خواتین کا کردار کسی بھی معاشرتی اتار چڑھاؤ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں یہ نہ صرف گھر کی اکائی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بڑی بڑی تحریکوں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ موجود دہشتگردی اور شدت پسندی میں بھی یہ خواتین کسی نہ کسی طریقے سے ملوث ہوئیں اگر چہ اس کا عملی مظاہرہ بہت ہی کم دیکھنے میں آیا تا ہم اس بات سے انکار نہیں کہ خیالات اور نظریات کی ترویج میں یہ شامل رہیں۔ سوات میں صوفی محمد کی تحریک تھی یا فضل اللہ کا فساد انہیں خواتین نے کچھ نہ ہوسکا تو زیورات ہی کی شکل میں مالی معاوت فراہم کی۔ داعش میں بھی خواتین کا حصہ منظر عام پر آتا رہا اور بات انہی تحریکوں تک محدودنہیں کسی بھی مذہبی یا معاشرتی تحریک میں یہ شامل ہوتی ہیں جیسا کہ ہندو شدت پسند تحریکوں میں یہ بڑی فعال ہیں لیکن ایک بات ہے کہ پاکستان میں چلنے والی دہشتگردی میں ان کا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی انتہائی کم تناسب میں ایک ڈیرہ سماعیل خان میں ہونے والا واقعہ ہے جس میں شبہ ہے کی برقعہ پوش بمبار عورت تھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دہشتگردی میں بڑے پیمانے پر ان کی شرکت کے کوئی شواہد موجود ہیں تاہم اس محاذ کو بھی خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمارے وہ علاقے جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور سہولت کار موجود ہیں ان میں تعلیم کی شرح باقی ملک کی مناسبت سے بہت کم ہے اور خواتین میں تو یہ تناسب اور بھی کم ہے لہٰذا خود علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ سنی سنائی باتوں اور قصوں پر زیادہ یقین رکھتی ہیں۔ انہیں ان کے علاقوں سے باہر کی دنیا کے بارے میں ایسی ایسی کہانیاں سنائی جاتی ہیں کہ ان کے خیال میں صرف وہی لوگ راہ راست پر ہیں اور نہ صرف غیرمسلم بلکہ مسلمان بھی اسلام کی تباہی کا باعث ہیں اور یوں ان کے ذہنوں میں وہ زہر بھرا جاتا ہے جو نفرت کی بنیاد بنتا ہے اور پھر یہی نفرت اور منفی نظریات و خیالات یہ عورتیں اپنی اگلی نسل کو منتقل کرتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں بحیثیت مجموعی بھی لیکن ان علاقوں میں تو خاص کر خواتین کو اپنے بارے میں بھی فیصلہ کرنے کاکوئی اختیار نہیں لہٰذا وہ دہشتگردی یا شدت پسندی کی کسی تحریک میں بھی اپنی مرضی سے شامل نہیں ہو سکتیں جب تک کہ انہیں اس کے لئے اجازت نہ دی جائے یا مجبور نہ کیا جائے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں عورت نہ صرف اپنے خاوند بلکہ اس کے پورے خاندان کی خدمت پر مامور اور مجبور ہے بلکہ ان کے ہر رویے کو چپ چاپ برداشت بھی کرے گی اور ان کے ہاتھوں مار اور موت کو بھی قبول کرے گی۔ ایسی ہی ایک ادھیڑ عمر عورت جو ایک سرحدی گاؤں میں رہتی ہے کی حقیقی اور مختصر کہانی یوں ہے کہ اُس کو اُس کے پہلے خاوند نے طلاق دی، دوسرا افغانستان کے اندر جنگ میں مارا گیاتو اسے ایک گونگے اور بہرے شخص کے ساتھ بیاہ دیا گیا جہاں اُس کے دیور نے مار مار کر اُس کی پسلیاں توڑ دیں جب وقت نے زخموں کو جیسا تیسا مندمل کر دیا صحت یاب وہ پھر بھی نہیں تھی تو پورا خاندان افغانستان چلا گیا اور اپنے تمام مال مویشی اور گاؤں کے دس بیس گھروں کی رکھوالی کے لئے اُسے اپنے معذور شوہر سمیت چھوڑ دیا اور جب اُسے گاؤں چھوڑ کر علاج کے لیے باہر آنے کو کہا گیا تو اُس نے انکار کر دیا کہ اس میں مزید مار کھانے اور پسلیاں تڑوانے کی ہمت نہیں جو اُس کا خاندان واپس آکر اور اُسے گاؤں میں نہ پا کر کرے گا اب اس معاشرے میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کوئی عورت کیسے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ کسی تحریک کا حصہ بن جائے۔ ان کی کچھ ہی سہی پڑھی لکھی خواتین بھی اپنے شعور کی وجہ ایسے معاملات سے دور رہتی ہیں۔ میں اس عنصر سے انکار نہیں کر رہی کہ خواتین کا شدت پسندی میں کوئی کردار نہیں یقینا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں ہی کہہ دیا ہے تاہم اس چیز کو اس حد تک سمجھنا جتنا کہ اس کو ہو ا دے دی جاتی ہے درست نہیں ہاں اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرنا چاہیے اور خواتین میں تعلیم کے ذریعے شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ اِن لوگوں کے ہتھے نہ چڑ ھیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی حور وقصور کا اصل مفہوم سمجھا سکیں نہ کہ خودکشی جیسے فعل کو قبول کرکے یقینی جہنم کمائیں اگر چہ اس بات کے امکانات پھر بھی بہت کم ہیں کہ کوئی ماں اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کے لئے بھیج دے بلکہ زیاوہ گمان یہی ہے کہ یہ لڑکے اغوا شدہ ہوتے ہیں اور یا گھر وں سے بھاگے ہوئے یا جہاد کے غلط تصور کو لے کر مختلف مدارس سے نکلے ہوئے جو خود کشی جیسے فعل پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان تمام عوامل کے باوجود خواتین کا کردار خارج از امکا ن نہیں تاہم اسکو خوف کا اس قدر باعث نہیں بنانا چا ہیے کہ سمجھا جانے لگے کہ مستقبل میں عورتیں ہی اس مقصد کے لیے استعمال ہونگی لیکن ایک بار پھر عرض ہے کہ اس سے صرفِ نظر بھی نہیں کرنا چا ہیے بلکہ اگر ان خواتین پرہی کا م کیا جائے اور ان کو تعلیم دے کر انہیں با شعور اور با اختیار کیا جائے تو بنیادی سطح پر ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جہاں لڑکوں کے مدارس کا تجزیہ و جانچ ضروری ہے اُسی طرح لڑکیوں کے مدارس کا بھی معائنہ کیا جائے اور وہاں بھی نصاب کو صحیح اسلامی روح کے مطابق بنایا جائے اور ساتھ ہی جدید علوم کو بھی شامل نصاب کیا جائے یہاں سے اُٹھنے والی تبدیلی یقینا پورے معاشرے کو مثبت طور پر متاثر کرے گی۔
دہشتگردی اور شدت پسندی میں خواتین کے کردار پر نہ صرف نظر رکھنی ہوگی بلکہ اس کے تدراک کابندوبست بھی کرنا ہوگا اور ایسا کرنے کے لئے ان کی درست سمت میں تعلیم، اختیار اور ساتھ ہی روزگار کا بھی بندوبست کر نا ہوگا۔ان ہنر مند خواتین کے ہنر کو ہی اگر اُجاگر کر دیا جائے اور انہیں اپنی اہمیت اور صلاحیت کا احساس دلوادیا جائے تو ان علاقوں میں بھی بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے جو ملک میں دوسری مثبت تبدیلیوں کے ساتھ شدت پسندی کو بھی قابو کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

311
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...