مسئلہ فلسطین اور پاکستان کا ہمیشہ ہی سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے جس کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دور میں ہی رکھ دی تھی اور جس کا تعین قیام پاکستان کے بعد بخوبی کر دیا گیا تھا۔درحقیقت، مسلم اُمہ کو تقسیم کرنے کی نیت سے پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی سلطنت نے ترکی میں قائم سلطنت عثمانیہ کے مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے مسلم علاقوں کو بزور طاقت قبضہ کرکے نومبر1917 میں فلسطین کے قبلہ اوّل میں صیہونی ریاست اسرائیل کی داغ بیل ڈالی جبکہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ہندوستان کی آزادی کے موقع پر مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی حاکمیت کی بنیاد رکھ دی۔البتہ اِن دونوں عالمی جنگوں میں برطانوی سلطنت کے زوال پزیر ہونے پر امریکا کے گلوبل طاقت بننے پر اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے فلسطین اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درامد کو اسرائیلی اور بھارتی صوابدید پر چھوڑ دیا۔ البتہ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِس پالیسی سے تجاوز کرتے ہوئے بیت المقدس کوا سرائیل کا دارلحکومت بنانے کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کردیا چنانچہ جب مسلم ممالک کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی تو امریکا نے اِس قرارداد کو ویٹو کر دیا جس کے جواب میں مسلم ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی فیصلے کے خلاف ترکی کی قراردد کو منظور کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا۔ اِس سے قبل بھی امریکا سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو کرتا رہا ہے۔ یادرہے کہ 1948 میں امریکی سیاسی دباؤ اور امریکا میں یہودی لابی نے ڈالر اور سیاسی دباؤ کے حربے استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں محض ایک ووٹ کی اکثریت سے فلسطین میں اسرائیل اور فلسطین کی دو ریاستوں کے قیام کی منظوری دی تھی جبکہ اسرائیل نے طاقت کے زور پر فلسطین کے حصوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ چنانچہ امریکی دھمکیوں کے باوجود جنرل اسمبلی میں ترکی کی جرأت رندانہ کے سبب پیش کی گئی اِس قرارداد کو بھاری اکژیت سے منظور کر لیا گیا۔ چنانچہ امریکا نے مسلم ممالک کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے بجائے گلف کے عرب ممالک پر دباؤ کا ہربہ استعمال کرتے ہوئے متحدہ عرب عمارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا گیا جبکہ میڈیا اطلاعات کے مطابق امریکی دباؤ پر سعودی عرب کی جانب سے بھی اسرائیل کیساتھ خفیہ تعلاقات کو مہمیز دی گئی ہے۔البتہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایٹمی طاقت پاکستان نے بیرونی سیاسی و سفارتی دباؤ کے باوجود اسرائیل کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اِسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں یہودی لابی کی حمایت کے باوجود صدارتی انتخاب ہار گئے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ نومبر 1917 میں برطانوی فوجوں کے فلسطین میں داخل ہونے کے بعد برطانیہ نے غیر حقیقی اور ظالمانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف فلسطین کو یہوریوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کیا بلکہ دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانے کا پروسس بھی شروع کیا گیا۔چنانچہ 1948 میں جبکہ فلسطین میں یہودی آبادی چند فی صد سے بڑھ کر 33 فی صد ہوگئی تو امریکا اور یہودی لابی کے دباؤ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جب فلسطین کو دو غیر متوازی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تو اِس غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف فلسطینی عربوں کی مزاحمت پر اسرئیل نے طاقت کے بل بوتے پر مغربی کنارے کے سوا تمام فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ البتہ فلسطینی عربوں کے ابتلا کے اس دور میں بھی قائداعظم اور بر صغیر کے مسلمانوں نے فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کی کوششوں کو جاری رکھا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کیا ہے اور پاکستان یا قائد اعظم کا اس مسئلہ سے متعلق کیا رول رہا ہے۔ مسئلہ فلسطین کی بنیاد پہلی جنگ عظیم کے دوران رکھی گئی جب جرمنی اور خلافت عثمانیہ کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کی روشنی میں اتحادی فوجوں نے مرد بیمار کے نام سے موسوم ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کئے۔ برطانوی امپیریل ا زم نے لارنس آف عریبیہ کے ذریعے عرب مقتدر قوتوں کو خلافت عثمانیہ کے خلاف اکسا یا، اس وعدے پر کہ جنگ کے بعد عرب ملکوں کو آزادی کی نعمتوں سے سرفراز کیا یائے گا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اُس وقت کی سپر پاور برطانیہ کی سازشی ڈپلومیسی کا یہ عالم تھا کہ ایک جانب تو عربوں سے آزادی کا وعدہ کیا گیا تو دوسری جانب پہلی جنگ عظیم میں برطا نیہ کے یورپی اتحادی فرانس کے ساتھ برطانیہ نے سائیکی پیِکٹ نامی معاہدہ کیا جس کے تحت جنگ کے بعد عرب اور افریقی ملکوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی گئی۔ ایک جانب تو عربوں سے آزادی کا معاہدہ کیا گیا تو دو سری جانب جنگ میں یہودیوں کی امداد کے عوض فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا خفیہ معا ہدہ کیا گیا۔ 1917 میں برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو 2 نومبر 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ نے اعلانِ بل فور کے تحت فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کیا۔ 1917 سے 1948 تک برطانوی فوجیں فلسطین پر قابض رہیں اور اس دوران فلسطینی عرب غیر معمولی ظلم و ستم کا شکار رہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران جب برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو اُس وقت فلسطین کی کل آبادی تقریبأ سات لاکھ نفوس پر مثتمل تھی۔ جن میں پانچ لاکھ چوہتر ہزار عرب مسلمان، ستّر ہزار عیسائی اور تقریبأ چھپن ہزا عرب نژاد یہودی شامل تھے۔ اُس وقت یہودی ،فلسطین کی کل آبادی کا صرف آٹھ فی صد تھے اور جب 1948میں برطانوی فوجوں نے فلسطین سے واپسی اختیار کی تو یورپ اور روس سے لا کر فلسطین میں بسائے جانے والے یہودیوں کے باعث یہ تعداد سات لاکھ نفوس ہو چکی تھی جو فلسطین کی کل آبادی کا 33 فی صد بن چکی تھی۔ 1948 میں اینگلو امریکن دباؤ کے تحت اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو غیر متوازی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا جس میں یہودیوں کے قومی مفادات کو فوقیت دی گئی۔ فلسطینی عربوں نے اس پر مزاحمت کی تو اسرئیل نے طاقت کے بل بوتے پر تمام فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ 1948 کے بعد بھی فلسطینیوں کو اس ظلم سے نجات نہ ملی بلکہ مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کی ناجائز حکومت کے وجود میں آنے کے باعث ان پر مظالم کی رفتار دو چند ہو گئی ۔ فلسطینی عربوں کے ابتلا کے اس دور میں بر صغیر کے مسلمانوں نے فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کی۔ 15 اکتوبر1937 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے فرمایا۔اب میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کا مسلمانانِ ہند پر گہرا اثر پڑا ہے۔ برطانیہ کی پالیسی شروع سے آخر تک عربوں کو دھوکہ دینے کی رہی ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں سے کئے گئے اُس وعدے کو پورا نہیں کیا جس میں عربوں کو مکمل آزادی کی گارنٹی دی گئی تھی۔ عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کر کے بر طانیہ نے بد نام زمانہ اعلانِ بل فور کے ذریعے اپنے آپ کو عربوں پر مسلط کر دیا اور یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کو نافذ کر دیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خون ہو جائے گا۔ میں صرف مسلمانانِ ہند کی ہی نہیں بلکہ مسلمانانِ عالم کی ترجمانی کر رہا ہوں اور تمام انصاف پسند اور فکرو نظر رکھنے والے لوگ میری تائید کریں گے جب میں یہ کہوں گا کہ اگر برطانیہ نے عربوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ برطانیہ اپنی قبر خود کھود رہا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے میں اُن کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مسلمانانِ ہند اس منصفانہ اور جئرات مندانہ جہاد میں اُن کی ہر ممکن مدد کریں گے۔26 دسمبر 1938 میں قائد اعظم نے پٹنہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ دوسرا اہم مسئلہ جو سبجیکٹ کمیٹی میں پیش ہو گا وہ فلسطین کا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس مسئلہ نے مسلمانوں میں کس قدر اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ عربوں کے ساتھ بے شرمانہ سلوک کیا گیا ہے۔اُنہیں سنگین کی نوک پر مارشل لاء جاری کر کے دبایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عرب قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری تمام ہمدردیاں ان بہادر غازیوں کے ساتھ ہیں جو غاصبوں سے حریت کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں۔ یارہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کی رائے اور علامہ اقبال کی رائے ایک تھی۔ علامہ اقبال نے فلسطینیوں کی جد و جہِد کا تذکرہ اپنے اشعار میں بھی کیا ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے 5 جون 1946 میں دہلی میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں فرمایا۔ اینگلو امریکی کمیٹی نے فلسطین میں ایک لاکھ یہودی بھیجنے کی سفارش کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ یہ انتہائی بے ایمانہ فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے۔عربوں کو چاہیے کہ وہ ان سفا ر شات کا مقابلہ کریں اور ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں۔ مسلم ہندوستان اُن کی ہر ضروری مدد کرے گا جبکہ 19 دسمبر 1947 میں گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اقوا م متحدہ کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برّ صغیر کے مسلمان امریکہ یا کسی دوسرے ملک کو تو ناراض کرنا نہیں چاہتے لیکن ہماری انصاف کی فطرت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم ہر ممکن طریقے سے فلسطین میں عربوں کی کاز کی مدد کریں۔ یمن کے بادشاہ کے نام ایک ٹیلی گرافک پیغام میں قائد اعظم نے کہا کہ اُنہیں فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کے غلط فیصلے سے حیرت ہوئی ہے اور صدمہ پہنچا ہے۔ میں اپنے عرب بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہے اور انکی ہر ممکن مدد کریگا”۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی کانگریس میں امریکی پارلیمنٹر ین لارنس ایچ سمتھ نے 18 دسمبر 1947 میں امریکی حکومت پر الزام لگایا کہ اقوام متحدہ میں تقسیم فلسطین کی غیر منصفانہ قرارداد نمبر 181 ) 29 نومبر1947 (کی منظوری حاصل کرنے کے لئے امریکی حکومت اور پرائیویٹ شہریوں نے فلپائن، لائبیر یا اور ہیٹِی کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا تھا کیونکہ ان حکومتوں نے پہلے اس قرارداد کے خلاف ووٹ ڈالا تھا۔ پرائیویٹ شہریوں سے مراد یہودی لابی تھی۔
درحقیقت قائداعظم محمد علی جناح نے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی ترتیب دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط موقف اختیار کیا تھا چنانچہ مسلم انڈیا اور پاکستان نے ہر دور میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عرب کاز کی حمایت کی۔ سابق ذولفقار علی بھٹو کے زمانے میں جب 1974 میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں ہوا تو مسئلہ کشمیر کیساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کو بھی بخوبی فوکس کیا گیا تھا۔ پاکستان چونکہ خود کشمیر میں بھارتی جارحیت اور بے انصافیوں کا شکار رہا ہے جبکہ عرب ملکوں کی اکثریت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ اوراسلامی کا نفرنس کے ایوانوں میں پاکستان کی بھر پور حمایت کرتی رہی ہے لہذا پاکستان کی جانب سے مسئلہ فلسطین کی حمایت مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کہنے کے حوالے سے پاکستان کی خا ر جہ پالیسی بین الاقوامی امور میں قائداعظم محمد علی جناح کے بنائے ہوئے حق و انصاف کے اصولوں پر ہی مبنی رہی ہے۔
درج بالا تناطر میں 15 اکتوبر1937 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے لکھنئو میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت کے حوالے سے کہا تھا: ” اب میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کا مسلمانانِ ہند پر گہرا اثر پڑا ہے۔ برطانیہ کی پالیسی شروع سے آخر تک عربوں کو دھوکہ دینے کی رہی ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں سے کئے گئے اُس وعدے کو پورا نہیں کیا جس میں عربوں کو مکمل آزادی کی گارنٹی دی گئی تھی۔ عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کر کے بر طانیہ نے بد نام زمانہ اعلانِ بل فور کے ذریعے اپنے آپ کو عربوں پر مسلط کر دیا اور یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کو نافذ کر دیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خون ہو جائے گا۔ میں صرف مسلمانانِ ہند کی ہی نہیں بلکہ مسلمانانِ عالم کی ترجمانی کر رہا ہوں اور تمام انصاف پسند اور فکرو نظر رکھنے والے لوگ میری تائید کریں گے جب میں یہ کہوں گا کہ اگر برطانیہ نے عربوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ برطانیہ اسلامی دنیا میں اپنی قبر خود کھود رہا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے میں اُن کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مسلمانانِ ہند اس منصفانہ اور جرأت مندانہ جدوجہد میں فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے”۔26 دسمبر 1938 میں قائد اعظم نے پٹنہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” دوسرا اہم مسئلہ جو سبجیکٹ کمیٹی میں پیش ہو گا وہ فلسطین کا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس مسئلہ نے مسلمانوں میں کس قدر اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ عربوں کے ساتھ بے شرمانہ سلوک کیا گیا ہے۔اُنہیں سنگین کی نوک پر مارشل لاء جاری کر کے دبایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عرب قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری تمام ہمدردیاں ان بہادر غازیوں کے ساتھ ہیں جو غاصبوں سے حریت کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں “۔ اِسی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے 5 جون 1946 میں دہلی میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں فرمایا: ” اینگلو امریکن کمیٹی نے فلسطین میں ایک لاکھ یہودی بھیجنے کی سفارش کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ یہ انتہائی بے ایمانہ فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے۔عربوں کو چاہیے کہ وہ ان سفا ر شات کا مقابلہ کریں۔ مسلم ہندوستان اُن کی ہر ضروری مدد کرے گا”۔ قیام پاکستان کے بعد 19 دسمبر 1947 میں گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اقوا م متحدہ کے غیر منصفانہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برّ صغیر کے مسلمان امریکہ یا کسی دوسرے ملک کو ناراض کرنا نہیں چاہتے لیکن ہماری انصاف کی فطرت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم ہر ممکن طریقے سے فلسطین میں عربوں کی کاز کی مدد کریں۔ چنانچہ یمن کے بادشاہ کے نام ایک ٹیلی گرافک پیغام میں قائد اعظم نے کہا: ” اُنہیں فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کے غلط فیصلے سے حیرت ہوئی ہے اور صدمہ پہنچا ہے۔ میں اپنے عرب بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہے اور انکی ہر ممکن مدد کریگا”۔ اندریں حالات، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چونکہ خود کشمیر میں جارحیت اور بے انصافیوں کا شکار رہا ہے اور عرب ملکوں کی اکثریت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ اوراسلامی کا نفرنس کے ایوانوں میں پاکستان کی بھر پور حمایت کرتی رہی ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے مسئلہ فلسطین کی حمایت مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کہنے کے علاوہ حق و انصاف کے اصولوں پر ہی مبنی رہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے خارجہ پالیسی کی بنیاد قائد اعظم نے برطانوی حکومت ہند کے دور میں رکھی تھی جب برطانوی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھنے پر ہندوستان میں سخت رویہ اختیار کیا جاتا تھا اور اِسی پالیسی کو قیام پاکستان کے بعد عملاً اختیار کیا گیا۔ بہرحال، یہ اَمر باعث اطمینان ہے کہ سیاسی و سفارتی دباؤ کے باوجود وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

141
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...