قومی ریاستی ڈھانچے کا ایک اہم ستون عدلیہ ہے جو باقی دو ریاستی ستونوں یعنی مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر حکومت کے معاملات کو چلاتی اور آگے بڑھاتی ہے لیکن یہ ستون اپنے عمل کار میں آزاد ایسے ہے کہ اس کے فیصلوں پر نہ انتظامیہ اور نہ مقننہ اثر انداز ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہونے لگے تو پورا قومی ڈھانچہ متاثر ہو جاتا ہے کیونکہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہووہاں بھلائی پنپ نہیں سکتی اور بُرائی کی جڑ اکھڑ نہیں سکتی کیونکہ ان دونوں کا براہ راست تعلق سزا و جزا سے ہے اور سزا و جزا کی ذمہ دار عدالت ہے۔پاکستان میں عدالتیں مختلف اوقات میں مختلف قسم کی آراکے زیر تبصرہ رہی ہیں اس وقت بھی لا ہور ہائی کورٹ کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلے کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی کافی تبصرے بلکہ لطیفے پیش کیے جا رہے ہیں ملک کے اندر تو لے دے ہو ہی رہی ہے ملک سے باہر بھی اس فیصلے کے بارے میں تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ورجینیا امریکہ کے ایک اخبار نے پاکستانی عدالتوں کے بارے میں جوشہ سرخی جمائی وہ تو تھی ہی بہت شرمناک پھر اُسے ہمارے پاکستانیوں نے جس طرح سوشل میڈیا پر وائرل کیا وہ اس سے بھی زیادہ شرمناک فعل تھا لیکن ہم سیاست میں اور پھر سیا سی حمایت میں اپنی قومی عزت ِنفس کو بالکل بھول جاتے ہیں۔اخبار نے لکھا پاکستانی عدالتیں امیروں کی کتیا ہیں یا ان کی طوائفیں ہیں۔یوں ہم نے بین الاقوامی سطح پر خوب نام کمایا اور حد تو یہ کہ سب کچھ جانتے ہوئے ہمارے وزیر اعظم نے بھی اپنی عدالتوں کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی تلقین کرتے ہوئے محتاط انداز میں ہی سہی لیکن تنقید کا نشانہ بنایا اور یوں اپنی عدالتوں کو خود ہی مشکوک بنا دیا۔پھر ایسے میں اگر ورجینیا کا ایک اخبار اٹھ کر ہمارے اداروں کو تضحیک کا نشانہ بناتا ہے تو پھر شکایت کیسی اور پھر اس خبر کو جب ٹویٹر پر مشتہرکیا گیا تو پورا سوشل میڈیا ہی اسی پر بول اٹھا، امریکیوں کے مختصر انٹرویوز کیے گئے اور یو ٹیوب پر بے تحاشہ شیئر کیے گیے۔میں ایسا نہ کہتی ہوں نہ سمجھتی ہوں کہ ہماری عدالتیں غلطی نہیں کرتیں مجھے بھی اپنی عدالتوں کے کافی سارے فیصلوں پر اعتراض رہا ہے اوررہتا ہے جن پر کئی بار میں نے اپنے مضامین میں تنقید بھی کی ہے لیکن ہمیں تنقید اور تضحیک میں فرق محسوس کرنا چاہیے اور اپنے اداروں کو بے توقیر نہیں کرنا چاہیے۔محمدنواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وزیر اعظم کی تنقید کا تو چیف جسٹس نے انتہائی مناسب انداز میں جواب دے دیاکہ یہ فیصلہ حکومت کا تھا عدالت کا نہیں عدالت نے صرف اس کی جزئیات طے کی ہیں اور ان کی بات کا اعتبار اس لیے کرنا چاہیے کہ وزیراعظم نے خود ایک سے زائد بار اس بات کا اعلان اور اظہار کیا کہ سابق وزیر اعظم شدید بیمار ہیں اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باہر جانے دیا جا رہا ہے اوراس کے لیے میں نے خودہدایات دی ہیں وغیرہ وغیرہ جبکہ پنجاب کی وزیر صحت سمیت کئی وفاقی وزراء نے بھی ایسے ہی بیانات دیے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں نے کہا بھی کہ یہ این آر اوکی پہلی قسط ہے۔بہرحال جو بھی تھا اور جو بھی ہوا لیکن حکومت کو یہ بالکل زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کہے ہوئے اور کیے ہوئے کو یوں دوسروں کے کھاتے میں ڈال دے اور اپنے اداروں کی سبکی اور تضحیک کرنے کا موقع دے اگر اس معاملے کو بہتر طور پر نمٹا دیا جاتا تو ایک غیر ملک کا اخبار اٹھ کر توہین آمیز سرخی نہ لگا تااور پھر خود ہمارے لوگ اگر اُسے ٹویٹر، یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع پر نہ پھیلاتے تو یوں ملک کی تحقیر نہ ہوتی اور اس بات کا نوٹس ہمارے تفتیشی صحافیوں کو بھی لینا چاہیے تھا کہ دور پار کے ایک اخبار نے کس کی شہ پر ہماری عدالتوں کے خلاف یہ شہ سرخی جمائی۔ معاملہ حکومت یا عدالت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں ملکی وقار کا ہے عدالت ہو یا کوئی اور ادارہ ان کو کسی بھی تنقید برائے اصلاح سے مبراء نہیں ہونا چاہیے لیکن تنقید کرتے ہوئے یہ پہلو ضرور ذہین میں رکھنا چاہیے کہ اس کے بعد ملک کہاں کھڑا ہو گا اور بین الاقوامی سطح پر ہماری کیا عزت رہ جائے گی لہٰذا تنقید کیجئے تضحیک نہیں اور نہ دوسروں کو اس کی اجازت دیں۔

121
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...