گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے ایک کیس میں نیب کے افسران کی تحقیقی صلاحیتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ ماضی میں سیاسی اختلافات کے باوجود انویسٹی گیشن کا معیار قدرے بہتر تھا البتہ گزشتہ چند عشروں کے سیاسی تناظر میں اگر بادی النظر میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں جن میں پولیس، ایف آئی اے اور احتساب ادارے وغیرہ شامل ہیں کی مقدمات میں تحقیقی صلاحیتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ آبزرویشن کسی حد تک درست ہی لگتی ہے۔ درحقیقت گزشتہ تیس برسوں میں سیاسی حکمرانوں کے اشاروں پر میرٹ سے ہٹ کر نتائج حاصل کرنے کی خواہشات نے اِن اداروں کی تحقیقی جستجو میں سیاسی کرپشن اور رشوت ستانی کے در آ جانے کے سبب ضعف کے آثار پیدا کر دئیے ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ضرورت اِس اَمر کی بھی ہے کہ مقدمات میں میرٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے انویسٹی گیشن اداروں میں بھی معیاری ایس او پیز کا تعین کیا جائے۔
درج بالا تناظر میں ایک ایسی ہی عجیب و غریب صورتحال ایک صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کے حوالے سے دیکھنے میں آئی ہے جسے اگلے ہی دن سپریم کورٹ میں عدالت کی توہین کے حوالے سے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔بظاہر توہین عدالت کا یہ نوٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کرنے والے دس رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف غیر ضروری تنقید کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔میڈیا ذرائع کیمطابق سینٹ کمیٹی میں پیش کی جانے والی اطلاعات کیمطابق مطیع اللہ جان کے اغوا کا واقعہ گیارہ بجکر دس منٹ پر ہوا، مطیع اللہ کی اہلیہ کو واقعہ کا علم ایک بجکر تیس منٹ پر ہوا، پولیس تھانہ کو اطلاع تین بجکر بیس منٹ پر ملی۔ جبکہ سماجی میڈیا کی اطلاعات کیمطابق مطیع اللہ جان کو مبینہ اغوا کار دس بارہ گھنٹوں کے بعد جھاڑیوں میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ مطیع اللہ جان کے اغوا کی خبر اعزاز سید نامی صحافی نے بریک کی اور جب مطیع اللہ جان رہائی کے بعد واپس آئے تو اُس وقت بھی اُن کی تصویر مطیع اللہ جان اور اُنکے بھائی کے ہمراہ سماجی اور ٹی وی میڈیا پر بریک کی گئی۔ سماجی میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ ایک مبینہ اغواکار اُن کا موبائل فون اُن کی اہلیہ کے ہاتھ میں دیکر چلا گیا تھا جبکہ مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ جب اغواکار اُنہیں اغوا کرکے لے جانے لگے تو اُنہوں نے اپنا موبائل گیٹ کے باہر سے سکول کی عمارت میں پھینک دیا تاکہ اُن کی اہلیہ اُن کے اغوا کے بارے میں پولیس کو مطلع کر سکے۔
مطیع اللہ جان نے اپنے مبینہ اغوا کے بارے ٹی وی چینلز اور سماجی میڈیا پر چلائی جانے والی وڈیو میں جن حیران کن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بجائے خود اِس مبینہ اغوا کے بارے میں بے شمار سوالات کو جنم دیتے ہیں جن پر پولیس انویسٹی گیشن آفیسر کو بخوبی غور و فکر کرنا چاہیے۔ (1) مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ اغواکاروں نے اُن کے منہ پر بڑی ٹیپ لگا کر، آنکھوں پر پٹی باندھ، سرپر کپڑا ڈال کے ہاتھ کمر کے پیچھے ہتھکڑی سے باندھ کر دو تین افراد اُنہیں زد و کوب کرکے اُٹھا کر یا سہارا دیکر گاڑی تک لے گئے اور پچھلی نشست پر پھینک دیا اور گاڑی روانہ ہوگئی۔ (2) گاڑی میں سفر کے دوران اُنہوں نے ٹیپ سے بند کئے گئے ہونٹوں سے اغواکاروں سے پینے کیلئے پانی مانگا جس پر اغواکاروں نے اُن کے منہ پر پانی کا چھڑکاؤ کیا، پانی پلانے کیلئے اغواکاروں نے اُنکے منہ سے ٹیپ ہٹانے کی کوشش کی لیکن ٹیپ نہیں اُترسکا اور وہ پانی پینے سے محروم رہے۔ (3) ہونٹوں پر لگی بڑی ٹیپ جو اغوا کنندہ کو خاموش رہنے کیلئے لگائی جاتی ہے کے باوجود اُن کی اغواکاروں سے مسلسل گفتگو اور اُن کا بار بار کہنا کہ اُن کانام مطیع اللہ جان ہے اور وہ ایک صحافی ہیں۔ اِسی دوران ایک اغواکار نے اُن کے سر پر کسی چیز سے سخت ضرب لگائی جسکی اُنہیں سخت چوٹ محسوس ہوئی اور اُنہوں نے اِس چوٹ پر بے ہوشی کا مظاہرہ کیا۔ تب اغواکاروں نے کہا کہ یہ غلط آدمی ہے اور وہ اُنہیں جھاڑیوں میں پھینک کر فرار ہوگئے۔درج بالا تناظر میں بیشتر صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے نہ صرف مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کی مذمت کی ہے بلکہ مختلف زاویوں سے حکومتی ایجنسیوں کو بھی مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے جبکہ ایک صحافی حامد میر نے اپنے ویڈیو بیان میں اِس مبینہ اغوا کا الزام سویلین ایجنسیوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ پر لگانے کی کوشش کی ہے۔ مطیع اللہ جان کے اِس مبینہ اغوا پر متعدد سیاسی رہنماؤں نے مطیع اللہ جان کی رہائش گاہ پر جا کر یکجہتی کا اظہار کیا ہے لیکن حیران کن بات یہ کہ قاضی فائز عیسیٰ کیس پر مطیع اللہ جان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کئے جانے کے بعد میڈیا اطلاعات کیمطابق جس کی ابھی تک کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے قاضی صاحب اور اُن کی بیگم نے بھی مطیع اللہ جان کی رہائش گاہ پر جا کر اُن سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔
حالات اور مطیع اللہ جان کے بیان کردہ شواہد کی روشنی میں پولیس کو حقائق تک پہنچنے کیلئے نہ صرف اعزاز سید اور حامد میر کے بیانات قلم بند کرنے چاہیں بلکہ مطیع اللہ جان کے وڈیو بیان کے اہم نکات پر بھی تفتیش کی جانی چاہیے۔ (1) کیا مطیع اللہ جان کا موبائل فون مبینہ دہشت گرد اُن کی اہلیہ کو دے گیا تھا یا اغوا کاروں کی جانب سے ہاتھ پشت پر لوہے کی ہتکڑی سے باندھنے، ہونٹوں پر بڑی ٹیب لگانے، آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی تک اُٹھاکر لے جانے کے باوجود وہ موبائل فون اسکول کے بند گیٹ کے پار پھینکنے میں کیونکر کامیاب ہوئے جبکہ اگر کسی ایجنسی نے اغوا کی کوشش کی ہوتی تو اُن کیلئے موبائل فون اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے (2) اِس اَمر پر بھی پوچھ گچھ کی جانی چاہیے کہ اگر اُن کا موبائل فون مبینہ دہشت گرد دے کر گیا تھا یا اُنہوں نے سکول کے گیٹ کے باہر سے اندر پھینکا تو کیا موبائل فون پر کوئی خراش آئی ہے یا نقصان پہنچا تھا (3) اگر اُنہیں سکول کے گیٹ کے باہر سے اغوا کاروں نے آنکھوں پر پٹی، منہ پر بڑی ٹیپ، سر پر کپڑا اور پشت پر ہتکڑی سے ہاتھ باندھ کر کچھ فاصلے پر موجود گاڑی تک اُٹھا کر لے گئے تو اُن کی اہلیہ کو اُن کے اغوا کی اطلاع چند گھنٹوں کے بعد کیوں ملی اور پولیس کو مزید چند گھنٹوں تک اطلاع کیوں نہیں دی گئی (4) اگر اُنہیں اغوا کرتے ہوئے دہشت گردوں نے زد و کوب کیا تھا اور گاڑی کے اندر سرپر سخت چوٹ ماری گئی تھی تو بخیر و عافیت واپسی پر مطیع اللہ جان نے ہسپتال جا کر طبی معائنہ رپورٹ کیوں حاصل نہیں کی کیونکہ اگر پشت پر لوہے کی ہتکڑی باندھ کر اُنہیں گاڑی کی پچھلی نشست پر پھنکا گیا تھا اور دس بارہ گھنٹے وہ اِسی کیفیت میں رہے، سر پر ضرب لگائی اور رہائی کے وقت اُنہیں جھاڑیوں میں پھینک کر چلے گئے تو اُس کی خراشیں اُن کے جسم، پشت اور سر پر موجود ہونے کا ثبوت موجود ہونا چاہیے تھا؟اندریں حالات مطیع اللہ جان کے بیان کردہ شواہد کی روشنی میں تفتیش کرنا تو پولیس کاکام ہے لیکن کواکب یہی بتاتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے توہین عدالت کے نوٹس کے بعد مطیع اللہ جان کا اغوا بظاہر دوستانہ اغوا نظر آتا ہے جس کے بنانے والوں تک پہنچنا پولیس کی ذمہ داری ہے تاکہ عدلیہ اور حکومت کو بدنام کرنے کیلئے کئے جانے والے واقعات کی بخوبی روک تھام کی جا سکے۔

139
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...