بھارت پاکستان کو آنکھیں دکھاتے دکھاتے یہ بھول گیا تھا کہ اُس کی سرحد پر ایک اوربڑی طاقت بھی موجود ہے جس کا نام چین ہے۔یوں تو بھارت کے اپنے تمام پڑوسیوں سے مسلسل تنازعات رہتے ہیں کبھی سرحدی کبھی آبی کبھی کوئی اور کبھی کوئی اور پاکستان اور چین سے اُس کی کی کھلی جنگیں ہو چکی ہیں لیکن بھارت کے شر سے اُس کے باقی پڑوسی بھی محفوظ نہیں۔ ابھی حال ہی میں نیپال سے اس کا سرحدی تنازعہ ہوا جب اُس نے کالا پانی کے علاقے میں ایک سڑک کا افتتاع کیا اور بظاہر یہ کہا کہ یہ سڑک کیلاش قبائل زائرین کا مانسرور تک پہنچنا آسان بنادے گا لیکن نیپال کا اعتراض یہ ہے کہ علاقہ متنازعہ ہے اور یہاں لائن آف کنٹرول کے خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ابھی بھارت اس تنازعے میں الجھا ہی ہوا ہے اور کرونا پر قابو پانے کے بعد دونوں ملکوں کے سیکریٹریوں کے درمیان اس پر بات چیت ہو گی یہ اور بات ہے کہ اب کرونا اس خطے میں بے قابو ہو رہا ہے لہٰذ ا یہ ملاقات مستقبل قریب میں ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ابھی یہ ہو ہی رہا تھا کہ لداخ کے علاقے میں جہاں بھارت غیر قانونی تعمیرات کر رہا تھا وہاں اسے چین سے مار پڑ گئی اور ہزاروں چینی فوجی بھارت میں در آئے اور کئی ویڈیوز وائرل ہو گئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے بھارتی فوجی چینی فوجیوں کے آگے کھسیانی بلیاں بنے ہوئے ہیں۔اس وقت بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا چیخ رہا ہے کہ اسے تین محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے چین سکم بارڈر، نیپال بھارت سرحد اور لداخ کی سرحد پر عملاََ چینی فوجی لداخ کے اندر موجود ہیں بلکہ رپورٹس کے مطابق پانچ ہزار چینی فوجی اس وقت لداخ میں موجود ہیں۔ بھارت کی چین کے ساتھ ساڑھے تین ہزار کلو میٹرلمبی سرحدہے ان کی یہ سرحد ہمالیہ سے جا کر ملتی ہے اور لداخ میں اس وقت چینی کیمپ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ چین اس وقت اکسائی چن اور تبت چین سرحد پر تیز ترین ذرائع نقل و حمل تیار کر چکا ہے جو بھارت کے لیے یقینا باعث تشویش ہیں اور شاید اسی بوکھلاہٹ میں اس نے لداخ کے علاقے میں تعمیرات شروع کیں اور چین کی نظر میں آگیا اور جوابی کاروائی میں اس نے رپورٹس کے مطابق اپنا کئی کلو میٹر علاقہ کھو دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بھارت سر کار اس سارے منظر نامے میں بالکل خاموش ہے، نہ وزیر اعظم نریندر مودی کو کچھ سوجھ رہا ہے کہ بولیں، نہ اس کے مشیر قومی سلامتی اجیت دیول کے منہ سے کچھ نکلا بولے تو چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت نے مصلحت پسندی پر مبنی ایک گول مول سا بیان دیااور یوں گویا ہوئے کہ یہ سب سرحدی تنازعات ہیں اور جلد ہی حل ہو جا ئیں گے جبکہ اس کا میڈیا خوف پر مبنی واویلاکر رہاہے اور کہہ رہا ہے کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو چکا ہے اور سینکڑوں کلومیٹر کا علاقہ کھو چکا ہے۔دراصل بھارت خطے میں وہ ملک ہے جس کے ہر پڑوسی کے ساتھ تنا زعات ہیں اس نے خطے میں جنگ کی ایک مستقل صورتحال پیدا کیے رکھی ہے اور اسلحے کی دوڑ لگا رکھی ہے وہ مسلسل اسلحہ خرید بھی رہا ہے جمع بھی کر رہا ہے اور کشمیر میں تو اسے آزادی حاصل ہے کہ جیسے چاہے اسلحے کا بے دریغ استعمال کرے۔پاکستان کے ساتھ وہ مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے جس نے سرحد کے ساتھ ساتھ رہنے والے کشمیریوں کی زندگی مشکل بنائی ہوئی ہے اس کے علاوہ بین الاقوامی سرحد کے اس پار بھی وہ مسلسل فائرنگ اور توپ خانے کا استعمال کرتا رہتا ہے۔لیکن دوسری طرف بھارت کی جنگی مہارت اور ہمت نہتے کشمیریوں اور بھارت کے بے آسرا مسلمانوں کے لیے ہے ورنہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ بھارت کی جنگی مہارت کا پول کھلا ہو اور اسے اپنے دشمن سے منہ کی کھانی پڑی ہے اور لداخ میں وہ شرمندہ ہوا ہے اس سے پہلے فروری 2019میں اس نے پاکستان کے ساتھ مہم جوئی کی کوشش کی اور اس کا سورما پائلٹ ابھی نندن اپنا جہاز گرا کر خود کو بچانے کی کوشش میں پاکستانی شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا اور پھر پاک فوج کا مہمان بنا، میس میں آرام کیا،لباس تبدیل کیا، چائے کی چسکیاں لیں اور بھارت کو واپس کردیا گیا اور اس کا تباہ شدہ طیارہ پاک فضائیہ کا ایک قیمتی سرمایہ بن گیا۔ بھارت کو اپنی مہم جوئی پر جو ہزمت اورشرمندگی اُٹھانا پڑی وہ بھارت کی جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اُسے یہ بھی بتانے کے لیے کافی ہے کہ جنگی سامان تو ضروری ہے لیکن بندوق کے پیچھے جو شخص ہے اُس کی بہادری اور حاضر دماغی بھی بہت ضروری ہے اور مہارت بھی جو بھارت نہیں دکھا پا رہا اور بُری طرح مارکھا رہا ہے۔ نہ اس سے اندر کے معاملات سنبھل رہے ہیں نہ باہر کے، ابھی تک وہ شہریت کے متنازعہ بل کو ہی اپنے مسلمان عوام سے منوا سکا ہے نہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچل سکا ہے نہ نکسل باڑیوں کو چپ کرا سکا ہے اور نہ ہی بیرونی محاذپر کوئی قابل ذکر کارنامہ کر سکا ہے بلکہ پچھلے دو ایک سالوں میں تو اُسے مسلسل شرمندگی کا سامنا ہے۔ ابھی نندن سے لے کر لداخ تک کی کہانی اُسے سبق سکھانے کو کافی ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ بھارت مہم جوئی کا طیرہ ترک کرے اور خطے کے امن کو داؤ پر نہ لگائے اور امن پسندی کا طریقہ اختیار کر لے تاکہ نہ صرف اس کی عزت بچ جائے بلکہ علاقے میں بھی امن قائم ہو ورنہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان بیٹھا بھارت جو خود بھی ایک ایٹمی قوت ہے کا ٹکراؤ نہ ہی ان ملکوں کے مفاد میں ہے نہ دنیا کے۔

307
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...