مودی اپنی تمام تر دہشتگردی اور شدت پسندانہ سوچ کے باوجود دوبارہ بھارت کا وزیر اعظم بنا تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اپنی شدت پسندی میں مودی اکیلا نہیں بھارت کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ اس کے ساتھ ہے جس نے اُسے ووٹ دیا یعنی بھارت مذہبی جنونیت میں مبتلا ء ہے ایک ایسی جنونیت جو صرف ہندو کے حقوق کی بات کرتی ہے اور یہ لوگ دیگر تما م مذاہب کے لوگوں کو بھارت کی سر زمین پر کوئی جگہ دینے کو نہ تیار ہیں نہ اُن کا حق سمجھتے ہیں۔ ان کا مطالبہ اور کوشش ہے کہ وہی لوگ جو پشت ہا پشت سے اسی زمین پر پیدا ہوئے اور رہنے والے ہیں اُن کو اس زمین سے نکال دو، باقی بھارت تو ایک طرف، کشمیر تو ہے ہی مسلم اکثریتی ریاست لہٰذا اس پر ہندوستان کے حق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ بھی جب وہاں کے لوگ خود اُس سے علیحدگی چاہتے ہیں تو پھر بھارت کا اُس پر حق جتانے کا حق بھی نہیں بنتا کجا کہ اُس کو اپنے ملک میں شامل کرلے۔ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے بلکہ اس کی متنازعہ حیثیت بھی زبردستی پیدا کی گئی ہے ورنہ تو مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی بنا پر اسے پاکستان کا ہی حصہ ہو نا چاہیے وہ بھی اس صورت میں جب یہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان سے جڑا ہوا ہے اس کی تہذیب،تمدن معاشرت سب کچھ بھارت سے مختلف ہے الغرض یہ کسی حوالے سے بھی بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد بھار ت نے یہاں شازشیں شروع کیں اور ہندو راجہ ہری سنگھ کی وجہ سے اُسے کامیابی بھی ملی جس نے بھارت سے الحاق کا اعلان کیا اور یوں کشمیر کے مسئلے اور تنازعے نے جنم لیا جو باوجود اقوام متحدہ کی مداخلت کے حل نہ ہو سکا اور بہتّر سال سے یہ دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان ناخوشگوار تعلقات کی بنیادی وجہ ہے اور کئی جنگوں کا باعث بھی لیکن اس تما م صورت حال کی تمام تر ذمہ داری بھار ت کے اوپر یو ں عائد ہوتی ہے کہ باوجود ایک طویل جدوجہد آزادی کے اس نے کشمیر کے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے۔ کشمیریوں نے کبھی اپنی علیحدہ حیثیت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔نسلوں سے اپنی آزادی کے لئے لڑتے ہوئے ان لوگوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اوردنیا کی توجہ اپنی طرف بارہا مبذول کرائی لیکن اس بار تو گویا ایک ملک پر قبضہ کیا گیا جب بھارت کے دہشت گرد وزیراعظم نریندرامودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے نہ صرف اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی دھجیاں اُڑا دیں۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ نہ تو دنیا بولی اور حد یہ کہ نہ مسلمان ممالک بلکہ”مسلمان متحدہ عرب امارات“ نے تو حد کردی کہ عین اُس وقت جب اس دہشت گرد نے تقریباً ایک کروڑ مسلمانوں کو گھروں میں قید کیا ہو ا تھا تو اُس نے اسے اپنے اعلیٰ ترین سول ایوارڈسے نوازا۔ اسکی وجہ مودی کی عربوں سے محبت نہیں بلکہ امارات کو اپنے تیل کی ایک بڑی منڈی کو قائم رکھنا ہے۔بھارت اس وقت دنیا میں معدنی تیل کی تیسری بڑی منڈی ہے۔ اُسے اپنی تقریباً ایک ارب کی آبادی کے لئے پوری دنیا سے تجارت کرنا ہے یہ اسکی مجبوری ہے کیونکہ اُسے اپنے ننگے بھوکے عوام کے پیٹ بھی بھر نا ہے اور تن بھی ڈھانپنا ہے لیکن ہمارے مسلمان ملکوں نے حسب معمول خود کو بھارت کی مجبوری بنانے کی بجائے اُسے اپنی مجبوری بنایا ہوا ہے۔ بھارت ایک پوری مسلمان ریاست ہڑپ کر گیا لیکن مسلمان ممالک ٹس سے مس نہیں ہوئے سوائے ایک دو ممالک کے جہاں سے پاکستانی موقف پرمعمول کے تائیدی بیانات آئے اور بس قصہ ختم۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے میں تو کامیابی حاصل کی لیکن سفارتی سطح پر وہ کچھ نہیں کر سکا جو اُسے کر نا چاہیے تھا بلکہ اسلامی ممالک کی بے حسی تو اس حدتک پہنچی ہوئی ہے کہ مغربی اور یورپی ممالک میں جو عوامی احتجاج ہوا اُس کی بھی کوئی خبر اسلامی ممالک سے نہ آئی یہ اور بات ہے کہ کسی دور دراز کے مسلمان ملک میں کچھ اونچ نیچ ہو تو شاید وہاں سے زیادہ ہمارے سیاستدان ہمارے جذباتی عوام کی سڑکوں پر لے آتے ہیں جو راستے اور چوراہے بند کرکے عام عوام کے لئے بے تحاشا مشکلات کھڑی کر دیتے ہیں لیکن ایک اسلامی ملک نے اس بار مودی کو مسلمانوں کے قتل عام پر جس طرح نوازا ہے وہ ہمارے منہ پر ایک طمانچہ ہے کہ سنبھالو اپنے معاملات ہمیں اپنی تجارت اور اپنے مفادات پیارے ہیں۔ یہ واقعہ ہمارے لئے ایک طرح سے چشم کشا بھی ہے کہ پہلے اپنے آپ کو اتنا مضبوط بناؤ کہ دنیا خود تمہاری عزت کرے ہم جن اسلامی ممالک کی خا طر اپنے عوام سے اپنی املاک کو نقصان تک پہنچوا دیتے ہو وہی ہمارے معاملات سے لاتعلق ہے۔ مجھے ایک دوست اسلامی ملک جانے کا اتفاق ہوا بے شک وہاں کے لوگ بہت محبت سے ملے ان کے لئے پاکستان کا نام ہی کافی تھا لیکن دھچکا اُس وقت لگا جب ایک سکو ل ٹیچر نے کہا ہاں میں نے آپ کے گاندھی کو پڑھا ہے اور مجھے اُسے بتانا پڑا کہ ہمارا جناح ہے گاندھی نہیں۔تو یہ ہے باہر کی دنیا میں ہماری ”رینکینگ“۔ میں خدا نخواستہ اسلامی اخوت کی مخالفت نہیں کر رہی میں تو فٹ بال ورلڈ کپ میں کسی مسلمان ملک کے آگے بڑھنے کا بھی جشن مناتی ہوں اور وہاں ہونے والی خانہ جنگیوں پر سوگ بھی میانمار کے مسلمان بھی مجھے رُلاتے ہیں اور افغانستان میں ہونے والی تباہی اور دھماکے بھی لیکن اس بار اپنی بے کسی کا سوگ بھی منایا کہ ہم دنیا میں عملی معنوں میں تنہا کھڑے ہیں اور شاید بحیثیت قوم بھی ہم نے سمجھ لیا کہ آج دنیا جذبات کی دنیا نہیں اپنے مفادات کی ہے اور آج کی جنگ ہتھیاروں سے زیادہ معاشیات سے لڑی اور جیتی جاتی ہے جس کے لئے سفارتی سطح پر خود کو مضبوط کرنا پڑتا ہے اور کشمیر کے حالیہ حالات میں ایسا لگ رہا ہے کہ معاشی تو ایک مشکل میدان ہے ہم نے سفارتی میدان بھی دشمن کے لئے خالی چھوڑا ہوا ہے وہ جو چاہے کرے ہم مجبوراً اس کو سہیں گے کیونکہ ہم نے حکومتی اور عوامی سطح دونوں پر سنجیدگی سے ہاتھ پیر یا زبان ہلانے کی ضرورت کو سمجھاہی نہیں۔ ہم نے اقوام متحدہ میں پچاس ساٹھ سال پہلے جو قراردادیں منظور کروائیں انہیں کو کافی سمجھا۔ کئی ادوارِ حکومت میں تو ہم نے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا نام بھی نہیں لیا۔ ہاں ایک وزارت امور کشمیر اور ایک کشمیر کمیٹی ضرور ہے تاکہ کچھ سیاسی حمایتوں کی نوکری لگی رہے۔ ہم نے اس بار بھی میدان جنگ میں گھوڑوں کے نعل بھی لگائی زین بھی چڑھائی اور گھوڑے تیار کئے لیکن اُس وقت تک دشمن کے گھوڑے سری نگر فتح کر چکے تھے، حالانکہ اس فتح سے عین پہلے ہمارے وزیر اعظم امریکہ کا دورہ کرکے آئے تھے لیکن اتنی بڑی خبر سے بے خبر رہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے بھی بڑی جذباتی اور جو شیلی تقریریں کیں لیکن اس وقت جب معاملات ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اب ہم فوج کشی اور تاخت و تاراج کی باتیں کر رہے ہیں تو پہلے ہی کیوں نہ سیاسی اور سفارتی سطح پر محنت مشقت کی گئی کیوں نہ معاملات کی خبر رکھی گئی ایسا تو ہر گز نہیں کہ چار اگست کو مودی سویا خواب دیکھا اور پانچ اگست کو اٹھا تو اُس نے آرٹیکل 370کو منسوخ کردیا اور بس کشمیر کا قصہ ختم ہوا،یقینا اس سب کچھ کے لئے لمبی منصوبہ بندی ہوئی ہے، اس پر کام ہوا ہے اس کے پس منظر اور پیش آمدہ حالات دونوں کا تجزیہ ہوا ہے اور تب جاکر حکم نامہ جاری ہوا لیکن ہمیں کانوں کان خبر نہ ہوئی اور اگر ہوچکی تھی تو کیوں سفارتی سطح پرکام شروع نہیں کیا گیا۔ ویسے اب تو جو آئینہ ہم نے دیکھا ہے اس میں اپنا ہی عکس بہت خوفناک ہے۔ لہٰذا خود کو بھی اوردوسروں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے چاہے یہ دوسرے”برادر اسلامی“ ممالک ہیں یا ”غیر مسلم غیر ممالک“ سب اپنے مفادات کی جنگ لڑیں گے اور قاتل کو ہار بھی پہنائیں گے، انہیں ہم سے کوئی غرض نہیں غرض ہے تو اُس وقت جب ہم ان کے بھلے کے ہوں کسی مطلب کے ہوں ورنہ کوئی توقع عبث ہے ہمیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے تبھی کسی فتح کی اُمید کی جا سکتی ہے ورنہ اس بار کا سبق کافی ہے۔

173
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...