انگریز نے انیسویں صدی میں جن ملکوں پر قبضہ کیا تھا اُن میں سے قریباً تمام کو یکے بعد دیگرے بیسویں صدی کے پہلے پچاس ساٹھ سالوں میں چھوڑ کر یعنی آزاد کر کے چلا گیا۔ہر ملک کے باشندوں نے اپنا ملک واپس لینے کی جدوجہد کی اور انگریزکو ایسا کرنے پر مجبور کیا کہ ان کا ملک ان کو واپس ملے۔ اسی صدی میں 1947میں انگریز نے ہندوستان بھی چھوڑ ا لیکن اس سارے عمل کے دوران کم از کم جدید جغرافیائی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا کہ ایک بالکل نیا ملک معرض وجود میں آیا اور وہ تھا ”پاکستان“۔ اس سے پہلے اس کرہ ارض پر اس نام کا نہ کوئی ملک تھا نہ کوئی قوم تھی ہاں بقول قائداعظم کے نظریاتی طور پر پاکستان اُسی وقت وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ہوا بھی ایسا ہی تھا بس اس کی تشکیل باقی تھی اور جب 1947میں یہ تشکیل ہوئی تو اُس وقت ہندوستان کے ہندو اکثریتی علاقوں میں کروڑوں مسلمان آباد تھے اور انہوں نے صرف عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر پاکستان کی حما یت کی، اگرچہ وہ جانتے تھے کہ یہ ملک مسلمان اکثریت کے علاقوں میں بنے گا اور شاید وہ وہاں نہ جاسکیں لیکن انہوں نے پھر بھی کسی شک وشبہے کو پاس پھٹکنے نہ دیا اور اس نظریے کی بنیاد کہ ہندو ستان میں دو قومیں بستی ہیں ایک مسلمان اور دوسری غیر مسلم اور یہ کہ یہاں کے مسلمانوں کا ایک الگ ملک ہونا چاہیے اس کی حمایت کی۔ اگر چہ کہنے کو ہندو اس نظریے کے خلاف تھے کیونکہ انہیں اکھنڈ بھارت چاہیے تھا جہاں وہ مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھتے لیکن اُن کا مسلمانوں کے خلاف رویہ اُس وقت بھی اس بات کا مظہر تھا کہ مسلمان اورہندو دو الگ الگ قومیں ہیں اور آج بھی وہ اسی بات پرقائم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نہ اُنہوں نے اُس وقت مسلمانوں کو اپنے ہم پلہ سمجھا اور نہ آج اُن کو اُن کے حقوق دیے جارہے ہیں، کہنے کو چند ایک مسلمان بھارت میں اعلیٰ سرکاری اور سیاسی عہدوں تک بھی پہنچے لیکن بیس کروڑ لوگوں میں ان چند ایک کے علاوہ کسی کو ہندو اکثریت کے برابر نہیں سمجھا گیا حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے تقسیم کے وقت پاکستان آنے کی بجائے بھارت میں ہی رہنے کو ترجیح دی تھی بلکہ اگر دیکھا جائے تو کروڑوں کی آبادی میں سے صرف 72لاکھ سے کچھ زائد لوگوں نے پاکستان ہجرت کی، اگرچہ یہ بہت بڑی ہجرت تھی مگر پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی لیکن بھارت کے ہندؤں نے بھارت کو اپنا ملک سمجھ کر پیچھے رہ جانے والے ان مسلمانوں کو ہمیشہ یہ یاد دلایا اور احساس دلایا کہ وہ بھارت میں پہلے درجے کے شہری نہیں ہیں کبھی گائے کے بدلے ان کی جان لی گئی اور کبھی کسی ایک ہندو اور ایک مسلمان کی آپس کی بدمزگی پر مسلمانوں کے سینکڑوں گھر،دکانیں، املاک بلکہ پورے کے پورے گاؤں اور آبادیاں جلائی گئیں۔ بے شمار دفعہ ایسا بھی ہوا کہ کوئی فرضی جرم کسی مسلمان سے منسوب کر کے ان پر دھاوا بولا گیا۔کبھی انہیں کشمیری مسلمان ہونے کی سزا دی گئی اور کبھی آسامی مسلمان ہونے کی۔وقتاََ فوقتاََایسے قوانین بنائے گئے جس میں مسلمانوں کو معاشی، معاشرتی،سیاسی اور سماجی ہر ہر طرح سے نقصان پہنچایا گیا حتیٰ کہ اُن کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کی تازہ ترین مثال بابری مسجد ہے۔یہ سب کچھ 1947سے لے کر اب تک چلتا رہا اور اس نظریے پر کہ بھارت صرف ہندؤں کا ہے مسلمانوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔سیکولر بھارت میں شدت پسندی کوہندو معاشرے کی جڑوں تک پہنچایا گیا جس کا ثبوت بی جے پی کا بار بار اقتدار میں آنا ہے اور جب سے ایک دہشت گرد یعنی مودی بھارت کا وزیر اعظم بنا ہے تب سے تو مسلمان خاص نشانے پر ہیں۔پہلے کشمیر میں ان کو بُری طرح نشانہ بنایا گیا اور پانچ ماہ سے ان پر کرفیو مسلط کر رکھاہے۔اس سے پہلے آسام میں جب این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کے تحت بھارت حکومت کے علم میں یہ بات آئی کہ اس کے تحت تو زیادہ تر بنگالی ہندو بھارتی شہریت کا حق کھو رہے ہیں تو اس میں فر ضی غلطیوں کا انکشاف کیا گیا اور یوں ہندؤں کو فائدہ دینے کی کوشش کی گئی اور یہاں مسلمانوں کے تناسب کو کم کرنے کی کوشش کی گئی جس پر آسام میں شدید احتجاج ہوااور پھر 11دسمبر2019کو سیکولر بھارت کی پارلیمنٹ نے ایک اور مسلم مخالف قانون منظور کیا جس کے تحت بھارت میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، سکھ،بدھ،عیسائی یعنی تمام مذاہب کے لوگوں کو بھارت کی شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو یہ شہریت نہیں دی جائے گی۔جس پر پورے بھار ت میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور کر رہے ہیں جس میں مسلمان طلباء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور لے رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں سے نہ صرف امتیازی سلوک کیا گیا بلکہ کوشش کی گئی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو کسی بھی صورت کم کیا جائے۔ یہ بات توطے ہے کہ پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش کے مسلمان بھارتی شہریت کی خواہش بہت ہی کم رکھیں گے اس لیے یہ تو پریشانی کی بات نہیں کہ مسلمان کیوں اس نعمت سے محروم رہ جائیں گے لیکن یہ ضرور ہوگا کہ ہندو اکثریت کو اس طرح مزید سے مزید بڑھایا جائے گا اور مسلمانوں کو مزید سے مزید دبایا جا سکے گا۔ مودی اور گروہ ِمودی نے کم از کم ایک بات کو توثابت کر دیا کہ ”ہندوستان میں دو قومیں بستی ہیں ایک ہندو اور غیر مسلم اور ایک مسلمان“اور اُن کو بھی اس بات کا باور کرا دیا جنہوں نے اس وقت اس نظریے کی نفی اور تضحیک کی تھی۔ آج بھارت میں شہریت کے نئے قانون میں نئی ترمیم نے دو قومی نظریے کو مزید مضبوط کر دیا اور اسی تر میم نے بھارت میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگوا دیے۔مودی نے یہ کارنامہ بھی سر انجام دیا کہ سیکولر بھارت کا مذہبی شدت پسند چہرہ دنیا کو دکھا دیا اور پہلی بار مذہب کو شہریت کے قانون کے ساتھ جوڑ ا۔اس قانون کے تحت31 دسمبر2014 سے پہلے بھارت میں داخل ہونے والے غیر مسلموں کو بھارتی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس بِل میں بظاہر یہ کہا گیا کہ جن لوگوں کے ساتھ مذہبی بنیاد پر زیادتی کی گئی ہو انہیں شہریت دی جائے گی اور یہ ان کے تحفظ کے لیے ہے لیکن دراصل اس کا مقصد مسلمانوں کے تناسب کو کم کرنے کے ساتھ علاقے کے مسلمان ملکوں کو بد نام کرنا بھی ہے جہاں اب ذاتی تنازعات کو بھی مذہبی زیادتی قرار دے کر بد نام کیا جا سکے گا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو تبت، سری لنکا اور میانمار جیسے ملکوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جاتا۔مودی کے اس اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ تک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مذہبی تعصب قرار دیا لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ مسلمان ممالک اور خاص کر مشرق وسطیٰ کے بھارت کے دوستوں نے ابھی تک کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور یہی رویہ ہے جو مودی کو مسلمانوں کے خلاف مسلسل اقدامات کا حوصلہ دے رہا ہے۔بہر حال اس وقت بھارت مکمل طور پر ہنگاموں اور احتجاج کی زد میں ہے اور1947اور اس سے پہلے کی تصویریں اور مناظر اُبھر اُبھر کر سامنے آرہے ہیں اور ساتھ ہی دنیا کو یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ بھارت کتنا سیکولر ہے اور یہ بھی کہ دہشت گرد کون ہے اور خطے میں کون فساد کی جڑ ہے۔

111
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...