پاکستان کی سیاسی تکون عدلیہ، انتظامیہ اور وفاقی کابینہ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی حکمرانی پر مثتمل ہے۔ صد افسوس کہ ملک میں دہشت گردی کے ایک المناک واقعہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت کے بعد 2008 کے انتخابات میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے اقتدار کے منصبوں پر فائز ہونے پر وفاقِ پاکستان کی فکرِ جناح کو جس بے دردی سے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے تبدیل کیا گیا اُس کے نتائج اب وفاقی قومی اداروں پر بھارت نواز بدعنوان سیاسی گروپوں کی یلغار کی شکل میں قوم کے سامنے آرہے ہیں۔اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 2008 سے 2018 تک اقتدار کی غلام گردشوں میں موجود آصف علی زردری اور میاں نواز شریف حکومتوں نے میثاق جمہوریت کے نام پر جس طرح مافیائی نظام کو تقویت دیتے ہوئے قومی اداروں میں ذاتی وفاداری رکھنے والے افراد کو مسلط کرکے نہ صرف ملکی نظم و نسق کو غیر مستحکم کیا بلکہ ملکی وسائل میں لوٹ مار، منی لانڈرننگ اور بے نامی بنک اکاؤنٹ کے ذریعے جو شیطانی بازار گرم کیا گیا اُن کی مثال جمہوری ملکوں کی تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ اِن طالع آزما حکمرانوں نے اپنے اِن غیر دانشمندانہ اقدامات سے ملکی عدلیہ کو بھی نہیں بخشا جہاں بظاہر زرداری/ شریف حکومتوں نے عدلیہ میں سیاسی حمایت یافتہ ججوں کو تعینات کرنے سے گریز نہیں کیا جس کی مثال اب دنیا بھر میں دی جاتی ہیں کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کے سزا یافتہ سابق نااہل وزیراعظم ضمانت پر عدالتی سماعت سے مفرور ہو کر بیشتر دیگر اشتہاری ملزمان کے ہمراہ لندن کی حفاظتی جنت میں بیٹھ کر مملکت پاکستان میں داخلی انتشار پیدا کرنے کیلئے مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن وغیرہ کیساتھ مل کر بھارت نواز لابی کی قیادت کر رہے ہیں۔ مقصد صاف ظاہر ہے کہ نواز شریف، آصف زرداری بدعنوان سیاسی لابی حکومت پر دباؤ ڈال کر این آر آو حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ حیرت ہے کہ سزا یافتہ مریم نواز کو محض عورت ہونے کے ناتے اپیل کی سماعت کے دوران ضمانت پر رہا کیا گیا ہے جو نواز شریف حمایت سے حکومت کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے اور ملکی سطح پر سیاسی بے چینی پھیلانے کیلئے بھارت نواز سیاسی گروپ کی قیادت کر رہی ہیں جس کا پروپیگنڈا بھارتی اور اسرائیلی بیرونی تھنک ٹینکس اور پاکستان میں موجود چند سہولتکار صحافیوں کی حمایت سے بھارتی میڈیا پر زور شور سے کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی عوام اور قومی سیاسی دانشور حیران پریشان ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کی نام لیوا سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور وفاقی سوچ کے حامل ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے جناح و اقبال کی فکر کے برخلاف حزب اختلاف کی تحریک کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے سپرد کیونکر کر دی ہے جن کے والد مفتی محمود ببانگ دہل کہتے تھے کہ پاکستان بنانے کے گناہ میں اُن کی جماعت شامل نہیں تھی۔مولانا فضل الرحمن بذات خود بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیتے رہے ہیں جبکہ محمود خان اچکزئی جن کے جد امجد عبدالصمد اچکزئی نے برطانوی بلوچستان کے بھارت یا پاکستان میں شامل ہونے والے ریفرنڈم میں برٹش بلوچستان کی بھارت میں شمولیت کیلئے گاندہی جی اور جواہر لال نہرو کی ایما پر ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے اہل شاہی جرگے کے ارکان کو بھارت کے حق میں ووٹ دینے کی صورت میں 18 کروڑ روپے تقسیم کرنے کی پُر زور تحریک چلائی تھی جسے شاہی جرگے کے نائب صدر محمد خان جوگیزئی نے ناکام بنا دیا تھا۔ کیا محمود اچکزئی بھارتی ایجنسیوں کی بلوچستان میں مہم جوئی کو کامیاب بنانے کیلئے حزب اختلاف کی تحریک میں پیش پیش ہیں۔ حیرت ہے کہ کراچی کے جلسے میں جناح کی مزار کے قرب میں بیٹھ کر اُنہیں یا مولانا فضل الرحمن کو یہ توفیق تو نہ ہوئی کہ وہ دربار خداوندی میں ہاتھ اُٹھا کر جناح کے درجات کی بلندی کے لئے ہی دعا کر دیتے البتہ محمود اچکزئی نے فکر جناح کے خلاف اُردو زبان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کی کوشش ضرور کی ہے جسے بھارتی اداروں نے قیام پاکستان کے فوراً بعد تخریب کاری کی نیت سے مشرقی پاکستان میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کیلئے شروع کیا تھا اور جس کا پروپیگنڈا بھارتی میڈیا میں اب زور شور سے کیا جا رہا ہے۔ اِس سے قبل 2013 میں جب زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کو بھارتی ایجنسیوں کی ایما پر بی ایل اے کے دہشت گردوں نے دھماکوں سے اُڑایا تھا اُس وقت بھی محمود اچکزئی کا رویہ منفی تھا اور اُنہوں نے میڈیا میں اِس واقعہ کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بحرحال مشرقی پاکستان میں بھارتی تخریب کاری کا قلع قمع کرنے کیلئے اُس وقت قائداعظم زندہ تھے لہذا اُنہوں نے بیماری کے باوجود ڈھاکہ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے واضع طور پر کہا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہی ہوگی۔ حیرت ہے کہ فکر جناح کے خلاف اِسی تخریب کاری میں حصہ لیتے ہوئے جہاں محمود اچکزئی نے قومی زبان اُردو کے خلاف پروپیگنڈا بکس کھولنے کی کوشش کی ہے وہاں بظاہر میاں نواز شریف کی ایما پر ایک منظم سازش کے تحت کیپٹن صفدر اعوان اور مریم نواز صفدر مزار بھی مزارِ قائد کی توہین کے مرتکب بھی ہوئے ہیں جسے سندھ کی لیڈرشپ نے پولیس اور فوج کے درمیان قضیہ بنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
درج بالا تناظر میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے ذاتی مفاد پر مبنی غیر دانشمندانہ اقدامات کے باعث قومی اداروں میں کرپشن، بدنظمی، اقربا پروری اور بیرونی قرضوں کے ذریعے ملکی معیشت پر تباہی مسلط کرنے کیساتھ ساتھ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی جانب سے قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے بھارتی لیڈرشپ کیساتھ ذاتی تعلقات کو مہمیز دیکر پاکستان کو جس بے دردی سے بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کی کوشش کی ہے اُس کے نتائج آج پوری پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔فکر جناح کا پاکستان اگر آج زندہ ہے تو اِس کا کریڈیٹ یقیناً افواج پاکستان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیم کی ایٹمی صلاحیت کو جاتا ہے جس کی کنجی افواجِ پاکستان کے پاس ہے۔ چنانچہ یہ اَمر انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور اُن کے سیکیورٹی چیف اجیت کمار ڈول کے ایجنڈے پر عمل درامد کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ کے جلسے میں افواج پاکستان اور آئی ایس آئی لیڈرشپ کو نہ صرف سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ عوام الناس کو فوجی لیڈرشپ کے خلاف اکسانے سے بھی گریز نہیں کیاجسے کراچی جلسے میں بھی مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور دیگر مقررین نے بھی مہمیز دی۔ حیرانی کن بات ہے کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمن بھارتی سلامتی کے چیف اجیت کمار ڈول سے بھی مشاورت میں رہے ہیں جس کے اثرات موجودہ نام نہاد تحریک میں اُنکی تقریروں میں بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔
یہ اَمر بھی ناقابل فہم ہے کہ سندھ حکومت جس کے وسائل کی بظاہر وسیع پیمانے پر لوٹ مار کی گئی ہے جس کا اندازہ آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ کے خلاف کرپشن، منی لانڈرننگ اور جعلی بنک اکاؤنٹ کے مقدمات میں فرد جرم عائد ہونے سے بھی ہوتا ہے اور نیب کی جانب سے جس کے تدارک کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یہ بھارتی نواز سیاسی گروپ ایک ایسے وقت حکومت پر دباؤ ڈال کر این آر او حاصل کرنے کیلئے وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ پاکستان فوج کشمیر کنٹرول لائین، بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقوں میں بھارتی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے اور فکر جناح پر عمل کرتے ہوئے فوجی جوان و آفیسرز پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ریاست پاکستان کو مضبوط تربنانے کیلئے قائداعظم نے کراچی میں 23 جنوری 1948 کو پاکستان نیوی کی ایک تقریب میں وضاحت سے کہا تھا کہ ” اِس دنیا میں کمزور اور دفاعی قوت سے محروم قومیں دوسروں کو جارحیت کی دعوت دیتی ہیں چنانچہ وہ چاہتے ہیں کہ ملکی سلامتی کو محفوظ تر کرنے کیلئے افواج پاکستان کو مضبوط بنایا جائے۔جبکہ 13 اپریل 1948 میں پاکستان آرمڈ کور نوشہرہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے فرمایا تھا ” فوج کے جذبہ رفاقت کو فراموش نہ کیجئے، اپنی فوج پر ناز اور اپنے وطن پاکستان سے لگن لازم ہے۔ پاکستان آپ پر انحصار کرتا ہے اور ملک کے محافظ کی حیثیت سے آپ کی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتا ہے۔چنانچہ فکرِ قائد کی روشنی میں وقت آگیا ہے کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو منظم بھارتی تخریب کاری کی یلغار اور مقامی ایجنٹوں کے خلاف متحد ہو کر فوج کاساتھ دینا چاہیئے کیونکہ پاکستان اور فکرِ جناح کی قومی حفاظت میں ہی ہماری سلامتی کا راز پوشیدہ ہے۔پاکستان زندہ باد۔

169
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...