انگریز 1947میں برصغیر کو آزاد کر کے چلا گیا لیکن ایک ایسا تنازعہ چھوڑ گیا جس نے آزاد ہونے والے دونوں ممالک یعنی پاکستان اور بھارت کو ایسا اُ لجھا دیا کہ آج بہتّر سال گزرنے کے بعد بھی یہاں امن قائم نہ ہو سکا اور وہ ہے کشمیر کا ہر وقت سلگتا ہوا انگارہ جو کسی بھی وقت شعلہ بن جا تا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہ شعلہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دے۔ ایسا انہیں ہے کہ ہندو پہلے مسلمان کا دوست تھا اور اس مسئلے کے بعد دشمن بنا لیکن اس مسئلے نے کبھی دونوں ملکوں کی فوجوں کو سرحدوں سے ہٹنے نہیں دیا اور اس صورتحال کی واحد وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے اُس نے پاکستان کو کبھی دل سے قبول کیا ہی نہیں اور یہ اُس کی انگریز کے ساتھ مل کر سازش ہی تھی کہ اچانک تقسیم ہند کے منصوبہ میں رد و بدل کیا گیا اور گورداسپور بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔سازشوں کا یہ سلسلہ تقسیم کے بعد مزید تیز ہو گیا اور پھر مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کے ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے 26اکتوبر1947کو بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی 27اکتوبرکو بھارت کی پہلی سکھ بٹالین کے چھاتہ برداروں کو سری نگر میں اُتار دیا گیا اور یوں بھارت نے کشمیر پر اپنی طرف سے اپنا قبضہ مکمل کر دیا لیکن اُنہیں کشمیر میں کشمیری عوام اور پاکستان کے محب وطن غیور قبائل کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اُس کا پوری ریاست پر قبضہ کرنے کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکا اور کشمیر کے کچھ حصے کو آزاد کر لیا گیالیکن بھارت کشمیریوں کی خواہش اور کوشش کے برعکس ہمیشہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا رہا اُس نے کشمیر کو بزورِ شمشیر اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی۔1948 میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے وہ اقوام متحدہ جا دوڑا جس نے استصوابِ رائے کو مسئلے کا حل بتا یا کہ کشمیر کے مسئلے کو کشمیریوں کی خواہش اور رائے کے مطابق حل کیا جائے۔ صرف یہی نہیں کئی قراردادیں پیش اور منظور ہوئی لیکن عمل کسی پر بھی نہیں ہوا اور اقوام متحدہ جو خود کو پوری دنیا کے امن کا ذمہ دار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے اس مسئلے کو حل نہ کر اسکا۔ اس کی تاریخ کا یہ سب سے قدیم مسئلہ اُس سے حل نہ ہو سکا اور نہ وہ یہاں سے بھارت کی آٹھ دس لاکھ فوج نکلوا سکا بلکہ فوج کی اِس تعداد میں وہ آئے دن اضافہ ہی کر رہا ہے اور اِس اضافے کے ساتھ کشمیر کی جد و جہد آزادی بھی زور پکڑتی جا رہی ہے حالانکہ بھارت اسے کچلنے کے لیے ہر حربہ آزما چکا ہے لیکن جو اُس نے اب آزادی کے بہتّر سال بعد کیا تو اُس نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑا دیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ دیا۔کشمیر ایک تسلیم شدہ متنازعہ ریاست ہے اور اسی تنازعے کے پیش نظر ہی 1954میں بھارت نے اپنے آئین کے حصہ اکیس میں آرٹیکل 370 شامل کیا جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی اِس حیثیت میں کشمیرکو ایک الگ ریاست تسلیم کیا گیا جو اپنا آئین، داخلہ پالیسی اور اپنا جھنڈا رکھ سکتا ہے لیکن بھارت کے مسلمان دشمن اور دہشت گرد وزیراعظم مودی نے ہٹ دھرمی اور مسلمان دشمنی کی انتہاکرتے ہوئے اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ اس آٹیکل کے تحت کوئی غیر کشمیری کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا تو اس طرح غیر کشمیریوں کو اب یہاں جائیداد بنانے کی اجازت مل گئی ہے جس کا اصل مقصد ہندؤں کو کشمیر تک پہنچا کر وہاں اُن کی تعداد اور تنا سب کو بڑھانا ہے۔ اسی آرٹیکل کے تحت اگر کسی کشمیری لڑکی کی کسی غیر کشمیری مرد سے شادی ہو جاتی تو اُس کی کشمیری شہریت اور حقوق ختم ہو جاتے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا اور بقول ثمرین مشتاق جو دلی میں مقیم ایک کشمیری پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں لکھتی ہیں کہ اس قانون کے ختم ہوتے ہی ان چند دنوں میں سب سے زیادہ گوگل سرچ کشمیری لڑکی کے رشتے کے لیے ہوئی یعنی ایک بارپھر کشمیری کی بیٹی کی عزت گو گل کی زینت بنی جبکہ یہ کشمیری خواتین آئے روز ہندو فوجیوں کی بد سلوکی کا نشانہ بنتی ہی رہتی ہیں۔ 1991میں کو نان پوش پورہ میں ایک پوری بٹالین نے اِن کی عصمت دری کی تھی معمول کے دنوں میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔کشمیر کا مسئلہ پچھلی سات دہائیوں میں مسلسل اُٹھتا رہتا ہے اور اس کی وجہ وہاں ہونے والے مظالم اور نتیجتاََ شہادتیں ہوتیں ہیں لیکن اِس بار تو لگتا ہے کہ کشمیریوں کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے اُن سے اُن کی شناخت ہی چین لی گئی ہے۔ وہ کشمیری رہنما جو بھارت کے حمایتی تھے اور اِس پر فخر کرتے تھے وہ بھی بلبلا اُٹھے ہیں۔ محبوبہ مفتی جو اپنے والد مفتی سعید اور فاروق عبد اللہ اور عمر عبداللہ جو اپنے اپنے باپ دادا کی موروثی بھارت نوازی کی سیاست کرتے رہے ہیں بھی چیخ اُٹھے اور فاروق عبداللہ تو رو بھی پڑے تو سو چیئے کہ محب ِ وطن اور کشمیر کی آزادی کی حمایتی یعنی کشمیر کی اکثریت کا کیا حال ہوا ہو گا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ کی حفاظت ایک فطری عمل ہے لہٰذا پاکستان کا اِس کشمیر دشمن اقدام پر احتجاج اور اعتراض بالکل بجا اور قدرتی امر ہے اور اِس وقت ہر پاکستانی کشمیریوں کے دکھ میں شریک ہے بلکہ غم و غصے میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اِس بار یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ کشمیریوں کو تنہائی کا احساس نہ ہو۔ یہ نقصان اور حقوق پر دہشتگردانہ حملہ صرف کشمیریوں پر نہیں بلکہ پاکستان پر بھی ہے اور جس ڈاکو نے یہ ڈاکہ ڈالا ہے وہ ملک خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے لیکن وہ اِن کشمیریوں کو اپنے حقوق نہیں دے رہا،وہاں کرفیو ہے، میڈیا بلیک آوٹ ہے، ظلم ہے، شہادتیں ہیں لیکن پھر بھی جمہوریت کا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔ اس وقت بھارت کے بیس کروڑ مسلمان کرب اورتشویش میں مبتلا ء ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا اور ان کے انہی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اس بار بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منائے گا۔ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ اقدامات درست ضرور ہیں لیکن کافی نہیں، پاکستان کو اس محاذ پر سفارتی سطح پربہت زیادہ کام کرنا ہوگا، اقوام متحدہ کو جگانا ان میں سب سے بڑا کام ہے اور ساتھ ہی بڑی طاقتوں اور مغربی دنیا کو بھی حقیقت حال سے آگاہ کرنا ضرورہے۔ ایک انتہائی بڑا مسئلہ اور کام مسلم اُمہ کو جگانے کا ہے جو بھارت کے ساتھ تعلقات میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں کام کرنا ہے اور ہر سطح پر کرنا ہے تب جاکر ہم کشمیر کو حاصل کر سکیں گے کشمیر جو مسلم اکثریتی خطہ ہے لہٰذا اُسے ہر حال میں پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے یہی ہر پاکستانی کا مطالبہ ہے کیونکہ یہ ہر کشمیری کا مطالبہ ہے۔

91
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...