بھارت حکومتی سطح پرپاکستان کے خلاف تو مسلسل بر سر پیکار رہتا ہی ہے اُس کا میڈیا بھی اُس کی مدد کے لیے ضرورت سے زیادہ متحرک رہتا ہے ابھی حال ہی میں بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ رپورٹ کیا ہے کہ ایم کیو ایم لندن کے لیڈر الطاف حسین نے امریکی سینٹ سے اپیل کی ہے کہ ایک بل سامنے لائے جس میں بلوچستان اور سندھ کی آزادی کا مطالبہ کرے کیونکہ یہاں کے لوگ انسانی حقوق کی بد ترین پا مالی کا شکار ہیں اور یہاں کے نوے فیصد لوگ آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ الطاف حسین کی طرف سے اس قسم کا مطالبہ کوئی غیر متوقع حرکت نہیں کیونکہ اُسے جب اور جہاں موقع ملے وہ ملک کی جڑیں کاٹنے میں لگ جاتا ہے جناح پور سے لے کراچی کے موقع بے موقع لاک ڈاؤن تک سب میں اسی شخص کا حکم چلتا رہا ہے۔ عقوبت خانوں میں محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ اسی کے حکم پر انسانیت سوز مظالم ہوتے رہے ہیں،گلی محلوں، سڑکوں اور گھروں میں اپنے مخالفین کو اسی کے حکم پر قتل کیا جاتا رہا ہے حتیٰ کہ اپنے کارکنوں میں غداری تو دور کی بات ذرا سے اختلاف رائے کی بُو بھی پانے پر انہیں ختم کردیا جاتا تھا۔کراچی کے لوگوں کو اس شخص کی اصلیت تو معلوم تھی ہی لیکن خوف کی اس فضا میں وہ بے بسی سے یہ سارا تماشا دیکھتے رہے تھے ہاں جب انہیں موقع ملا تو دہائیوں پر محیط اس جال کو انہوں نے نہ صرف توڑا بلکہ تارتار کر دیا اور یہی اس شخص سے برداشت نہیں ہو رہا کہ اب شراب کے نشے میں دھت وہ اگر کچھ بولے تو لوگ اُسے سننے پر مجبور نہیں تو اُس نے اپنے پرانے محسن بھارت کی میڈیا کا سہارا لیا جس نے فوراً نہ صرف اُس کی خبر چلا دی بلکہ اُس کا مطالبہ بھی بڑھا چڑھا کر پیش کر دیاحالانکہ خود ماضی کا الطاف بھائی اور آج کا الطاف حسین بھی جانتا ہے اور بھارت اور اُس کا میڈیا بھی کہ الطاف حسین اب پاکستان اور سندھ کی سیاست سے منفی شدہ شخص ہے جسے خود برطانیہ میں عمران فاروق قتل کیس کے مقدمے کا سامنا ہے لیکن بھارت کو اس وقت خود جن مسائل کا سامنا ہے ان سے دنیا اور اپنے عوام کی توجہ ہٹا نے کے لیے اس نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ان کے نان ایشوز کو ایشوز بنانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ اس وقت بھارت کو نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ اپنی بین الاقوامی سرحدوں پر بھی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا ہے۔ کشمیر تو خیر بھارت اور پاکستان کے درمیان آزادی کے پہلے ہی دن سے لے کر اب تک ایک سلگتا ہوا انگارہ ہے ہی لیکن پچھلے سال اگست میں بھارت کے اقدامات کے بعد سے کشمیر کا مسئلہ مزید گھمبیر ہوتا جارہا ہے ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف اقدامات کی جو ایک لہر بھارت میں اٹھی ہوئی ہے اور اس کا جو شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اُس نے بھی بھارت کو بوکھلا کر رکھا ہوا ہے۔ بھارت کے ہوش اڑانے کو تو چین کا بھارت کے ساتھ تنازعہ بھی کافی ہے جہاں چین نے بغیر کوئی گولی چلائے بھارت کا میلوں علاقہ فتح کر کے اپنے قبضے میں لے لیا۔ گولی تو نہیں چلی لیکن بھارت کے فوجیوں کو جس بُری طرح مارپڑی اور جسے سوشل میڈیا پر دنیا نے دیکھا اُس نے بھارت کے چودہ طبق روشن کر دیے۔چین اور پاکستان تو بڑے دشمن ہیں جو بھارت کو نہ صرف ترکی بہ ترکی جواب دے سکتے ہیں بلکہ اس کے چھکے بھی چھڑا سکتے ہیں اور اسے اپنے کیے پر پشمان بھی کروا سکتے ہیں جیسا کہ حال میں چین نے کیا،یا ابھی نندن جیسے واقعے کو نہ بھی لیں تو پچھلے ایک دو مہینوں نے میں پاکستان نے بھارت کے کئی جاسوس ڈرون گرا کر اُسے اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کیا لیکن بھارت کی بدقسمتی کہیے کہ نیپال جیسے چھوٹے ملک نے بھارت کے ساتھ مقابلے کی جس طرح ٹھانی ہے وہ بھی بہت اہم واقعہ ہے۔ نیپال نے نہ صرف اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ بھارت نے متنازعہ علاقے میں کیوں ایک سڑک کے منصوبے پر کام شروع کیا بلکہ اب تو اُس نے اپنے ملک کا ایک نیا تقشہ جاری کیا ہے جس میں بھارت کے ساتھ متنازعہ علاقے کو اپنے ملک میں شامل کر کے دکھایا ہے اور شاید اس سے بڑاطعنہ بھارت کے لیے کوئی نہ ہو کہ ایک چھوٹا ہمسایہ ملک اٹھ کر اُسے آنکھیں دکھائے۔ یہ تو بھارت کے چند مسائل ہیں ورنہ یہ فہرست بہت طویل ہے اور اسی لیے ان سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ بے سروپا باتیں کرنے والے لوگوں کی بے سروپا خبریں اڑاتا ہے اور یہی اس خبر کے سلسلے میں ہوا کہ الطاف حسین جیسے چلے ہوئے کارتوس کی خبریں چلانا شروع کردیں۔ ورنہ وہ جس سندھ کی بات کر رہا ہے اُسی سندھ نے اُسے بُری طرح مسترد کیا ہوا ہے حتیٰ کہ کراچی جسے اُس نے ایک عرصے تک یر غمال بنا رکھا تھانے بھی اب نہ صرف اُس سے خلاصی پائی ہے بلکہ اُس سے لاتعلقی کا مکمل اظہار کر چکا ہے۔ اہمیت الطاف حسین کے بیان کی نہیں بلکہ بھارت کی نیت اور بھارتی میڈیا کے رویے کی ہے جو پاکستان میں بدامنی کو ہوا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتااور سالوں بلکہ دہائیوں بعد بحال ہونے والے امن کو ایک بار پھر خراب کرنا چاہتا ہے۔ بلوچستان میں تو یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت یہاں کے معاملات میں ٹانگ اَڑا رہاہے بلکہ اُس نے خودکئی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں بھی جب اُسے موقع ملتا ہے تو وہ ہاتھ مارنے کی کوشش کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ یہاں کے محب وطن عوام ہر بار اُس کے منصوبے کو ناکام بنا دیتے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہے کہ ان دونوں صوبوں کے عوام اس بہت بڑے سازشی ذہن کی کارستانیوں سے بھی آگاہ ہیں اور بھارت کے داؤپیچ سے بھی لہٰذابات پریشانی کی نہیں لیکن دشمن سے ہوشیار ضرور رہنا ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں صرف یہ کہ مداخلت نہ کر سکے بلکہ اُس کے بُرے منصوبوں کا رخ خود اُس کی طرف پھیر دیا جائے اور اُسے یہ مشورہ بھی دیا جائے کہ وہ اپنے مسائل حل کرے اور اپنے لوگوں کو مطمئن کرے نہ کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرے یا ٹانگ اَڑائے اس وقت اُس کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی توجہ چین اور نیپال کی طرف موڑے تاکہ وہاں سے اپنی جان چھڑا سکے۔

150
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...