرابی ہونے سے روک سکیں گے کیونکہ ہماری اخلاقی، معاشرتی اور نفسیاتی بقا ء اسی میں ہے۔

99
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...